نزول عیسیٰ علیہ السلام کا وقت ایک غلط فہمی کا ازالہ

Maarif - - ء٢٠١٦ ستمبر معارف -

ڈسکوی راشد مفتی حضرت کہ بتایا نے بنده میں جواب کے سوال کے ساتھی ایک

اسی دن اگلے سے اس گا، ہو وقت کے فجر ز نما نزول کا السلام علیہ عیسیٰ عصر عیسیٰ ل نزو کہ ہے ہوا لکھا تو میں زیور بہشتی کہ آیا فون کا ساتھی نے دل تاہم گیا، ہو کیا یہ کہ گیا پ میں کشمکش میں پر اس گا۔ ہو وقت کے ہوئی سے مجھ لطی گا، ہو ٹھیک یہی پھر تو ہے ہی ایسا اگر کہ کہا یہی تھا، مذکور یہی واقعتا وہاں تو دیکھا کر اٹھا زیور بہشتی جب پھر ہوگی۔ کس تعیین کی وقت کے فجر نماز میں ذہن میرے کہ تھی پر بات اس تشویش الدین نظام مفتی تو کی تلاش مزید میں جستجو اسی ہے ہوئی بیٹھی پر بناء ان ملی، بات یہی بھی میں مہدی’’ ر ظہو عقیده‘‘ کتاب کی ب صاح شامزئی رسالہ ایک کے ب صاح الدین رفیع شاه حضرت حوالہ میں کتابوں دونوں کے کر تلاش رسالہ وه کا ب صاح شاه حضرت تھا، گیا دیا کا نامہ’’ قیامت‘‘ حوالہ کا ’’ الاشاع‘‘ کتاب کی برزنجی علامہ وہاں تو دیکھا بھی میں اس

تھا۔ موجود وقت کے فجر نماز قول اص اور راج تو کی تحقیق مزید پر اس عصر نماز کہ نہ آیا، سامنے ہونا نزول کا السلام علیہ عیسیٰ حضرت ہی جاتی کی قرطاس نذر خاطر کی فائدے کے قارئین تفصیل پوری وقت۔ کے

عبارت کی زیور بہشتی ہے۔ تو ہوگا، قریب کے دمشق جب گا، پہنچے شام ملک دجال‘‘

ہوں چکے پہن سے پہلے وہاں الرضوان علیہ مہدی حضرت وقت کا عصر کہ گے ہوں مشغول میں تیاری کی ائی ل اور گے ہوں میں تیاری کی نماز لو اور گا دے اذان وذن م گا، جائے آ

کے فرشتوں دو السلام علیہ عیسیٰ حضرت اچانک کہ گے رفیق شعبہ تصنیف وتالیف واستاد جامعہ فاروقیہ ، کراچی ۔

گے آئیں نظر تے اتر سے آسمان ہوئے رکھے ہاتھ پر وں کند آکر پر منارے والے طرف کی مشر کے مسجد جامع اور لائیں تشریف نیچے کر لگا زینہ سے وہاں گے، ٹھہریں

۔الخ’’ گے احادیث مضمون یہ کہ ہیں فرماتے ب صاح تھانوی اشرف مولانا

بہت نے ب صاح الدین رفیع شاه حضرت بلکہ آیا، نہیں مسلسل طرح اس میں حصہ زیور، بہشتی ہے۔ دیا ترتیب کے کر جمع کو احادیث متفر سی ، ٠٢ ، ٠١ ص کا، نشانیوں کی اس اور قیامت حال سا ا تھو پنجم،

دارالاشاعت مفتی مولانا حضرت حوالہ کا نامہ’’ قیامت‘‘ اور مہدی’’ ظہور عقیده‘‘ شاه حضرت میں مہدی’’ ظہور عقیده‘‘ کتاب اپنی نے ی شامزئ الدین نظام ہمدرد مطبوعہ ،١ ص نامہ’’ قیامت‘‘ رسالے کے ب صاح الدین رفیع

ہے۔ کیا نقل مضمون یہ سے ہی دہلی پریس ماخذ کا تحریر کرده ذکر کی صاحب الدین رفیع شاه حضرت علامہ آگے اور ۔ ہے ١۶٩ ص ’’ الاشاع‘‘ کتاب کی ی برزنج علامہ نقل سے المکیہ’’ الفتوحات‘‘ کتاب کی ی العرب ابن مضمون یہ نے برزنجی

ہے۔ ذکر کا نزول وقت کے عصر نماز میں جس ہے، کیا ہو ملاحظہ عبارت کی ی العرب ابن قول کا لله رحمہ العربی ابن بین دمشق بشرق البیضاء بالمنارة مریم ابن عیسیٰ علیہ ینزل یساره، عن ملک و یمینہ عن ملک ملکین علی متکئا مھرودتین والناس دیماس من خر نما کا یتحدر الجمان مثل ماء سہ را یقطر بالناس، فیصل فیتقدم مقامہ من مام ا لہ فیتنحی العصر، ةصلوٰ ف لث والث ن والستی السادس الباب المکی الفتوحات بسن الناس وم ی

العلمی الکتب دار ، ١/۶ المھد وزراء رف ع م ف ة ا م یٰ عیس حضرت گزرا میں ماقبل ذکر کا جس پر موقع ایسے میں چادروں زرد دو پر مینارے سفید ، جانب مشرقی کے دمشق ٹیک پر فرشتوں دو آپ کہ میں حال اس گے، اتریں ہوئے لپٹے اور ہوگا جانب دائیں کی آپ فرشتہ ایک گے، ہوں ہوئے لگائیں پانی مانند کی موتیوں سے سرمبارک کے آپ جانب۔ بائیں دوسرا خانہ سل ابھی آپ کہ جیسا گے، ہوں رہے ٹپک قطرے کے ے کھ تیار لیے کے عصر ز نما لو وقت اس ہوں، نکلے سے

سے مصلی اپنے لیے کے آپ کر دیکھ کو آپ امام گے۔ ہوں کر ب آگے آپ تو ائیں پ نماز آپ تاکہ گا، جائے ہٹ پیچھے امامت مطابق کے ی سنت اور گے، ائیں پ نماز کو لوگوں

گے۔ کرائیں اپنا کا ی العرب ابن محض یہ کہ ہوا اندازه بعد کے کتب تتبع محقق قول ، فرمایا نہیں پیش کو روایت کسی میں دلیل کی قول اس نے انہوں ہے، قول جو،ہےکی نقلروایتایککی ترمذیسننآگےکچھسے مقاماس صرف کے عصر بھیکہیں میں روایت اس لیکن ہے، موجود بھیمیں مسلم صحی

ہے۔ نہیں ذکر کا نزول وقت ہوتا معلوم ایسا بعد کے کرنے کوشش بھر مقدور پر موضوع اس کتابت سے وجہ کی مشابہت لفظی ساتھ کے فجر’’‘‘ کی’’ عصر‘‘ لفظ کہ ہے کتب تفاسیر، کتب ساری بہت کیونکہ ہے، گیا ہو تغیر ایسا سے لطی کی میں جات فتاویٰ اردو و عربی اور الکلام علم کتب احادیث، شروح احادیث، ہے، مذکور سحر’’ بوقت / فجر نماز/ وقت کا صب‘‘ وقت کا یٰ عیس ل نزو الدر للطبری، البیان جامع کثیر، ابن تفسیر مثلا وقت، کا عصر نماز کہ نہ الصحیحین، علی مستدرک حنبل، بن احمد مسند ماجہ، ابن سنن المنثور، فتاوی الحدیثیہ، الفتاویٰ ، للفتاو الحاو الملہم، فت تکملہ الزوائد، مجمع یره۔ و حل کا ان اور مسائل کے آپ الحدیث، معارف الفقہ، جواہر عزیزیہ، سے یٰ عیس نزول میں تاریخ اور تفسیر اپنی تو نے ر کثی ابن علامہ کرتے ذکر فوائد کرده اخذ سے ان بعد کے کرنے ذکر متواتره احادیث متعلق ہو ملاحظہ ہوگا۔ وقت کے فجر نماز نزول کہ ہے لکھا صاف ہوئے صف علی دلال وفیھا لله رسول عن متواترة حادیث ا فھٰذه ن وا الشرقی المنارة عند بدمشق بل بالشام نہ ا من ومکانہ نزولہ کثیر، ابن تفسیر الخ الصب لاة ص ام ق عند ون ک ی ذٰلک قرطب وسس م ، ٣۶٣ ،١ ٩ -١ الآی رقم النساء، سورة ہیں منقول ساتھ کے تواتر سے اکرم نبی احادیث تمام یہ پس کی نزول کے السلام علیہ عیسیٰ حضرت میں احادیث ان اور ملک آپ کہ ہے ملتی راہنمائی پر جگہ کی ہونے نازل کیفیت، پر مینارے مشرقی کی دمشق شہر کے شام ملک بلکہ شام، ہونے ی کھ جماعت کی صب نماز اترنا یہ کہ یہ اور گے، اتریں

الخ گا ہو وقت کے

، الصب صلاة قیمت ا وقد بدمشق البیضاء المنارة علی ینزل نہ وا بعضکم لا فیقول فصل لله! روح یا تقدم المسلمین مام لہ فیقول قص ، والنھای البدای م الا ذه ٰ لله تکرم مراء ا بعض علی وفضائلہ وشمائلہ السلام ہ علی عیسیٰ صف مریم ن ب عیسی

والنشر للطباع جر دار ، ٢۶/٢ پر مینار سفید کے دمشق السلام علیہ عیسیٰ حضرت کہ یہ اور تو گی، ہو جاچکی کہی اقامت کی صب نماز وقت اس گے، اتریں آگے لله! روح اے گا، کہے امام کا مسلمانوں کر دیکھ کو آپ میں جواب کے اس تو ائیے، پ نماز ہمیں اور لائیے تشریف کا تعالیٰ لله نہیں، گے فرمائیں ارشاد السلام علیہ عیسیٰ حضرت پر بعض دوسرے بعض، سے میں تم کہ ہے اعزاز پریہ امت اس

ہیں۔ امیر السلام علیہ عیسیٰ نزول میں وقت کے عصر کہ یہ کلام خلاصہ جگہ ہر ملا، نہیں کچھ کہیں کے کتب تین بالا مذکوره ماسوا میں بارے کے کہ ہے بھی بات یہ ساتھ ساتھ کے اس ملی، ہی تعیین کی وقت کے فجر نماز خان سرفراز مولانا حضرت سوائے پر تردید کی نزول وقت کے عصر کا یره و کرام محدثین یا شارحین دیگر کے، مرقده لله نور صاحب صفدر

اتم۔ و اکمل علمہ و بالصواب اعلم تعالیٰ ولله ملا، نہیں کلام کوئی صفدر خان سرفراز مولانا والتفسیر الحدیث شیخ سنت، اہل امام السلام علیہ مسی نزول فی المرام توضی‘‘ کتاب اپنی مرقده لله نور صاحب کی قادیانیوں پر نزول کے السلام علیہ عیسیٰ حضرت پر مقام ایک میں ’’ ہیں لکھتے صاحب مرزا حوالے تیسرے ، ہوئے دیتے دلائل سے ہی کتب ہے لکھی روایت سے یره و واطیل ابن میں ١٨ ص ، الکرامتہ حج کہ گے۔ ہوں نازل سے پر آسمان وقت کے عصر السلام علیہ مسی حضرت کہ

کہ ہیں لکھتے بعد کے ١٨ ص ویہ، گول تحفہ جن ہیں، کیے نقل کے قادیانی احمد لام مرزا نے ہم حوالے تین یہ ہے تصری کی ہونے نازل سے آسمان کے السلام علیہ عیسیٰ حضرت میں ہو ملزمہ حجت کیا اور لیے کے آدمی کر ب سے بیان اور اقرار اپنے اور کتاب نظر پیش اسی ذکر کا جن نظر پیش کے احادیث صحی ہے سکتی عصر نزول کا والسلام الصلاة علیہ عیسیٰ حضرت ہے، چکا ہو باحوالہ میں نزول فی المرام توضی مرّه۔ کما گا، ہو صب صلاة، صب بوقت بلکہ نہیں

کے نزول اور رفع کے السلام علیہ مسی بھی عیسائی السلام، علیہ مسی

ء،٢٠١٠ اگست پنجم، طبع ،٧٢ ص ہیں، منتظر کے آمد کی ان اور قائل

صفدریہ مکتبہ عصر وقت نے اکابر حضرات ے ب اتنے پھر کہ بات یہ گئی ره

ہو سہو میں مسئلے اس سے اکابر ان کہ چاہیے جاننا تو دیا کر ذکر کیسے معصوم کہ ہے دلیل تو یہ بلکہ تا، پ نہیں فر میں شان کی ان سے جانے کوئی اور ہیں والتسلیمات الصلوات علیہم انبیاء حضرات صرف الخطا عن نقل در نقل ہوئے کرتے اعتماد اوپر کے متقدم سے اپنے سہو یہ نیز نہیں۔ سے بہت بلکہ نہیں سے ہی ان صرف ایسا اور ہے سے قبیل کی خطا میں

ہے۔ مشاہد ہونا صادر سے اکابر حضرات حضرت کہ ہے ہوتا معلوم یہی مناسب بعد کے تفصیل بالا مذکوره

لکھا اور جائے کیا بیان ہی ’’ فجر نماز‘‘ وقت کا نزول کے السلام علیہ مسی سے روایات صحی تصری کی وقت کے عصر نماز تاوقتیکہ جائے،

آجائے۔ سامنے

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.