شذرات

Maarif - - ء٢٠١٦ دسمبر معارف -

کی ان اور محبت و عقیدت کی آزاد ابوالکلام مولانا سے شبلی علامہ

شاید ہیں۔ آگاه بخوبی علم اہل سے خاطر تعلقِ کے ان سے دارالمصنّفین یادگار یونیورسٹی، اردو نیشنل اردو آزاد مولانا باعث کے تعلق خصوصی اسی آزاد مولانا سال اس کو خادم اس کے دارالمصنّفین نے داروں ذمہ کے حیدرآباد آزاد مولانا سال ہر اہتمام کا لکچر میموریل کیا۔ مدعو لیے کے لکچر میموریل کی منعقد سے مناسبت اس یہ اور ہے جاتا کیا کو نومبر ؍١١ پیدائش یوم کے اس ہے۔ ہوتا پروگرام آخری کا تقریبات ہوئی پھیلی پر ہفتہ ایک والی جانے میں منظر پس کے حال صورت مخصوص والی جانے پائی میں ملک وقت موضوع کا افکار’’ سیاسی کے آزاد مولانا‘‘ لیے کے گفتگو نے حروف راقم میں تشکیل و تعمیر کی ہندوستان آزاد اور آزادی کی عزیز وطن کیا۔ منتخب کے آزادی جہدِ و جد ہے۔ رہا حامل کا اہمیت غیرمعمولی کردار کا آزاد مولانا مسلسل تک ء١٩۴۶ سے ء١٩۴٠ میں مرحلہ کن فیصلہ اور حسّاس نہایت صلاحیت قائدانہ اور بصیرت سیاسی غیرمعمولی کی ان صدارت کی کانگریس قائم پر نظریات اپنے وه سے استقلال اور پامردی جس ہے۔ ثبوت تردید کاناقابل کی ملک تقسیم تک آخر نے جنہوں تھے وہی ایک ہے۔ المثال عدیم وه رہے ایسا میں تاریخ ہوسکے۔ نہیں کامیاب میں مشن اس اپنے وه لیکن کی مخالفت کی خواه بہی سچے ایک اور رہا بھاری پلہ کا جذبات جب تھا ہوا نہیں بار پہلی اس کہ ہے دیتی بڑھا اور کو شدت کی المیہ اس حقیقت یہ گئی۔ سنی نہیں بات سیاسی غیرمعمولی اپنی آزاد مولانا بھی میں دور خیز ہنگامہ اور بحرانی واضح کو صورت والی ابھرنے بعد کے ملک تقسیم سے وجہ کی بصیرت کرب کا خواب شکستِ لیے کے ان تھے۔ رہے کر محسوس اور دیکھ پر طور بات کی تعجب کوئی یہ نہیں۔ ممکن کرنا اندازه کا اس ہوگا رہا گسل جاں کتنا دور ایک‘‘ اور الدیار’’ غریب میں وطن‘‘ کو آپ اپنے وه میں حالات ان کہ نہیں نہ معنویت کی افکار سیاسی کے ان باوجود کے سب ان ہیں۔ کہتے صدا’’ افتاده غیرمعمولی کے رواداری اور یکجہتی برداشت، بلکہ ہے باقی بھی آج صرف ایسے ایک ہے۔ گئی بڑھ مزید اہمیت کی ان میں دور اس کے فقدان حدتک والے بسنے رہنے میں ملک میں جس لیے کے قدمی پیش طرف کی مستقبل آزاد مولانا سکیں ره ساتھ کے آشتی اور امن محبت، اعتماد، باہمی لوگ تمام کی سیاست ملکی میں روشنی کی ان اور بازیافت کی افکار سیاسی کے پہلے آج پیغام کا یگانگت اور اتحاد یکجہتی، قومی کا ان ہے۔ ناگزیر تعمیرِنو

ہے۔ حامل کا اہمیت اور معنویت زیاده بھی سے

منفرد ایک کی انداز اپنے حیدرآباد یونیورسٹی، نیشنل اردو آزاد مولانا ترویج کی زبان اردو میں ء١٩٩٨ تاسیس کی اس ہے۔ یونیورسٹی اردو مرکزی کا اس ہوا پھیلا پر رقبہ کے ایکڑ ٢٠٠ تھی۔ گئی کی سے مقصد کے ترقی و ع ہے۔ کھینچتا طرف اپنی کو دل دامن کیمپس خوبصورت اور وسیع

است جا ایں جا کہ کشد می دل دامن کرشمہ

ہے۔ بنادیا نگاه جنت نے کاوش انسانی کو حسن فطری کے خطہ اس

تیز اور امتیاز بڑے سفر علمی اپنا باوجود کے عمری کم اپنی نے گاه دانش اس میں عرض و طول کے ملک نے اس تو طرفایک ہے۔ کیا طے سے رفتاری ء٢٠٠٩ لگاتار طرف دوسری ہےتو دیا بچھا جال ایک کا شاخوں تعلیمی اپنی اس ہے۔ رہی کامیاب میں کرنے حاصل گریڈ A سے NAAK میں ء٢٠١۶ اور زمام کی اس سے جب نے صاحب پرویز اسلم ڈاکٹر چانسلر وائس موجوده کے محسوس پر طور صاف آہٹ کی زندگی نئی ایک میں اس ہے سنبھالی قیادت طرف ہر کارفرمائی کی مقصدیت اور جذبہ نئے ایک اور ہے جاسکتی کی جسے اردو شہر اس وه سے اخلاص اور لگن ولولہ، جس ہے۔ دیتی دکھائی کر دیکھ کو اس ہیں مصروف میں تعمیر کی ہو، نہ جا بے تو کہیں آرزو شہر احسن انیس جناب میں رہنمائی اور قیادت کی ان ہے۔ نکلتی دعا سے دل کے ان اور ثقافت و ادب زبان، اردو برائے مرکز کنسلٹنٹ، چیف اعظمی، کا ہفتہ آزاد مولانا سال اس سے تعاون کے برادری یونیورسٹی نے کار رفقاء پورے تھا۔ رکھتا تعلق سے دیکھنے وه کیا اہتمام سے سلیقہ اور انداز جس پر جگہوں اہم تھا۔ گیا سنوارا اور سجایا میں انداز خوبصورت بڑے کو کیمپس انداز موثر کو مقاصد بنیادی کے یونیورسٹی ذریعہ کے پوسٹرز حال مناسب سلسلہ ایک کا پروگراموں کامیاب ہفتہ پورے ہی ساتھ تھا۔ گیا کیا پیش میں حصہ سے جذبہ اور جوش بڑے نے برادری یونیورسٹی میں جس رہا جاری میں یونیورسٹی تھا۔ لکچر میموریل آزاد مولانا کڑی آخری کی سلسلہ اس لیا۔ انیس جناب خصوصا احباب کے وہاں تھا۔ تجربہ گوار خوش ایک قیام کا دن دو کی فرمائیوں کرم کی معین دانش ڈاکٹر اور ابوالکلام پروفیسر اعظمی، احسن

گی۔ رہے باقی میں دل دیر تا یاد اب ہوئے قائم حکومت میں قیادت کی سوکی سان آنگ میں میانمار طرف کی پارٹی اپنی میں الیکشن نے انہوں اگرچہ ہے۔ چکا گذر عرصہ کچھ روہنگیا سے عرصہ طویل اور تھا کیا نہیں نامزد بھی امیدوار مسلم ایک سے اختیار خاموشی مسلسل میں سلسلہ کے مظالم والے ہونے خلاف کے مسلمانوں ان پر طور اجتماعی نے مسلمانوں کے وہاں باوجود کے اس تھی، رکھی کر

کو مسلمانوں میں صورت کی ہونے قائم حکومت کی ان دیا۔ ووٹ کو پارٹی کی درجہ کسی توقعات یہ کہ یہ صرف نہ لیکن تھی۔ امید کی بہتری میں حالات خراب زیاده کہیں بھی سے پہلے حالات بلکہ ہوئیں نہیں پوری بھی میں طلوع کے صبح نئی ایک کی حقو انسانی اور آزادی میں میانمار دنیا ہوگئے۔ کرکے ایک ایک پابندیاں عائد خلاف کے میانمار اور ہے منارہی خوشی کی حیات ہ عرص پر مسلمانوں میں راخین طرف دوسری اور ہیں جارہی کی ختم سے ابتدا کی اکتوبر سے طور خاص ہے۔ جارہا چلا ہوتا تر تنگ سے تنگ ہوا شروع سلسلہ جو کا بربریت و ظلم بناکر بہانہ کو حملہ پر چوکی پولس ایک مہینہ دو گذشتہ ہے۔ کرلی اختیار صورت کی کشی نسل ہوئی کھلی نے اس امدادی اور صحافیوں ہے۔ کررکھا سیل کو علاقہ پورے اس نے فوج سے رابطہ کا خطہ اس سے دنیا ہے۔ نہیں اجازت کی جانے وہاں بھی کو کارکنوں لوگ کہ ہیں گئے کردیے پیدا حالات ایسے ہے۔ ہوچکا منقطع پر طور مکمل علاقہ اس طر اس اور ہوجائیں مجبور پر بھاگنے کر چھوڑ بار گھر اپنے رہتے سے نسلوں کتنی جانے وه جہاں جائے کردیا ختم وجود کا مسلمانوں سے گھاٹ کے موت سے رحمی بے نہایت کو ان جاسکتے نہیں جو ہیں۔ آئے بستے کا ان سے وہاں طر اس اور ہے جاتی لگادی کوآگ گھروں ہے۔ جاتا دیا اتار ساتھ کے خواتین مسلم وحشی یہ میں وردی فوجی ہے۔ جاتا دیا مٹا نشان و نام لیے کے بچوں نہیں۔ ممکن کرنا بیان میں الفاظ کو اس ہیں کررہے سلو جو حکمراں خاتون اس کی وہاں باوجود کے سب ان غذا۔ نہ اور ہے دستیاب دوا نہ دنیا استقبال کا جس اور گیا نوازا سے انعام نوبل امن میں ء١٩٩١ جسے نے سلسلہ اس تھا، کیا سے حیثیت کی بردار علم نڈر ایک کے حقو انسانی نے کے اس یا مذمت کی اس کی۔ نہیں گوارا زحمت کی دینے تک بیان کوئی میں کہ ہے ہوتا معلوم یہی تو بظاہر ہے۔ بات کی دور بہت تو کارروائی خلاف حاصل حمایت کی ان کو فوج میں مہم سفاکانہ اس خلاف کے مسلمانوں روہنگیا سرکاری ایسی نے تنظیموں بعض کی حقو انسانی میں سلسلہ اس ہے۔ عیاں طر کی روشن روز بات یہ سے جن ہے کیا انکشاف کا دستاویزات اس حکومت اور ہے کشی نسل کی مسلمانوں مقصد کا مہم اس کہ ہے ہوجاتی روہنگیا بدنصیب ان ہے۔ چاہتی کرانا خالی سے مسلمانوں طر پوری کو خطہ بھی مسلمان کے دنیا پر طور عام سے زار حالِ کے جن لیے کے مسلمانوں ملک مسلم پڑوسی ہے۔ نہیں بھی پناه جائے کوئی ہیں، نہیں واقف زیاده کچھ وہاں جو اور ہے رکھا کر بند کو سرحدوں اپنی لیے کے ان نے دیش بنگلہ ہے المیہ سنگین ایک یہ ہے۔ رحم قابل حالت کی ان ہیں مقیم میں کیمپوں گزین دینےکی توجہ فوری طرف کی اس کو عالم مسلمانان اور اسلام عالم اور

ہے۔ ضرورت

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.