شذرات

Maarif - - ء٢٠١ مارچ -

میں کارناموں ملی اور علمی کے شبلی علامہ کو الندوه نامہ ماه کی مقاصد کے العلماء ندوة ساتھ ساتھ کے اسی ہے۔ حاصل مقام اہم ایک وقیع بڑی نے اس بھی میں میدان کے اشاعت و توسیع کی ان اور تکمیل کامیابی جو نے اس میں زندگی سی مختصر اپنی ہیں۔ دی انجام خدمات اس جو علاوه کے علماء طبقہ تھی۔ غیرمعمولی سے لحاظ ہر وه کی حاصل نے رسالہ اس بھی کو لوگوں لکھے پڑھے عام تھے، مخاطب اصل کے اس ہیں۔ کم مثالیں کی اس میں تاریخ کی صحافت اردو کیا متاثر طرح جس جو ہوئے تیار قلم اہل ایسے سے تربیت فیضِ کے شبلی علامہ ذریعہ کے عالم ایک سے نگارشات کی ان اور ہوئے ثابت روزگار یگانۂ میں میدان اس کے گر مصنف نے دریابادی عبدالماجد مولانا کو شبلی علامہ ہوا۔ مستفید مجلہ یہی ذریعہ اہم سے سب کا گری مصنف کی ان ہے۔ کیا یاد سے لقب مولانا میں ان کی تربیت کی قلم اہل جن نے انہوں ذریعہ کے رسالہ اس تھا۔ مولانا اور ندوی عبدالسلام مولانا ندوی، سلیمان سید مولانا آزاد، ابوالکلام سید مولانا تھیں۔ شامل شخصیات روزگار منتخب جیسی العمادی عبدلله اس‘‘ ہیں لکھتے میں بارے کے نتائج اور اثرات کے مجلہ اس ندوی سلیمان کھلا، دروازه کا مباحث جدید سامنے کے علماء کہ ہوا یہ فائده بڑا سے زبان آئے، نظر کو ان طریقے نئے کے خدمت کی اسلامیہ علوم اور اسلام کرتے پسند کو اس جو اور ہوئے معلوم کو ان پیرائے اور انداز کے بیان و کے اس کر پڑھ کو اس بھی، وه تھے کرتے پسند نہیں جو اور بھی تھےوه مولانا اور شبلی علامہ رسالہ یہ ۔لگے’’ کرنے کوشش کی لکھنے مطابق مئی سے ء١٩٠۴ جولائی میں ادارت مشترکہ کی شروانی الرحمٰن حبیب کی اس علامہ قبل مہینہ دو سے علاحدگی سے ندوه رہا۔ نکلتا تک ء١٩١٢ کچھ رسالہ یہ بھی بعد کے علاحدگی کی ان تھے۔ ہوگئے الگ سے ادارت ہماری رسالہ یہ رہی۔ نہیں باقی اہمیت وه کی اس لیکن رہا نکلتا تک دنوں ایام گردش یہ اب لیکن ہے ورثہ مایہ گراں ایک کا تاریخ ملی اور علمی اور قیمت و قدر تاریخی کی اس ہے۔ ہوچکا نایاب بلکہ نہیں ہی یاب کم سے صدی شبلی سلسلہ سے وجہ کی ہونے وراثت علمی اہم ایککی شبلیعلامہ تھا گیا کیا فیصلہ کا کرنے شائع ایڈیشن عکسی کا اس تحت کے مطبوعات بھی۔ دستیاب کو شائقین اور ہوجائے بھی محفوظ دستاویز تاریخی اہم یہ تاکہ کا کرنے تیار لیے کے ایڈیشن عکسی کو مجلہ اس پرانے صدی ایک لیکن

گوناگوں بھی میں حصول کے فائل مکمل کی اس تھا۔ نہیں آسان مرحلہ وجہ کی جانے گذر عرصہ طویل کا صدی ایک پڑا۔ کرنا سامنا کا مسائل اورح وا غیر عکس سے وجہ کی اساورتھا چکابدل رنگ کا کاغذ سے تھی رورت جاسکے۔ کیا شائع اسے کہ تھا نہیں لائق اس اور تھا ناصاف اشاعت قابل اسے اور جائے کیا صاف اسے سے مدد کی کنالوجی جدید کہ حد بے ہمیں تھا۔ کام طلب محنت اور آزما صبر طویل، بہت یہ جائے۔ بنایا پڑی ھانی ا بہت بھی زحمت اور لگا توبہت وقت میں کام اس کہ ہے خوشی محنت بڑی پایا۔ انجام میں سکشن ر کمپیو کے اکیڈمی عمل پورا یہ لیکن تو ہوگیا لائق کے اشاعت عکس جب بعد کے سوزی دما اور ومشقت طرح جسسے وجہ کی قلت شدید کی وسائل گئی۔ بن راه سد کمی کی وسائل بھی کام یہ طرح اسی ہیں ہوئے رکے کام سے بہت دوسرے کے اکیڈمی ہیںگئی چھجلدیں دو پہلیکی اس سےل ف کے للهابپڑگیا۔میںتعویق باقی ہیں، کرتے پیش میں خدمت کی شائقین انہیں سے خوشی نہایت ہم اور گی جائیں چھپتی گے جائیں ہوتے دستیاب وسائل جیسے جیسے جلدیں سات آ لیے کے جلدوں بقیہ اور گا لگے وقت کتنا میں تکمیل کی کام اس البتہ سکتے۔ کہہ نہیں کچھ ہم میں بارے کے اس گا پڑے کرنا انتظار کتنا کو

کی ان تھے نظر پیشِ منصوبے جو سے مناسبت کی صدیمعارف معارف منصوبہ اہم ایک سے میں ان ہے۔ جاچکی دی میں اورا ان تفصیل صبرآزما اور باثمر طویل، کے سال سو تھا۔ متعلق سے اشاعت توسیعِ کی کی اس اور سے مناسبت کی کرنے مکمل سے کامیابی اور شان اس کو سفر بجا کا اس پر طور کے اعتراف کے امتیازات اور خدمات معمولی غیر صحافت اردو اردو ان محب اور فین دارالمصن قدردانانِ کہ تھا حق یہ طورپر دنیا اردو اور کرتے استقبال شان شایانِ کا یابی حصول الشان عظیم اس کی کے افسوس و رنج نہایت لیکن مناتے۔ جشن کا اس میں عرض و طول کے ہے ا سنا مکمل طرف ہر ہوا۔ نہیں بھی کچھ ایسا کہ ہے پڑتا کہنا یہ ساتھ بعض پر و مو کے صحافت اردو دوران اس نہیں۔ ہی ہوا کچھ جیسے والے کرنے مکمل سفر کا سال سو تنہا کے اردو لیکن ہوئے بھی سیمینار رسائل آیا۔ نہیں ذکر کوئی کا خدمات مثال بے کی اس اور مجلہ ادبی و علمی سبب کا اس ہیں۔ رہے خالی یکسر سے ذکر کے اس بھی اخبارات اور کی دارنوں قدر کے معارف ہے۔ مشکل کہنا سے یقین افل ت یا ہے لاعلمی کی گذارش ہوا۔ نہیں ظہور کا افزائی حوصلہ کی طرح کسی بھی سے طرف معارف بنائے۔ خریدار نیا ایک کم از کم خریدار ہر کا معارف کہ تھی گئی

تھی امید کی زیاده سے اس سے ان سے وجہ کی خاطر تعلق کے ان سے سلسلہ س ا ہنوز اور ہیں چکے گذر مہینے ھ آ کے سال صدی معارف لیکن کہہ یہی صرف ہم میں حال صورت اس آئی۔ نہیں نظر رفت پیش کوئی میں

ہیں سکتے اور زباں کو مجھ دے نہ جو اور کو ان دل دے

ہے کیا تیار ریچر ل الشان عظیم جو نے اکیڈمی شبلی فیندارالمصن

پیشِ کے افادیت اور اہمیت کی اس ہے۔ میں زبان اردو پورا کا پورا تقریبا وه زبانوں دوسری اسے کہ تھی جارہی کی محسوس برابر رورت یہ نظر پہنچانے کو اس تک دنیا تر وسیع کی دانش و علم جائے۔ کیا منتقل بھی میں آ جائے۔ کیا ترجمہ کا اس میں زبان انگریزی کہ ہے روری یہ لیے کے ہے جارہی ہوتی ناواقف سے اردو نسل نئی کی ہند مسلمانانِ خود کہ جب کرچکی اختیار شدت رورت کی کرنے منتقل میں ہندی کو ریچر ل اس سے ثقافت و تہذیب اور تاریخ اپنی نسل نئی ہماری کہ ہیں چاہتے ہم اگر ہے۔ اور تربیت فکری اور علمی ذہنی، کی ان تو ہوجائے نہ بیگانہ یکسر میں زبان اس لیے کے ان کہ ہے ہوجاتا روری یہ لیے کے رہنمائی نسل یہ ورنہ ہیں۔ شناا اور واقف وه سے جس جائے کیا فراہم ریچر ل کے فین دارالمصن براں مزید گی۔ جائے ک سے جڑوں اپنی دھیرے دھیرے الزامات میں سلسلہ کے مسلمانوں اور اسلام کہ تھا بھی یہ مقصد ایک کا قیام میں فین دارالمصن بھی پر و مو اس جائے۔ کیا تدار کا فہمیوں غلط اور وجہ اس اور ہے میں اردو سرمایہ سارا یہ لیکن ہے۔ ہوا کام کا اہمیت بنیادی کورورت اسہیں۔مخاطبکےاسجوسکا پہننہیںتکلوگوںانسے باوجود کے قلت شدید کی وسائل نے اکیڈمی شبلی ہوئے کرتے محسوس تکاب میں ہندی ہے۔ کردی ابتداکی کام اس سہارے کے مدد کی لله محض چھ ہوکر ترجمہ کتابیں زیاده سے درجن نصف سے کرم و ل ف کے لله خطبات رحمت، دین عالم، رحمت عائشہ، سیرت ، الفارو میں ان ہیں۔ چکی جلدیں تین رواداری مذہبی کی حکمرانوں مسلم کے ہندوستان مدراس، گیر عالم زیب اورنگ ، جلدیں چار اسلام تاریخ علاوه کے اس ہیں۔ شامل محض اور ہے ہوچکا ترجمہ کا کتابوں دوسری بعض اور نظر ایک پر کے اس ہے۔ ہوا رکا کام کا اشاعت کی ان سے وجہ کی قلت کی وسائل ترجمہ انگریزی کا عائشہ سیرت اور مدراس خطبات عالم، رحمت علاوه

ہے۔ منتظر کا اشاعت اور ہے ہوچکا مکمل بھی

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.