تراجم فارسی کے کتابوں ہندوستانی و افہام کی تمدن اور مذاہب ہندوستانی کوشش قدر گراں کی تفہیم

Maarif - - ء٢٠١٦ ستمبر معارف -

جناب شریف حسین قاسمی

ہندوستان اور ایران کے باہمی سیاسی، سماجی، تجارتی اور ادبی رشتوں پر سیر حاصل گفتگو ہوچکی ہے اور آ بھی ہوتی رہتی ہے۔ تاریخی اعتبار سے ان روابط کی قدامت کا تعین بھی مشکل ہے۔ ایرانیوں نے ہندوستان سے اپنے ان ہی قریبی دوستانہ تعلقات کی وجہ سے یہاں کی زندگی کے ہر پہلو میں دلچسپی لی اور اسے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی۔ تمہید کے طور پر ایران و ہند کے قدیم ادبی و علمی تعلقات کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ یہ ذہن میں تازه رہے کہ جب فارسی زبان والے ہندوستان آئے تو ہندوستان کی علمی و ادبی فتوحات اور ان کی ہمہ گیر عظمت سے وه واقف تھے۔ ایران میں تیسری صدی عیسوی میں ساسانی حکومت کے قیام کے

بعد ایران و ہندوستان کے سیاسی، تجارتی اور علمی و ادبی روابط میں قابل ذکر اضافہ ہوا۔ ساسانی بادشاه شاه پور اول کے دور حکومت میں ہندوستان کی چند کتابوں کے جو ظاہر ہے سنسکرت میں تھیں، اس زمانے کی فارسی زبان پہلوی میں ترجمے کیے گئے۔ ان میں منطق پر ترکہ ، Tarka صرف و نحو، یرویاکرنہ ، VYakarna نجوم پر ہوره Hora اور تقویم ماه شماری پرکالا کوشہ KalaKosha قابل ذکر ہیں۔ تاریخ نے انو شیروان ١٩ ٣١ اور اس کے جانشین خسرو پرویز کے دور حکومت میں ہندوستان اور ایران کے درمیان سفراء و تحفے

تفصیل کی تعلقات علمی و ادبی و تجارتی اور جانے آنے کے تحائف وزیر ایک کا اس میں حکومت زمانہ کے انوشیروان ہے۔ رکھی محفوظ ترجمہ میں پہلوی کا پنچاتنتر کتاب الارا معرک ہے، آتا ہندوستان یرزویہ متعارف میں ایران شطرن کھیل ہندوستانی سفیر ہندوستانی ایک ہے۔ کرتا دور اسی بھی تامہ سندباد کتاب دوسری ایک علاوه کے پنچاتنترا ہے۔ کراتا یہ کا پنچاتنترا ہے۔ جاتی کی ترجمہ میں پہلوی اور ہے پہنچتی ایران میں کلیلہ ترجمہ کا اس میں عربی کا مقفع ابن لیکن نہیں موجود اب ترجمہ پہلوی انہیں یا گئے کیے ترجمے بارہا میں فارسی کے جس ہے دستیاب دمنہ و معروف کی شاپور جندی میں ہی عہد کے شیروان انو گیا۔ لکھا دوباره دیتے تعلیم کی سازی دوا اور طب طبیب، ہندوستانی میں گاه درس ایرانی کیا ترجمہ میں پہلوی کا کتاب کی چرکہ طبیب کے دربار کے کنشکا ہیں۔

ہے۔ جاتا آئی۔ سرگرمی بزی میں تلاش کی علم بعد، کے آنے اسلام

اور کرنے سفر کا دراز دور لیے کے جاننے حالات کے دنیا نے مسلمانوں ہونے روشناس سے تحقیقات علمی اور مشاہدات تجربات، کے اقوام دوسری کیا۔ مظاہره کا ذو و شو رشک قابل سے رض کی استفاده سے ان اور تھے۔ واقف یہ سے مناسبت و اہمیت کی فتوحات علمی کی ہندوستان چونکہ خاص کی ان ریاضیات اور نجوم طب، جیسے علوم ہندوستانی لیے اس نہایت میں انقلاب تمدنی اور فکری کے مسلمانوں اور بنے مرکز کا توجہ

ہوئے۔ ثابت عامل موثر اس اور کرنے حاصل علم کر کھول دل نے خلفا عباسی اور اموی علوم میں دور اس بغداد تھی۔ رکھی چلا تحریک ایک جیسے میں تروی کی فضلا علما، سے ممالک مختلف جہاں تھا مرکز ا ب سے سب کا معارف و کرنے عام کو دانش و علم سب یہ اور تھے گئے کرلیے جمع دانشور اور علمی، اہم اپنی اور تھے کررہے تعاون ساتھ کے دوسرے ایک لیے کے کی دوسرے ایک میں کرنے تراجم میں عربی کے کتابوں ادبی اور تحقیقی کا اس ملا سے جہاں کچھ جو ذخیره علمی طرح اس تھے۔ کررہے مدد

گیا۔ کردیا پیش لیے کے استفاده عام اسے اور گیا کرایا ترجمہ میں عربی سے عیسوی صدی آٹھویں ہجری صدی دوسری میں دور اسلامی عباسی منصور خلیفہ ہے۔ ہوتا شروع دور کا تراجم کے کتابوں ہندوستانی

نے سرپرستی کی وزرا برمکی کے ان اور تشویق کی ء٧٧ -٧

میں کرانے منتقل میں عربی کو روایات ادبی اور فنون و علوم ہندوستانی خاندان حاکم اور معتبر ایک میں علاقے کے بلخ برمکی، لیا۔ حصہ نمایاں تھے بود یہ تھا۔ رکھتا دلچسپی خاص سے علوم ہندوستانی اور تھا پرمکھ

تھے۔ ہوگئے شامل میں وزراء کے خلفا عباسی اور مسلمان میں بعد جو اور نجوم مسلمان میں عیسوی صدی آٹھویں / ہجری صدی دوسری عباسی منصور تھے۔ کرتے پیروی کی دانشوروں ہندوستانی میں ریاضی پر نجوم یہ ہے۔ جاتا بلایا بغداد منجم ہندوستانی ایک میں خلافت دور کے بن یعقوب اور الفزاری ابراہیم ہے۔ کراتا تعارف کا انتا سد کتاب ہندوستانی استاد تینوں یہ پھر اور ہیں لیتے درس کا ریاضیات و نجوم سے اس طار کی عیسوی صدی ساتویں گپتا برہمہ منجم ہندوستانی کر مل شاگرد کے KhandaKhadayaka کھنڈکھادیکہ اور انتا سد براہمہ کتابوں معروف کرتےترجمےمیںعربیہے،معروفسےنامکے Ahargana اہرگنہ جو کھند دوسری اور ند سند انتہ، سد براہمہ میں منجموں مسلمان ہیں۔

ہیں۔ معروف سے نام کے ارکنند کھادیکہ، ممالک اسلامی تک عیسوی صدی گیارہویں / ہجری صدی پانچویں سے کتابوں ان وہاں گئی، بنائی زی بھی جہاں تک اندلس سے ایران میں، الہند کتاب اپنی پر ہندوستان نے بیرونی ریحان ابو گئی۔ کی حاصل راہنمائی کے ان ہے۔ کی گفتگو مفصل میں بارے کے کتابوں دونوں ان میں ہندوستانیوں بھی صفر ہے۔ کیا بھی ذکر کا خامیوں اور اوصاف مشتملات، نظام یہ ہمارا ہوا۔ باعث کا انقلاب زبردست میں دنیا علمی یہ ہے۔ ایجاد کی اور دین کی عربوں اسے وه پہنچا۔ یورپ ذریعے کے عربوں ریاضی ہندوستانی اپنے میں سلسلے اس عرب لیکن ہیں، کہتے Arabic Numeral ہندوستان سے ایمانداری اسے اور ہیں بولتے س بھولتے، نہیں کو محسنوں

ہیں۔ کہتے ہندسہ اور دین کی پانچویں بھٹ ریہا منجم ہندوستانی دوسرا ایک میں مسلمانوں کتابوں عربی ہے۔ رہا معروف بھی عیسوی صدی گیارہویں ہجری/ صدی

ہے۔ آتا نظر میں صورت کی بھد ار اور یہر ار نام کا اس میں جن پر ریاضی و نجوم میں صدیوں کی اوایل کی دور اسلامی طویل ایک نستبا کی ان گئے کیے تراجم عربی کے کتابوں ہندوستانی عیون کی اصیبعہ ابی ابن اور الفہرست کتاب معروف کی الندیم ابن فہرست

ہے۔ در میں الاطبا طبقات فی الانباء

جس ہے کیا بیان قصہ کا طبیب ہندوستانی ایک نے اصیبعہ ابی ابن

نہیں جا بے کرنا نقل یہاں کا ہوگیا۔ مبتلا میں بیماری کی قسم سخت ایک الرشید ہارون خلیفہ‘‘

ایک کے اس آگئے۔ عاجز سے کرنے علا کا اس اطبا کے بغداد اور حکیم حاذ ہندوستانی ایک کہ دی صلاح اسے نے مقرب کرسکتا علا کا خلیفہ وه جائے، بلایا بغداد اسے ہے۔ منکہ دانشور الرشید ہارون سے علا کے اس گیا۔ بلالیا بغداد کو منکہ ہے۔ منکہ روز ایک گیا۔ کیا اکرام و اعزاز کا طبیب ہوگیا۔ مند صحت کو شخص ایک نے اس تھا، رہا گذر سے کوچوں گلی کی بغداد یہ دیکھا، پھیلائے بوٹیاں ی ج پر اس اور بچھائے ا کپ پر ک س

ہر یہ کہ تھا رہا بتا میں بارے کے معجون ہوئی بنائی اپنی شخص آنکھوں درد، کے پیٹ بواسیر، کمر، درد زانو، درد بخار، کے قسم ہے۔ علا کا بیماری کی قسم ہر رض رعشہ ، فال امراض، کے رہا کہہ کیا شخص یہ کہ پوچھا سے مترجموں ساتھ اپنے نے منکہ ایسے کہ کہا نے منکہ تو گئی بتائی حال صورت اسے جب ہے۔ بغداد سے ہندوستان اسے باوجود کے ہونے میں بغداد کے شخص سفر اور ہوگیا دور سے خاندان اور بار گھر اپنے وه گیا۔ بلالیا کیوں

یہ اگر اور ہوا۔ ال خر پر یره و قیام کے اس میں بغداد اور قتل اسے تو ہے جھوٹ اور بنیاد بے ہے، رہا کہہ کچھ جو شخص اجازت بھی شریعت کی قتل کے شخص ایسے جاتا۔ کردیا نہیں کیوں مارا خود یہ شخص، ایک صرف تو گیا کردیا قتل یہ اگر ہے، دیتی

دیا چھو آزاد کو اس اگر اور گے رہیں محفوظ لو اور گا جائے کا موت کی کسی نہ کسی روز ہر حماقت و جہالت کی اس تو گیا لو چار یا تین دو میں دن ایک کہ ہے ممکن بھی یہ ہوگی۔ باعث کی مملکت اور فساد میں دین تو یہ جائیں۔ مارے ہاتھوں کے اس

١ ۔ہوگا’’ باعث کا تباہی کہ ہوجائے واض کہ تھا یہ مقصد کا سنانے کے داستان اس تھی۔ مبنی پر قواعد و ضوابط طبابت خود اور پیشہ کا طبابت میں ہندوستان پہلو سماجی اور اخلاقی کا پیشے اس علاوه، کے اصولوں تجرباتی و علمی طبابت ہندوستانی تھا وصف خصوصی ایک یہ اور تھا جاتا رکھا مدنظر بھی

کا۔

کے دینے تعلیم کی علم اس نے اطبا ہندوستانی والے آنے بغداد

میں کرنے تراجم میں عربی کے کتابوں ہندوستانی لکھیں، کتابیں علاوه

شرکت کی اور ہندوستانی علوم سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ اور محققین کی مدد و راہنمائی بھی کی۔ معروف ایرانی حکیم بن زکریا رازی نے اپنی کتابوں میں اقرار کیا ہے کہ اس نے طب پر ہندوستانی کتابوں کے عربی تراجم سے استفاده کیا ہے۔

ابن الندیم نے اپنی الفہرست میں مختلف موضوعات پر ہندوستانی کتابوں کے عربی تراجم کا ذکر کیا ہے۔ ان میں منطق، حکمت، مذہب، ، اخلا ادب، ہاتھ کی ریکھائیں دیکھنا، نجوم، جادو اور موسیقی پر کتابیں

شامل ہیں۔ یہ ایک اہم تاریخی نوعیت کی بات ہے کہ اسی دور میں ہندوستان

کی معروف کتاب مہابھارت کی ایک مختصر روایت عربی میں منتقل کی گئی۔ ابو صال بن شعیب کا یہ کارنامہ ہے کہ اس نے / ١٧ ١٠٢۶ میں ایک دیلمی سپہد کے لیے اس کا فارسی میں ترجمہ کیا۔ اس کی ایک روایت

آ مجمل التواریخ والقصص میں محفوظ ہے۔ یر اسلامی ایران، اسلامی ایران اور اسی طرح بغداد میں

مسلمانوں کی ہندوستانی علوم و معارف سے زبردست دلچسپی کا ان

معروضات سے بخوبی اندازه ہوگیا ہوگا۔ سلطان محمود زنوی /٣٨٨ -٩٩٨ / ٢١ ١٠٣٠ ہندوستان پر

بارہا حملے کرتا ہے۔اس کا بنیادی مقصد یہاں سے مال نیمت سمیٹنا تھا، لیکن وه پنجاب اور اس کے نواحی علاقوں کو اپنی قلمرو میں شامل کرلیتا ہے۔ سلطان محمود کے جانشین اپنے سیاسی مرکز زنہ میں سلجوقیوں کے ہاتھوں شکست کھاکر پنجاب میں سمٹ آتے ہیں اور لاہور کو اپنا مرکز

بناتے ہیں۔ اس طرح فارسی زبان اور اس کی علمی و تہذیبی روایات کے حامل

دسویں صدی عیسوی میں ہندوستان آجاتے ہیں۔ یہی ان کا وطن قرار پاتا ہے۔ اب انہیں ہندوستان اور ہندوستانیوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ وه یہاں کی مذہبی، تمدنی، لسانی اور جغرافیائی رنگا رنگی اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ یہ تنوع انہیں بھا جاتا ہے۔ وه اسے از سرنو سمجھنے کی

کوششوں میں ل جاتے ہیں اور اس کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔ یہی وه دور ہے جب ابو ریحان بیرونی /٣۶٢ -٩٧٣ / ٠ ١٠ ٨

کا اس ہے۔ آتا ہندوستان میں عیسوی صدی گیارہویں ہجری/ صدی پانچویں عظیم کے دور اس کے ہندوستان یہ تھا۔ سے دربار کے زنوی محمود تعلق میں لاہور اور پشاور علاقوں کے پاس آس کے اس اور سنده مرکز علمی شو و ذو علمی کے اس ہے۔ سیکھتا سنسکرت ہے۔ کرتا قیام برس تیره ہیں۔ اتے پ کتابیں اپنی اسے حضرات پنڈت علما، ہندوستانی کر دیکھ کو متعدد میں سنسکرت وه پھر ہیں۔ کرتے گفتگو پر امور مذہبی سے اس اصل کے کتابوں بعض سے میں ان ہے۔ کرتا ترجمہ میں عربی کا کتابوں آ یہ میں ترجموں عربی کے بیرونی لیکن نہیں موجود اب متون سنسکرت ٧٠٠ کام الآرا معرک سے سب کا بیرونی پر ہندوستان ہیں۔ محفوظ بھی دائرة ایک یہ ہے۔ للہند ما تحقیق فی الہند کتاب کی اس مشتمل پر صفحات نجوم، تاریخ، تقویم، متعلق سے ہندوستان یہ ہے، کتاب کی قسم المعارف اور تبحر علمی کے مصنف پر موضوعات یره و فقہ دین، فلسفہ، جغرافیہ، معتبر کا ہندوستان کے دور اس اور ہے۔ ثمره قدر قابل کا کاوشوں تحقیقی کی تیار فہرست کی کتابوں اپنی میں ١٠٣ / ٢٧ نے بیرونی بھی۔ تعارف ہندوستان کتابیں ستائیس میں ان ہے۔ زیاده سے سو ایک تعداد کی جن تھی، ان ہیں۔ تبصرے تحقیقی و علمی کے بیرونی پر علوم مختلف کے یہاں اور موجود مقالہ ایک اور کتابیں دو صرف ہیں۔ مفقود اب کتابیں بیشتر سے میں

ہیں۔ محفوظ میں الہند کتاب اقتباسات کے چند سے میں ان لیکن ہیں سعد مسعود شاعر معروف و عظیم ایک کا فارسی میں دور اسی

کہتا شعر میں اس ہے۔ سیکھتا زبان ہندوستانی یہ تھا۔ مقیم میں لاہور سلمان صدی گیارہویں پہلے سے سب ذکر کا جس ہے کرتا مرتب دیوان ایک ہے۔ ہے کیا میں الالباب لباب تذکره اپنے کے شعرا نے عوفی میں عیسوی واقعہ تہذیبی عظیم اس بھی نے دہلوی خسرو امیر ہند طوطی میں بعد اور

ہے۔ دہرایا سے فخر کو میں پنجاب ہاتھوں کے وری الدین یاث میں ١١٨۶ / ٨٢

میں ١٢٠۶ /۶٠٢ بعد مدت کچھ ہے۔ ہوجاتا خاتمہ کا حکومت کی زنویوں میں ء١٨ ٧ سے زمانے اس ہے۔ تی پ بنیاد کی سلطنت مملوک نئی ایک سال سو چھ ے سا تک بھی بعد کے اس بلکہ خاتمے کے حکومت مغل کی حسنہ روایت تحقیقی اور ادبی علمی، اسی میں میدان کے ادب و علم ہندوستان حامل کے تہذیب و زبان فارسی جو ہے جاسکتی دیکھی حکمرانی

تھے۔ آئے کر لے کے کتابوں ہماری باہر سے ہندوستان کہ ہے ضروری دلانا یاد یہ

دانش و علم حصول بیشتر مقصد بنیادی کا تراجم میں فارسی یا عربی پہلوی، دوسری کی دنیا کے کتابوں ان سے تراجم ان ہوئی۔ حاصل کامیابی میں اس تھا۔ نے نور کے دانش و علم طرح اس اور گئے کیے تراجم بھی میں زبانوں جو کے کتابوں ہندوستانی برخلاف کے اس کیا۔ دور کو یروں اند کے لاعلمی کتابوں کی یره و سنسکرت یا گئے کیے میں وطن ہمارے میں فارسی تراجم تھا کرنا حاصل علم ہے ظاہر تو مقصد ایک کا ان گیا، کیا بیان میں فارسی کو اس وه اور تھا بھی تہذیبی اور مذہبی سماجی، مقصد تر اہم دوسرا ایک لیکن ہی تفاہم، دوستی، کر سمجھ کو رنگی رنگا اور تنوع میں زندگی میدان ہر کہ طرح راه ایسی ایک کی زندگی کر رکھ ملحوظ کو افکار و عقائد کے دوسرے ایک اپنی اپنی پھولیں۔ پھلیں کریں۔ احترام کا اس سب ہو۔ قبول کو سب جو تھا، نکالنا کی زندگی حدتک ده تکلیف اختلاف کا قسم کسی کہیں باوجود کے چلنے پر راه کے زندگی والے لینے جنم سے رویے اس کرے۔ نہ پیدا انتشار کوئی پر شاہراه قابل ہماری جو ہیں، پکارتے سے نام کے تہذیب مشترکہ آ کو طریقے نئے

ہے۔ وراثت فخر ساتھ کے دوسرے ایک ہیں، ملتے لو دو جب کہ ہے حقیقت یہ ایک تو ہیں ہوتے واقف سے خیالات و افکار کے دوسرے ایک ہیں، رہتے سے روایات تہذیبی اور صنعتی فنی، مذہبی، کی نوعیت ہر کی دوسرے محض کہ ہے ہوتا بھی یہ تو کبھی کبھی سکتے۔ ره نہیں بغیر ہوئے متاثر ہندوستان یہی ہے۔ ہوجاتا موجب کا تعلق کے بھر عمر ساتھ کا لمحات چند کے مذہب ہندو پر طور خاص مذاہب مختلف کے یہاں اور مسلمانوں میں

آیا۔ پیش ساتھ کے والوں ماننے کی مغلوں میں ہندوستان کہ ہے ضروری اظہار کا حقیقت اس فارسی کے کتابوں ہندوستانی ہی چند میں دور سلطنت پہلے سے حکومت بے میں حکومت دور کے مغلوں برخلاف کے اس ہیں۔ دستیاب تراجم میں تاریخی، میں ان گئے۔ کیے تراجم میں فارسی کے کتابوں ہندوستانی شمار میں فارسی کے کتابوں کی نوعیت ہر رض تہذیبی و تمدنی علمی، مذہبی، کے یہاں کہ ہوا احساس یہ بقول کے الفضل ابو کو اکبر بادشاه ہوئے۔ تراجم میں امور ایسے بعض میں مسلمانوں اور ہندو پر طور خاص طبقوں مختلف پر طور صحی کو عقائد کے دوسرے ایک جسے ہے جاتا پایا نظر اختلاف کردیا قائم مرکز ایک کا ترجمہ نے اس ہے۔ جاسکتا کیا دور سے سمجھنے دیا حکم کو پنڈتوں اور فضلا و علما دانشور اور معتبر کے دور اپنے اور کو عقائد ہندوستانی تاکہ کریں ترجمہ میں فارسی کا کتابوں ہندوستانی وه کہ گا۔ جائے کیا میں بعد ذکر کا تراجم ان ہو۔ نہ دشواری کوئی میں سمجھنے

ء١٢١٣ م عبدالرحمان شخص ایک میں اوایل کے صدی تیرہویں

اپنا نے اس ہوسکتی۔ نہیں پہچان کی مقام اس ہے۔ لیتا جنم میں ملچھادش فصلوں تین یہ کیا۔ مرتب سے نام کے راسک’’ سندیش‘‘ کلام ہندوی ہندی/ جو ہے گئی کی بیان کہانی کی عورت ایسی ایک میں اس ہے۔ منقسم میں زندگی اس کی جدائی وه ہے۔ مجبور پر رہنے دور کوسوں سے شوہر اپنے ہنسی وه اور ہے آتا لوٹ شوہر کا اس آخرکار ہے۔ کرتی بیان کلفتیں کی ست شک داستان ہندوستانی ایک کہانی یہ ۔ ٢ ہیں گذارتے زندگی خوشی

ہے۔ شکل ایک کی ماسہ باره یہ ہے۔ جلتی ملتی بہت سے پتی معنی حقیقی یہ نہیں۔ واقف کون سے ١٣٢ -١٢ ٣ خسرو امیر

میں کرانے تعارف کا اس اور سمجھنے کو ہندوستان ہیں۔ ہند طوطی میں ہیں کہتے نشان جنت کو ہندوستان یہ ۔ رکھی نہیں اٹھا کسر کوئی نے انہوں اسلام اور مذہب ہندو ۔ ہیں کرتے پیش دلائل لگتے دل میں ثبوت کے اس اور کتاب ہندوستانی ہیں۔ کرتے ذکر پر طور خاص کا باتوں مشترک بعض میں میں موسیقی ۔ ہیں کرتے گفتگو پر اہمیت کی شطرن اور دمنہ و کلیلہ ر مد کی جس ہیں دیتے قرار موسیقی ہ آل ممتاز ایک کو سرود ہندوستانی والی جانے بولی یہاں ہیں۔ اٹھتے جھوم بھی جانور نہیں، ہی انسان سے آواز عظیم اور اہم ایک کو سنسکرت وه ہیں۔ کراتے تعارف کا لہجوں اور زبانوں یہی صرف ہے۔ بہتر سے فارسی میں نظر کی ان جو ہیں کرتے شمار زبان خان خضر و رانی دول داستان ہندوستانی ایک پہلے سے سب وه نہیں، فارسی کا روا و رسم متعلق سے بیاه شادی اور ہیں کرتے نظم میں فارسی

ہیں۔ کراتے تعارف میں دنیا کے ء١٣ ٢ م تغلق بن سلطان میں عیسوی صدی ویں چود الانس بساتین مشتمل پر داستانوں ہندوستانی اخستان صدر میں سلطنت دور

ہے۔ ہندوستانی منظر پس کا ان ہیں۔ لکھتے و علم اور دوست فرہن ایک ء١٣٨٨ -١٣ ١ تغلق شاه فیروز

و مناسبت کی تمدن و تہذیب ہندوستانی اسے ہے۔ گذرا بادشاه نواز دانش کے کتابوں چند کی سنسکرت پر اشاره کے اس تھا۔ بھی احساس کا عظمت کی Varahamira میرا ا ورا پر نجوم میں ان گئے۔ کیے تراجم فارسی جامہ کا فارسی نے تھانیسری شمس عبدالعزیز جسے ہے ذکر قابل کتاب

تھا۔ پہنایا داستان کی چنداین میں زبان ی اود نے ود دا ملا میں دور تغلق اسی

سب میں زبان ہندوستانی یہ کہ ہے بھی یہ امتیاز ایک کا کتاب اس کی۔ نظم

کے چندا اور لورک میں اس ہے۔ پہنچی تک ہم جو ہے کتاب پہلی سے کے تصوف اسلامی نے ود دا ملا کو جس ہے گئی کی بیان داستان کی عشق کرایا تعارف میں لوگوں عام کا تصوف طرح اس اور ہے کیا نظم میں رن اس جو تھے جاتے ے پ سے ممبر کے مسجد اشعار کے مثنوی اس ہے۔

ہیں۔ ثبوت کا محبوبیت کی تاریخ کی کشمیر مشتمل پر ابواب آٹھ میں سنسکرت ترنگنی راجا کے ء١١٠١ -١٠٧٨ ہرش راجا جو ہے تصنیف کی کلہن پنڈت یہ ہے۔ کے سنگھ جے راجا کے کشمیر میں ء١١ ٨ -٩ یہ تھا۔ کا ل کا چنیک وزیر کشمیر ترجمہ فارسی پہلا سے سب کا اس تھی۔ گئی لکھی میں حکومت دور /٨٢٣ بڈشاه بہ معروف العابدین زین سلطان کے خاندان میری شاه کے نہیں۔ دستیاب اب ترجمہ یہ گیا۔ کیا میں دور کے ١ ٧ /٨٧ -١ ٢٠ کے ترنگنی زینا کا ترنگنی را نے تارا زو میں حکومت دور کے بڈشاه لکھا ضمیمہ دوسرا ایک بھی نے ر د شری پنڈت لکھا۔ ضمیمہ سے نام منتقل میں فارسی میں ہی زمانے کے بڈشاه نے رتناکر اور احمد ملا جسے /٩٩٨ سے آبادی شاه شاه ملا نے ١۶٠ -١ ۶ اکبر بادشاه کیا۔ ابوالفضل ذکر کا جس کرایا ترجمہ دوباره میں فارسی کا اس میں ء١ ٩٠

ہیں۔ ملتے نسخے دوقلمی ازکم کم کے اس ہے۔ کیا میں اکبری آئین نے ہ نام نسب تاریخ کی قبیلے حاکم کے کچھ میں گجرات براں مزید

یہاں تک حملے پر ہندوستان کے وری الدین شہاب شترسے جد جدیجا، ہری اور گیتا بھگوت مہابھارت، راجاولی، تاریخ مختصر کی وں راجا کے کھنڈ بندیل اسرار، گلشن ترجمہ فارسی کا تاریخ ہندوستانی ماخوذ سے ونش کا تاریخ تھا۔ کیا قتل کو ابوالفضل نے جس کی نرسنگھ راجا کے اورچا میں کا جن ہیں کتابیں وه متعلق سے تاریخ ہماری جان، بخش فرح ترجمہ فارسی

ہیں۔ ملتے بھی آ نسخے قلمی کے جن اور گیا کیا ترجمہ میں فارسی بر پوران، وایو کھنڈ، کاشی پوتھی مہاتمی، چترا کھنڈ، کاشی

ہیں۔ تاریخ کی قدیمہ آثار اور جغرافیے کے ہندوستان جو ہیں کتابیں وه مہاتم تراجم فارسی کے ان گیا۔ کیا ترجمہ میں فارسی میں ادوار مختلف بھی کا ان

ہیں۔ دستیاب بھی نسخے قلمی کے سے نخشب واقع میں بخارا ١٣ ٠ - ١ /٧ ١ م ضیاءالدین شاعر فارسی منش صوفی یہ ہوگئے۔ مقیم میں بدایوں اور آئے ہندوستان اوایل اور خلجی مملوک، نے انہوں اور رہے زنده تک عرصے طویل ایک

تھی۔ دلچسپی سے معارف و علوم ہندوستانی انہیں دیکھا۔ کو دور تغلق اور پتی ست شک کتابوں دو میں سنسکرت گئے۔ بنارس سیکھنے سنسکرت نام کے نامہ طوطی کو پتی ست شک کیا۔ ترجمہ میں فارسی کا شاستر کوک کے شاستر کوک اور پہنایا جامہ کا فارسی میں ١٣٢٩ -٣٠ /٧٣٠ سے میں فارسی کتابیں دونوں یہ دیا۔ عنوان کا النساء لذت کو ترجمہ فارسی کی مالک اپنے طوطی ایک جو ہیں کہانیاں ٢ میں نامہ طوطی ہیں۔ مشہور سناتا لیے کے رکھنے قائم پر راست راه میں حاضری یر کی اس کو بیوی

ہیں۔ کہتے کو ادب کے نوعیت اسی ماسا باره ہے۔ کے باہر اور ہندوستان رہی۔ مقبول بہت میں وسطی قرون کہانی یہ فارسی کا اس ہیں۔ محفوظ نسخے قلمی ١ ٨ کوئی کے اس میں خانوں کتاب متن فارسی نے M.A. Sinsar ہے۔ ہوچکا شائع سے ایران اور ہندوستان متن ہے۔ ہوا ترجمہ بھی میں زبان جرمن کا اس ہے۔ کیا ترجمہ انگریزی کا اکبر نظر پیش کے مقبولیت کی اس ہے۔ لکھا میں دکنی قصہ یہ نے واصی میں فارسی ساده نسبتا دوباره کو ترجمے کے نخشبی سے ابوالفضل نے ادبا و شعرا دوسرے وه محسن نصیری قادری، لاہوری، حمید لکھوایا۔ ہے۔ کیا منتقل میں فارسی کو نامہ طوطی پر طور اپنے اپنے نے جنہوں ہیں

ہیں۔ موجود میں خانوں کتاب نسخے قلمی متعدد بھی کے روایات ان کتابوں ہندوستانی دوسری اور سنسکرت میں حکومت دور مغل

کے ان ہے۔ تعداد ی ب بہت کی ان گئے۔ کیے تراجم میں فارسی کے عوامی قدیم قدیمہ، آثار تاریخ، ہندوستانی مثلا ہیں متنوع بھی موضوعات کہانیاں تاریخی نیم و تاریخی تصوف، مذہب، ادب، متعلق سے پوران ادب، ریاضیات، سازی، دوا اور طب جادو، موسیقی، فن، و ہنر داستانیں، اور

یره۔ و علوم سائنسی لیے اس نہیں۔ ممکن گفتگو حاصل سیر پر سب ان وقت اس یہاں

بہت میں ہندوستان کا ادب عوامی ہے۔ خدمت پیش گزارش اجمالی ایک اوپر ذکر کا اس ہیں۔ آتی میں زمره اسی کہانیاں کی پنچاتنترا ہے۔ رہا روا ہے۔ بھی آ اور ہے رہی اہمیت ی ب کی اس میں ادب فارسی ہے۔ جاچکا کیا دور ساسانی نے بزویہ پہلے سے سب ہے۔ جاچکا کیا عرض کہ جیساکا اس اسے نے مقفع ابن پہلے سے ہونے مفقود کے اس کیا۔ ترجمہ میں پہلوی میں میں فارسی کے اس سے ترجمے عربی اسی تھا۔ کردیا منتقل میں عربی فارسی گیا۔ کیا بیان میں فارسی کو مطالب کے پنچاتنتر یا گئے کیے ترجمے

اس نے ٩ ٠- ١ /٣٣٩ م رودکی عبدلله ابو جعفر شاعر معروف کے

میں فارسی میں دور ہر تقریبا کو پنچاتنتر تھا۔ کیا نظم میں فارسی کو کتاب عبدلله میں عیسوی صدی بارہویں ہجری/ صدی چھٹی ہے۔ گیا کیا پیش صدی اسی لکھا۔ میں فارسی سے نام کے بیدپای داستانہای اسے نے بخاری بہرام دمنہ و کلیلہ کو روایت کی پنچاتنتر کی منشی نصرلله ابوالمعالی میں و کلیلہ نے قانعی طوسی محمود بن احمد گیا، کیا شائع سے نام کے شاہی سے نام کے سہیلی انوار نے ١ ٠ /٩١٠ م کاشفی واعظ حسین اور دمنہ کے اس ہے۔ روایت مشہور بہت یہ ہے۔ کیا بیان میں فارسی کو پنچاتنتر یہ ہیں۔ گواه کے محبوبیت کی اس اور موجود نسخے خطی ترسٹھ کوئی اور ابوالمعالی کو اکبر بھی۔ سے ہندوستان بھی سے ایران ہے۔ چھپی بارہا ساده نسبتا کتاب یہ کو ابوالفضل نے اس آئے۔ نہیں پسند ترجمے کے کاشفی دستیاب ہمیں آ سے نام کے دانش عبار جو دیا حکم کا لکھنے میں فارسی مرتبہ کئی یہ ہیں۔ موجود نسخے قلمی ٧٣ کم از کم کے دانش عبار ہے۔

ہے۔ ہوئی بھی شائع ایک کی اس میں ضمن کے روایات یا تراجم فارسی کے پنچاتنتر اصل میں سنسکرت جب نے اکبر بادشاه ہے۔ ضروری ذکر کا روایت کیے ترجمہ میں فارسی بار کئی کہ ہوا احساس اسے تو دیکھی پنچاتنتر اپنے نے اس ہیں۔ ہوگئے دور سے اصل ترجمے سے، وجہ کی جانے توجہ دوباره کا اس وه کہ دیا حکم کو عباسی داد خالق فاضل ایک کے دربار نئی میوزیم، نیشنل نسخہ قلمی واحد کا اس کرے۔ ترجمہ میں فارسی سے عابدی حسن امیر سید پروفیسر گرامی استاد اور ہے محفوظ میں دہلی

ہے۔ کردیا شائع اسے نے مرحوم شیکھر اندو ڈاکٹر استاد ایک کے سنسکرت سے ہندوستان اپنے میں تہران تھے۔ گئے یونیورسٹی تہران لیے کے انے پ سنسکرت ظاہر تھا۔ کیا منتقل میں فارسی کو پنچاتنتر بھی نے انہوں دوران کے قیام

ہوگا۔ پایا انجام سے تعاون کے فاضل ایرانی کسی کام یہ ہے حاصل اہمیت بھی کو ساگو سرت کتھا میں سلسلے کے ادب عوامی کے بذشاه العابدین زین کے کشمیر پہلے سے سب ترجمہ فارسی کا اس ہے۔ اکبر کرایا۔ ترجمہ دوباره بھی کا اس نے اکبر شاہنشاه تھا۔ گیا کیا میں دور یہ ہی نے عباسی داد خالق والے کرنے فارسی کا پنچاتنتر سے حکم کے نے بدایونی عبدالقادر ملا ہےاور کیا سے کےنام اسمار دریاے بھی ترجمہ یہ نے عابدی پروفیسر مرحوم ہیں۔ کیے اضافے اور ثانی نظر پر اس

ہے۔ کردیا شائع بھی ترجمہ

سنگھاسن بتیسی راجا وکراما دتیا کی داد و دہش، بہادری اور شان و شکوه سے متعلق بتیس داستانوں پر مشتمل ہے۔ اسے بھی کئی مرتبہ فارسی میں ترجمہ یا بیان کیا گیا ہے۔ بود مت اور ا بد کی زندگی سے متعلق واقعات پر ایک کتاب بکرام

جو سافت فارسی میں ترجمہ کی گئی ہے۔ بیتال پچیسی بھی راجا وکراما دتیا سے متعلق داستانوں کی کتاب ہے۔

اسے سب سے پہلے البا مہاراجا وکشن ماد ولد راجا را کشن بہادر ولد مہاراجہ نیپ کشن بہادر نے /١٢ -٢٩ ١٨٢٨ سے پہلے فارسی میں منتقل کیا تھا۔

ہے۔ گیا کیا بیان میں فارسی بار چوده کوئی کو لتا کام و کامروپ قصہ جاچکا کیا پہلے ذکر کا اس ہے۔ گیا لکھا میں فارسی مرتبہ متعدد کو دلوک مینا سقیم عبدالغفور بھی پر کہنے کے النسا زیب کی ل کی زیب اورن ہے۔

تھا۔ کیا نظم قصہ یہ میں ١۶٧٣ /١٠٨ نے خاص کو اس ہے، محفوظ میں سنسکرت ادب جو متعلق سے پوران دینے انجام کام یہ ہے۔ گیا پہنایا جامہ کا فارسی میں ادوار مختلف سے توجہ خدمات اپنی نے دانشوروں اور علما معروف اور معتبر کے فارسی لیے کے و تاریخ کی مذہب ہندو ہے۔ کی راہنمائی کی ان نے فضلا ہندو اور ہیں کی پیش اسے ہے۔ حاصل مقام خصوصی اور اہم ایک کو گیتا بھگوت میں روایات کا معرفت و دانش ہندوستانی یہ ہے۔ جاتا سمجھا روح اور لباب لب کا ویدوں

ہے۔ محفوظ گفتگو کی ارجن اور کرشن میں اس ہے۔ نچو بھگوت نے دانشوروں مسلمان اور ہندو مختلف میں حکومت دور مغل بھائی ے ب کے ان ابوالفضل کیا۔ ترجمہ بار بار کا ادب متعلق سے اس اور گیتا امانت، رائے امانت چشتی، عبدالرحمان کچرو، بیربل پنڈت ، چندرسین فیضی، گیتا بھگوت نے جنہوں ہیں شعرا و ادبا وه کے فارسی یره و ہندی داس بھگوان فارسی متعلق سے گیتا بھگوت کیے۔ ترجمے میں نثر و نظم میں فارسی کے مجموعی راقم ہیں۔ نامعلوم مولفین کے جن ہیں ملتی کتابیں بھی ایسی بعض میں کہ ہے بتاتی تعداد یہ ہے۔ سکا چلا پتا کا نسخوں قلمی ٢٣ کے ان پر طور کثیر ی ب جگہ ہر میں ہندوستان تعداد کی قارئین کے گیتا بھگوت میں فارسی

تھی۔

اکبر پہلے سے سب ہے۔ کتاب بنیادی اور اہم بہت دوسری مہابھارت

کو فضلا اور مترجمین ماہر کے دور اس کرایا۔ ترجمہ میں فارسی کا اس نے

نقیب بہ ملقب حسینی عبداللطیف بدایونی، عبدالقادر میں ان گیا۔ سونپا کام یہ

١ ٨٢ /٩٩٠ ترجمہ یہ تھے۔ شامل شری ملا اور تھانیسری سلطان خان، /٩٩۶ نے علامی ابوالفضل ہوا۔ موسوم سے نام کے نامہ رزم اور مکمل میں اور کرائی تیار نقلیں سے کثرت کی اس لکھا۔ مقدمہ پر اس میں ١ ٨۶ -٨٧ شائع یہ ہیں۔ دستیاب نسخے قلمی میں تعداد ی ب بھی کے اس گئیں۔ کی تقسیم خلاصے کے اس لیے اس ہے، کتاب ضخیم ایک چونکہ یہ ہے۔ ہوچکی بھی طاہر سے حکم کے روا فرماں اس اور دور کے ہی اکبر گئے۔ کرائے تیار بھی /١٠١١ بھی نے شیرازی حسین بن علی سلطان بن حسن عمادالدین بن

تھا۔ کیا ترجمہ مختصر ایک کا مہابھارت میں ١۶٠٢ -٣ ہے۔ کتاب تمدنی اور دینی اہم دوسری ایک کی ہندوستان رامائن /٩٩٧ نے بدایونی عبدالقادر ملا سے حکم کے اکبر کا رامائن کی بالمیکی مسیحی سعدلله شیخ ملا کیا۔ ترجمہ بعد کے محنت کی سال چار میں ١ ٨٩ ترجمہ کا مسیحی سیکھی۔ سنسکرت کیا۔ قیام سال باره میں بنارس نے کیرانوی قابل داس رام منشی امانت، رائے امانت امرسنگھ، بیدل، چندرمن ہے۔ مشہور داس تلسی ہیں۔ کیے ترجمے میں فارسی کے رامائن بالمیکی بھی نے یره و کیا ترجمہ میں فارسی نے ء۶٢ م کایستھ داس دیوی یا دیہی کا رامائن کی قلمی ١١٠ کے تراجم فارسی کے رامائن کی داس تلسی اور بالمیکی ہے۔ جانے ے پ پر پیمانے ے ب کے ان جو ہیں محفوظ میں خانوں کتاب نسخے بھی شائع مسیحی رامائن جیسے تراجم بعض سے میں ان ہیں۔ ترجمان کے

ہیں۔ ہوچکے کے فارسی معروف کے یونیورسٹی گ علی شکنتلا کی داس کالی

علی سفیر کے ایران میں ہندوستان بعد کے اس اور حسن ہادی پروفیسر استاد کا صاحب حسن ہادی ہیں۔ کیے تراجم میں فارسی نے صاحب حکمت اصغر اور تھا۔ ہوا شائع میں ء١٩ ۶ سے ممبئی سے عنوان کے مفقود خاتم ترجمہ

کیا۔ شائع میں ء١٩ ٧ نے یونیورسٹی دہلی ترجمہ کا صاحب حکمت نہیں۔ محتا کا تعارف کسی اروشی وکرم ڈراما معروف کا داس کالی Indian جو پہنایا جامہ کا نثر فارسی اسے نے مرحوم حسن امیر سید پروفیسر ہے۔ کیا شائع میں ء١٩۶٩ نے دہلی نئی ، Council for Cultural Relation ہے۔ کیا ترجمہ فارسی سے ترجمہ اردو کے اروشی وکرم نے عابدی پروفیسر اردو کے اروشی وکرم نے دہلوی حاجر سنگھ رگھوناتھ منشی اور علی شریف

ہیں۔ کیے تراجم میں اسے ہے۔ تالیف کی مصرا کرشن شری ، اودے چندر ابود پر ناٹک فارسی نے رام ولی بابا منشی کے ١۶ ٩ /١٠۶٩ -١۶١٣ /١٠٢ داراشکوه اسے معرفت۔ قمر طلوع اور حال گلزار ، تھا رکھا نام کا اس اور الاتھا ڈ میں

دوسری مرتبہ بھوپت رائے بیراگی متخلص بہ بیغم م /١١٣٢ ١٧١٩ نے

فارسی میں منتقل کیا۔ وید ہندوستان کی مقدس کتاب مانی جاتی ہے۔ اکبر کی خواہش پر ملا عبدالقادر بدایونی نے /٩٨٣ ١ ٧ میں اس کا فارسی میں ترجمہ شروع کیا، لیکن اس کی تکمیل حاجی ابراہیم سرہندی نے کی۔ اس کا کوئی قلمی نسخہ دستیاب نہیں، لیکن ابوالفضل نے آئین اکبری میں اس کا ذکر کیا ہے۔ ڈاکٹر تارا چند کے مقدمہ کے ساتھ ر وید کے انتخاب کا فارسی ترجمہ ایران سے چھپا ہے جو ڈاکٹر جلال نائینی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ فیضی نے شری وید ویاس کا فارسی ترجمہ کیا، خازن اسرار کے نام سے ویدوں

اور دوسری ہندو مقدس کتابوں کے اقتباس فارسی میں محفوظ ہیں۔ شاه جہاں کے کے ل دارا شکوه نے باون اپنشدوں کا فارسی

میں ترجمہ کیا ہے۔ یہ ایک معرک الآرا کام ہے۔ اس کے مقدمے میں دارا شکوه نے لکھا ہے کہ وه ١۶ ١ /١٠ ٠ میں کشمیر میں تھا اور ملا شاه بدخشی کا مرید ہوگیا تھا۔ دارا شکوه نے یہ ٢۶ رمضان /١٠۶٧ ١۶ ٧ کو بنارس کے عالم پنڈتوں اور سنیاسیوں کی مدد سے چھ مہینے کی محنت شاقہ کے بعد مکمل کیا اور اس کا نام سر اکبر یا سر الاسرار رکھا۔ سب سے ا ب بھید یا بھیدوں کا بھید، خود یہ نام اشاره کررہا ہے کہ داراشکوه اپنشدوں کو کس نظر سے دیکھتا تھا۔ اس کے بھی متعدد قلمی نسخے

موجود ہیں۔ ایران و ہندوستان سے یہ شائع بھی کردیا گیا ہے۔ یہ اہم بات ہے کہ خارجی زبانوں میں اپنشدوں کا پہلا ترجمہ،

داراشکوه کے اسی ترجمے سے کیا گیا ہے اور اس طرح فارسی کا یہ

ترجمہ اپنشدوں کے باہر کی دنیا میں تعارف کا باعث ہوا ہے۔ یو وشسٹ ہندوستانی فلسفے کی البا سب سے اہم کتاب ہے۔ جہاں گیر نے اپنی شاہزادگی کے زمانے میں اس کا پہلا فارسی ترجمہ کرایا تھا۔ نظام پانی پتی نے پنڈتوں کی راه نمائی میں یہ ترجمہ کیا تھا۔ پنڈت مصر حاجی پوری اور جگن ناتھ مصر بنارسی ان کےہم کار تھے۔ داراشکوه نے بھی اس کا ایک ترجمہ کرایا، جو شاید بابا ولی رام نے کیا تھا۔ اس کے مقدمے میں بتایا گیا ہے کہ داراشکوه نے ایک رات وشسٹ اور رام چندر کو خواب میں دیکھا ۔ خواب میں وشسٹ نے رام چندر سے کہا کہ شہزادے کو گلے لگا لو۔ وشسٹ نے رام چندر کو مٹھائی بھی دی کہ وه شاہزادے کو کھلائے، داراشکوه نے اس کے بعد فیصلہ کیا جوکہ وشسٹ

کا ترجمہ کرائے۔ یہ خواب ہندو علوم کو سمجھنے اور سمجھانے میں

داراشکوه کے انہماک کا ترجمان ہے۔ اس کے بعد بھی متعدد قلمی نسخے ملتے ہیں اور پروفیسر امیر حسن عابدی صاحب نے یہ شائع بھی کردیا ہے۔ مولوی ابوالحسن فریدآبادی نے اسی کا منہا السالکین کے عنوان سے اردو میں ترجمہ کیا ہے، جو نول کشور سے شائع ہوچکا ہے۔ اس کے بعد بھی اس کے کئی مرتبہ فارسی میں ترجمے کیے گئے۔ اطوار در حل اسرار، رشک

بہشت، مفرح القلوب جو وشسٹ ہی کے فارسی تراجم ہیں۔ امرت کنڈ انبرت کنڈ کاما یا کاتما کامروپی کی تصنیف ہے۔ اس میں ہندو تصوف کے تمام نظری اور عملی وں پہلو سے بحث کی گئی ہے۔ حوض الحیات نام سے اس کا پہلے عربی میں ترجمہ کیا گیا۔ شیخ گوالیاری م /٩٧٠ ١ ۶٢ اپنے دور کے معروف صوفی ہیں، جنہوں نے بحر الحیات کے نام سے اس کا فارسی میں ترجمہ کیا۔ شہنشاه اکبر ان کی ی ب عزت کرتا تھا

اور یہ بھی روایت ہے کہ اکبر کے والد ہمایوں ان کے مرید تھے۔ ہندو مذہب اور عقائد سے متعلق ی ب کتابیں ہیں، جن کو فارسی زبان

میں پیش کیا گیا ہے۔ بھگت مالا، رسالہ ه دربار یوگا، قوانین ا، ہندو گیان مالا، مکالمہ شری مہادیو و ماتا پارتی، شیوپران، بسن پوران، ترجمہ اتم بلاس، اوم نامہ، تحقیق

التناسخ یره و کو فارسی کا جامہ پہنایا گیا ہے۔ سکھ مذہب کی کتابیں بھی فارسی میں ترجمہ کی گئی ہیں۔ خواجہ

عبدالحکیم خاں نے گورونانک جی کی زندگی اور تعلیمات پر جنم ساکھی کا فارسی میں ترجمہ کیا۔ انہوں نے ہی بابا نانک کے بارے میں ایک دوسری پنجابی کتاب کا ترجمہ ملاقات نانک کے نام سے فارسی میں ترجمہ کیا۔ اس میں گورونانک کی دوسرے مذاہب کے وں راہنما سے ملاقات کی تفصیل بیان

کی گئی ہے۔ ایک اور نہایت تاریخی نوعیت کا جو کام فارسی جاننے والوں نے

انجام دیا وه ہندوستانی کہانیوں اور داستانوں کو فارسی میں منتقل کرنے کا ہے۔ اس کی ایک مفصل تاریخ ہے۔ شاید ہی کوئی ایسی داستان ہوگی جو فارسی میں نہیں سنائی گئی۔ یہ داستانیں ہمارے سماجی رسم و روا کا بہترین اور موثر

تعارف ہیں۔ اس وقت چند اہم داستانوں کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ امیر خسرو نے سب سے پہلے ایک ہندوستانی تاریخی داستان

دولرانی خضر خان نظم کی۔ یہ خسرو کے خمسے کا ایک حصہ ہے۔ اس کی مقبولیت کا اس طرح اندازه لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے تیره قلمی نسخوں کا

راقم پتا لگا سکا ہے۔ ان میں چند مصور بھی ہیں۔ یہ شائع بھی ہوچکی ہے۔

نے ١۶۶٢ /١٠٧٣ بزمی عبدالشکور کو پدماوت داستان مشہور ہندوستانی فارسی کو اس بعد کے اس ہے۔ کیا نظم میں فارسی میں ١۶١٨ -١٩ /١٠٢٨

ہے۔ کیا بیان بھی نے ادبا و شعرا دیگر کے نظم مثنوی ایک سے نام گداز و سوز نے خیوشانی نوعی رضا

کیا نظم سے کہنے کے اکبر کو داستان حقیقی ایک کی ستی میں اس اور کی کی شادی کی معشو و عاشق کہ ہے بتایا میں مثنوی اس نے نوعی ۔ سے گھر لیے کے شادی عاشق ہے۔ بات انہونی یہ گئی۔ دی دے اجازت مرگیا۔ وه اور ی پ گر عمارت ایک پر دولہا میں راستے نکلا۔ کر لے برات کے شوہر والے ہونے اپنے وه تاکہ نکلی باہر سے گھر پیر ننگے کی ل اپنے بلایا، کو کی ل نے اس گئی۔ دی اطلاع کو اکبر ہوجائے۔ ستی ساتھ یہ لیکن دیا۔ خطاب کا رانی اور بنالیا کی ل اپنی اسے بٹھایا، پر تخت قریب باز سے تعمیل کی عقیدے مذہبی اور ارادے اپنے کو کی ل مہربانیاں شاہی کے ستی کی اس کو دانیال شاہزاده کے ل اپنے نے اکبر سکیں۔ رکھ نہیں

ہوگئی۔ ستی کی ل اور دیا حکم کا انتظام شاہانہ لیے و مہتا مالتی، و مد و منوہر کامروپ، قصہ موہنی، و موسی داستان

ہیر فقیر، ا لد چترامکت، راجہ و کرن چندرا رانی بنارس، عاشقان لورک، بہار چنیسرنامہ، صاحبان، و میرزا مہیوال، سوہنی پنوں، سسی رانجھا، ہ افسان پرہلادنامہ، ولی، بکا گل بلرام، ملا و لیلاوتی طوطی، ہیرمن دانش، کی ترجمہ میں فارسی یا بار بار جو ہیں داستانیں ہندوستانی وه کیتکی۔ رانی

ہیں۔ گئی کی بیان یا ہیں گئی ہے ضروری لیے اس ذکر کا محبت ہ افسان داستان ایک میں فارسی دریاے نے میر تقی میر سخن خدائے ساتھ کے اضافہ و ترمیم کچھ اسے کہ مثنوی اپنی بھی نے مصحفی اور ہے کیا نظم میں اردو سے نام کے عشق ایک کا داستانوں بھی میں اردو ہے۔ کی بیان داستان یہی میں المحبت بحر جو گی ہوں داستانیں ایسی بعض میں ان پر طور لازمی ہے۔ موجود ذخیره رکھ سامنے کو داستانوں فارسی یا ہیں گئی الی ڈ میں اردو سے فارسی یا

چاہیے۔ جانا دیا انجام جو ہے کام اہم ایک یہ ہیں۔ گئی لکھی کر تراجم فارسی کے کتابوں ہندوستانی پر موضوعات دوسرے جن ریاضی جغرافیہ، و ہیئت علم نجوم، جادو، طب، موسیقی، میں ان گئے کیے ہے۔ جارہا کیا ذکر کا کتابوں چند صرف سے میں ان ہیں۔ شامل یره و اور اہم ایک میں سنسکرت پر موسیقی ہندوستانی رتناکر سنگیت

-١ ٨٩ لودی سکندر اور ١ ٨٩ /٨٩ م لودی بہلول ہے۔ کتاب معتبر نے کابلی یحییٰ حماد کا اس پر اشاره کے بہره میاں امیر ایک کے ١ ١٧ تھا۔ کیا ترجمہ سے نام کے نامتناہی لطائف و شاہی سکندر لہجات میں فارسی ہے۔ تصنیف کی ٹومر مان راجا کے گوالیار پر موسیقی ہندوستانی کنوحل مان پر موسیقی نے اس کہ ہے بات دلچسپ پہنایا۔ جامہ کا فارسی کو اس نے فقیرلله اکبر حکیم لیکن نہیں دستیاب اب یہ تھا۔ لکھا پرکاش بود رسالہ ایک تھا کیا ترجمہ میں فارسی کا اس میں دور کے زیب اورن نے دہلوی ارزانی

ہے۔ موجود جو کا فارسی نے فیضی سے حکم کے اکبر کو لیلاوتی پر ریاضی معروف بہت میں دانوں حساب رسالہ یہ کا اچاریہ بھاسکر تھا۔ پہنایا جامہ خطی پچیس بیس کے ترجمے فارسی کے اس ہے۔ حامل کا اہمیت اور ریاضی برابر میں ادوار مختلف یہ کہ ہے چلتا پتا سے جن ہیں ملتے نسخے کنت بیخ کتاب دوسری ایک پر ریاضی کو ہی اچاریہ رہا۔ مدنظر کے دانوں معمار احمد استاد انجینئر کے محل تا میں دور کے جہاں شاه کا جس ہے

ہے۔ کیا ترجمہ میں فارسی نے رشیدی عطاءلله کے ل کے یا تراجم میں فارسی سے زبانوں ہندوستانی دوسری اور سنسکرت اجمالی ایک یہ میں سلسلے کے کرنے مینپیش فارسی کو مطالب کے ان

مثلا ۔ ہیں جاسکتے نکالے نتائ اہم کچھ پر بنیاد کی اس ہے۔ گزارش ہیں۔ مطابق کے متون اصل اپنے اپنے حدتک ی ب بہت تراجم یہ

ان نے کاتبوں ہندو مسلم یر کے ان یا والوں نے پ ہندو کے کتابوں مذہبی ہے ترجمان کا حقیقت اس جو ہے، کی نہیں دہی نشان کی انحراف کسی میں یا عمدا تھی۔ کی مسلمانوں تعداد ی ب میں جن نے والوں لکھنے کے ان کہ و علم دیا انجام سے دل کام یہ اور کیا نہیں انحراف کوئی بھی سے اتفا

لیے۔ کے کرنے عام روشنی کی معرفت کے ان بھی کتابیں مذہبی اپنی جو ونکی ہندو ایسے تھی تعداد ی ب تعداد ی ب کے کتابوں ان ثبوت کا اس اور تھے تے پ سے تراجم فارسی وں روا فرماں ہندو کا کتابوں بعض اور ہے ہونا دستیاب کا نسخوں قلمی میں کتابوں بعض ہے۔ جانا کیا ترجمہ میں فارسی پر اشاره کے یره و امرا اور یا تراجم فارسی اپنے لیکن نہیں، موجود اب متون سنسکرت اصل کے

ہیں۔ محفوظ بھی آ یہ میں روایات فارسی سماجی، مذہبی، کے دوسرے ایک نے دانشوروں مسلم اور ہندو

ایک لیے کے سمجھانے پھر اور سمجھنے کو معاملات ادبی اور سیاسی

دوسرے سے خلوص نیت اور بہ طیب خاطر تعاون کا حق ادا کردیا اور علم و معرفت کی شمع کو کسی حال میں بجھنے نہیں دیا۔ چند کتابوں کے فارسی تراجم ہی سے خارجی زبانوں جیسے انگریزی، جرمنی اور فرانسیسی میں تراجم کیے گئے۔ ہندوستانی زبانوں سے فارسی میں تراجم کا قرون وسطی میں

شروع سے آخر تک کام برابر کیا جاتا رہا اور خاص طور پر سنسکرت اور فارسی کے دانشور اس پورے لمبے عرصے میں اس اہم کام سے کبھی افل نہیں رہے اور یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ قرون وسطی میں علمی، تحقیقی اور ادبی میدانوں میں علمی پیاس بجھانے کے لیے وه سب کچھ کیا گیا جو اس وقت ممکن اور بس میں تھا۔ صرف اتنا ہی نہیں بھگوان داس ہندی نے فارسی شعرا کے اپنے مشہور تذکره ہ سفین ہندی میں اطلاع دی ہے کہ میر ہاشم محترم کوتو مہابھارت زبانی یاد تھی ۔ ٣ راقم نے ان تراجم یره و کے دو ہزار پان سو ستره قلمی نسخوں اور مطبوعہ ایڈیشن کا پتا لگایا ہے جو میری کتاب A Descriptive Catalogue of Persian TranslationsofIndian Works میں دعوت مطالعہ دے رہے ہیں۔ اس صورت حال کے نہایت کارآمد اور دوررس نتائ برآمد ہوئے۔ بھگتی تحریک پر اسلامی تصوف اور اس علمی تعاون کے واض اثرات کی نشان دہی کی جاچکی ہے۔ فارسی شعرا کے ہاں ایسے افکار کی گون بارہا سنائی دیتی ہے۔ جیسے رموز سبحہ و سجاده صالحان دانند

زمن مپرس کہ من کیش برہمن دارم

تسبی‘‘ اور سجده گاه کے بھید تو صال لو جانیں، مجھ سے نہ پوچھو، میں نے تو برہمن کا طریقہ اپنا لیا ۔ہے’’ الب نے اپنے فکر کے سومنات میں آنے کی دعوت دی ہے بہ سومنات خیالم درآی تابینی

روان فروز برو دوشہای زنّاری

علامہ اقبال نے رام چندر جی اور دیگر ہندوستانی دانشوروں اور

مفکروں کی مدح سرائی کی ہے۔ یہ سب اسی تعاون اور اس کے تحریری اسناد کا اثر تھا جس کا

ذکر کیا گیا ہے۔ مزید برآں اگر ور کیا جائے تو یہ صحی ثابت ہوگا کہ ١٨ ٧

میں سامراجی طاقت کے خلاف پہلی مگر ناکام جن آزادی اور پھر اس

ہندوستانیوں میں آزادی جن کامیاب مگر دوسری بعد برس سو کوئی سے ہر اور تعاون سے جان جی ساتھ کے دوسرے ایک ملت و مذہب بلاتفریق کا خواہش کی رہنے پرامن کی صدیوں گذشتہ انہی بھی میں قربانی کی نوعیت

ہے۔ رہا کارفرما جذبہ کا دینے ساتھ کا دوسرے ایک اور طریقوں طور کے تہذیب مشترکہ اس ناسمجھ کوئی اگر بھی آ

وجہ کی راض ا ذاتی اپنی اور کرتا نہیں خیال کا ان ہے۔ کرتا کھلوا سے میں تعداد ی ب تو ہے، لگتا روندنے کو فکر ہندوستانی جلی ملی اس سے رویہ یہ ہیں۔ ہوجاتے سپر سینہ خلاف کے اس جو ہیں موجود دانشور ایسے و جد کی اسلاف ہمارے لیے کے زندگی آمیز مسالمت اور یگانگت باہمی پروقار کی ہندوستان اور حال صورت آیند خوش ایک تصدیق، کی جہد

ہے۔ ضامن کا عظمت اس اور تاب و تب کی جذبے و خواہش اس کہ کیجیے کوشش اور دعا انسانیت، ملک ہمارا تاکہ ے پ نہ یمی د بھی میں حال کسی لے، کی نغمے

رہے۔ گامزن پر راستے روایتی اپنے کے ہمزیستی اور دوستی انسان حوالے

١ یہ داستان اخبار الخلفاء والبرامکہ سے عیون الانبیاء میں نقل ہوئی ہے۔ ٢ یہ شری ہری ولبھ کے متصل مقدمے کے ساتھ شائع ہوچکی ہے۔ ٣ سفینہ ہندی، ،٢ مرتبہ ڈاکٹر حکیم اصغر، تہران ء،٢٠١١ ص ۶ ٩۔

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.