علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ۔ ایک اقلیتی اداره

Maarif - - معارف جون ء٢٠١ - صدر شعبۂ سیاسیات، مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ۔

بیگ اسمر مرزا پروفیسر

یونیورسٹی مسلم گڑھ علی عزیز متاع کی مسلمانوں ہندوستانی

کی بقا اپنی اور ہے رہی دوچار سے مسائل مختلف سے بعد کے آزادی سےدورنازکبہتایکسےطورخاصوهوقتاسہے۔رہیلڑتیجنگ گذشتہ ہے۔ بحث زیر میں کورٹ سپریم کردار اقلیتی کا اس ہے۔ رہی گذر برخلاف کے اس تھی۔ کی حمایت کی کردار اقلیتی میں عدالت نے حکومت کے اسلامیہ ملیہ جامعہ اور یونیورسٹی مسلم گڑھ علی حکومت موجوده ملک سیکولر ایک کہ ہے کہنا کا جنرل اٹارنی ہے۔ خلاف کے کردار اقلیتی موجوده سے وجہ اس کرسکتی۔ نہیں قائم اداره اقلیتی کوئی حکومت کی آباد الٰہ کے ء٢٠٠۵ اور فیصلے کے بنچ رکنی پانچ کے ء١٩۶٧ حکومت کیا اختیار موقف یہ میں جس ہے۔ رکھتی اتفاق سے فیصلہ کے کورٹ ہائی فیصلہ اس کے حکومت ہے۔ نہیں اداره اقلیتی ایک یونیورسٹی کہ ہے گیا

ہے۔ کردی پیدا حال صورت نازک بہت ایک نے خصوصی کو اقلیتوں کہ ہے یہ سوال اہم سے سب میں بحث اس کسی میں ٢٩ آرٹیکل کے دستور کے ہندوستان ہیں۔ گئے دیے کیوں حقوق سب تحفظ یہ ہے۔ گیا دیا حق کا تحفظ کے زبان اور الخط رسم کلچر، خاص آرٹیکل ہے۔ ہوسکتا ہی میں ادارے تعلیمی اقلیتی ایک سے طریقے بہتر سے بنائیں ادارے تعلیمی کے مرضی اپنی وه کہ ہے دیتا حق یہ کو اقلیتوں ٣٠ (١) ملک ۔ ہیں کے اقلیتوں لسانی ادارے اقلیتی تر زیاده میں ہندوستان چلائیں۔ اور اقلیتی ایک ہیں۔ ادارے اقلیتی گجراتی اور تیلگو ٹمل، سندھی، سینکڑوں میں کی مختص نشستیں لیے کے افراد کے اقلیت والی بنانے کو اس میں اداره یہ کو اداروں اقلیتی ١۵ (۵( رٹیکلآ کا دستور کے ہندوستان ہیں۔ جاسکتی

کریں۔ نہ فراہم تحفظات لیے کے اور وه کہ ہے دیتا چھوٹ

میں دینے امداد کو اداروں تعلیمی تحت کے ٣٠ (٢( آرٹیکل ریاست کورٹ سپریم کرسکتی۔ نہیں سلوک امتیازی ساتھ کے ادارے اقلیتی کسی ذکر کا اداروں تعلیمی جن میں ٣٠ آرٹیکل کہ ہے کرچکا واضح یہ ہی پہلے اپنی کو اداروں اپنے اقلیتیں اور ہے شامل بھی یونیورسٹی میں ان ہے گروپ اقلیتی ایک طرح اس ہیں۔ سکتی چلا چاہیں طرح جس سے مرضی کام میں نگرانی کی سرکار جو ہے سکتا بنا یونیورسٹی ایک تو چاہے اگر برابر کے ڈگریوں کی یونیورسٹیوں دوسری ڈگریاں کی اس اور گی کرے اقلیتوں کی ملک قوانین یہ کے دستور کہ ہے ماننا کا کورٹ سپریم گی۔ ہوں

ہیں۔ اہم بہت لیے کے تحفظ کے کہ تھا کہا یہ نے کورٹ سپریم میں کیس پاشا عزیز کے ء١٩۶٧

لیے اس تھا کیا قائم کو ایم۔یو۔ اے۔ نے overnor eneral in oun il بات عجیب ایک یہ ہے۔ نہیں حق کوئی کا چلانے نظام کا اس کو مسلمانوں اس نے کورٹ سپریم ہی بغیر سنے کو یو۔ ایم۔ اے۔ میں مقدمہ اس کہ ہے یونیورسٹی مسلم گڑھ علی دلیل یہ کی کورٹ دیا۔ سنا فیصلہ خلاف کے کہ تھا ماننا یہ کا کورٹ تھی۔ گئی دی کر بنا بنیاد کو ء١٩٢٠ ایکٹ اپنے بدلے کے منظوری کی ڈگریوں کی یونیورسٹی اپنی نے مسلمانوں

تھا۔ کردیا قربان کو کردار اقلیتی ان نے ایکٹ کے ء١٩٨١ تھے کیے پیدا شبہات جو نے پاشاکیس پارلیمنٹ کہ کیا اختیار موقف یہ نے ساز قانون مجلس تھا۔ کردیا تدارک کا اسے میں اصل اور تھی دی حیثیت قانونی کو یو۔ ایم۔ اے۔ صرف نے محمڈن کہ تھا کیا واضح بھی یہ نے پارلیمنٹ تھا۔ کیا قائم ہی نے مسلمانوں کہ کہنا یہ آج لیے اس ہیں۔ ایک دونوں یو۔ ایم۔ اے۔ اور کالج اورینٹل اینگلو میں ء٢٠٠۵ لیکن ہوگا۔ غلط ہے قانون اچھا بھی ابھی فیصلہ کا پاشا عزیز رد کو ترمیم کی ء١٩٨١ کی پارلیمنٹ کی ہندوستان نے کورٹ ہائی آباد الٰہ کا جانچنے کو حیثیت آئینی کی قانون بنائے کے پارلیمنٹ حالانکہ کردیا۔ وه ہے بنایا قانون پر موضوع جس نے پارلیمنٹ کہ ہے یہ طریقہ واحد خاص کا یو۔ ایم۔ اے۔ ہو۔ نہ میں کار دائرهٔ مخصوص کے اسمبلی ریاستی کے اس لیے اس ہے۔ گیا کیا ذکر پر نمبر ۶٣ میں nion List پر طور لگایا نہیں نشان سوالیہ پر اہلیت کی سازی قانون کی پارلیمنٹ میں بارے کورٹ ہائی آباد الٰہ لیکن تھا اٹھا نہیں بھی میں کیس پاشا سوال یہ جاسکتا۔ محدود کو اہلیت کی پارلیمنٹ کرکے کھڑا سوال نیا یہ میں ء٢٠٠۵ نے کے کورٹ سپریم میں مقدموں سے بہت ہے۔ کی کوشش کی کردینے کے راجہ کے آباد محمود ہی حال ابھی ہے۔ کیا رد نے پارلیمنٹ کو فیصلوں

آرڈیننس ایک نے سرکار اسے تھا، کیا نے کورٹ سپریم فیصلہ جو میں حق کورٹ سپریممیںکیس کے oda one پہلے دنوں کچھ کردیا۔ رد ذریعہ کے ء٢٠٠۵ تھا۔ کردیا تبدیل ذریعہ کے ترمیم ایک نے پارلیمنٹ کو فیصلے کے منسوخ کو ترمیم کی ء١٩٨١ نے فیصلے کے کورٹ ہائی آباد الٰہ کے

ہے۔ کی ورزی خلاف کی اصول اہم ایک کے قانون کرکے ایسا کوئی وه کہ ہے نہیں اجازت یہ کو پارلیمنٹ میں ہندوستان اپنے لیکن ٹکرائے، سے حقوق بنیادی کے شہریوں جو بنائے قانون کا بنانے قانون کے طرح ہر لیے کے تحفظ کے حقوق بنیادی کے شہریوں تھا قانون ایسا ایک ایکٹ کا ء١٩٢٠ کا یونیورسٹی مسلم گڑھ علی ہے۔ حق کے دینے فروغ کو حقوق بنیادی کے مسلمانوں نے اسمبلی ساز قانون جو اقلیتی میں ریاستوں کئی قوانین دوسرے کے طرح اسی تھا۔ بنایا لیے نے M گئے۔ کیے پاس لیے کے دینے درجہ قانونی کو یونیورسٹیوں کے t یونیورسٹیاں ee ed کئی لیے کے اقلیتوں

ہیں۔ کی قائم تحت کے e tion نہیں ساقط کبھی حقوق بنیادی کہ ہے نہیں اختلاف کوئی پر قانون اس مسلمانوں کہ کیا فیصلہ غلط یہ نے کورٹ سپریم میں کیس پاشا جاسکتے۔ کیے تھا۔ دیا سونپ کو سرکار حق کا چلانے نظام کا یونیورسٹی مسلم گڑھ علی نے کرسکتی نہیں قائم یونیورسٹی اپنی اقلیت بھی کوئی کہ ہوا یہ مطلب کا اس وه ہی کرتے ایسا اور ہے سکتی دے ہی سرکار درجہ قانونی کو اس کیونکہ کی بچے کے کسی کہ ہے ہی ایسا کہنا یہ کا کورٹ گا۔ ہوجائے اداره سرکاری وه جب اور ہے ہوسکتا ہی میں میونسپلٹی رجسٹریشن کا اس بعد کے پیدائش رجسٹریشن کا پیدائش کی اس نے اس کہ کہے یہ سرکار تو کرے ایسے پاشا اگر لیکن ہوگیا۔ کا سرکار اب بچہ یہ لیے اس ہے کیا ساتھ کے سرکار کی کورٹ سپریم اسے تو جائے لیا بھی مان صحیح کو فیصلہ اس کے کیس میں کیس t. aviers کے ء١٩٧۴ ہے۔ کردیا منسوخ نے بنچ بڑی سے اس نسل دوسری کی اس نسل ایک کوئی کی اقلیتوں کہ تھا کہا نے کورٹ سپریم

ہے۔ سکتی لے نہیں واپس مطالبہ اپنا سے حقوق بنیادی کے ہوگیا یقین کو خاں احمد سرسید بعد کے ء١٨۵٧ : منظر پس تاریخی میں سرکار اور ہیں نہیں والے جانے جلد سے ہندوستان اب انگریز کہ کے ان اور سرسید لیے اس ہے۔ ذریعہ کے تعلیم صرف راستہ کا شمولیت o iet or the i usion o estern Learning نے ساتھیوں تعلیمی کی مسلمانوں نے انہوں بعد کے اس کیا۔ قیام کا ongMusli s

نے لوگوں ٣٢ لکھوائے۔ مضمون سے لوگوں پر موضوع کے ماندگی پس کا اداروں تعلیمی سرکاری مسلمان کہ لکھا یہ نے کئی اور بھیجے مضمون یقین یہ کو مسلمانوں کہ ہے لیے اس ایسا ہیں۔ کررہے نہیں استعمال صحیح دی نہیں تعلیم دینی جہاں گے جائیں میں اداروں سرکاری ان وه اگر کہ ہے ایک لیے اس گی۔ جائے پڑ کمزور وابستگی سے مذہب کی ان تو جاتی بھی تعلیم دینی ساتھ کے تعلیم مشرقی جہاں ہے ضرورت کی ادارے ایسے دی میں ہی ادارے اپنے کے مسلمانوں تعلیم کی طرح اس لیکن جائے۔ دی ایک سے istri t olle tor نے لوگوں ان لیے اس تھی۔ جاسکتی

مانگی۔ اجازت کی بنانے یونیورسٹی آگے میں سمت اس آہستہ آہستہ وه کہ کہا سے مسلمانوں نے انہوں ایک بعد کے اس اور کالج ایک پھر بنائیں، اسکول ایک پہلے بڑھیں۔ بن کالج میں ء١٨٧٧ جو گیا بنایا اسکول ایک پہلے لیے اس یونیورسٹی۔ میں جلسے افتتاحی کے کالج تھا۔ کالج اورینٹل اینگلو محمڈن نام کا جس گیا، اراده کا ان کہ کردیا ظاہر صاف یہ نے سرسید میں موجودگی کی وائسرائے وائس سال ہر بعد کے اس اظہار کا اراده اس ہے۔ کا بنانے یونیورسٹی ایک بنانے یونیورسٹی کو کالج بھی نے سرکار تھا۔ ہوتا میں موجودگی کی رائے

کی۔ حمایت کی منصوبے کے گیا کہا یہ میں اجلاس تعزیتی ہوگئی۔ وفات کی سرسید میں ء١٨٩٨

قائم یونیورسٹی ایک کہ ہوگا یہ تحسین خراج بھرپور لیے کے سرسید کہ مسلمانوں نے سرکار تھی۔ درکار مدد کی سرکار لیے کے اس جائے۔ کی رقم بڑییہوقت اسکریں۔ جمعروپے لاکھ ٣٠ لیےکے اسوهکہ کہا سے مسلم گڑھ علی میں ء١٩٢٠ اور گیا کیا جمع اسے طرح کسی لیکن تھی لسٹ ایک کی لوگوں ١٢۴ ساتھ کے ایکٹ اس ہوا۔ پاس ایکٹ یونیورسٹی بھی یہ میں ایکٹ ہیں۔ مسلمان سبھی یہ اور ہیں رکن بانی کے اس جو ہے مسلم اور ہوگی لازم تعلیم دینی لیے کے علموں طالب مسلمان کہ گیا کہا گورننگ سپریم کی یونیورسٹی ہوگا۔ انتظام معقول کا پرده لیے کے لڑکیوں وہی اور گے ہوں مسلمان رکن سبھی کے اس ہوگا کورٹ نام کا جس کونسل مسلم ایک وه کہ ہے واضح یہ طرح اس گے۔ کریں تقرر کا چانسلر وائس تعلیم دینی لازمی کیونکہ بنا۔ یونیورسٹی سے کالج میں ء١٩٢٠ جو تھا اداره آرٹیکل کے دستور کے ہندوستان یہ اور تھی حصہ کا ایکٹ کے ء١٩٢٠ مذہبی جبراً کو انسان کسی کہ گیا کہا یہ میں جس تھا، خلاف کے ٢٨ (٣) لیتا امداد سرکارسے اداره جو جاسکتی دی نہیں میں اداره تعلیمی اس تعلیم تعلیم مذہبی اور گیا کیا ترمیم میں ء١٩۵١ کو ایکٹ یو۔ ایم۔ اے۔ لیے اس ہو۔

گیا۔ کیا نہیں ممنوع کو تعلیم مذہبی کہ ہے یہ بات اہم گیا۔ کردیا اختیاری کو تو سمجھتی نہ اداره اقلیتی اسے پارلیمنٹ اگر کہ ہے یہ مطلب کا اس

دیتی۔ لگا روک بھی پر تعلیم مذہبی اختیاری میں یونیورسٹی میں ء١٩۶۵ آیا۔ نہیں پیش مسئلہ کوئی تک ء١٩۶۵ کردیا فیصد ۵٠ گھٹاکر سے فیصد ٧۵ کو ریزرویشن لیے کے طلبہ انٹرنل ہوا۔ بھی تشدد اور ہوئی مخالفت بہت میں یونیورسٹی کی فیصلے اس گیا۔ صورت اس ہوا۔ حملہ بھی پر جنگ یاور علی چانسلر وائس کے وقت اس اور کورٹ کردیا۔ نافذ آرڈیننس ایک پر یونیورسٹی نے سرکار میں حال گیا۔ دیا بھر سے نمایندوں کے صدر کے ہندوستان کو کاونسل ایکزیکیوٹیو چلے کورٹ سپریم بغیر کیے مشوره سے یونیورسٹی مسلمان کچھ سپریم میں فیصلے کے ء١٩۶٧ تھے۔ ایک سے میں ان پاشا عزیز گئے۔ اسمبلی ساز قانون بلکہ نہیں نے مسلمانوں کے ہندوستان کیونکہ کہا نے کورٹ ہے۔ حق کا چلانے نظام کا اس ہی اسے لیے اس تھا کیا قائم کو یو۔ ایم۔ اے۔ نے خیر اور علموں طالب پرانے کے یو۔ ایم۔ اے۔ بعد کے فیصلے اس

ایک لیے کے کرنے بحال کو کردار اقلیتی کے یو۔ ایم۔ اے۔ نے خواہوں کومانگکیاننےسرکارجبچلیتکء١٩٨١تحریکیہچلائی۔تحریک کو ) () e tion ) میں ایکٹ یو۔ ایم۔ اے۔ اسے میں ء١٩٨١ کرلیا۔ تسلیم اور کلچر کے مسلمانوں وه کہ ہے دیتا اختیار کو یونیورسٹی یہ گیا۔ جوڑا بھی کو اختیارات کے کورٹ یو۔ ایم۔ اے۔ کرے کام لیے کے ترقی تعلیمی کے ء١٩٨١ ہوگئی۔ باڈی گورننگ سپریم پھر بار ایک وه اور گیا کردیا بحال

ہے۔ اداره اقلیتی ایک یو۔ ایم۔ اے۔ کہ ہوگیا صاف بالکل یہ سے بعد ہے نہیں اداره اقلیتی ایک یو۔ ایم۔ اے۔ کہ کہنا یہ بعد کے اس کی کورٹ سپریم میں ء٢٠٠٢ ہوگا۔ کرنا محدود کو دائره کے ٣٠ آرٹیکل کہ تھا کہا صاف میں کیس فاؤنڈیشن پائی اے ایم ٹی نے بنچ کی ججوں گیاره کا اس ہے موجود میں ٣٠ آرٹیکل کے آئین جو اداره‘‘ تعلیمی کا پسند اپنی’’ کہ تک یہاں ہے۔ شامل یونیورسٹی میں جس ہے، تعلیم کی سیول ہر مطلب کے جملہ اس کہ تھا لیا مان نے کورٹ سپریم بھی میں کیس پاشا عزیز بھی یونیورسٹی مرکزی ایک لیے اس ہے۔ شامل یونیورسٹی میں مطلب قانون والا دینے درجہ قانونی کو اس اگر ہے ہوسکتی اداره اقلیتی ایک وزیر کی ترقی کی وسائل انسانی کی وقت اس ہو۔ کیا پاس نے پارلیمنٹ کی جامعہ اور گڑھ علی کہ تھا کہا میں ء٢٠١۶ جنوری نے ایرانی اسمرتی

ادارے اقلیتی یہ لیے اس تھیں کی قائم نے پارلیمنٹ چونکہ یونیورسٹیاں

نہیں ہیں۔ یہ کہتے وقت شاید ان کے ذہن میں ٹی۔ ایم۔ اے پائی کیس کا فیصلہ

یا اس طرح کے دوسرے فیصلے نہیں تھے۔ اس کے علاوه کسی ادارے کے اقلیتی کردار کو پرکھنے کا طریقہ صرف قانون کو دیکھنا نہیں ہوتا بلکہ اس سلسلہ میں اس کے تاریخی پس منظر کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔ یہ نکتہ سپریم کورٹ کے ء١٩٩٣ کے t. te hens ase میں واضح کردیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے t. te hens ollege کو اقلیتی اداره مانا تھا کیونکہ اس نے اپنا عیسائی کردار برقرار رکھا تھا۔ جو اس کے نام، نشان، گرجا گھر اور یہاں دی جانے والی تعلیم سے عیاں ہے۔ اگر یہی طریقہ یہ طے کرنے کا ہے کہ کوئی اداره اقلیتی ہے یا نہیں تو علی گڑھ یونیورسٹی ایک اقلیتی اداره ہے۔ سپریم کورٹ بھی ء١٩٨١ میں یونیورسٹی کی جامع مسجد کی اہمیت کو

مان کر اے۔ ایم۔ یو۔ کو اقلیتی کردار کو مان چکا ہے۔ اے۔ ایم۔ یو۔ کی ریزرویشن پالیسی : دھیرے دھیرے اے۔ ایم۔ یو۔ کی انتظامیہ کو احساس ہوا کہ اے۔ ایم۔ یو۔ میں اب سارے ہندوستان سے طالب علم نہیں آرہے ہیں اور اب صرف یوپی اور بہار کے طالب علم یہاں آرہے ہیں۔ اے۔ ایم۔ یو۔ میں ریزرویشن کا فائده بھی اب صرف یونیورسٹی کے ملازموں کے بچوں اور کچھ اے۔ ایم۔ یو۔ کے اسکولوں کے بچوں کو ہی ہورہا تھا۔ اس مسئلہ کا حل نکالنے کے لیے کمیٹیاں بنائی گئیں۔ یونیورسٹی میں یہ رائے بنی کہ پورے ہندوستان سے ذہین مسلم طالب علموں کو اے۔ ایم۔ یو۔ میں لانے کے لیے یہ بہتر ہوگا کہ یہاں انٹرنل طالب علموں کی جگہ مسلم طالب علموں کے لیے ریزرویشن ہو۔ کچھ لوگ اس سے متفق نہیں تھے۔ لیکن ء٢٠٠۵ میں جب یہ ریزرویشن پالیسی نافذ کی گئی تو یہ ملک کی واحد ریزرویشن پالیسی تھی جس کا مقصد زیاده ذہین اور اہل طالب علموں کی تلاش تھی۔ باقی سبھی ریزرویشن پالیسیاں کم اہل طالب علموں

کو موقع فراہم کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ نئی ریزرویشن پالیسی جس میں ۵٠ فیصد سیٹیں مسلمانوں کے لیے محفوظ تھیں کے لاگو ہونے کے بعد اے۔ ایم۔ یو۔ کے کچھ غیر مسلم انٹرنل طالب علم الٰہ آباد ہائی کورٹ چلے گئے۔ کورٹ نے کہا کہ مذہب کی بنا پر ریزرویشن کرنا غلط ہے جب کہ نوٹسایکنےمنسٹری جاری کرکے اے۔ ایم۔ یو۔ کو یہ اجازت دی تھی کہ وه ۵٠ فیصد سیٹیں مسلمانوں کے لیے محفوظ کرسکتی ہے۔ اس مسئلہ پر سپریم کورٹ ء١٩٩٣ میں t. te hens ase میں پہلے ہی وضاحت کرچکا ہے۔ اس نے یہ صاف

کردیا تھا کہ کسی اداره میں اس برادری کے لیے ۵٠ فیصد نشستیں محفوظ

کی جاسکتی ہیں جس نے اسے قائم کیا ہے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن غلط ہے اور اس لیے اے۔ ایم۔ یو۔ نے ایسا کرکے ہندوستان کے دستور کی خلاف ورزی کی ہے۔ لیکن یہ روک ریاستی اداروں پر لگائی گئی ہے۔ مثال کے طور پر اس طرح کا ریزرویشن دہلی یونیورسٹی میں نہیں ہوسکتا ہے۔ اقلیتی ادارے مذہبی ہوتے ہیں یا لسانی۔ زیاده تر اقلیتی ادارے لسانی اقلیتوں کے ہیں۔ ہندوستان میں ١٠٠ سے زیاده سندھی اقلیتی ادارے ہیں۔ اقلیت کی تعریف ریاست کی سطح پر کی گئی ہے۔ اس لیے اگر مراٹھی برادری اترپردیش میں کوئی اداره قائم کرے تو وه اقلیتی اداره ہوگا اور وہاں اس برادری کے لیے سیٹیں محفوظ کی جاسکتی ہیں۔ اس طرح کا تحفظ دستور نے ہندوستان کے تنوع کو برقرار رکھنے کے لیے کیا ہے۔ کسی بھی برادری کی زبان و رسم الخط یا کلچر کا تحفظ کرنے کے لیے اقلیتی اداروں کی بہت اہمیت ہے۔ اقلیتوں کو حقوق ہندوستان میں سیکولرازم کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہیں۔ اکثریتی طبقے کو بھی کچھ خصوصی حقوق حاصل ہیں اور اس سے سیکولرازم کمزور نہیں پڑتا ہے۔ ہر سال ۵ ۵ لاکھ روپے ہندو مندروں کی بحالی کے لیے und onsolidated

o ndia سے دیا جاتا ہے۔ اس سے سیکولرازم مجروح نہیں ہوتا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا مقدمہ سپریم کورٹ کے سامنے ہے اور آنے والے وقت میں اس کا فیصلہ ہوجائے گا۔ لیکن اس مقدمہ نے اقلیتوں کے حقوق کے تعلق سے کئی سوال کھڑے کردیے ہیں اور ایک عوامی بحث شروع کردی ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ جسٹس کھنہ کے الفاظ جو انہوں نے t. aviers ollege vs tate o u arat میں کہے تھے، کہاں تک سچ ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا جب’’ تک ہندوستان کا دستور اپنے اصلی روپ میں زنده ہے ان حقوق کے ساتھ کسی چھیڑ چھاڑ کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا ہے۔ ایسا کرنے کی کوئی بھی کوشش نہ صرف اعتماد کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ وه آئین کی خلاف ورزی ہوگی

اور اسے عدالتیں رد کردیں ۔گی‘‘

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.