گیر جہاں اشرف سید سلطان توحید مراتب میں روشنی کی افکار کے سمنانیؒ

Maarif - - ء٢٠١٦ ستمبر معارف - ڈاکٹرشاکر حسین خان

آٹھویں سمنانی گیر جہاں اشرف الدین اوحد سید سلطان حضرت ابتداء کی اشرفیہ سلسلہ سے جن ہیں بزر صوفی نامور کے ہجری صدی

١ تھے۔ حکمران کے خراسان سمنان ریاست وه ہوئی، فرمایا۔ منتخب لیے کے اصلاح کی انسانیت انہیں نے تعالیٰ لله خاطر کی فلاح کی انسانوں میں محبت کی تعالیٰ لله نے انہوں چنانچہ کرنے گامزن پر راه کی نیکی کو خدا اورخلق دیا کہہ باد خیر کو بادشاہت

ہوگئے۔ مصروف میں سال ستره بعد کے وفات کی م ابراہی سید سلطان ماجد والد اپنے جانب کی درویشی کامیلان ان بنے، وارث کے سمنان ریاست میں عمر کی تخت کو ی سمنان اعرف بھائی اپنے بعد عرصے ہی ے تھو لیے اس تھا، انہوں بعد کے اس ہوگئے۔ بردار دست سے سلطنت کرکے سپرد حکومت ان تک مرحلوں کچھ جو فو کی ۔سمنان کیا اختیار سفر کا ہندوستان نے اختیار تنہا سفر اپنا نے انہوں اور گئی لوٹ پر حکم کے ان تھی، ساتھ کے پاپیاده اور کردیا حوالے کے مند ضرورت کسی ا گھو اپنا پر مقام ایک کیا۔ ی بخار الدین جلال سید پہنچے۔حضرت شریف ا راستے کے ملتان ہوگئے۔ بھائی اپنے انہیں نے انہوں ہوئی۔ ملاقات سے گشت جہاں جہانیاں مخدوم چنانچہ دیا حکم کا ہونے پیش میں خدمت کی بنات گن والدین علاءالحق شیخ معاون استاد شعبہ علوم اسلامی جامعہ، کراچی۔

ا شریف سے دہلی اور بہار کا سفر طے کرتے ہوئے جنت آباد پنڈوا شریف پہنچے اور شیخ کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ حضرت شیخ علاء الحق والدین گن ت نبا نے سلسلہ طریقت چشتیہ نظامیہ میں بیعت فرمایا۔ ٢ مفتی اطہر نعیمی فرماتے ہینکہ

مخدوم‘‘ ب صاح کی اولاد نے جس کا سلسلہ حضرت شاه

عبدالرزا ن نورالعی سے چلا، کچھوچھہ بھارت کے علاوه دو تبلیغی مرکز اور بنائے۔ ایک شا نے بانس ضلع رائے بریلی کو مرکز بنایا تو دوسری شا نے بائیس خواجہ کی چوکھٹ دہلی کو مستقر قرار ۔دیا’’ ٣ وه صاحب کرامت تصانیفاورصاحب بزر تھے۔ ان کی تعلیمات وارشادات کے سلسلہ میں جو کتابیں موجود ہیں ان میں لطائف‘‘ زیادهاشرفی’’ مشہور ہے۔ یہ کتاب ان کی حیات میں خلیفہ مولانا نظام الدین ی یمن نے ترتیب دی ۔ اس کا اردو ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔ راقم الحروف کے زیر مطالعہ لطائف اشرفی کا حصہ اول ہے جس کے مترجم علامہ شمس ی بریلو ہیں۔ جون ء١٩٩٩ میں سہیل پریس چوکپاکستان کراچی اسہوئی۔طبعسے ناشرکے نذر شیخاشرف ہاشم رضا اشرفی ہیں۔ کتاب مذکوره کا پہلا لطیفہ توحید اوراس کے مراتب پر مبنی ہے۔ راقم الحروف حضرت سید ی سمنان کے افکار کی روشنی میں توحید کے مراتب بیان کرنے کی سعی کررہاہے۔ عقیده توحید اسلام کے بنیادی عقائد میں ایک اور پہلا عقیده توحیدہے۔ توحید کے معنی ایک اور یکتائی کے ہیں۔ کائنات کا خالق و مالک لله تعالیٰ ہے وه واحد اور یکتا ہے تمام انبیاء کرام علیھم السلام اسی عقیدے کی تبلی اور اشاعت کرتے رہے۔ مخدوم شیخ ی سمنان توحید کی حقیقت اوراس کی تعریف یونبیان

کرتے ہیں کہ عاشق‘‘ کا محبوب کی صفات میں فنا ہوجانا توحید ۔ہے’’ اس قول سے اندازه کیا جاسکتا ہے ان کا انداز نظر کیا تھا۔ توحید کے مراتب شیخ سمنانی نے توحید کے چار مراتب بیان کیے ہیں جو در ذیل ہیں -١ توحید ایمانی -٢ توحید علمی -٣ توحید رسمی توحید- حالی

انہوں نے چاروں مراتب کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے۔

-١ توحید فرماتے ایمانی ہیں توحید‘‘ ایمانی یہ ہے کہ بنده لله کے عزوجل تعالیٰ اوصاف لاثانی اور اس کے ایک د معبو حق ہونے کے اشارات اور دلائل جو قرآن اور حدیث میں بیان ہوئے ہیں ان کی دل سے تصدیق

کرے اور زبان سے اقرار ۔کرے’’ توحید‘‘ ایمانی نتیجہ ہے خبر دینے والے کوسچا ماننے اور

خبر کی سچائی پر اعتقاد رکھنے کا ، اور یہ مرتبہ توحید، علم ظاہر سے حاصل ہوتا ہے۔ توحید ایمانی اختیار کرنے سے انسان شرک جلی سے بچتا ہے اور دین اسلام میں داخل ہوتا ۔ہے’’ ۶ شرک جلی سے مراد کھلا شرک ہے۔ اس کی بھی چار اقسام ہیں

١ ذات میں شرک۔ ٢ صفات میں شرک۔ ٣ عبادت میں شرک۔

اقتدار میں شرک۔ توحید ایمانی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ صوفیائے‘‘ کرام، ضروریات دین کے حکم میں عام اہل ایمان کے ساتھ اس مرتبہ میں شامل ہیں البتہ دوسرے مراتب میں یکتا اور خاص ہیں۔ اس مرتبہ پر قناعت کرلینا عجائز کا اختیار کرنا ۔ہے’’ جیساکہ حدیث شریف میں وارد ہوا۔ علیکم بدین ز ائ ج ع ال یعنی ی بو عورتوں جیسا دین ۔ رکھو ٧ یعنی پختہ دین،

پختہ عقیده اور پختہ نظریہ اختیار کرنا -٢ توحید علمی شیخ ی سمنان فرماتے ہیں توحید‘‘ علمی علم باطن سے تعلق رکھتا ہے اور یہ باطن سے

حاصل ہوتاہے جس کو علم‘‘ الیقین’’ بھی کہتے ہیں۔ اور وه یہ کہ بنده ابتدائے طریق تصوف میں ہی یقین سے اس بات کو جان لے کہ موجود حقیقی اور موثر مطلق سوائے لله تعالیٰ عزوجل کے اور

کوئی نہیں اورجملہ ذوات و صفات و افعال لله تعالیٰ کی ذات و صفات و افعال کے آگے بالکل ناچیز ہیں اور ہر ذات کے فرو کو

خداوند تعالیٰ کے ر نو حیات کا نتیجہ سمجھے اور ہر صفت کو لله

تعالیٰ کی صفت مطلق کا عکس جانے۔ بس جہاں کہیں قدرت، علم ، اراده، سمع و بصر کا اثر دیکھے اس کو باری تعالیٰ کے سمع و بصر، علم و ارادت و قدرت کا اثر سیسمجھے۔ا طرح تمام دوسری

صفات وافعال پر قیاس ۔کرے’’ ٨

شیخ یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ‘‘ حالت وکیفیت اہل خواص واہل توحید کے اولین احوال

کے مراتب میں سے ایک مرتبہ ۔ہے’’ ٩ یعنی خواص پہلے اس مرتبہ پرفائز ہوتے ہیں پھر اگلے مرتبے کو پہنچتے ہیں۔ -٣توحید رسمی تیسرا مرتبہ توحید رسمی ہے۔ جیسے ایک ہوشیار اور ذہین آدمی کتابوں کے مطالعہ سے یا کسی بزر سے سن کر توحید کے بارے میں گفتگو کرے اور بحث و مباحثہ میں بے مغز باتیں کرے لیکن حال توحید سے اس کے دل میں کوئی اثر نہ ہو۔ ١٠ اس بات کو اقبال نے کیاخوب انداز میں بیان کیاہے خرد نے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل

دل و نگاه مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں ١١

شیخ ی سمنان فرماتے ہیں کہ

وجود‘‘ انسانی جوکہ تعالیٰلله کی کاصفات محض ایک ذره ہے

اور فنا ہونے والا ہے للهوه تعالیٰ کہجوکو قدیم ہے باقی رہنے والا ہے اور اس کی لا محدود صفات ہیں اس کی حقیقت کو کیسے جان سکتا ۔ہے’’ ١٢ - توحید حالی چوتھا مرتبہ توحید حالی ہے اس مرتبہ میں توحید کی صفت لازم ہوجائے اور اس کے وجود کی جو تاریک علامات باقی ره گئی ہیں، وه نور توحید کی چمک میں گم ہوجائیں۔ نورتوحید اس کے وجود میں پوشیده طور پر داخل ہوجائے جیسا کہ تاروں کی روشنی آفتاب کی روشنی میں فنا ہوجاتی ہے۔ اس مرتبہ میں موحد کا وجود، واحد کے جمال وجود کے مشاہده میں ایسا ر ہوتا ہے کہ واحد کی ذات وصفات کے سوا اس کی نگاہوں میں کچھ بھی نہیں سماتا۔ یہاں تک کہ توحیدی اس توحید کو واحد کی صفت جانتا ہے اوراپنی صفت خیال نہیں کرتا اور اس مشاہده کو بھی اسی کی صفت قرار دیتا ہے اس طریقے میں اس کی ذات قطره آب کی طرح سمندر کی موجوں میں گرتی ہے اوراس میں ڈوب کر گم ہوجاتی ہے۔ ١٣ شیخ سید ی سمنان فرماتے ہیں کہ

‘‘ مشاہده ذات کے وقت آلام کا ادراک واحساس نہیں ہوتا

ہے۔ اس لیے کہ لذت شہود جاری و ساری ہوتی ۔ہے’’ اور یہ کہ ایک‘‘ شخص کو سو ے کو لگانا تھے اس کو نناوے ے کو

لگائے گئے اور وه مضطرب نہیں ہوا لیکن آخری ے کو پر بہت چیخا چلایا اور بے قرار ہوا۔ اس سے اس کیفیت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اس نے کہا کہ ٩٩ ے کو تک میں ه مشاہد محبوب میں ر تھا۔ لذت مشاہده کے باعث مار کی تکلیف محسوس نہیں ہوئی لیکن آخری ے کو پر میں اس مشاہد ه سے محروم تھا، اس کی یاد سے افل تھا اس لیے چوٹ محسوس ۔ہوئی’’ ١ اس مرتبے کو ہم ان عورتوں کی مثال سے بھی سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے سیدنا یوسف علیہ السلام کا دیدار کیا اوراپنا ہوش کھو بیٹھیں اوراپنی انگلیاں کاٹ لیں اورانھیں احساس بھی نہیں ہوااورنہ تکلیف محسوس ہوئی۔ ما فل ت مع س ن ر ک م ب ت سل ر ا ن ھ ی ال ت د عت وا ن ھ ل کا مت ت واٰت ل ک ة حد وا ن ھ ن مّ نا ی کّ س ت ال وق ر خ ا ن ھ ی عل ما ل ف ہٓ ین را ہ رن کب ا ن ع ط وق ن ھ دی ی ا ن ل وق ش حا ما ا ذ ٰ را ش ب ن ا آ ذ ٰ لا ا لک م م ی ر ک بس یہی صورت حال مرتبہ توحید حالی میں تو حید ی کی ہوتی ہے۔ ہیں فرماتے ی سمنان سید شیخ کا تواس کرتاہے مراقبہ خاص بطور میں صاد طالب جب‘‘ اورآنکھ قوت کی سننے میں کان جیسے ہے ہوجاتا لازم وصف حضور اور ظہور کا شہود ر نو چنانچہ قوت۔ کی میندیکھنے سے اس کبھی کبھی کہ آجاتاہے الب قدر صدوراس کا وجود ١ ۔کرتے’’ نہیں کام پر طور قطعی حواس ہیں فرماتے میں انگیٹھی کی وجود کے عارف کسی آ کی شہود جب‘‘ عارف اگر میں حالت تواس ہے ہوتی زن شعلہ اور ہے جلتی اثر کا اس بھی جب کرلے تصرف مقدار بہ شراره پر کسی ١۶ ۔گا’’ کرے سرایت

تزکیہ اور قلب تصفیہ کے اس کو ہرشخص بدولت کی مشاہدے‘‘ ہیں۔یکساں ہوتے حاصل مراتب مختلف سے اعتبار کے باطن

۔ہوتے’’ نہیں حاصل طورپر منشا کا علمی توحید اور ہے مشاہده ر نو منشا کا حالی توحید‘‘ فنا بشریت رسوم اکثر میں حالی توحید اس ہے۔ مراقبہ ر نو ہیں ہوتے فنا بشریت رسوم کم، بہت میں علمی توحید ہیں۔ ہوجاتے افعال توحیدی، کہ ہے یہ وجہ کی اوراس ہیں رہتے باقی اورکچھ شائستگی میں اقوال کے توحیدی اور سکے دے سرانجام انسانی کہ جیسا توحید حق میں حیات حال کہ ہے سبب یہی ۔ ہوسکے پیدا

١٧ ۔ہوتا’’ نہیں ادا سے اس چاہیے کرنا ادا

جات وحوالہ حواشی

یمنی، ٢ صفحہ۔ ادارتی ، ء١٩٩٩ اکتوبر ٢١ جمعرات کراچی ، جن روزنامہ ١ ٣ ۔ تا٣صاول، جلد ء١٩٩٩، پریس سہیل کراچی، اشرفی، لطائف الدین، نظام کراچی، جن روزنامہ ۔ ء٢٠٠١ اگست ۶ پیر کراچی ، جن روزنامہ ۔٣ ص ، ایضا ۶ ۔ ٢ صاول، جلد، اشرفی لطائف ۔ ء١٩٩٩ اکتوبر/٢١جمعرات ، ایضا ١٠ ۔٣٧ ص ، ایضا ٩ ۔ ٣٧ ۔٣۶ ۔٣ ص ، ایضا ٨ ۔ ٣ ص ، ایضا ٧ ۔ ٢٩ ص ء١٩ مار سنز، اینڈ لام شیخ لاہور، کلیم، ضرب ، اقبال ١١ ۔ ٣٨ ص ۔ ٢ ۔ ١ ص ، ایضا ١ ۔٣٩ ص ، ایضا ١٣ ۔٣٨ ص، اول جلد اشرفی، لطائف ١٢

۔ ٢ ص ، ایضا ١٧ ۔ ص ، ایضا ١۶ ۔ ١ ص ، ایضا ١

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.