تعالیٰ باری حمد

Maarif - - ء٢٠١٦ دسمبر معارف -

کروں کیا میں ثنا تیری یزل لم خدائے میرے کروں ادا کیا میں لفظوں کیفیت، کی نظر و قلب کون ہے سکا سمجھ کو تجھ ماورا، ہے تو سے عقل کروں کیا کے سمجھ کو تجھ گزیں، جاں ہے جب تو میں دل ہوا فزوں کرم تیرا پر سوال ا ہر میرے کروں کیا تو نہیں مانگوں سے ناز عطائے تیری

تھا مآل خوش نہ کو مجھ ، جو کہ دیا نہیں بھی وه کروں گلا کیا تو کا اس میں نصیب تھا نہ کچھ جو سکوں کہہ بات کی راز کبھی سر کے رکھ میں سجدے کروں ملا یہیں سے تجھ ملتقا، ہو یہی کاش قرض بھی اب وه پہ مجھ زندگی تھی دی جو نے تو کروں ادا ترا قرض میں کہ کیا بساط میری

رقم ہے سے ازل روز گناه میں سرشت میری کروں بجا کروں بھی جو کروں سے فضل تیرے بس حیات ہ چشم نہ ابلے ابھی کیوں سے نمو جوش کروں شنا آ سے درد جب کو دل میں لیے تیرے طر کس تو کرے پیش تری، نوا بے یہ حمد کروں کیا کا ادا حسن نہیں، زباں نہیں، لفظ صالحین صرف گے جائیں اگر میں بہشت تیری کروں اکتفا پہ اتنے ہوں قبول بس جو سجدے شان کسر وجود میرا وقار ذی تیری ہے ذات کروں خطا میں بھی کتنی تری، ہے شان میں عفو ہے

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.