شذرات

الرحیم الرحمن لله بسم

Maarif - - اكتوبر معارف -

حکومتِ ہے۔ نہیں چیز نئی کوئی مطالبہ کا نفاذ کے کوڈ سول یکساں کی مسلمانوں پسند تملق زیاده بھی سے ان اور پسند تجدد علاوه کے وقت صورت وقت اس البتہ ہے۔ رہا جاتا کیا مطالبہ کا اس فوقتا وقتا بھی سے طرف میں سلسلہ کے مسلمانوں سبب بنیادی کا اس ہے۔ مختلف بہت سے پہلے حال جسہےخلافکےچیزاسہرجوہےفکرطرزمخصوصکاپارٹیحکمراں کی فکر طرز اس ہے۔ عبارت تشخص تہذیبی اور ملی مذہبی، کا مسلمانوں سے ہاتھوں کے لوگوں جن چنانچہ ہیں۔ پیوست میں حیات فلسفہ کے ان جڑیں تو نہ کو ان پر اس گذری کچھ جو پر خواتین مسلم تک نگر مظفر سے گجرات طلاق کو بیوی اپنی مسلمان کوئی اگر البتہ افسوس، نہ ہے احساس کا ندامت کے ان ہے۔ برداشت ناقابل لیے کے دوستی انسانیت کی ان ظلم یہ تو دے دے ہے رکاوٹ بڑی سے سب میں ترقی کی معاشره مسلم لا پرسنل مسلم میں خیال نہیں حقوق بنیادی وه کو خواتین اپنی بھی آج جو ہیں رہے کہہ لوگ وه یہ اور وارانہ فرقہ تھا۔ چکا دے پہلے سوسال چوده سے آج اسلام جو ہیں سکے دے حفاظت، کی آبرو و عزت اور مال و جان کے مسلمانوں تھام، روک کی فسادات حصول کے ملازمت اور روزگار تدارک، کا ماندگی پس تعلیمی اور معاشی جیسے کردار اقلیتی کا یونیورسٹی مسلم فراہمی، کی مواقع یکساں لیے کے بلکہ منفی صرف نہ نظر نقطہ کا ان میں سلسلہ کے مسائل ہوئے سلگتے والے بسنے میں ملک کہ ہے نہیں یہ مطلب کا یکجہتی قومی ہے۔ معاندانہ اور ہوجائیں بردار دست سے تشخص تہذیبی اور مذہبی اپنے طبقات مختلف اور مذہب کے دوسرے یک یکجہتی قومی جائیں۔ رنگ میں رنگ ایک سب عبارت سے سگالی خیر اور رواداری احترام، باہمی لیے کے ثقافت و تہذیب اور قومیتیں سی بہت جہاں میں ملک تکثیری اور سیکولر جیسے ہندوستان ہے۔ ہے۔ عمل مندانہ غیردانش ایک نفاذ کا کوڈ سول یکساں ہیں، جاتے پائے مذاہب مکمل کی بات اس کو اکائیوں تہذیبی مختلف اور والوں ماننے کے مذہب ہر ساتھ کے تشخص تہذیبی اور مذہبی مخصوص اپنے وه کہ چاہیے ہونی آزادی یہی نے مسلمانوں میں حکومت دور اپنے میں ہندوستان سکیں۔ گذار زندگی اور مذہبی اپنے بھی کبھی پر باشندوں کے یہاں اور کیا اختیار عمل طرز نظام، کا پات ذات کی۔ نہیں کوشش کی کرنے مسلط کو اقدار و نظریات تہذیبی اور روح بنیادی کی اسلام جو بھی میں معاملات جیسے ستی اور چھواچھوت مسلم کی۔ نہیں چھاڑ چھیڑ کوئی کبھی تھے، خلاف یکسر کے تعلیمات اساسی مسلمان اور ہے مسئلہ مذہبی یکسر بلکہ ہے نہیں مسئلہ سماجی کوئی لا پرسنل

گے۔ کریں نہیں سمجھوتہ کوئی کبھی میں معاملہ کے مذہب

تاریخ کی صحافت اردو سفر کامران اور کامیاب کا سال سو کا معارف دانش و علم ہے۔ نہیں نظیر کوئی کی جس ہے واقعہ غیرمعمولی ایسا ایک میں کی اولیات اور خدمات یابیوں، حصول کی اس میں میدان کے تنقید و تحقیق اور کا خدمات ملی کی اس ساتھ ساتھ کے خدمات علمی ہے۔ طویل بہت فہرست میں دامن اپنے وه کہ ہے یہ واقعہ ہے۔ وسیع اور متنوع بہت بھی دائره اس کہ تھا یہ تو حق ہے۔ ہوئے سمیٹے تاریخ کی سوسال کی برِصغیر اسلامیانِ یاد کو خدمات ان میں عرض و طول کے دنیا اردو پر موڑ اس کے زندگی کی لیکن جاتا منایا جشن میں انداز شان شایان کا اکتسابات ان کے اس اور جاتا کیا کا ہونے خوش پر کامیابیوں بڑی اپنی اندر ہمارے کہ ہے ہوتا معلوم ایسا یہ لیے کے احباب شناس معارف کے آباد نجیب رہا۔ نہیں باقی بھی حوصلہ الشان عظیم اس کی معارف نے انہوں چنانچہ تھی۔ نہیں قبول قابل حال صورت اپنی خطہ پورا یہ کا بجنور ضلع کیا۔ فیصلہ کا اہتمام کے جشن ایک پر کامیابی کو آباد نجیب خود ہے۔ مشہور و معروف لیے کے روایات تہذیبی اور علمی تاجورنجیب اور آبادی نجیب خاں شاه اکبر مولانا علاوه کے علم اہل دوسرے

ہے۔ حاصل فخر کا ہونے مسکن و مولد کے شخصیات جیسی آبادی شہزاد جناب اور انصاری احمد نوشاد جناب رواں روح کے مہم اس

کی۔ حاصل تعلیم اعلیٰ سے یونیورسٹی مسلم نے بھائیوں دونوں تھے۔ انصاری اعلیٰ میں دہلی صاحب انصاری شہزاد اور میں لکھنؤ صاحب انصاری نوشاد خدمات سماجی جو ہے سے خاندان ایسے ایک تعلق کا ان ہیں۔ فائز پر عہدوں مرحوم صاحب انصاری احمد شفیق ماجد والد کے ان ہے۔ جاتا جانا لیے کے جاتے کیے یاد بھی اب لیے کے خدمات سیاسی اور سماجی اپنی میں علاقہ رکھنے باقی کو روایت کی خدمات سماجی کی والد اپنے نے حضرات ان ہیں۔ انصاری احمد شفیق میں یاد کی ان سے مقصد کے بڑھانے آگے کو اس اور کرتے پروگرام کے اہمیت سماجی سے فارم پلیٹ کے اس کیااور قائم ٹرسٹ خصوصی اسی اور ہیں شناس قدر کے معارف اور دارالمصنّفین ہیں۔ رہتے الشان عظیم اس کی معارف کہ کیا فیصلہ نے انہوں سے وجہ کی خاطر تعلق جائے کیا اہتمام کا معارف جشنِ ایک میں آباد نجیب سے مناسبت کی کامیابی اس سے طرف کی دنیا اردو جو جائے کی تلافی کی کمی اس طرح اس اور کی ٹرسٹ انصاری احمد شفیق کو اکتوبر ؍٢ چنانچہ ہے۔ ہورہی میں سلسلہ عنوان کے میل سنگ کا صحافت اردو -سفر سوسالہ کا معارف سے جانب بڑے میں ہال بڑے ایک کے شہر پروگرام یہ گیا۔ کیا اہتمام کا تقریب ایک سے ایک لیے کے کرنے کویاد خدمات کی معارف اور گیا کیا منعقد پر پیمانہ اعلیٰ خدمات گوناگوں کی معارف میں جس گئی کی آراستہ مجلس خوبصورت بہت

رونق کو محفل اس گیا۔ کیا بھی اعتراف کا ان اور گیا کرایا بھی تعارف کا عزیز جناب گورنر سابق کے اوریوپی میزورم اتراکھنڈ، لیے کے بخشنے تشریف کر اٹھا زحمت بڑی سے حیثیت کی خصوصی مہمان صاحب قریشی کے جودھپور یونیورسٹی، آزاد مولانا سے حیثیت کی اعزازی مہمانان لائے۔ ہمایوں پروفیسر سے گڑھ علی اور صاحب اخترالواسع پروفیسر چانسلر وائس سابق کے اسلامیہ ملیہ جامعہ اردو، شعبہ فرمائی۔ شرکت نے صاحب مراد محمود خالد پروفیسر رکن کے انتظامیہ مجلس کی دارالمصنّفین اور صدر سے کیمپس لکھنؤ کے یونیورسٹی اردو نیشنل آزاد ابوالکلام اورمولانا صاحب کی تقریب یادگار اس لیا۔ حصہ میں مذاکره مجلس اس نے منظر عمیر ڈاکٹر شارق ڈاکٹر نظامت ۔ گئی دی کو خادم اس کے دارالمصنّفین عزت کی صدارت مسلم اور ہیں رکھتے تعلق سے آباد نجیب صاحب ڈاکٹر کی۔ نے صاحب عقیل کے لیاقت وارانہ پیشہ اپنی ہیں۔ برسرکار آفیسر میڈیکل بحیثیت میں یونیورسٹی کامیاب ایک کے مجلسوں ادبی اور علمی شناخت کی ان میں یونیورسٹی علاوه نجیب سے گڑھ علی نے مراد ہمایوں پروفیسر اور حروف راقم ہے۔ کی ناظم گفتاری شیریں کی ان اور کیا میں رہنمائی کی صاحب ڈاکٹر سفر پرلطف کا آباد اردو، شعبہ اسکالر، ریسرچ صاحب، فیاض شاہنواز رہے۔ ہوتے محظوظ سے معارف پر موقع اس دیا۔ انجام فریضہ کا لله کلام تلاوت نے اسلامیہ ملیہ جامعہ والے جانے کیے شائع سے مناسبت کی ہونے مکمل سوسال کے اشاعت کی کا جلدوں دونوں میں آئینہ کے معارف شذرات مسلمان ہندوستانی نمبر خاص سنائی میں گفتگو کی مقررین مختلف بازگشت کی موضوع اس گیا۔ کیا اجراء پہلی کی النبیؐ سیرة کو صاحب انصاری نوشاد سے طرف کی اکیڈمی شبلی دی۔ علمی اس نے صاحب انصاری نوشاد گیا۔ کیا پیش ایڈیشن یادگار کا جلدوں دو اور کیا مقدم خیر کا مہمانوں والے آنے سے باہر لیے کے شرکت میں مجلس مقامی جن ڈالی۔ روشنی پر غایت و غرض اور ضرورت کی معارف جشن ہاشم سید صاحب، احمد رئیس حافظ میں ان کیا خیال اظہار نے مقررین ارشد قاضی صاحب، سنگھ ہرپال ایڈوکیٹ صاحب، خاں عارف محمد صاحب، انصاری شہزاد میں آخر تھے۔ شامل صاحب ضیغم محمد اور صاحب مسعود خوش کی جس تھی تقریب یادگار ایک یہ کیا۔ ادا شکریہ کا مہمانوں نے صاحب

گی۔ رہے باقی میں دل دیر تا یاد گوار

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.