غزل

Maarif - - ء٢٠١٦ ستمبر معارف - سہارن پور۔

جناب جمیلؔ مانوی

دیے بھی جلتے ہیں ، روشن بھی ہے حیات مری س پ ر با نظر، گم ہے کائنات مری نہ وقت ہے ، نہ زمانہ ، نہ کائنات مری تجھے ثبات ہے ، ہستی ہے بے ثبات مری تھا وه بھی اصل میں تیری صفات کا پرتو سمجھ رہا تھا زمانہ جسے صفات مری ہر ایک اپنے پرائے کا دکھ مرا دکھ ہے یہ ت واردا زمانہ مرے ، جہات مری ابھی تلک تو نشانے پہ تھی مری تہذیب سنا ہے اب کے نشانہ بنے گی ذات مری ترے سلیقہ سے پہچانتی تجھے دنیا مگر سنی نہ توجہ سے تونے بات مری سلیقہ جینے کا آیا تو یہ ہوا معلوم نہ زندگی ہے نہ دنیائے بے ثبات مری ہیں جس چرا سے روشن سیاه رات کے دا اسی چرا سے روشن ہے کائنات مری کسی کے ن حس تکلم کا فیض ہے یہ جمیلؔ کہ ہے زمانے کے ہونٹوں پہ آ بات مری

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.