فن اور شخصیت اعظمی۔ برق

جہاں افروز

Maarif - - اكتوبر معارف -

میں بارے اپنے نے ء) ٩٨٣ گڑھ۔ ء- ٩ ۵( اعظمی برق الٰہی رحمت

کہ تھا کہا لکھے کیا چاره بے ہے، حال آشنائے نا

کا نگار سوانح میرے ہے قلم ساکت جوکےشاعرسےتعلقکےفناورحیاتاپنیوقتکےسخنفکر

بہت دوسرے کے گڑھ اعظم کہ ہے حقیقت یہ لیکن ہوں رہے تاثرات بھی پر کمالات فنی و فکری اور حالات بھی کے ان طرح کی شاعروں سے تھے۔ شاعر باکمال ایسے اعظمی برق ورنہ ہے ہوا پڑا پرده دبیز کا گمنامی

نہیں۔ آسان دعویٰ کا سری ہم کی جن میں دہلی کبھی خاندان کا اعظمی برق مطابق کے روایتوں خاندانی مغلیہ اور تھے منسلک سے کاروبار کے سازی اسلحہ اجداد و آبا تھا۔ آباد زوال کے حکومت مغل تھے۔ داروغہ کے خانہ اسلحہ اعلیٰ مورث میں دور ایک کی خاندان آگئے۔ گڑھ اعظم ضلع پور نامدار موضع لوگ یہ بعد کے میں مئو ضلع بستی یہ اب ہوئی منتقل میں گڑھ اعظم ضلع گوہنہ محمدآباد شا

ہے۔ بھائی چھ کل روزن محمد بن لله رحمت منشی والد کے اعظمی برق

میں گڑھ اعظم ضلع آباد نظام تحصیل پٹواری عہدهٔ بہ لله رحمت تھے۔ حلقہ دیوریا مو بستی نواحی سی چھوٹی ایک کی آباد نظام اور ملازم

تھے۔ کرتے قیام میں ائمہ برسڑا ان ہے۔ اختلاف میں پیدائش جائے و ولادت سال کے اعظمی برق

مقام اور ہے بتایا ء ٩ پیدائش سن کا ان نے نگاروں سوانح تمام کے

دراصل ہے۔ دیا قرار کو گڑھ اعظم بہادر باز محلہ ولادت اعظم کالج، گریجویٹ پوسٹ نیشنل شبلی اسکالر ریسرچ

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.