غزل

Maarif - - ء٢٠١٦ ستمبر معارف - * سہارن پور۔

* مرحوم مانوی ؔشو جناب

ہوں میں ہاتھوں کے رفتار خوش وقت ہوں گماں خوش ہوں میں ہاتھوں کے خوار م ایک ہے کم کیا سکوں یہ نہیں میں جس خدا نا ، سفینہ ایسا اک بھی تو ہوں میں ہاتھوں کے ار منجد اور و نا ٹوٹی بھی میں

مستیاں کی زندگی سب لیں چھین نے دلی بے ہوں میں ہاتھوں کے میخوار طرح کی شیشے خالی تمکنت تیری ہے دیتی نہیں جھکنے بھی کو تجھ ہوں میں ہاتھوں کے خوددار دل بھی میں اب اور گا وں جا الا ڈ میں قالب کس معلوم نہیں کچھ ہوں میں ہاتھوں کے فنکار ہوں آلود نم خاک ہنر میرا اب کون پرکھے میں قدراں نا شہر ہوں میں ہاتھوں کے بازار طلب بے جنس ایک نہیں بھی ایسا ؔشو ، ہو ثمر بے محنت میری ہوں میں ہاتھوں کے زردار مگر ہوں کیمیاگر

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.