تصور معراج اور تفسیری مغالطے

ڈاکٹر حیات عامر حسینی

Maarif - - ٨ ء٢٠١٦ ستمبر معارف -

میری بحث کا محور کلام پاک کی سوره اسریٰ اورسورة النجم کی یہ آیات ہیں جن میں تاریخ روحانیت وانسانیت کے سب سے اہم واقعہ معرا کا بیان ہے۔ ن ا ح ب س ی ذ ال ری س ا ه د ب ع ب لا ی ل ن مّ د ج س م ل ا م را ح ل ا ی لا د ج س م ل ا صی ق الا ی ذ ال ا کن ر ا ب ہ ول ح ہ ری لن ن م ا ن ات ی ہ ن ا و ع ی م س ال ر ی ص ب ال بنی ١ اسرائیل پاک ہے وه جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے جستکمسجداسکیدور ہےدیبرکتنےاسکوماحولکے تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہده کرائے۔ حقیقت میں وہی ہے سب کچھ سننے اور دیکھنے والا۔ م ج ن وال ا ذ وٰی ما ل ض م ک حب صا ما و وٰی۔ ما و ق ط ن ی ن ع ہوٰی ل ا ن و لا ی ح و وحٰی ی مہ عل ید د ش وٰی لق ا و ذ رة م وٰی ست ا ف و و ق ف لا ا ب

علٰی لا ا م ث ا ن د ی ل د ت ف ن کا ف ب ا ق ن ی س و ق و ا دنٰی ا وحٰی ا ف لٰی ه د ب ع ا م وحٰی ا ما ب کذ اد لف ا ما ی را ہ رون ما ت ف ا علٰی ما رٰی ی د لق و ر ه زل ن خرٰی ا عند قسم ہے تارے کی جب کہ وه روب ہوا، تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے، وه اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا یہ تو ایک نازلپرجواسہےوحی کی اسےہے،جاتی والےقوتزبردست نے تعلیم دی ہے ا جوب صاحب حکمت ہے، وه سامنے ا آکھ ہوا جب کہ وه بالائی افق پر تھا پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا، یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ ره گیا، تب اس نے لله کے بندے کو --------------------------------------

شعبہ فلسفہ، علی گ مسلم یونیورسٹی، علی گ ۔

رة د س ہٰی نت م ل ا ا عند جن وٰی ما ل ا ذ شی غ ی رة د سّ ال ما غشٰی ی ما زا ر ص ب ل ا ما و طغٰی د لق ی را ن م ت ا ی ہ ربّ برٰی ک ل ا ۔ النجم ۔١ ١٨ ص ١٣ ٠ وحی پہنچائی جو وحی بھی اسے پہنچانی تھی، نظر نے جو کچھ دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا، اب کیا تم اس چیز پر اس سے تے جھگ ہو جسے وه آنکھوں سے دیکھتا ہے اور ایک مرتبہ پھر اس نے سدرة المنتہیٰ کے پاس اس کو اترتے دیکھا جہاں پاس ہی جنت الماوی ہے، اس وقت سدره پر چھا رہا تھا جو کچھ کہ چھارہا تھا، نگاه نہ یائی چند ، نہ حد سے متجاوز ہوئی اور اس نے اپنے رب کی ی ب ی ب نشانیاں دیکھیں۔ فلسفہ اسلامی کی بنیادیں تفسیریات اسلام Islamic Hermeneutics

میں پیوستہ ہیں اور اس از کاآ ان سوالات سے ہوا جو مختلف مواقع پر قرآنی آیات کی ، تشری معانی اور اطلاقات کے سلسلہ میں اٹھائے گئے۔ یہ سوالات اور ان کی مختلف تشری وتعبیرات کا تعلق حضرت خاتم ن النبیی کے ارشادات عالیہ ه اوراسو حسنہ سے بھی ہے ۔ یہ سوالات پ آ کی موجودگی میں بھی اٹھے۔ اور پ آ کے بعد بھی۔ دور خلافت راشده میں ان سوالات نے ایک نیا ر اختیار کیا جس کی مختلف جہتیں ایک وسیع ارتقائی تناظر میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ان مسائل کا پیدا ہونا لازمی تھا۔ اوران کی کئی بنیادی وجوه تھیں مثلا ١ قرآن حکیم کا حکیمانہ اجمال اور پ آ پر نبوت ورسالت کاخاتمہ۔ ٢ اسلامی تہذیب کا و پھیلا اور مختلف تہذیبوں کے ساتھ اسلامی تہذیب کا تعلق اور ان لبہ پر ۔ ٣ اور یراسلامی تہذیبوں کا معاندانہ رویہ اور اسلام کے خلاف مختلف سطحوں پر سازشوں کا جال۔ یوں ان مسائل کا تعلق اسلام کی تہذیبی حرکت کے ساتھ تھا، جس کی بنیاد قرآن حکیم اور اسوه ل رسو ہے۔ رسول م معظ کے فرمودات کی تشری اور ان کی حیثیت کا تعین تو

بہت بعد کے زمانے کے مسائل ہیں۔ جن مسائل نے ہماری مابعد الطبیعات، علمیات، اخلاقیات، سماجیات، دینیات اور روحانیات تصوف میں انتہائی اہم اور اساسی حیثیت حاصل کی ان میں جبروقدر، توحید وعدل، معاد اور خلافت کلیدی اہمیت

کے حامل ہیں۔ لیکن معرا کامسئلہ جو بعد میں معتزلہ اور اشاعره کے علم الکلام

اور تفاسیر میں ایک اہم مسئلے کی حیثیت سے ابھرا اور جسے تصوف میں ایک کلیدی حیثیت واہمیت حاصل ہوئی، کیونکہ اس کا تعلق انسان کامل اور نور اول اور سلسلہ نبوت سے ہے، قبل ہجرت ہی بہت اہم مسئلہ بنا تھا۔ معرا کا واقعہ خود مومنین کے لیے بھی ایک آزمائش اور ایمان کی کسوٹی بن کر ابھرا۔ کفار و مشرکین کی موشگافیاں تو تاریخ کے اورا پر پھیلی ہوئی ہیں۔ اس واقعہ سے خود کئی صحابہ کے دل میں ایک ہلچل سی پیدا ہوئی تھی۔ معرا کے سلسلہ میں قرآن کریم کی آیات بینات بہت ہی مجمل، معنی خیز اور استعاراتی ہیں اور مختلف لطائف، اسرار، حقائق اور کیفیات کی طرف اشاره کرتی ہیں۔ میرے خیال میں تصور معرا کی چار ی ب تشریحی جہتیں ہیں۔ ۔١ متکلمین، یعنی معتزلہ اور اشاعره ۔ ۔٢ مفسرین ومحدثین۔ ۔٣ صوفیہ ۔ ۔ فلاسفہ۔ انسانی تاریخ کا سب سے ا ب المیہ یہ ہے کہ انسانوں کی ایک ی ب تعداد ہمیشہ رسول کے مرتبہ اور رسالت کو سمجھنے سے قاصر رہی۔ رسول ایک انسان ہے ایک زنده جاوید شخصیت، جسے لله نے اپنا نماینده بناکر انسانوں کی طرف ایک پیغام کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ قرآن پاک اس کی بعثت کی چار ی ب حیثیتوں کو جو اس کے تمام مشن اور اس کے وجود محترم کا احاطہ کرتی ہیں کئی آیات میں سامنے لے آتا ہے۔ ان چاروں جہتوں کا تعلق فرد، ، سما تہذیب اور روز حشر یعنی معاد سے ہے۔ یوں رسول کا تعلق تاریخ سے بھی ہے اور مابعد التاریخ سے بھی۔ و ی ذ ال ث ع ب ی ف ن ی ی ّمّ لا ا لا سو ر م ہ ن مّ و ل ت ی م ہ ی ل ع ہ ات ی و م ہ ی کّ ز ی م ہ م لّ ع وی ب کتٰ ل ا م ک ح ل وا ٢ الجمعہ وہی ہے جس نے امیوں کے اندر رسول خود انہی میں سے اٹھایا جو انہیں اس کی آیات سناتا ہے۔ ان کی زندگی کو سنوارتا ہے

اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ۔ وه ایک انسان ہے وه کوئی اسطوری پیکر نہیں۔ وه فرد، سما اور تہذیب کی تخلیق کرتا ہے اور ان کا لله سے تعلق پیداکرتاہے۔ اس تعلق میں

کلام بار بار کا جن ہے ہوتی ظاہر سے صفات و اسماء تمام ان حیثیت کی اس طور کلی رویہ کا پاک کلام میں بارے کے م اکر رسول لیکن کرتاہے۔ ذکر پاک مزین سے اختیارات اور واسماء صفات تمام ان گرامی ذات کی پ آ ہے۔ ال پر صفات ایسی سات اور ہوئیں نہ مجتمع کبھی میں رسول یا نبی اور کسی جو ہے عطا کو پیغمبر کسی صفات یہ ہیں۔ کرتی منفرد سے انبیاء تمام کو پ آ جو ہیں

گئیں کی نہیں ۔پیکر٣ للعالمین رحم ۔٢ للناس کاف حیثیت گیر عالم کی آپ ۔١

گواه پر امتوں اور عظام پیغمبران تمام ۔۶ المذنبین شفیع ۔ ۔عبده عظیم خلق

قاسمیت اور ۔٧ صحی کے نبوت و رسالت ہ مرتب ج کی مسائل سے بہت ہمارے

ہے۔ دوری سے ادراک احوال کے اس اور منصبی فرض کا اس اور وجود کا پیغمبر ایک

ہیں۔ باہر سے تعبیرات ہماری اور عقل ہماری محسوسات، ہمارے وواردات نوعیت کی منصبی فرض کے اس اور ہے۔ سرعظیم ایک وجود کا پیغمبر بھی وواردات احوال کے اس طرح اسی ٹھیک سرعظیم، ایک بھی وحقیقت علم اور محسوسات اور فرائض وجود، انسانی عام کو ان سرعظیم۔ ایک خدائے وه کہ لیجیے سمجھ یہ ہے۔ مغالطہ عظیم ایک کرنا منطبق پر واعمال طور کلی وجود کا اس حامل۔ کا پیغام کے اس اور ہے فرستاده منتخب کا عظیم روحانی کے اس اور ہے ہوتا عطائی علم کا اس ہے۔ ہوتا معصوم اور کامل پر

ہے۔ ہوتا سے وربانی ملکوت عالم تعلق ا سید کا تجربات وجلال جمال اور وکمال علم کا آپ وعصمت عظمت کی خدا پیغمبر کے انسانیت سمجھنا جسے ہے سمندر بیکراں کاوه پرتو کے ربوبیہ صفات اور ایمان شدت نفس، تزکیہ اپنے وانسان جن ایک ہر ہاں نہیں۔ ہی ممکن لیے رہے ہوتا ومنور مستفید سے اس سے لحاظ کے وعمل ویقین علم وکمال وسعت کیسے ادراک کا حقیقت کی رسالت و نبوت یعنی منصبی فرض کے اس گا۔اور کلی کا حقیقت کی اس تشریحات و تعبیرات ہماری کیا ہے کرسکتی انسانیت پاتا کو پیغام کے لله طرح کس پیغمبر ایک ہے کیا حقیقت کی وحی ہیں بیان

ہے ممکن ادارک یا بیان کا اس کیا ہے۔ آتی وحی پر اس طرح کس ہے۔ نوعیت کی اس ہمیں ذریعہ کے جن ہیں، تمثیلیں کچھ زیاده سے زیاده گھنٹیوں آواز، کی بھنبھنانے کے مکھیوں گئی۔ کی کوشش کی سمجھانے کو اس اندر ہمارے ذریعہ کے جن ہیں علامتیں محض ، الجرس صلصل آواز، کی وارفع اعلیٰ اتنی حقیقت کی اس ہوتاہے۔ شروع عمل کا جگانے کو ادراک کے

نہیں۔ ممکن لیے ہمارے ادراک Direct بلاواسطہ کا اس کہ ہے لطیف اور

ہمارے روحانی تجربات اور شعور کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو جائے یہ پیغمبر کے روحانی تجربات اور شعور کی گرد کے برابر بھی نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ نہ ہم پیغمبر ہیں، نہ معصوم، نہ علم ووجود میں کامل اور نہ بلاواسطہ عالم ملکوت وربانی سے وابستہ۔ اسی لیے اسریٰ یامعرا کی نوعیت وحقیقت کو سمجھنا انسان کے بس کی بات نہیں۔ انسانی علم کتنا ہی وسیع کیوں نہ ہوجائے وه پیغمبر کے مرتبہ علم اور تجربات کی ادنیٰ سط کو بھی نہینچھو سکتا۔ اس کے لیے یہ بات ہی ایک ناقابل فہم معمہ ہے کہ جملہ افلاک کی حدود کو پھلان کرپیغمبر اعظم ر وآخ سدرة المنتہیٰ اور عرش اعلیٰ تک کیسے جا پہنچتا ہے۔ اس کی فہم وادراک کے لیے معقولات فہم اساسی شرط ہیں۔ لیکن یہ

تجربہ اور واقعہ تو تمام معقولات سے بالاتر ہے۔ اسی لیے اس کے لیے اس کے سوا کوئی چاره کار ہی نہیں کہ وه وجود پیغمبرکی طرح اس کے تجربات پر بھی ایمان لے آئے، جسے ہم ایمان

بالغیب کہہ رہے ہیں۔ اب اس مسئلہ پر ایک دوسرے زاویے سے ور کیجیے۔ زمان ومکان کی حیثیت کاتعلق انسان کی طہارت وپاکیزگی یعنی

تزکیہ نفس سے ہے۔ روح و جسم جتنے پاکیزه ہوں گے وجود انسانی اتنا ہی ارفع اور لطیف ہوگا اوراس کے زمان اور مکان بھی اس کی اس پاکیزگی کی سط کے مطابق ہوں گے۔ عالم ملکوت، عالم لاہوت، عالم ناسوت، اسی کے عالم ہیں اور ہر عالم کا اپنا زمان ہے، زمان، مسلسل کی بھی بہت سی سطحیں

ہیں اور زمان خالص کی بھی۔ کثیف روح وجسم وجود انسانی کو کثافت کی سط کے مطابق سیاه ،

ادنیٰ اور جامد بنادیتے ہیں۔ انسان کی نفسیات کا تعلق اس کی پاکیزگی اور کثافت کے ساتھ ہے۔ نفسیات اتنی ہی متحرک اور امن وسکون سلامتی میں اور یکسو ہوگی جتنا

ایک انسان کی پاکیزگی کی سط ہوگی۔ انسان کی روحانی اور وجودی پرواز بھی اسی سط کے مطابق

ہوگی۔ ایک کثیف جسم لطیف و ارفع روح کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ یہ ایک دوسرے کی ضد اور مخالف قوتیں ہیں۔ کثیف روح کسی پاکیزه جسم میں نہیں ره سکتی۔ یہ ناممکن ہے۔ روح کی کثافت اس کی فطرت اور فطری اصولوں سے انحراف میں پوشیده ہے۔ لله اوراس کے رسول ی کابا یا دشمن ابلیس یا وت طا یا سیاہی و ظلم و طغیان یا اس کا ماننے والا اور حمایتی ہے۔ جو طغیان میں جتنا زیاده شدید ہوگا اتنا ہی اس کی روح و جسم کثیف اور نفسیات

پراگنده اور بکھری ہوئی ہوگی۔

پیغمبران عظام تو معصوم ہوتے ہیں، ان کاوجود اقدس انتہائی پاکیزه، لطیف اور پرسکون و مطمئن ہوتا ہے۔ اور ان کی نفسیات انتہائی پرسکون، پاکیزه اور یکسو ہوتی ہے۔ ان کی سو اور اعمال میں ذره برابر بھی انحراف، طغیانی وسرکشی اور پراگندگی نہیں ہوتی۔ وه ہر سط پر اور ہر میدان عمل میں اور ہر زمان انتہائی پاکیزه ہوتے ہیں۔ان کا ہر عمل وحی الٰہی کے مطابق ہوتاہے۔ وه لله کے منتخب فرستاده ہیں اور تزکیہ، علم، حکمت اور عمل میں کامل واکمل ہوتے ہیں۔ وه پاکیزگی کے انتہائی مرتبہ پر فائز ہوتے ہیں اور نتیجتا ان کاوجود انتہائی لطیف ہوتاہے۔ اسی لیے نہ صرف یہ زمان ومکان ان کی گرفت میں ہوتے ہیں بلکہ دوسرے زمان ومکان بھی ان کے لیے کھلی کتاب کی طرح ہوتے ہیں۔ اس زمان و مکان میں ہونے کے باوجود ان کے اپنے ال اور منفرد زمان و مکان ہوتے ہیں جو ان کی لطیف سط کے مطابق

ہوتے ہیں۔ اب آپ اندازه کیجیے کہ رسول اعظم ر وآخ جو سب پیغمبروں کے

خاتم اور امام اور آخری اور مکمل ہدایت کے حامل ہیں کامرتبہ، علم، آپ کی پرواز اور قوت برداشت اور حقائق برہانیہ کے مشاہده کی قوت کتنی زیاده شدید اور مکمل ہوگی او ر ان کی نفسیات کتنی پرسکون ، پاکیزه ، ارفع اور

کامل ہوگی معرا کا تعلق پکی آ اسی لطافت روح وجسم اور ان کی قوت برداشت

سے ہے۔ اسی لیے لله نے آپ کو عبده’’‘‘ کے خطاب سے نوازا۔ جو شے جتنی پاکیزه، لطیف، متحرک اور نفسیاتی طور پر پرسکون ہوگی، اس کی قوت پرواز اور قوت مشاہده اتنی ہی شدید، قوی اور لطیف

ہوگی، اس کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں۔ یہی حقیقت، حقیقت اولیٰ کی صورت میں حضرت رسالت ب مآ پر

صاد آتی ہے او راس کا بیان سوره نجم کی آیات بینات میں ہے اور یہ اس بات کی ماز ہیں کہ معرا جسمانی ہے۔ اس لیے کہ پ آ سے زیاده پاکیزه، لطیف، متحرک، نفسیاتی طور پر پرسکون و مطمئن اور کامل علم وعمل کوئی نہیں، کیونکہ پ آ نور اول، محبوب خدا، عبده’’‘‘ رحمت للعالمین اور حامل خلق

عظیم ہیں۔ لولاک لماخلقت الافلاک اسی ذات اقدس کی توصیف ہے۔اور یہ واقعہ

انسانیت کے لیے سب سے ا ب امتحان تھا اور ہے ۔ وماجعلنا الرویا التی کارینٰ الا فتن للناس بنی اسرائیل ۶٠ اور یہ رویا جو ہم نے تجھے دکھائی تو اس لیے دکھائی کہ لوگوں

کے لیے ایک آزمائش ہو۔

انتہائی کی پ آ ہے۔ gravity کشش اور وجود سط اپنی کی عالم ہر

کافی بہت لیے کے کرنے ثابت کو معرا مشاہدات اور معرا عصمت،

ہے۔ ہے، عبد’’‘‘ اور ’’ مخلو‘‘ کی خدا کائنات ساری یہ کیجیے ور جسمانی معرا ہیں۔ اخص نہیں خاص پ آ ہیں۔ عبده ر وآخ اعظم رسول لیکن اسی میں تفسیر اپنی نے کثیر ابن ہے۔ اشاره طرف کی حیثیت اخص اسی

کیاہے۔ اشاره طرف کی نکتہ قدرت اور پاکیزگی اور وعظمت عزت کی پاک ذات اپنی تعالیٰ لله‘‘ نہیں۔ میں کسی قدرت جیسی اس ہے قادر پر چیز ہر وه کہ ہے فرماتا بیان کرنے پرورش کی مخلو ساری وہی صرف اور لائق کے عبادت وہی ایک کے رات ہی ایک کو ی ٰمصطف حضرت یعنی بندے اپنے وه والاہے۔ جو گیا لے تک مسجد کی المقدس بیت سے مسجد کی شریف مکہ میں حصہ السلام علیہم کرام سےانبیاء زمانہ کے السلام علیہ لله خلیل ابراہیم حضرت جمع پاس کے آپ وہیں السلام علیہم انبیاء تمام لیے اسی رہاہے۔ کامرکز ہے جودلیل کی امامت کی سب ان جگہ کی ہی وہینان نے آپ اور گئے کیے علیہ وسلامہ لله صلوٰة ہیں ہی آپ مقدم رئیس اور اعظم امام کی امر اس

۔اجمعین’’ وعلیہم منزل اہم سے سب میں طیبہ حیات کی ر وآخ اعظم پیغمبر معرا

کے جس زندگی کی مکہ طرف ایک ہے۔ حامل کی حیثیت کی و ا پ اور ذره ذره کا کائنات ہے۔ آتی سامنے سے طائف سفر شکل انتہائی کی مظالم ذریعہ کے اوباشوں کے طائف اطہر کاجسم للعالمین رحمت اٹھتاہے۔ تھرا پر جن ومحترم مقدس پائے کے پ آ اور ہے ہوجاتا رنگین سے مطہر خون پ آ اور ہیں جاتے چپک سے خون میں مبارک نعلین قربان کائنات ساری دکھا ہدایت راه کو ان لله کہ ساتھ دعاکے اس لیکن ہیں، لیتے مینپناه با ایک

پہچانتے۔ نہیں یا جانتے نہیں مجھے یہ کہ امید یہ میں آنکھوں خاموش اپنی یثرب، منتظر طرف دوسری اور سے سانسوں منور و معطر اپنی مجھے ن لمذنبی ا شفیع و اعظم ہادی کہ لیے پر سینے میرے مبارک قدم اپنے اور گے بخشیں شرف کا بننے النبی مدین

گے۔ بنادیں پروقار اور معزز زیاده سے جنتوں مجھے کر رکھ

دنیا رہتی اور لیے کے جنت منتظر کی مدینہ تھی سحر نوید معرا

لا رب لیے کے وآخر اعظم پیغمبر صرف نہ یہ لیے۔ کے مومنین کے ورموز اسرار اور شرف کا ملاقات سے والاکرام الجلال ذی وحده شریک انسانوں تمام بلکہ تھا، موقع کا مشاہده سے آنکھوں کھلی کا خفیہ حقائق اور ایکاورکشی تصویر کی انجام آخریکے انمطابق کے اعمالکے انکے کرنے عطا تحفہ کا اصولوں کے وسما نظام اسلامی آخری اور مکمل

تھا۔ بھی کامرحلہ مرتبہ اعلیٰ سے سب کر بلا پر اعلیٰ افق کو آپ نے العزت رب لله باعلی المخصوص الاکرم، الحبیب الاعظم، الخلیل کے آپ اور نوازا سے بالرعب المنصور اور والدلالات البراہین باوض الموید والمقامات المراتب الایجاد فی المحمود سرمدی قدیم والنور الابدی الشریف الجوہر والمعجزات شققت الذی وسناه سیر سرکل وہداه شی، کل نور شہود اعظم، شاہد والوجود، الحق کامل، سید ظاہر، نور سرباطن، الانوار، منہ وانفلقت الاسرار منہ العالمین، رب حبیب اور المتقین امام اور النبیین خاتم المرسلین، سید المبین، ، والانسانی الحقائق اشرف ، عظیم خلق حامل للعالمین، رحم المذنبین، شفیع اور النبیین عقد واسط اور رحمانیہ اسرار مہبط اور احسانیہ تجلیات طور اور الازل اسرار شاہد اجمعین، الخلائق افضل اور المرسلین جیش مقدم اورروح وحکم علم منبع اور القدم لسان ترجمان الاول، السابق انوار مشاہد

فرمایا۔ اعلان کا ہونے الکونین جسد لله مطابق کے مرتبہ اپنے کو پیغمبر ہر کہ ہے حقیقت بین ایک یہ ملکوت کو السلام علیہ ابراہیم حضرت کرایا۔ مشاہده کا حقائق یبی نے افگن نور ایک کو موسیٰ حضرت گیا، کرایا کامشاہده والارض السماوات لیکن گیا۔ سرفرازکیا سے کلامی ہم کر کہہ لله انا انی سے اوٹ کی درخت دربار اپنے کو پ آ پر اعلیٰ عرش آگے بہت سے حدود کے وسماء ارض کیا، سرفراز پر عالی مرتبہ اس کے النبی ایہا یا علیک السلام کر بلا میں نے اقبال علامہ رسول عاشق لیے اسی ہے۔ ناممکن ہی تصور کا جس

فرمایا چیست معرا انقلاب اندر شعور جاوید نامہ

یا

ہے سرسرا پرده جاں ہ نکت معرا ضرب کلیم

یہ انتہائی منزل او وارتقاء ہے جس سے آگے کسی ارتقاء کا تصور ہی

نہیں ہوسکتا۔ یہ تقرب الٰہی کی وه انتہائی منزل ہے جہاں ملائکہ مقربین کا

بھی گزر نہیں۔ آیات الٰہی سے یہ بات مترش ہوتی ہے کہ لله نے ایک وقت معینہ

پر اپنے برگزیده بندے جس کے لیے کلام پاک میں عبده کالفظ استعمال ہوا

ہے کو ملاقات کے لیے بلایا اور اس سفر کو اسری’‘ کہاگیا۔ عبده’‘ لله کے ساتھ حضور رسالت مآب کے ایت درجہ

اختصاص، ایت درجہ محبت اورکمال درجہ عبدیت کی دلیل ہے اور اس

لفظ کے ذریعہ لله نے پکو آ ساری خدائی میں ممیز کردیا۔ یہ ایک سفر تھا جورات میں کرایا گیا۔ کعبہ سے شروع ہوکر عرش اعلیٰ پر ختم ہوا۔ اسراکے معنی شب میں سفر کرنے کے ہیں اور یہ ہ واقع سفر خواب نہیں تھا بلکہ ایک حقیقت تھا جو جسد عنصری کے ساتھ پیش آیا۔ اگر یہ خواب ہوتا تو لفظ اسرا کااستعمال ہی نہ ہوتا۔ ایسا کرنا یا کہنا ایک

منطقی اور لسانی تناقض ہے۔ دوسرا اہم نکتہ ان آیات بینات کی ابتداء ہی میں لفظ سبحان’’‘‘

کااستعمال ہے جو کسی انتہائی تعجب خیز اور امر‘‘ عظیم’’ کے لیے بولا جاتاہے۔ اگر معرا خواب میں ہوتا تو اس میں تعجب کی کون سی بات ہے۔ اور اگر حضور رسالت ب مآ ایک خواب کی حیثیت سے اس واقعہ

کااظہار فرماتے تو مشرکین مکہ اس کی مخالفت کیوں کرتے اور کیوں پا کامذا اتے ا اس حقیقت کا اظہار اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ جب آپ نے اپنی چچازاد بہن حضرت ام ی ہان سے اس واقعہ کو بیان فرمایا تو آپ نے اس خوف سے کہ کفار ومشرکین پکا آ مذا ائیں ا گے اور پ آ کی

تکذیب کرینگے، اس واقعہ کے اظہار کرنے سے منع فرمایا۔ یہ ایک ایسا انتہائی انوکھا واقعہ تھا جس کی مثال تاریخ عالمین وانسانیت مینکہیں نہیں ملتی۔ اسی لیے اس واقعہ کوسن کر بعض کمزور ایمان والے نو مسلم مرتد ہوگئے۔ اگر معرا بیداری میں ایک امر واقعہ نہیں ہوتا بلکہ خواب ہوتا تو کفار ومشرکین اس پر تعجب کرکے آپ سے امتحان کے طور پر مسجد اقصیٰ کاحال کیوں پوچھتے کلام پاک کی آیات جو لفظ سبحان’’‘‘ سے شروع ہوتی ہیں نہ صرف اس بات کا اظہار کرتی ہیں کہ یہ انتہائی انوکھا امر واقعہ ہے بلکہ لله کی انتہائی پاکیزگی کا بھی اظہار کرتی ہیں۔ لفظ سبحان کے معنی ہی تمام عیوب اور کمزوریوں سے

پاک ومنزه ہونے کے ہیں۔ لله کی ذات سبحان ہے اور یہ لفظ اس بات کو

موجود جا ہمہ وقت ہمہ ، omnipotent مطلق قادر وه کہ ہے کرتا ظاہر بھی پر بات اس وه اور ہے۔ omniscient وخبیر عالم دان ہمہ اور omnipresent اعظم عرش پھر اور اقصیٰ مسجد سے کعبہ خانہ کو بندے اپنے کہ ہے قادر پر بات اس وه اگر آئے۔ لے پر زمین واپس سے وہاں اور جائے لے تک بات معنی بے ایک کاملہ قدرت اور جائی ہمہ دانی، ہمہ کی اس تو نہیں قادر

ہے۔ جاتی بن تو ہوتی معرا کی روح یہ اگر کہ کیوں تھی، جسمانی معرا یہ روح تھا۔ دیا کوچھو عنصری جسد نے روح کہ ہوئے یہ معنی کے اس تو مرجائے بار ایک انسان اور ہے کہلاتا مرده انسان تو دے چھو کو جسم

ہوتی۔ نہیں واپسی کی اس میں دنیا اس بغیرکے جسماورروحہےمحرومسے حرکتبغیرکےروحجسم جسم بلکہ نہیں روح صرف عبد’‘ کیونکہ عبد’‘ یا وجود ایک کہ نہ روح ایک

ہے۔ کانام مجموعے کے وروح طرح کسی اور میں درجہ کسی لینا میں معانی کے کوخواب رویا’’‘‘ کے کرنے اورسفر چلنے میں شب معانی کے اسری اور ہے نہیں صحی تینوں یہ ہیں کے نے چ اور ہونے بلند عرو معنی کے معرا اور ہیں رات پ آ کہ ہیں مظہر کے حقیقت اس اور ہیں مربوط سے دوسرے ایک لفظ نشانیوں ی ب ی ب کی رب اپنے نے پ آ گئے۔ پر سفر انتہائی ایک میں انسانی تعبیر کی جن کہ یں پ پر پ آ وتجلیات انوار ایسے اور کیا کامشاہده میں پاک کلام کی وتجلیات وانوار مشاہدات ان نہیں۔ بات کی بس کے عقل ان الفاظ کیونکہ نہیں بھی ضرورت کی اس اور گئی دی نہیں تفصیل کوئی یہ ہے۔ قاصر سے سمجھنے کو ان عقل ہماری اور سے کرنے کابیان ایک میں وانفس آفا کامشاہده جن ہیں بالاتر سے نشانیوں ان نشانیاں

ہوتاہے۔ کو نظر صاحب کسی اور میں درجہ کسی لینا میں مفہوم کے خواب کو رویا’’‘‘

میں صورت روشن اور مبہم یر ، واض نہایت رویا یہ نہیں۔ صحی طرح قلب اطمینان اور صدر شرح پورا کو نبی پر جس ہے ہوتی الصب کفل وسیع زیاده قطعی، زیاده سے مشاہده کے سر چشم مشاہده کا رویا ہوتاہے۔ پیش مغالطہ کو آنکھ ہوتاہے۔ رس دور اور عمیق درجہ ہزارہا سے اس اور محدود ایک آنکھ ہے ہوتی پاک سے مغالطہ صادقہ رویائے لیکن ہے آسکتا دائره وسیع نہایت وقت بیک صادقہ رویائے لیکن ہے سکتی دیکھ میں درجہ اس ہے قاصر سے مشاہدے کے معانی و حقائق آنکھ ہے۔ ہوجاتی محیط پر

کو تجلیات و انوار اور وحقائق معانی رویا لیکن ہے تک ئیات مر رسائی کی لیکن ہے۔ کا قرآن تدبر صاحب بیان یہ ہے۔ لیتی لے میں گرفت اپنی بھی ہے بھی پر معتزلہ اعتراض یہی اور ہے اعتراض ایک پر اس مجھے میرا ہیں۔ دوسرے اطلاقات اور وتعبیرات تشریحات کی معتزلہ حالانکہ ساتھ کے عنصری جسد کو نبی عظیم اپنے نے لله کہ ہے پر بات اس ایمان کچھ جو نے نبی عظیم اس اور ہیں شامل آنکھیں میں عنصری جسد اور بلایا

دیکھا۔ سے آنکھوں کھلی اپنی وه دیکھا کاہونا معقولات اور قوتوں جن لیے کے دیکھنے کو شے کسی سمت ٣ Time زمان ٢ Space مکان ١ ہیں تین وه ہے ضروری یہ کیونکہ ہے۔ بالا سے شرائط تینوں ان معرا ہ واقع لیکن Direction

والاہے۔ کرنے عاجز کو انسانی عقل واقعہ انسانی کہ ہے قادر پر بات اس لله کہ ہے بھی یہ بات اہم ایک اور

روز کرسکے۔ کامشاہده وتجلیات انوار وه کہ کرے عطا قوت ایسی کو جسم گا بلائے میں دربار اپنے کرکے زنده دوباره کو انسان وتعالیٰ سبحانہ لله حشر جہنم یا جنت وه ہوگا۔ کافیصلہ مستقبل کے اس پر بنیاد کی اعمال کے اس اور جسد کا اس بلکہ گی جائے نہیں روح کی اس صرف وہاں لیکن گا جائے میں کیا ہے۔ چکا گزر بھی پہلے سے تجربے اس وه اور ہوگا ساتھ بھی عنصری برملا کا بات اس تو پاک قرآن تھا۔ نہیں میں جنت وه پہلے سے آنے پر زمین ممنوعہ شجر وہاں اسے اور تھا میں جنت آدم بعد کے تخلیق کہ کرتاہے اظہار میں نتیجے کے عدولی حکم اس اور تھا گیا کردیا منع سے جانے پاس کے طے ہی پہلے نے کاملہ حکمت کی لله یہ حالانکہ دیاگیا بھی پر زمین اسے بھیجنے خلیفہ اپنا پر زمین میں کہ فرمایا سے فرشتوں نے لله لیے اسی کیاتھا

ہوں۔ والا بالعموم عظام پیغمبران کہ ہیں کرتے کیوں کوفراموش حقیقت اس ہم

، کامل علم انھیں نے لله ہیں۔ کامل وجود بالخصوص ر وآخ اعظم اورپیغمبر اطلا کا شرائط ان سی بہت پر ان اور ہے نوازا سے مطہر وجود اور عصمت ہے درجہ کااپنا پیغمبر ہر ہیں۔ ضروری لیے کے انسان عام جو ہوتا نہیں ہی نے ی ٰموس حضرت ہیں حامل کے درجہ عظیم انتہائی ر وآخ اعظم پیغمبر اور لاسکے۔ نہ تاب کی اس وه لیکن چاہی، دیکھنی الٰہی تجلی سے آنکھوں اپنی معصوم ایک تو ہوتا ناممکن دیکھنا سے آنکھ اگر اور ہے بات ایک لانا نہ تاب اعظم نبی کہ ہے یہ تو س اور کیونکرتے درخواست کی اس پیغمبر عظیم اور اور کیے نے آپ سب وه گئے۔ کرائے مشاہدے جو رات کی معرا کو ر وآخ

کہ ہے کرتا یوں اظہار برملا کا مشاہدات ان پاک قرآن

۔ طغٰی ما و ر ص ب ل ا زا ما ١٨۔١٧ النجم برٰی ک ل ا ہ ّ رب ت آیٰ ن م ی ر د ق ل رب اپنے نے اس اور ہوئی متجاوز حدسے نہ ، یائی چوند نہ نگاه

۔ دیکھیں نشانیاں ی ب ی ب کی روح آنکھ کیونکہ ہیں صراحت پر معرا جسمانی آیات قرآنی یہ

جب اور ہے روح روح ہے۔ دیکھتی میں جسم زنده آنکھ ہے۔ جسم ، نہیں دوسرے ایک وه یوں ہے۔ زنده وه ہے موجود میں عنصری جسد روح تک معرا یا رویا حقیقت اس سے مثال ایک ہیں۔ وملزوم لازم لیے کے

کریں۔ کوشش کی کوسمجھنے فورا آنکھیں ہماری سکتے، دیکھ نہیں کو سور سے آنکھ کھلی ہم روشنی آنکھیں تو ہوجائے زیاده اثر اگر کبھی کبھی اور ہیں جاتی یا چوند ہم ذریعہ کے دوربین طاقتور ایک لیکن ہیں۔ ہوجاتی محروم سے یادیکھنے

ہیں۔ سکتے دیکھ کو ستاروں روشن اور ے ب زیاده سے اس کیا سور اور علم نظام، مشینی اپنے ہم جب کہ سمجھتے نہیں کیوں بات یہ ہم

تو ہیں پیداکرسکتے قوت کی دیکھنے وعمیق وسیع ایک لیے اپنے سے عقل کی کبریائی اور علم قوت، اقتدار، کے جس کائنات رب مطلق قادر ایک کیا اپنے کو آنکھوں ہماری وه کہ نہیں قادر پر بات اس نہیں ہی حد کوئی سے اس ہے سے دنیا اس تعلق کا فہم معقولات کرے۔ عطا قوت کی مشاہدات بن معنی بے معقولات یہ لیے کے ادراک کے ان ہیں، منزلیں لاکھوں آگے

ہیں۔ جاتی اس اور روشنی کو انسان تھے محدود بہت علوم کے وسطیٰ زمانہ

کی، ترقی بہت نے سائنس تو اب تھا۔ نہیں ہی علم کوئی کا قوت و رفتار کی لیے کے ’’ی نب ذات‘‘ اور معرا کہ ہوں سمجھتا یہ میں باوجود کے اس لیکن ہے، سکنڈ فی میل ہزار ١٨٠٠٠٠ رفتار کی روشنی ہے۔ معنی بے رفتار یہ پہن میں منٹ ٨ تک سور ہم تو کریں سفر بھی سے رفتار اس ہم اگر لاکھوں کامل’’ انسان‘‘ میں جس لیے کے سفر ایسے ایک لیکن گے۔ جائیں اپنی واپس سے وہاں اور جائے تک اعلیٰ عرش کر پھلان کو وں کہکشا چند جن سفر یہ اور ہے ضرورت کی رفتار کس جائے پہن میں گاه آرام انسانی کیا تھے۔ محیط پر وقت زمینی لاکھوں کتنے لمحات وه تھا۔ کا لمحوں

ہے کرسکتی کااندازه اس عقل نبی وه ہے عظیم اور گئی لے کو بندے اپنے جو ذات وه ہے پاک بس

کیا۔ منتخب نے لله لیے کے اعزاز میناس السلام علیہم ومرسلین انبیاء تمام جسے

صفات جلوه بیک رفت ہوش ز موسیٰ

تبسمی در نگری بہ ذات عین تو

تاریخ ہے۔ واقعہ تاریخی ایک یہ نہیں یااسطور کہانی کوئی معرا

اور تاریخ انسانی کی جس واقعہ ایسا ایک واقعہ۔ ا ب سے سب کا انسانی مکان و زمان جو سفر ایسا اورایک ملتی۔ نہیں نظیر کوئی میں ارتقاء انسانی اور حد ایسی ایک ہوا۔ داخل میں خالص زماں ہوا، پھلانگتا کو حدوں کی آن تقسیم ناقابل ایک تو یہ نہیں ومکان زماں کوئی جہاں میں، جہاں ایسے ایک کے ومکان زمان اور تاریخ جو ہے واقعہ تاریخی ایک یہ ۔ ہے مطلق سے التاریخ مابعد میں آپ اپنے واقعہ سارا یہ لیکن ہوا پرشروع نکتہ زماں واپس سے Pure time خالص زمان معرا صاحب ہے۔ منسلک کی فرد میں جس سفر ایسا ایک لائے۔ تشریف میں Serial time مسلسل واصول قوانین لیے کے سما اور تہذیب انسانی آخری ساتھ ساتھ کے تعمیر

گئے۔ کیے عطا گئی عطاکی کو ی عرب صرف جو ہے منزل وه کی روحانیت یہ کے حیثیتوں تمام ان لیکن گیا۔ کیا وبیان عیاں کو مصطفائیت کی پ یونآ اور ہے مظہر کا بات اس یہ اور نہیں کہانی یا اسطور ہے واقعہ ایک یہ باوجود

نہیں۔ خدا یا دیوتا ہیں انسان ایک ی ٰمصطف واعظم آخر نبی کہ والمرسلین النبیین خاتم ہیں لله کلیم ہیں، لله خلیف ہیں، کامل انسان وه

ی ب سے سب اور س ا ب سے کاسب تاریخ انسانی اور ہیں لمذنبین ا وشفیع عظیم والی کرنے طے کو مستقبل والے ہونے ختم نہ کی انسانوں اور قدر گواه پر سب اور نذیر ، ہادی مبشر، لیے کے سب پ آ کہ کیوں شخصیت

گئے۔ بنائے معترض پر ہی ہونے انسان کے رسولوں ہمیشہ ومشرکین کافرین

ہیں پیغمبر کیسے ، انسان جیسے ہم یہ کہ تھا کہنا یہ کاہمیشہ ان اور تھے۔ کہتے یہ سردار کے ان کر دیکھ کو عالیہ صفات کی ه پنا رسالت جناب اور رسول لیکن گے لیں مان انہیں ہم تو کریں دعویٰ کا خدائی یہ اگر کہ تھے خدا جھوٹے پر زمین کی لله زمان ہر نے انہوں لیے گے۔اسی مانیں نہیں و حقیقت تاریخی اور علمی انسانی، کوئی کی جن لیے۔ گھ دیوتا دیوی اور و شرم اور عقل کہ کردیں چسپاں کہانیاں ایسی ساتھ کے ان اور نہیں حیثیت اسے ہے سربگریباں ناطقہ ہیں۔ شرمنده کر سن انہیں حکمت و علم اور حیا مشرکانہ اور اسطور کے ہندوستان اور مصر ، عرا یونان، یہی کہیے، کیا

ہے۔ حقیقت کی مذاہب

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.