انساب الاشراف میں مکی روایات سیرت کا جائزه

کلیم صفات اصلاحی

Maarif - - معارف جون ء٢٠١ -

مستند و مشہور کے بغداد جابربلاذری بن یحییٰ بن احمد العباس ابو

پیدا میں اوائل کے ہجری صدی ی تیسر ہیں، سیر و انساب اورماہر مورخ اور المدائنی سعد بن محمد میں عراق ، کیا حدیث سماع میں دمشق ، ہوئے ندیم و مصاحب کے المتوکل خلیفہ ، کیا فیض کسب سے الزبیر مصعب ، کیں تصنیف کتابیں مغز پر و جامع نہایت پر موضوعات متعدد رہے، برد دست جلدیں) ١٣( الاشراف انساب اور البلدان فتوح کتابیں دو صرف ھ٢٧٩ ، ہے موضوع کا مقالہ اس ہمارے الذکر موخر ، سکیں بچ سے زمانہ

(١ ۔( کیا انتقال میں ، ہے کاحامل عظمت بڑی مرتبہ و مقام کا بلاذری میں انساب علم

کے اس ، ہے نظرکتاب زیر کی ان ثبوت کا دسترس و مہارت میں فن اس ء١٩٣٨ ء-١٩٣۶ سے المقدس بیت نے گوٹین اور سنگر شلو اجزا بعض ڈاکٹر نگار سیرت و محقق عالم مشہور بعد برس بیس ۔ )٢ کیے( شائع میں حواشی قیمتی اور مراجعت و تحقیق بہترین جلد پہلی کی اس نے لله حمید میں شروع کی، شائع سے مصر دارالمعارف میں ء١٩۵٩ ساتھ کے انہوں میں جس ، ہے مقدمہ مغز پر کا صاحب ڈاکٹر مشتمل پر صفحوں٩ جن اور ہے کی درج تفصیل کی نسخوں دستیاب کے الاشراف انساب نے دی بھی فہرست کی اس ، ہے کیا موازنہ کا نسخہ اس سے مآخذ و مصادر اس ہے، کیا استعمال کا اشارات و رموز جن وقت کرتے تحریر حواشی اور سوانح کے بلاذری تک ۵٣ سے ١۴ صفحہ ، ہے کردی بھی وضاحت کی و فاضلانہ کی فراج عبدالستار استاذ پر قیمت و قدر کی الاشراف انساب اور

بعد س بر ٣٧ تقریباً کے اشاعت کی جلد پہلی اس ہے، گفتگو محققانہ دارالمصنّفین، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ۔

ء١٩٩۶ میں ڈاکٹر سہیل زکار اور ڈاکٹر ریاض زرکلی کی تحقیق و مراجعت کے ساتھ مکتب البحوث والدراسات کے زیر نگرانی دارالفکر والنشرو التوزیع بیروت لبنان سے جلدوں١٣ میں اس کی اشاعت عمل میں آئی، اس کی تیاری میں ڈاکٹر حمید لله صاحب کے محقق ایڈیشن کو بطور خاص پیش نظر رکھا گیا، دارالمصنّفین میں جدید محقق ایڈیشن نہیں ہے ، اس لیے ہمارے اس مقالہ کی بنیاد ڈاکٹر حمیدلله کا شائع کر ده نسخہ ہے ۔ موضوع اور اسلوب : بنیاد ی طور پر انساب الاشراف علم الانساب پر مشتمل کتاب ہے، انساب کے متعلق عربوں کی اس جامع تاریخ کی ترتیب ان کے نامورخاندانوں پر رکھی گئی ہے، بنو ہاشم کے ذکر میں سیرت نبویؐ کے بیشتر گوشوں پر مبنی روایتیں موجود ہیں ، اردو دائره معار ف اسلامیہ کے مضمون نگار نے لکھا ہے کہ ’’ اس کی ترتیب انساب وار کی گئی ہے اور اس کا آغاز آنحضرت صلى اله عليه وسلم کے حالات زندگی سے ہوتا ہے جو صحیح

نہیں‘‘ ۔ کیاطرح اس سےنسبکے نوحؑ حضرت آغاز کا کتاب نے بلاذری (٣ص( ہے ملادیا سے السلام علیہ آدم حضرت نسب سلسلۂ کا ان کہ ہے کے اس اور موضوع کے کتاب میں دیباچہ اپنے فرّاج عبدالستار استاذ کے نوحؑ حضرت آغاز کا کتاب’’ ہیں لکھتے ہوئے کرتے گفتگو پر اسلوب لله صلیآنحضورپھر،ہےگفتگومتعلقعربونکےپھر،ہےکیا سےنسب نیچے کرتے کرتے ذکر کا عدنان جد اصل میں نسب سلسلۂ کے وسلم علیہ کا اولاد و آل کی ان اورپھر ہیں گئے پہنچ تک دادائوں الگ الگ کے آپؐ آپؐ اور ہے کیا ذکر کا پیدائش کی آپؐ میں ۴١ص ہوئے کرتے ذکر مختصراً نسب بذکر الکتاب بدأ’’ )٢۵ ص( ہیں کیے خاص صفحے٢٣٧پر سیرت کی الاول المجلد ۴١ ص فی وصل حتی العرب عن تکلم تم السلام علیہ نوح

۔صفحہ‘‘ ٢٣٧ سیرتہ فی الصفحات واستغرقت مطالعہ وسعت ہے، وسیع معلومات دائرهٔ اور گہرا علم کا بلاذری جانچ روایتونکی ، ہے محققانہ اور ناقدانہ تحقیق اسلوب کا ان ساتھ ساتھ کے کا آیات قرآنی اور دینے اہمیت خاص کو درایت میں تحقیق اور ل پڑتا کے روایتوں متعدد ، ہے آتا نظر میں تحریروں کی ان استعمال خوبصورت قول الاول’’ ، ‘‘ ) ٩٢صالثبت( ذلک)‘‘،’’٣۵صواثبت( اصح الاول’’ آخرمیں وغیره)‘‘١٠٣ ص( غلط فقط غیرہذا قال من’’ ، ‘‘ ) ٩٣ ص( اثبت وہو الکلبی کرتا اشاره جانب کی صلاحیت ناقدانہ اسی کی ان استعمال کا الفاظ جیسے پھر اور پرہیز سے اہم غیر ترجیح، اور اختیار کے قول صحیح سے ان ہے،

ہوتاہے۔ علم کا اسلوب بلاذری کا اظہار کے رائے اپنی بات کی مصادر و مآخذ کے کتاب مستند اس کی بلاذری تک جہاں

جن ہے نہیں منسوب چیز ایسی کوئی سے بلاذری میں سلسلہ اس تو ہے بلاذری کہ ہے یہ غالبا وجہ کی اس ، ہوسکے نشاندہی مآخذکی کے ان سے رواج کا لکھنے مقدمونکے میں کتابوں تک بعد بہت سے اس اور عہد کے اخبار ، سعد ابن طبقات ، ہے ہوتی دہی نشان کی امور ان میں جس تھا، نہیں ابن الورقہ کتاب دینوری، الطـوال الاخبار کتاب ، ہفان ابینواس، ابی احادیث کتب ، ہیں خالی سے ان بھی قتیبہ ابن الکبیر المعانی کتابالجراح، سب دائود ابی سنن ، ماجہ ابن سنن ، دارمی سنن ، احمد مسند بخاری، میں ، ہے مقدمہ عمده البتہ میں مسلم صحیح ، ہیں خالی سے مقدمات سب کی ۔ ہے گئی کی دہی نشان کی ضوابط و اصول اور تصنیف مقصد میں جس نے بلاذری میں کتاب آغاز میں سلسلہ کے وضاحت کی مآخذ اخبرنی جابر، بن یحٰیی بن احمد قال’’ ہیں لکھے الفاظ کے قسم اس صرف ص( المدینۃ اھل بعض قال )،٣ ص( … قالوا بالکتب العلم اھل من جماعۃ فی الواقدی عن سعد، بن محمد حدثنی الواقدی، قال روی، یقال قالوا… )،٣ ، ہیں مستند معلومات اور متصل سندیں کی روایتوں بیشتر وغیره اسناده‘‘ سے فہرست کی کتابوں مطبوعہ ان گئی دی کی حمیدلله ڈاکٹر اندازه کا اس متن تصحیح کے مخطوطہ اس نے صاحب ڈاکٹر کو جن ہے جاسکتا لگایا حبیب ابن المفردات، کتاب کی البیطار ابن مثلاً ، تھا رکھا نظر پیش وقت کے کتاب حنبل، ابن مسند ، التہذیب تہذیب ، النبی امہات المحبر، کتاب کی جمہرة الانواء، کتاب الاستیعاب، المحکم، کتابسیده، ابن المخصص، ابوذویب، و الدویلی ابوالاسود دیوان ہشام، ابن سیرت العرب، لسان الانساب، مروج الصنائع، بدائعطبری، الانف، الروضجاحظ، ابن، العثمانیہ الرسالۃ ، البلدان معجم الالمانیہ، باللغۃ النسب اول جدوالاشراف، التنبیہ موطا، الذہب،

(٣( ۔ وغیره آدم بن یحییٰ ، الخراج کتاب علیہ لله صلی آنحضور کہ ہے ہوچکا ذکر میں بالا سطور کہ جیسا نے بلاذری روایتیں معتبر مشتمل پر واقعات بیشتر کے زندگی کی وسلم جن ہے گیا یا بنا ع موضو کا مطالعہ کو روایتوں ان آگے ہیں، دی کر جمع زمانۂ یعنی ، ہے سے زندگی مکی کی وسلم علیہ لله آنحضورصلی تعلق کا کا والده صدر، شق ، طفولیت رضاعت، انتقال، کا والد میں مبارک حمل ملاقات، سے راہب بحیرا ، شام سفر ، طالب وابو عبدالمطلب کفالت انتقال،

الفضول، حلف واقعہ ، شرکت میں فجار ، اشیاء والی ملنے میں وراثت

کا اسود حجر کعبہ، تعمیر ، شادی سفر، دوباره کا شام لیے کے تجارت سے نوفل بن ورقہ ، ظہورجبریل تحنث، و عبادت میں حرا غار تنازعہ، عمر وقت کے بعثت مسلمان، اولین نماز، اور وضو ، وحی نزول گفتگو، جانا پر صفا لیے کے توحید دعوت ، اسلام دعوت کو واقربا اعزانبوی، سہمی، قیس بن حارث عبدالمطلب، بن لہب ابو ، جہل ابو ، مخالفت کی آپؐ، واقعات، کے مسلمین تعذیب یقظہ، بن مخزوم بن عبدلله بن مغیره بن ولید کی طالب اورابو خدیجہؓ حضرت )٣٠ ص( محصوری میں طالب ابو شعب کے انصار )٢٣٨ -٢٣٧( دوره کا قبائل )٢٣٧( طائف سفر )٢٣۶( وفات اور )٢۴٠( ثانیہ عقبۂ بیعت )٢٣٨( اولیٰ عقبۂ بیعت )٢٣٩( ابتدا کی اسلام واقعہ اور )٢٢۵( نبویؐ معراج واقعۂ )٢۴٠( تعداد کی والوں کرنے بیعت

ہیں۔ موجود تفصیلات کی واقعات اہم جیسے وغیره ہجرت کو زندگی مکی کی وسلم علیہ لله آنحضورصلی میں مطالعہ اس ہجرت سے نبوتاور’’نبوت‘‘ سے شادی’’ شادی‘‘، سے ولادتادوار’’ تین بلاذری کہ ہے گئی کی کوشش کی دیکھنے یہ اور ہے کیاگیا تقسیم میں تک سے کن اور ہے کیا پیش کو پہلوئوں کن اور نقوش کن کے نبویؐ سیرة نے ہے دی اہمیت زیاده کو تفصیل میں ضبط کے روایتوں ہے، کیا نظر صرف کہ ہے ہوتا ظاہر بعد کے مطالعہ سے نظر نقطۂ اس ۔ کو ایجاز و اختصار یا اور پرہیز سے اطناب جا بے اور ہے اعتدال و توازن بہت میں روایات ان کوشش کی کرنے تحریر واقعات کر رکھ نظر پیش کو جامعیت کی ایجاز

۔ ہے گئی کی

پیدائش سے شادی تک کے اہم اور مشہور واقعات

کا ولادت کی وسلم علیہ لله صلی آنحضور نے بلاذری :نبویؐ ولادتِ کہ ہے تحت کے السلام‘‘ علیہ النبی ولادة’’ جگہ ایک ، ہے کیا جگہ دو ذکر رہا کہہ کوئی کہ دیکھا میں خواب نے آمنہ حضرت دن تیسرے کے حمل احمد نام کا اس ، ہوگی پیدائش کی سردار کے امت ذریعہ کے اس کہ ہے وه بھیجا، پاس کے عبدالمطلب دادا کو آپؐ تو ہوئے پیدا آپؐ جب چنانچہ ہوگا، کچھ ، ہوئے داخل میں کعبہ کر لے کو آپؐ اور ہوئے خوش بہت کر دیکھ

(۴( دیا۔ کر واپس کو ماں اور پڑھے اشعار الاول ربیع؍ ١٢ الفیل عام باسعادت ولادت کہ ہیں لکھتے جگہ دوسری

یہ اور تھا سال چالیسواں کا نشینی تخت کی نوشیرواں ہوئی، کو دوشنبہ بروز واقعہ کا پیشتر سال ١٧ تقریباً کے حکومت کی منذر ابن نعمان پر ) شام( حیره

بیس اور چھ ، ہوگیا کاانتقال ماجدعبدلله والد کہ تھے میں ہی حمل آپؐ ، ہے

(۵۔( ہے روایت الذکر اول صحیح لیکن ہیں ملتی بھی روایتیں کی مہینے عبدلله حضرت آگے البتہ ، ہے نہیں ذکر کا پیدائش وقت میں روایت

، عمر کی برس ٢٨ یا٢۵ کی ان وقت کے انتقال پر واپسی سے مدینہ کے تدفین میں مکہ اور موجودگی کی عبدالمطلب بن زبیر بھائی میں جنازه

(۶۔( ہے ذکر کا مرثیہ کے آمنہ اورحضرت کی نقل نہیں روایت مشہور وه کی سعد ابن استاذ اپنے نے بلاذری

، نکلا نور ایک سے جسم کے آمنہ حضرت وقت کے ولادت کی آپؐ کہ

(٧۔( ہوگئے روشن محل کے شام ملک سے جس کیا نقل کے سند بغیر کو روایتوں ان کی ت ولاد واقعہ نے بلاذری وسلم علیہ لله صلی آنحضور میں سعد ابن اور ہشام ابن ، اسحاق ابن ، ہے تعیین البتہ نہیں، اختلاف کوئی متعلق کے اورسال مہینہ دن، کے ولادت کی نے کسی میں ان ، ہیں جاتے کیے پیش ثبوت بطور واقعات جو لیے کے کے ولادت ر او فیل واقعہ نے کسی اور )٨( عمر کی آپؐ میں ر فجا حرب کی کرنے متعین ولادت سال کا آپؐ )٩( سے راتوں والی گزرنے درمیان نعمان پر حیره اور نشینی تخت کی نوشیرواں نے بلاذری لیکن کی کوشش اور ولادت تاریخ کی آپ بناکر بنیاد کو روایتوں کی حکومت کی منذر بن

ہے۔ کیا تعین کا سال کہ ہے لکھا سے طور عام میں سلسلے اس نے سیر اصحاب رضاعت: کے روز دوتین اور پلایا دودھ نے آمنہ حضرت والده کو آپؐ پہلے سے سب کہ لکھاہے نے بلاذری )١٠( پلایا دودھ نے ثوبیہ لونڈی کی لہب ابو بعد تو ہوئی تلاش کی عورت لیے کے رضاعت بعد کے ولادت کی آنحضورؐ کو آپؐ نے تھا عبدالعزیٰ بن حارث کانام شوہر کے جن ذئویبؓ ابی بن حلیمہ الرضاع لہ التمس وسلم علیہ لله صلی لله رسول ولد لما قالوا’’ پلایا دودھ کے رضاعت پھر )١١( حلیمۃ‘‘ لہا یقال سعد… بنی من امرأة لہ فاسترضع کی جن ہے کیا سے زبان کی حلیمہؓ ذکرحضرت کا برکات ان کی آپؐ دوران کی لونڈی کی ابولہب ، ہیں جاتی پائی میں سیرت مصادر بالعموم تفصیلات نہیں ذکر قطعاً کا رضاعت کی والده لیکن ہے کیا ذکرآخرمیں کا رضاعت کانام والد کے حلیمہؓ حضرت مطابق کے واقدی اور اسحاق ابن )١٢( ہے ابی نام کا ان نے الکلبی بن ہشام لیکن ہے الحارث بن عبدلله ذئویب ابو کو قول کے کلبی نے بلاذری ، ہے لکھا شحنہ بن عبدلله بن حارث ذئویب

(١٣۔( ہے بتایا اثبت

والده کا انتقال: بلاذری لکھتے ہیں کہ آپؐ دو سال کے ہوئے تو عمل شیر خوارگی متروک ہوا لیکن آپ حضرت حلیمہ کے پاس ہی رہے ، پانچ برس کے ہوئے تو دادا اور ماں کے حوالہ کردیا گیا، چھ برس کی عمر تک ماں کے ساتھ رہے ، آٹھ برس کی بھی روایت ہے لیکن چھ والی روایت زیاده صحیح ہے، اس دوران والده نے شوہر کی قبر کی زیارت کے لیے مدینہ کا سفر کیا ، ساتھ میں عبدالمطلب اورخادمہ ام ایمن بھی تھیں، واپس لوٹ رہی تھیں کہ ابوا میں انتقال کرگئیں اور وہیں تدفین عمل میں آئی ، )١۴) بعض بصری علما کے اس خیال کو کہ حضرت آمنہ شعب ابی دب

الخزاعی میں دفن ہوئیں غلط بتایا ہے (١۵۔( واقعہ شق صدر کا ذکر نہیں : آپؐ بنی سعد یعنی حضرت حلیمہؓ کے پاس ہی تھے، چوتھا یا پانچواں سال تھا کہ شق صدر کا مشہور واقعہ پیش آیا ، جس کی تفصیل کتب احادیث مسلم )١۶( وغیره اور کتب سیر ابن اسحاق )١٧( اور ابن سعد )١٨( وغیره میں موجود ہے کہ آپؐ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ، حضرت جبریلؑ آئے اور سینہ چاک کیا ، دل نکال کر اسے آب زمزم سے دھویا اورپھر اس کو اس کی جگہ لوٹا دیا )١٩( لیکن

بلاذری نے اس واقعہ کا کوئی ذکرنہیں کیاہے ۔ آپؐ کی گم شدگی : عہد طفولیت کے مشہور واقعات میں آپ کی گم شدگی کا واقعہ بھی کتب سیر میں موجود ہے ، بلاذری نے اس واقعہ کا ذکر سنداً لکھا ہے کہ حضرت حلیمہؓ آپؐ کو لے کر چلیں تو مکہ کے قریب آپؐ گم ہوگئے، ورقہ بن نوفل اور ایک دوسرے قریشی کوآپؐ مل گئے ، دونوں آپؐ کو عبدالمطلب کے پاس لے گئے اور کہا کہ اس بچہ کو ہم نے اعلائے مکہ میں حیران و پریشان پایا ، ہم نے پوچھا کون ہو؟ جواب دیا کہ میں محمد، عبدلله بن عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ، تو ہم اسے آپ کے پاس لے کر آئے ہیں، آگے لکھتے ہیں کہ وَوَجَدَکَ’’ ضَآلًّا فَھَدٰی‘‘ میں اسی واقعہ کی جانب اشاره ہے )٢٠( چنانچہ عبدالمطلب نے آپؐ کو اپنے کندھے پر بٹھا کر

خانۂ کعبہ کا طواف کیا اور چند اشعار پڑھے۔ حضرت حلیمہؓ کے ساتھ آنحضور صلى اله عليه وسلم کے حسن سلوک کا تذکره بھی مختصر اور جامع انداز میں ہے )٢١( نیز ثوبیہ کی رضاعت اوران

کے ساتھ آپؐ کے حسن سلوک و اکرام کا تذکر ه ہے (٢٢۔( عبدالمطلب کی وفات: آپؐ ٨ برس کے تھے کہ دادا عبدالمطلب کا انتقال ہوگیا، مکہ میں جحون میں ان کی تدفین ہوئی ، اس وقت حمزه ١٢ اور، عباس گیاره سال کے تھے ، وفات کے وقت عبدالمطلب کی عمر ٨٢ اور

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.