امیر حسن نورانی اور منشی نول کشور

Maarif - - ء٢٠١٦ ستمبر معارف - ہ شعب فارسی، دہلی یونیورسٹی۔

خان اشرف علیم پروفیسر

رہے جاتا کیا یاد کو کشور نول منشی ہوگا ذکر کا مطابع تک جب

پر طور کے ساده محقق ایک بھی نورانی حسن امیر طرح اسی ٹھیک گا، کتب فہرست مقالات، متعدد پر کشور نول منشی نے جنہوں رہینگے زنده کے سمجھنے کو خدمات کی حسن امیر ہیں۔ کی تحریر بھی کتابیں چند اور مکتبہ جو مقدمات’’ اور حالات کشور نول منشی‘‘ کتاب ایک کی ان لیے میں اس ، ہے اہم لیے اس تھی۔ ہوئی شائع میں ١ ء١٩٨٢ سے ادب صب تاریخی اور اہم نہایت کچھ نے مولف خود میں ضمن کے واقعی احوال یک اور وارفتگی ایک میں تحریر اس کی ان ہیں۔ کی قلم سپرد اطلاعات

ہیں طراز رقم وه ہے۔ ہوتا سے شدت احساس کا تعلق گونہ معا ہے آتا نام کا کشور نول منشی جب پر نوک کی قلم یا زبان‘‘ کتابوں ہزاروں کی زبانوں متعدد اور فنون و علوم مختلف ساتھ کے اسی طاری کیفیت آمیز انبساط خیز حیرت ایک پر دما و دل سے تصور کے پایاں بے بحر کے فن و علم نے ہم کہ ہے ہوتا محسوس ایسا اور ہے ہوجاتی نیک اور قسمتی خوش کر ب سے اس کی انسان کسی لگایا، وطہ میں اور جائیں سمجھے ملزوم و لازم علم اور نام کا اس کہ ہے ہوسکتی کیا نامی شاذ ہستیاں ایسی آجائے۔ پر طور ارادی یر خیال کا دوسرے ساتھ کے ایک سکتا کہہ تردید خوف بلا میں اور ہوتی پیدا میں صدیوں اور ہیں ہوتی نادر و

٢ ۔تھی’’ ہی ایسی ہستی کی کشور نول منشی کہ ہوں کے علوم مشرقی کشور نول منشی کہ نہیں شک کوئی میں اس

دنیا ادبی و علمی مطبع کا ان نورانی حسن امیر بقول اور تھے محسن ے ب محتا خدمات علمی قدر گراں کی ان ہے۔ رکھتا حیثیت کی میل سن میں پائیں انجام ہاتھوں کے ان خدمات جو کی فنون و علوم اسلامی نہیں۔ تعارف ہندوستان، سکا۔ دے نہ انجام کوئی سے حیثیت اجتماعی یا انفرادی کو ان

عام شہرت کی ان میں ممالک کے وسطیٰ مشر اور ایران پاکستان،

سراہا کو خدمات مثل بے کی ان نے مستشرقین کے امریکہ اور یورپ ہے۔ علوم سے جن آئیں پر عام منظر کتابیں نایاب و نادر ایسی بدولت کی ان ہے، ملی۔ مدد میں کرنے مربوط کو یوں ک تاریخی کی ارتقا سلسلہ کے فنون و نول منشی کو خطاطی فن ہے، کارنامہ ا ب بہت کا ان اجرا کا اخبار اود خدمات کی ان میں ترقی صنعتی کی ملک ملی۔ زندگی نئی بدولت کی کشور

تھے۔ شخصیت اہم ایک کی عہد اپنے وه یقینا ، ہیں قدر قابل منشی وه تھا۔ سے و لکھن شہر تعلق کا صاحب نورانی حسن امیر انوار بھائی ایک کے ان اور تھے کرتے کام میں مطبع کے کشور نول جب تھے۔ استاد کے فارسی میں یونیورسٹی و لکھن مشرقیہ، علوم صاحب امیرحسن تو بنایا پروگرام کا کتب اشاعت نے یونیورسٹی دہلی اردو ہ شعب آل میں گ علی نے انہوں کیا۔ متعین انچار کا اس کو صاحب نورانی متعلق اپنے تھے، دیے انجام کام اشاعتی بھی لیے کے صاحب سرور احمد

ہے لکھا تک ء١٩٨٢ یعنی تک اب سے ء١٩ ٩ نے الحروف راقم ‘‘ و ہندوستان جو لکھے مضامین متعدد پر حالات کے کشور نول منشی مکمل کے ان نے لوگوں سے بہت اور ہوئے شائع میں رسائل کے پاکستان فراہمی کی مواد نے میں دلائی۔ توجہ لیے کے کرنے مرتب زندگی حالات سید میں یونیورسٹی گ علی بھ ل کے ء١٩ لیکن کردی شروع علم ایک مقیم میں امریکہ جو آیا میں عمل قیام کا ٹیوٹ انسٹی ریسر حسن کے عطیہ قدر گراں کے مرحوم درانی لله عطاء تاجر ہندوستانی دوست کشور نول اور الب پہلے میں ٹیوٹ انسٹی اس اور تھا آیا میں وجود باعث اور ادیب ممتاز کے اردو نگراں، کے ٹیوٹ ہوا۔انسٹی شروع کام تحقیقی پر کام تحقیقی پر کشور نول منشی ہوئے۔ مقرر سرور احمد آل پروفیسر نقاد صاحب سرور آیا۔ میں عمل تقرر کا اسسٹنٹ ریسر ایک میں سلسلے کے بھی پورا کو اس اور کیا وعده کا تعاون میں کام اس نے میں پر خواہش کی کردیا، ترک اراده کا لکھنے پر کشور نول نے میں ساتھ ساتھ کے اس کیا۔ سے ان ابھی میں اور تھا کردیا شروع کام نے ادارے ے ب ایک کیونکہ گیا، کردیا ختم ٹیوٹ انسٹی کہ ہوا معلوم بعد سال کئی لیکن تھا کررہا تعاون کے کام اس مجھے ہوا کیا وه تھا ہوچکا کام جو کہ چلا نہ بھی پتہ یہ پھر مواد فراہمی دوباره نے میں اب ہوا۔ افسوس حد بے سے ہوجانے ختم اچانک کام اس باعث کے مصروفیات اہم دوسری بار اس مگر کی توجہ طرف کی بعض کے اردو دوران کے ء١٩٨٠ کرسکا۔ صرف نہ وقت زیاده لیے کے نہایت نمبر کا و لکھن نیادور میں جن کیے شائع نمبر’’ کشور نول‘‘ نے رسائل

خاص مضامین متعدد میرے میں اس ہے۔ مشتمل پر مضامین قدر گراں حالات کے ان کہ تھا اصرار کا احباب بعض تاہم ہوئے۔ شائع میں نمبروں ضروری اشاعت کی کتاب جامع مگر مختصر ایک سردست پر خدمات اور پیش کے خیال اس ہے۔ گئی کی نہیں مرتب سوان کوئی کی ان کیونکہ ہے بات اہم کوئی باوجود کے اختصار آئی۔ میں عمل تالیف کی کتاب اس نظر

گئی۔ کی نہیں انداز نظر شده کتابت کچھ سے اتفا کہ تھی ہوچکی شروع طباعت کی کتاب

فارم شده طبع کے اس تھا۔ بھی مسوده اصل ساتھ کے ان ہوگئے۔ ضائع اجزا لیے اس ملا۔ بعد دنوں بہت موقع کا لکھنے دوباره رہے۔ ے پ تک عرصے کریں محسوس قارئین کو جس سکا ره نہ قائم تسلسل میں ترتیب کی عنوانات کے واقعی احوال میں کتاب اس نے صاحب نورانی جو بات اور ایک گے۔

ہیں کرتے تحریر وه ہے۔ اہم نہایت ہیں کی در میں ضمن نول مطبع میں اس کہ ہے یہ خصوصیت اہم ایک کی کتاب اس‘‘ شامل بھی مضمون نایاب ایک کا کشور نول منشی خود متعلق کے کشور جو ہے کا بھارگو داس جی رام منشی مضمون ایک ساتھ کے اسی ہے۔ میں ریویو’’ اود‘‘ اور تھا لکھا پر وفات کی کشور نول منشی نے انہوں نول منشی مطبع میں ہے، مسلم افادیت کی مضامین دونوں ان تھا۔ ہوا شائع سے طور خاص کا بھارگو کمار رنجیت کنور ڈاکٹر وارث کے کشور مدد میں فراہمی کی مواد اور اصرار مسلسل کے ان کہ ہوں کرتا ادا شکریہ

٣ ۔ہوئی’’ ثابت معاون میں تالیف کی کتاب اس ہے ہوجاتی واض بلاشک تو بات ایک سے حوالے کے کتاب اس

اور تشہیر کی مطبع کے ان اور کشور نول منشی نے نورانی حسن امیر کہ کی ان ہے۔ کردیا یکجا میں شکل عملی کو صلاحیتوں تمام اپنی میں اشاعت ہیں، مضامین کئی ایسے میں خدمات’’ اور حالات کشور نول منشی‘‘ کتاب کشور نول منشی خود میں مضمون ایک ہیں کے اہمیت تاریخی نہایت جو یاد میں انداز اچھے کو یره و منیجر اور منشی ، کاتبین کے مطبع اپنے نے باعث کے کاوش اور محنت لگن، ذاتی اپنی سے طور واقعی جو ہے کیا بنانے خانہ چھاپہ ایسا ایک کا علوم مشرقی کو مطبع کے کشور نول منشی یہ نے کشور نول منشی گا۔ رہے جاتا کیا یاد تادیر جو رہے کامیاب میں شنبہ چہار بروز ١٢٧٨ المرجب رجب ٧ ء/١٨۶٢ جنوری ٨ مضمون کی مطبع میں جس تھا کیا قلم سپرد میں جلد ،٢ نمبر اخبار اود

یہ نیز ہے۔ جذباتی تذکره کا کارگذاریوں کی کارکنوں اور سرگرمیوں

مضمون اود اخبار کے صفحہ اول تا صفحہ پر محیط ہے۔ ملاحظہ ہو ان کا جذباتی انداز بیان نئے‘‘ سال کا از آ ہوا، چوتھی جلد اود اخبار کی شروع ہوگئی۔

تین سال گذشتہ کی ترقی مطبع نول کشور کی، جو عنایت ایزدی سے یوما فیوما آشکار ہوئی، کرو کرو اس کا شکریہ لاکھ لاکھ زبان سے ادا ہو نہیں سکتا۔ واقعی ذرّے سے آفتاب تاباں کردیا۔ اس صوبہ اود کے حکام والا مقام اور وں، راجا وں بابو اور شاہزادوں یره و خاص و عام میں رفعت و منزلت بخشی۔ ایسی ایسی مفید عام باتوں کی اشاعت کی توفیق بخشی کہ اس مطبع کے اجرا کا سلوک صوبہ اود کے متوطنوں سے مدت دراز تک یاد رہے گا۔ ایسی ایسی عمده خدمتیں اکثر سرکاری کاموں کے جلد اجرا کرنے

میں بجا لائی گئیں کہ سارے ہمارے پیشگان ہند نے اس کو مسلم الثبوت رکھ کر اس مطبع کی لیاقت کو تسلیم فرمایا۔ تجارت کتب کا ہزاروں روپیہ کا مال برآمد ہوا۔حسن نظر احباب سے سب کارپردازان مطبع مورد ستائش ہوئے۔ اس لیے یہ ذره بے مقدار ، ہی میسر نول کشور پروپرائٹر مطبع اپنے اعتقاد دلی سے جملہ حکام والا مقام صوبہ اود بلکہ حکام سرشتہ تعلیم مخصوص جناب فیض مآب مسٹر ریڈ صاحب بہادر ڈائریکٹر پبلک انٹرکش ممالک مغربی و شمالی کا سپاس گذار ہوں۔ جن کی اندک توجہ سے مطبع کا ستاره اقبال او ترقی پر پہنچا۔ پھر جملہ اکابر و روسا و عنایات فرمایان نزدیک و دور کا شکریہ ادا کرتا ہے کہ اپنے اپنے حسن توجہ اور لطف باطنی سے عنایات مستقلا فرمائی کہ آ ہزار گونہ رونق سے مطبع کی شادابی اور سرسبزی ہ احاط تحریر سے باہر ہے۔ یہ سب باتیں جو آپ لوگوں کے سامنے گزارش کیں ایک پر تو توجہ جناب خداوند نعمت، مرکز ه دائر حشمت و رفعت کرنل ایبٹ صاحب بہادر کمشنر و سپرنٹنڈینٹ اود کو جن کے عواطف جمیل کا سپاس اگر ہر موئے بدن ایک زبان پیدا کرے عمر بھر ممکن نہیں اور تو کیا کہیے اس شعر کا مضمون راست آتا ہے شکر فیض تو چمن چوں کند اے ابر بہار

کہ اگر خار و گر گل ، ہمہ ه پرورد تست

ہر چند اس مطبع کی بلند نامی اور اقتدار عالی کا کوئی دشمن خواب

میں دکھائی نہیں دیتا پھر بھی ه دید بد خواه بر کنده باد

عیب نماید ہنرش در نظر

ایسے حضرات ناخدا ترس، ہ سین سیاه جو چاہیں کہیں، جھک ماریں، بکیں چشم یره شب بروز نبیند گر

گناه چہ را آفتاب ہ چشم

چناں چشم ہزار خواہی راست

سیاه آفتاب نہ بہتر کور

شیرازی سعدی

اود ناظرینہمارے اگرفرماکرتوجہ طرفکی الامرنفس الجملہ،فیاب

اللفظ متفق ساتھ ہمارے پہنچا فائده سے مطبع اس کو جن باوقار بزرگان وه اور اخبار ہے۔ صحیفہ راقم بحال منت فرمائیں ادا شکریہ کا پردازوں کار کے مطبع اس ہوکر صرف کے جن کہ ہیں وه بزر یہ مطبع مصح صاحب، علی ہادی مولوی سرمایہ کا فضلا اور علما ہے۔ آتا میں عرض معرض علوم جوہر سے نام متبرک جس نہیں ایسا کا زبان دیسی اور فارسی و عربی متعلقہ فنون و علوم کوئی افتخار کہہےدعویٰکومجھمیں ہندروقلمسےوجہ اسیہوں۔نہمسلماستادواسطےکے خاندانی شخص یہ مطبع، منیجر پرشاد شیو منشی نہیں۔ پلہ ہم اپنے مطابع اہل کوئی اود محرری پہلے سے اس ہے۔ نظیر بے میں شعاری سنجیده و لیاقت ہے توقیر با خاطر سے کاردانی حسن و روشن اور لیاقت جبلی اپنی لیکن تھے مقرر پر اخبار

گے۔ دیں مدد میں کام کے مطبع خواه سن منش عالی بزر یہ گرافک، لیتھو مطبع ہ دارو علی، نثار شیخ

اور رہے میں کاروبار عمده ہیں۔ متجاوز سے برس ٧٠ تک وقت اس سے شعور سے ان دقیقہ کوئی ہیں انتخاب ه کرد کار میں امور کے خانوں چھاپے کے پتھر درسیہ کتب تجارت ہیں۔ لاجواب دیده، جہاں استاد کے طبع فن ہوتا۔ نہیں فروگذاشت قریب سے حسنہ اتفاقات تھا، عام مشہور میں شاہی عہد مرتضوی مطبع کا ان میں خدمت کی مطبع قیام کا موصوف صاحب شیخ تیمنا و تبرکا گذرا۔ کے برس ڈی درسیہ کتب تجارت اشاعت سے تدابیر و نیت حسن کے ان واقعی ہے پر گی دارو

ہے۔ دیتی شہادت کارخانہ ترقی دن کے آ سے آوری تشریف ابتدائے کے کاممشکلجوجوتکدماسسےابتدانے سن مصلعلی،حشمتمیر

کتب و ذات کا اکثر دیے۔ انجام ساتھ کے خوبی اس سے کوشش مستقلانہ آئے پیش مطبع عظیم رکن بھی شخص یہ کرسکتا نہیں مقابلہ دعویٰ کوئی کا مطبع مطبوعہ خوشپرنٹر، خان علیمنشیبہزاد، ومانیاستاد نقاش، علی، امیر شیخہیں۔ کے اشرف منشی و تسلیم متخلص صاحب امیرلله ہیں۔ روزگار عمده نگار، جادو نویسان جوالا منشی و فضا گلزار مثنوی مصنف فضا پرشاد گوبند منشی و اشرف علی پرشاد جانکی لالہ و لال پیارے لالہ بخش، علی حافظ حسنین، امداد منشی پرشاد، سوزیاں دل اپنی اپنی کہ ہوں کش کامنت آدمی سو تین میں مینوں پریس اور یره و

ظاہر کرکے مطبع کو او پر پہنچایا اپنے کو ملک ہندوستان کے اندر نام آور کیا اور اسی طرح ہم اپنے دوسرے کارخانے، عظیم الشان انگریزی ٹائپ اور فارسی ٹائپ اور سنسکرت و ناگری کے کارپردازان کا بہ دل سپاس ادا کرتے ہیں۔ خصوصی مسٹر ڈبلیو والٹر ولیمس صاحب، سپرنٹنڈنٹ ہمارے انگریزی مطبع کے اور مسٹر راسمس صاحب ہیڈ ونٹنٹ اکا مطبع اور مسٹر کلاڈیس صاحب اور مسٹر گومس صاحب اور مسٹر الگزنڈر صاحب اورمس پھول یره و کہ جنہوں نے اس مطبع کو ایسی ترقی دی کہ انگریز کے کارخانوں سے سبقت کہیں لے گیا۔ حق تو یہ ہے کہ اس بحر طویل کو ہم جس قدر طول دیں مختصر ہے۔ رض یہ حسن انتظام و اہتمام اور سب ترقی مناصب و اقتدار محض عنایت ایزدی بے مثال و دا ر دا لا یزال خداوند تعالیٰ سے ہے جس کا شکریہ ہر لمحہ د ور زبان رہنا یوما فیوما

باعث از د دیا نعمت ہے چنانچہ حضرت شیخ سعدی کا مقولہ ہے کہ بہ‘‘ شکر اندرش مزید نعمت، ہر نفسی کہ فرو میرود ممد حیات است

و چون برمی آید مفرح ذات۔ پس درہر نفسی دو نعمت موجود است و بر ہر

نعمتی شکری واجب از دست و زبان کہ بر آید

کز ه عہد شکرش بدر آید

یہ مطبع ایسی انجمن گاه علم و ہنر ہے جس کو اہل دانش نیمت

سمجھیں۔ دیکھ کر خوش ہوں ی ب فرخنده فالی اور بہروزی کی بات ہے کہ اس طرح کا اجتماع میسر آئے ایسا سامان یکجا ہو۔ ہر کام کا دستور ہے کہ جب اسباب درست اور کارپرداز اچھے ہوں تو بن تا پ ہے، پسند کے قابل ہوتا ہے ورنہ یوں تو سب ہی اپنی اپنی کاردانی کرلیتے ہیں۔ اہل انصاف اگر ور فرمائیں ہماری سی نہ کہیں، خدا لگتی کہیں تو تہذیب، حسن ترتیب، ، تصحی چھاپے کی صفائی، خوش خطی اور سب امور کچھ ہمارے بیان کے محتا نہیں، مثل مشہور ہے کہ عیاں‘‘ راچہ بیاں’’ خدائے بسیار بخش بے منت ده کا کون کون احسان زبان پر لائیے، ماشاءلله اس وقت ٹیپ کے سوا صرف لیتھو گرافک کی ٢ یا ٢۶ کلیں رواں ہیں۔ ممکن ہے کہ بہتیری چھوٹی چھوٹی کتابیں ایک ہی دن میں ہزار ہا نسخے اول سے آخر تک چھپ کر طیار ہوجائیں۔ بہرحال حافظ حقیقی دشمنوں کی چشم بد سے بچائے۔ دوستوں کی خاطر خواه روز بروز ترقی کو پہنچائے ۔ شعر

سعادت یار و دولت ہم نشین باد

چنین خود ہست و تا بادا چنین باد’’

نوٹ آخر میں منشی نول کشور نے مختصر تمہید و تعارف کے

بعد اصغر علی نسیم کا ایک قصیده نقل کیا ہے جو ان کی مدح میں لکھا ہے

ایک میں ء١٨٨ لیے کے دیکھنے کو پریس کے کشور نول منشی

کے ان اور کشور نول منشی سے تفصیل کی جن تھے، آئے سیاح امریکی مطابق کے سیاح اس ہے۔ تی پ روشنی بخوبی پر انصرام و انتظام کے پریس کرتے اختیار طریقے مغربی جلد جلد باشندے دیسی کے ہندوستان‘‘

کا کشور نول منشی ایک میں والوں کرنے بیدار کے مذاہب قدیم اور ہیں جاتے کشور ہیں۔ جاتی کتابیں کو ہندوستان نما جزیره سے مطبع اس ہے۔ خانہ چھاپہ ایک وه ہے تعصب بے بالکل سے حیثیت کی پبلشر اور ہے شخص لائق ایک مذہبی اسلامی میں مطبع کے اس ہےاور شخص حوصلہ پر اور دما عالی ا ب کی الوں و مت بد اور برہمنوں وه لیکن ہیں ہوتی طبع سے کثرت بہت کتابیں اور کتابیں اسلامی سے مستعدی جس ہے کرتا شائع سے مستعدی اسی کتابیں کشور نول خانہ چھاپہ ہے۔ کرتا فروخت پر قیمت کم اور ہے چھاپتا رسالے کل یہ ہیں شمار بے عمارتیں کی خانہ چھاپہ ہے۔ واقع میں گن حضرت اپنے طرف ہر آدمی صدہا اور ہیں ہوئے گھیرے کو رقبہ ے ب ایک عمارتیں ہندوستان صرف نہ میں مطبع اس ہیں۔ آتے نظر مصروف میں کاموں اپنے اس ہیں آتی فرمائشیں کی لوگوں میں یورپ اور عرب افغانستان، ترکی، بلکہ کم سے ڈالر لاکھ پان قیمت کی اس میں یورپ کہ ہے ا ب قدر اس رقبہ کا مطبع

تھا ہوتا کا روپے ٢ ڈالر ایک وقت اس ۔ ہوگی نہ کام پر فرش کے زمین کثیر تعداد بہ کے ل سن کم اور بال میں اس منگواتا نہیں ٹائپ سے ولایت کہ ہے ہوشیار اور چالاک ایسا کشور ہیں۔ کرتے بہت کے چلنے کے پریسوں ہے۔ لیا سیکھ کرتب ایسا کا النے ڈ حروف بلکہ تھے ۶١ میں اس کیا شمار نے میں کو پریسوں کے کمرے ایک ہیں۔ کمرے ایسا سے آدمیوں اور پریسوں کمره یہ تھے۔ جاتے چلائے سے ہاتھوں جو تھا جاتا گھٹا دم اور تھا محال کرنا حرکت میں اس کہ تھا ہوا بھرا کھپاکھپ تھی۔ رض کو اس سے کام اپنے اور تھا پر جگہ اپنی اپنی شخص ہر لیکن برابر سے یره و جرمن چالان کے ان اور ہے شمار بے تعداد کی پتھروں ہوتا ہی اندر کام سا بہت کا تصنیف و تالیف میں کشور ہ کارخان ہیں۔ آتے چلے کے ایمبائین اطبائن/ تو ہے دیکھی نے میں نظیر کوئی کی اس اگر اور ہے ہیں کرتے کام جگہ اس بھی مصنف جہاں ہے دیکھی میں پیرس واقع کارخانے عالم عجائبات گودام کا کشور ہ کارخان ہیں۔ ہوتے کام متعلق کے چھپائی جہاں لمبی لمبی ی ب پر فرش کے زمین کتابیں مجلد یر میں اس ہے۔ سے میں چاہیے کرنا نہ فروگذاشت امر یہ کو مجھ ہیں ہوتی چنی تک چھت میں قطاروں کرتا شائع بھی اخبار روزنامہ ایک کارخانہ یہ کے رسائل اور کتب علاوه کہ سپاہی، بند، جلد مین، پریس حیثیت بہ لو جو میں مطبع کے کشور ہے۔ ہزاردو ایک تعداد کی ان ، کرتےہیں کام کے یره و کلرک اور منشی محافظ،

۔ہوگی’’ نہ کم سو کپور اور پٹیالہ لاہور، کانپور، شاخیں کی مطبع کے کشور نول منشی

نول تھی۔منشی ی ب سے سب شا کی کانپور سے میں جن تھیں میں تھلہ کسی وه ہیں دی انجام خدمات جو کی شرقی علوم میں زندگی اپنی نے کشور کو طلبہ نے انہوں ازیں علاوه ہے بات کی باہر سے پہن کی شخص ایک بھی خیراتی زیاده سے روپے لاکھ ٢ تقریبا میں حیات اپنی اور دیے وظائف علاوه کے رقوم کی ہزار ٧ اور میں و لکھن اور تھے کیے صرف میں کاموں ہزار کئی اور وں گا کا روپے ہزار ١٨ اور فنڈ ڈفرن لیڈی روپے ہزار ١ ایک کراکے جمع رقم تعداد کثیر سے لوگوں کے قوم مزید ، کر دے روپے کا اس اور کہلاتا وس’’ ہا بورڈن لے فن‘‘ جو تھا کیا تعمیر وس ہا بورڈن

تھا۔ کیا نے صاحب کالون سرآکلینڈ افتتاح کل اپنی کو لائبریریوں اور کال سے بہت نے کشور نول منشی ہزار کئی جو تھا دیا عطیہ مفت سیٹ کا جلد عدد ایک ایک کی مطبوعات

ہے طرح اس فہرست ناقص ایک کی ان تھیں کی روپیوں ، کال کینن -٣ آباد۔ الٰہ شالا، پاٹھ کائستھ -٢ آباد۔ الٰہ ، کال میور -١ فیض لائبریری، پبلک - ۔ سیٹ دو بنارس لائبریری، کارمیکل - ۔ و لکھن -٨ متھرا۔ ایشن، ایسوسی نیشنل بھارگو- بریلی۔ لائبریری، پبلک -٦ آباد۔ و جموں لائبریری-١٠ و۔ لکھن کلب، عام رفاه -٩ آگره۔ وس، ہا بورڈن بھارگو بیادگار پور، جے لائبریری -١١ سنگھ۔ رنبھیر مہاراجہ بیادگار کشمیر، پبلک پنجاب -١٣ سنگھ۔ مہندر بیادگار پٹیالہ، لائبریری -١٢ سنگھ۔ رام مہاراجہ دیوبند دارالعلوم -١ و۔ لکھن لائبریری، میوزیم -١ لاہور۔ لائبریری، آکسفورڈ، یونیورسٹی، آکسفورڈ آف ٹیوٹ انسٹی انڈین -١٦ دیوبند۔ لائبریری،

٦ اسپارکس۔ مسٹر بنام یہاں ذکر کا کتابوں دو اور مضامین دو کے صاحب نورانی حسن امیر ہوسکے اندازه کا کاموں کے ان متعلق سے کشور نول تاکہ ہے جارہا کیا در بھی شماره پہلا کا اخبار اود پاس کے ان کہ ہے دلچسپ بھی ذکر یہ یہاں

تھا موجود ء۔١٩ ٦ ، گ علی ادب، اردو رسالہ نگار، نامہ بحیثیت الب -١ مضامین نمبر، کشور نول نیادور ترقی، کی ادب و زبان فارسی اور کشور نول منشی -٢

ء۔١٩٨٠ دسمبر نومبر- اورینٹل بخش خدا نورانی، حسن امیر سید کشور، نول منشی سوان -١ کتب و خطاط کے ان اور کشور نول منشی -٢ ء۔١٩٩ ، پٹنہ لائبریری، پبلک

ء۔١٩٩ دہلی، نئی بیورو، اردو ترقی نورانی، حسن امیر نویس، خوش

رسائل و جرائد کئی مضامین کے ان بھی علاوه کے بالا مذکوره

بھی فہرست کی کتابوں کی کشور نول مطبع نے انہوں ہیں۔ ہوئے شائع میں اور مولفین مصنّفین/ نام، کے کتابوں ٢٠ ١ میں جس تھی کی مرتب فہرست ہے۔ گئی کی در بھی قیمت اور سائز کا کتاب اسماء، کے مترجمین نے عبدالرشید اور سیکھر چندر مرتبین کے ء١٨٩٦ کشور نول مطبع کتب یہ نورانی بقول‘‘ ہے۔ لکھا ہوئے کرتے تبصره پر فہرست اسی کی ان بغور کا فہرست کی ان کہ جب ہے۔ گئی کی تیار کر دیکھ کو کتابوں فہرست ایک مثلا ہیں نظر محل جو آئیں نظر ایسی لاط ا بعض تو گیا کیا مطالعہ اس ہے۔ در پر جگہوں دو تحت کے شمار نمبر علاحده اندرا کا کتاب کی پیش فہرست کی کتابوں ٢٠ ١ جو نے نورانی کہ ہے ہوتا معلوم سے نام کے مصنف پر مقامات بعض طرح اسی ہے۔ نہیں صحی تعداد یہ ہے

٧ ۔ہے’’ ہوا تسام بھی میں مختلف کتابیں کئی پر مطبع کے ان اور کشور نول منشی تو یوں حسن امیر پر طور کے محقق ایک مگر ہیں ئی ہو تحریر میں زبانوں دار حق بہ حق‘‘ جو چاہیے، جانا کیا بھی اعتراف کا خدمات کی نورانی

تھا۔ بھی شعار کا کشور نول منشی یہی اور ہے مترادف کے رسید’’

جات حوالہ

ص واقعی، احوال ضمن ، نورانی حسن امیر مقدمات، اور حالات کشور نول منشی ١ چہار بروز ، نمبر جلد ،٢ نمبر اخبار اود ۔٨ و ص ، ایضا ٣ ۔ ایضا ٢ ۔ حسن امیر مقدمات، اور حالات کشور نول منشی ء۔١٨٦٢ جنوری ٨ بتاریخ ، شنبہ ء۔١٨٩ فروری ریویو، اود از ماخوذ ٦ ۔ ٧ و ٦ ص واقعی، احوال ضمن ، نورانی ۔١٦ ص ء،١٨٩٦ کشور، نول منشی مطبع کتب فہرست ٧

مآخذ

دہلی بازار، اردو ، الصفا اخوان اداره ناشر مقدمات، اور حالات کشور نول منشی -١ بتاریخ ، شنبہ چہار بروز ، نمبر جلد ،٢ نمبر اخبار اود - ۔ ایضا -٣ ۔ ایضا -٢ ء۔١٩٨٢ ، الصفا اخوان اداره ناشر مقدمات، اور حالات کشور نول منشی - ء۔١٨۶٢ جنوری ٨ سید ، کشور نول منشی -٧ ء۔١٨٩ فروری ریویو، اود -۶ ۔ ء١٩٨٢ دہلی بازار، اردو نول منشی -٨ ء۔١٩٩ پٹنہ، ، لائبریری پبلک اورینٹل بخش خدا ، نورانی حسن امیر دہلی، نئی بیورو، اردو ترقی ، نورانی حسن امیر نویس، خوش و خطاط کے ان اور کشور شیکھر چندر گھر، کتاب دلی ء،١٨٩۶ کشور، نول منشی مطبع کتب فہرست -٩ ء۔١٩٩ دسمبر، ۔ نومبر نمبر، کشور نول نیادور، -١٠ ء۔٢٠١٢ مار ، دہلی عبدالرشید، و

۔ ء١٩ ۶ ، گ علی ادب، اردو رسالہ -١١ ء۔١٩٨٠

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.