تعارف نو’’ وارد شاعر‘‘

سید سلیمان ندویؒ نوٹ از: سید سلمان ندوی، ڈربن، ساؤتھ افریقہ

Maarif - - معارف جون ء٢٠١ -

ندوة دارالعلوم پہلے سے سب کو صاحب جگر نے میں’’

کی العلماء ندوة میں ء١٩۴٣ میں زمانہ کے تعلیم اپنی میں العلماء نے طلبہ بڑے تھا۔ دیکھا ہوئے نمازپڑھتے کی عشاء میں مسجد تھا کیا اہتمام کا نشست کی مشاعره ایک میں ہال کے الاصلاح جمعیۃ نئی ایک میں مسجد تھی۔ ہوئی آمد کی صاحب جگر میں سلسلہ اسی چست شروانی، سیاه ٹوپی، قلی قرا بدن، چھریرا آئی۔ نظر شخصیت وقت اس میں سراپا اس تھی۔ کشش نواز دل عجیب ایک پاجامہ۔ مگر تھا نہیں بھی سلیقہ کا ہونے محظوظ سے شاعری اور مشاعره کی توداد تھے رہے پڑھ اشعار سے ترنم صاحب جگر جب کہ تھا اتنا

تھا۔ لگا اچھا بہت ترنم کا ان مجھے اور تھی ہورہی برسات سے صاحب جگر میں ء١٩۴۵ غالباً تعطیل کی گرمی

منزل شبلی دارالمصنّفین وه کہ ہوا طرح اس تعارف راست براه مجلس اس تھے۔ ہوئے آئے لیے کے ملنے سے د ماج والد میرے کے نعمانی شبلی مولانا شاعر، مشہور( صاحب سہیل اقبال میں تھے۔ بھی صاحب ندوی عبدالسلام اور وکیل) مشہور اور شاگرد پڑھ غزل میں آواز کن مسحور اپنی فرمائش حسب صاحب جگر زمانہ اسی رہے۔ یاد غزل کہ تھا نہ ہوش اتنا تو وقت اس تھے، رہے تھی ہوئی شہرت بڑی کی توبہ سے شراب کی صاحب جگر میں ذہن مصرع ایک تھے۔ اشعار کے اس پر زبان کی شخص ہر اور

گیا پی کے تھرّا کے تاڑ توڑ کو توبہ تھا گیا چپک میں رہے یاد صاحب جگر بعد کے ملاقات اس کی ء١٩۴۵

کلام مجموعۂ کا صاحب جگر پر میز کی د والدماج اتفاقا دن ایک اور جلد کی اس آیا۔ نظر )لکھنؤ پریس، نامی مطبوعہطور‘‘‘( شعلۂ’’ نام کا صاحب جگر پر مجموعہ اس تھی۔ زیب دیده بہت اور سیاه والد پر صفحہ ابتدائی کے طور شعلہ ہوئی۔ دلچسپی بہت تو دیکھا مئی ؍٧ کرده تحریر( شاعر‘‘ وارد نو تعارفِ’’ مقدمہ کا د ماج ہی ایک تعارف ہوئی۔پورا دلچسپی بھی اور تو دیکھا ء)١٩٣٢ تھا تعارف کا شاعر جس کیونکہ آیا مزه بہت اور گیا پڑھ میں نشست میں ذہن جملے بعض کے تعارف اس تھا۔ ہوچکا واقف میں سے اس جگر ہے، کھڑا تنہا ہے کھڑا جہاں جگر’’ مثلاً تھے ہوگئے پیوست

۔ہے‘‘ اَلست سرشار دل کا اس ہے ازل مست کےافریقہ’ جنوبی سے سال ۴۵ گذشتہ میں کہ جب اب

زمانہ کا سال ١۵ تقریباً پہلے سے اس اور ہوں مقیم میں شہر ڈربن قائم دلچسپی سے سخن شعرو گذرا میں تدریس و تعلیم میں امریکہ اقبال ہے۔ دلچسپی سے سخن و شعر مگر ہوں نہیں تو شاعر رہی۔ حضر و سفر پاس میرے ہمیشہ کلام مجموعہ کا صاحب جگر اور دہراتا اشعار کے طور‘‘ شعلۂ’’ اور گل‘‘ آتشِ ’’ ہے۔ رہتا ساتھ میں جو سطریں کی تعارف‘‘’’ کے طور شعلۂ اچانک دن ایک ہوں۔ رہتا پھر کو تعارف پورے ساختہ بے اور آگئیں یاد وه تھیں، یاد مجھے کہ آیا خیال تو ہوئی تیز بہت طلب یہ اور ہوئی طلب کی پڑھنے کو مقدمہ اس اور ہوگا مجموعہ یہ میں خانہ کتب کے دارالمصنّفین کی ان کو صاحب ظلی اشتیاق ڈاکٹر دارالمصنّفین ناظم لوں۔ منگوا نہیں مناسب دینا تکلیف سے وجہ کی داریوں ذمہ اور مصروفیتوں ہوں۔ زیربار ہی پہلے سے مہربانیوں کی صاحب اشتیاق سمجھا۔ نمبر فون کا صاحب عمیرالصدیق گرامی عزیز دارالمصنّفین رفیق دوست فاضل عزیز اپنے مجھے اچانک تو تھا۔ نہیں پاس میرے لی مدد سے ان کہ آیا خیال کا اصلاحی صاحب ظفرالاسلام ڈاکٹر کار موٹر ایک الاسلام ظفر کہ تھی اطلاع کی اس مجھے جائے۔ تقریباً اور ہیں محصور ہی پر گھر ہوکر زخمی میں حادثہ کے گڑھ علی میں بھی جب صاحب ظفرالاسلام ہمارے ہیں۔ یاب صحت کر ہو زخمی میں حادثہ ہیں۔ ہوتے مرشد میرے وہاں وه تو ہوں جاتا کر مدد میری کہ تھے قابل اس اب مگر تھیں آئی چوٹیں سخت کو ان مرضہرمیرےجوسےصاحبظفرالاسلامنےمیںچنانچہسکیں۔ شعلۂ’’ سے دارالمصنّفین کہ کی فرمائش اور کیا رابطہ ہیں دوا کی مجھے نقل کی تعارف کے د ماج والد کرکے حاصل نسخہ کا طور‘‘

کاوه طور شعلہ کہ دی اطلاع نے صاحب الاسلام ظفر کردیں۔ روانہ کا ماجد والد میں جس ہے نہیں موجود میں خانہ کتب وہاں نسخہ وہاں کہ ہوا بھی افسوس اور ہوئی بھی حیرت ہے۔ شامل تعارف گڑھ علی کہ ہوا خیال مجھے پھر ہے۔ نہیں نسخہ یہ میں خانہ کتب ہونا موجود ضرور میں لائبریری کسی نہ کسی کی یونیورسٹی مسلم مسلم گڑھ علی رہے لگے میں تلاش بھی ظفرالاسلام چاہیے۔ میں لائبریری) آزاد مولانا( لائبریری کی نوادرات کے یونیورسٹی کے ہیں‘‘ دیتے نئی بھی دنیا کو والوں نے ڈھونڈ’’ بالآخر تھا۔ نہیں سید حکیم فرما کرم عزیز میرے تعارف یہ کو ظفرالاسلام مطابق میں اکیڈمی) سینا ابنخانہ‘‘( عجائب’’ کے صاحب الرحمٰن ظل گڑھ علی ہیں۔ عجائب‘‘ مجموعۂ’’ خود صاحب حکیم ہوا۔ دستیاب ہوتا سرفہرست داعیہ کا ملاقات سے توان ہے ہوتا جانا بھی جب کے ان بھی جب ہے۔ رکھا کر زیربار نے نوازیوں کرم کی ان ہے۔ طواف‘‘’’ کا خانہ عجائب اپنے تو ہے ہوتی حاضری میں کده دولت کی دریافت نئی بار ہر ہوئی زیارت بھی جب اور ہیں کراتے ضرور کے تہذیب لکھنوی پرانی بھی خود صاحب حکیم ہے۔ ہوتی زیارت کی خانہ‘‘ عجائب’’ اس ہیں۔ آئینہ کا اخلاق و مروت اور ہیں نماینده بتاتے تاریخ کی اس سے دلچسپی بڑی اور ہے بر از کو ان چیز ہر کو ان کہ ہے دعاء سے تعالیٰ لله ہے۔ خزانہ علمی بڑا بہت ہیں۔ قیمتی اس کہ بھی یہ اور نوازے سے طویل عمر ساتھ کے صحت ڈاکٹر( صاحبزادے کے ان حفاظت کی اس اور نگہداشت کی سرمایہ بہرحال گے۔ دیں انجام ساتھ کے تندہی اسی بھی ضیاءالرحمٰن) سید کے ظفرالاسلام اور ہوا دستیاب سے خزانہ کے ان طور‘‘ شعلۂ’’ میل- ای بذریعہ کاپی اسکین کی شاعر‘‘ نووارد تعارفِ’’ سے توسط ممنون کا قلب وسعت اور فیاضی کی صاحب حکیم پہنچی۔ تک مجھ نسخہ کر لے دلچسپی پر طور ذاتی صرف نہ نے انہوں کہ ہوں حکیم دی۔ بھی اجازت کی لینے فوٹو کا اس سے موبائل بلکہ نکالا،

ہے: ہدیہ شعر یہ کا ہی جگر میں خدمت کی صاحب اپنی فاش شکست شرط بے کرلے خود گوارا اور عشق نہیں کام کا نظر یہ تنہا ہے سازش کے ان کچھ بھی کی دل میں حصول کے تعارف یا مقدمہ کے طور‘‘ شعلۂ’’

گڑھ علی عربی، شعبہ( متین ابوذر ڈاکٹر شخصیت دوسری ایک تعارف اس ذریعہ کے موبائل نے انہوں ہے۔ کی ) یونیورسٹی مسلم میری کر لگا وقت قیمتی اپنا اور کی مہیا کو ظفرالاسلام تصویر کی

شرط بہ اور ہوں ممنون کا صاحب ابوذر میں کی۔ تکمیل کی خواہش ذکر کا مندی احسان اپنی سے ان راست براه تو ملا موقع اگر حیات

گا۔ کروں سننے سے ان اور کا ملاقات بار کئی سے صاحب جگر تعلقاتجوسے جس اورتھےبااخلاقبہتصاحبجگرملا۔ موقعکا ان تو سے د ماج والد رکھا۔ خیال ہمیشہ کا تعلقات اپنے سے اس تھے د ماج والد نباہا۔ بھر زندگی نے انہوں کو تعلق اس اور تھی عقیدت کو لیے کے ملنے ضرور تو آتے جگہ اس اگر وه رہے بھی جہاں جہاں جگر میں ء١٩۴٨ میں قیام زمانۂ کے بھوپال کے د ماج والد آتے۔ کی صاحب والد تو آئے ملنے سے د ماج والد تو آئے بھوپال صاحب میں ترنم کن مسحور اپنے معمول حسب اور سنائی غزل پر فرمائش

ہے یہ مطلع کا جس سنائی غزل مشہور اپنی نہیں بات کی بس کے انسان دے نہ توفیق اگر لله

نہیں عام محبت عرفانِ سہی عام محبت فیضانِ

د ماج ۔والد ہے رہا گونج میں کانوں تک ابھی ترنم کا ان ء١٩۵۴ صاحب جگر جب تو ہوگیا کو ء١٩۵٣ نومبر ؍٢٢ انتقال کا پاس کے لوگوں ہم لیے کے تعزیت تو آئے کراچی میں شروع کے ثبوت کم کچھ کا استواری‘‘ شرط بہ وفاداری’’ یہ آئے۔ گھر ہمارے میں لکھنؤ سے صاحب جگر ملاقات آخری پھرمیری تھا۔ نہ لکھنؤ ساتھ کے والده میناپنی ہوئی۔ میں جولائی یا جون میں ء١٩۵٩ جگر تھا۔ ہوا گیا لیے کے ملنے سے ہمشیره اور بہنوئی اپنے صاحب حسن صدیق سید دوست اپنے میں لکھنؤ قیام کا صاحب کے والده میری کو جگرصاحب تھا۔ کرتا ہوا یہاں کے لکھنؤ کمشنر اور بیماری آئے۔ ملنے پر گھر تو ہوا معلوم میں بارے کے آنے نے میں وقت اترتے سے سیڑھی تھا۔ کردیا کمزور کو ان عمرنے نہ گوشت علاوه کے ہڈی تو پکڑا بازو لیے کے دینے سہارا کو ان صاحبجگرمیںء١٩۶٠ داری۔وضع کیصاحبجگرتھی یہتھا۔ میرے داستان پوری کی تعلقات سے ان اور ملی خبر کی انتقال کے

ہوگئی ہوکرمحفوظ پیوست میں دماغ و ذہن مجھے میخانہ خاصان جملۂ من کر جان مجھے‘‘ پیمانہ و جام گے کریں رویا مدتوں --------------------------------------------------------

بڑی ہے۔ لگتی دیر کچھ بھی گزرتے برس چوده باره ! اکبر لله تک وقت اس آثار کے اس مگر تھیں ہوچکی ختم ہولناکی کی لڑائی

تھے۔ نمایاں سیاسی اکثر سے حیثیت کی ایجنٹ کے عینکوں صاحب ایک سے میں ان اور تھے کرتے جایا ملنے سے بندوں نظر اور قیدیوں وه میں سلسلے اسی تھے، کرتے پہنچایا کو دوسروں خبریں کی ایک آزاد ایک طرف دوسری اور رانچی پاس کے قیدی ایک طرف ایک نسبت کی دوسرے کو ایک اور تھے کرتے آیا گڑھ اعظم پاس کے حسنِ سیاسی کسی غالبا سے حیثیت اس اور تھے کرتے دیا معلومات ایک تھے۔ کرتے فرمایا نوازش کی رفت و آمد اکثر وه پر بنا کی ظن شاعر۔ ایک یعنی لائے تحفہ نیا ایک ساتھ اپنے تو آئے وه جب دفعہ مگر بھی اُفتاده دور اور شہر سا چھوٹا ایک تو ہے گڑھ اعظم قدر کچھ اور ہیں جاتے ہی پہنچ یہاں خیزاں و افتاں کبھی کبھی لوگ مرزا اور سہیل مولانا خصوصاً ہیں۔ جاتے مل یہاں کو ان بھی دان اجڑے اس کے پورب بھی جوہری شناس قدر جیسے احمد احسان کے یہاں تو وه کہ کہنا کیا کا منزل شبلی ساکنین اور ہیں آباد میں دیار

ہیں۔ بیٹھے بنے راجہ میں اندھوں پریشان شاعر، صفت ہمہ تھا۔ شاعر نوجوان ایک تحفہ نیا یہ اپنے فرمانے عنایت قدیمی ہمارے دل۔ پریشان ، حال پریشان مُو، وقت اس ہیں۔ بھی شاعر یہ فرمایاکہ ہوئے کرتے تعارف کا دوست صاحب عبدالسلام مولانا ندوی، مسعودعلی مولانا میں حاضرین پروفیسر تھی سکتی جا آواز جہاں میں کمرے دوسرے اور ندوی جگہ اپنی اپنی ایک ہر سے میں ان اور تھے ندوی صاحب عبدالباری سے ہنر و عیب ہر کے شعراء موجوده اور مدعی کا فہمی سخن پر جی اور کی پیدا گدگدی نے تعارف اس کے فرما عنایت ان واقف۔ دعوائے اس کے ان اور جائے سنا کچھ سے صاحب شاعر کہ چاہا تبسم نگاهِ خاص ایک نظریں کی سب جائے۔ لیا امتحان کا سخنوری ماحول اس نے اس مگر اٹھیں طرف کی چہرے کے شاعر ساتھ کے اور لہجے مست ترنم، انگیز درد عجیب ایک کر ہو پروا بے سے تھے پڑھے شعر دو ایک چھیڑا۔ ترانہ کا غزل ایک میں انداز سرشار کی متانت سے ظرافت کو رو کی پڑا۔ذہن جانا سنبھل کو سب کہ لبوں کے سامعین ہوا۔ پیدا تحیّر میں نگاه کی تبسم پڑا۔ پھیرنا طرف

تحسین صدائے کی مرحبا و احسنت اورآواز میں آواز لرزش میں بدلنی رائیں اپنی جلدی جلدی نسبت کی شاعر تو اب گئی۔ بدل میں صورت کی اعتراف ساتھ کے تیزی مگر رفتہ رفتہ انکار اور پڑیں ہال سے چھوٹے کے منزل شبلی میں دیر تھوڑی اور لگا بدلنے میں جنبش ہر اور ساکت آواز ہر سوا کے ترنم آفریں تموج کے شاعر میں

تھی۔ ساکن اپنی اپنی نے ایک ہر تو گئے کر اٹھ صاحب یہ پر محفل اختتام عثمانیہ( عبدالباری پروفیسر ہمارے لوگ جو کیا۔ اظہار کا حیرت پسند مشکل قدر کس وه کہ ہیں جانتے وه ہیں جانتے کو یونیورسٹی) نے انہوں ہیں۔ والے لانے ایمان پر کسی سے دشواری کس اور کی شاعر اس میں شہر اب ۔ہے‘‘ کیا کمال نے اس صاحب’’ کہ فرمایا اور تھا آگیا یقین پر کمال کے کمال صاحبِ اس کو کسی ہوئی۔ شہرت جو کہ تھا یقین کو سب بہرحال تو پر اس تھا۔ منکر تک اب کوئی شاہوار گوہرہائے ان مگر ہیں، موتی انمول یقینا وه ہے کرتا پیش کچھ

تھا۔ شک کو بہتوں میں اس ہے، مرقع دلق فقیر یہی بھی مالک کا میدان کا مشاعره ایک آگیا، دن بھی کا امتحان کے اس آخر معرکے کے گڑھ علی بار بار جو سخن پہلوانِ بڑے بڑے پایا۔ ترتیب پھونک قدم لیے کے آزمائی زور اور کشی پنجہ تھے، ہوئے جیتے دکھائے۔ کرتب نئے نئے کے سخن زورِ اور بڑھے آگے کر پھونک ناواقف، سے گُر ہر کے پہلوانی وارد، نو اندام لاغر وه میں آخر متاثر کو دوسروں نیاز، بے سے ادا ہر کی طلبی داد اور نمائش تومصر آیا سامنے جب کر بن اثر سراپا خود بلکہ نہیں لیے کرنے وَ ہٰرُوْنَ ب بِرَ اٰمَنّا اٹھے چلا وقت بیک جادوگر سب کے سخن حریفوں تھا کیا پھر آبادی۔ مراد جگر تھا؟ کون سخن کلیم یہ مُوْسیٰ۔ مشاعرے پر مشاعرے بنایا، کو اس دوست کر بڑھ سے دوست نے شاعرکو خاموش ہر نے اثرکے اس مگر تھاایک شاعر لگے۔ ہونے گڑھ اعظم آخر کردیا۔ مجبور پر ہوجانے خاموش کو شاعر ہر اور پذیر دل کی جگر داغِ جو تھی آفریں و تحسین یہی کی منزل شبلی اور

جانا۔ جگر کو جگر نے سب اور آئی سامنے کے ملک میں شکل ان شاعر، ہمہ بلکہ شاعر، تنہا شاعر؟ کیسا مگر ہے شاعر جگر دونوں دہلی اور لکھنؤ الگ، سے طرز کے زمانہ ابنائے طرز کا

باوجود کے ترکیبوں دلکش اور الفاظ موزوں آزاد، سے حکومتوں

سے آورد اور تعمق تکلف، ہر معمور، سے آمد اور ساختگی بے دینے کر کھڑی بناکر دنیا ایک کی خیالات سے الفاظ طلسم پاک، شریک کوئی اگر میں وصف اس کے اس میں شعراء موجوده والا۔ خصوصیتبھی کی حسرتؔ تکلفی بے اور سادگی ہے فانیؔ وه تو ہے یہ کمال کا نہیں۔جگر بنائو ہے، کشش میں سادگی کی اس مگر ہے، اس باوجود کے نیازی بے سے شان ہر کی تکلف اور سادگی کہ ہے

ہے۔ حسن نمائشِ خود از اور آرائش فطری حد بے میں سرمستی ہے، کھڑا تنہا ہے کھڑا جہاں جگر سے لحاظ معنوی ہے، جان کی مصرع ہر کے اس فگاری دل اور تاثر سرشاری، اور مجلس وه طرح کی مقال خوش واعظین کہ نہیں لیے اس اثر یہ کا اس کل آج یا لے، پناه میں دامن کے کربلا شہدائے لیے کے رلانے کو سورهٔو مدفن و لاش جو نہیںطرح کی شاعروں اثرطالب بعضکے پھینک مفت کمند تیر ایک کا وغیره نزع و میت و بین نوحۂ و یٰسین الغیب لسان اورآخر ہیں چاہتے کرنا شکار کو اثر مرغ بالقصد کر

ہیں: سنتے طعنہ کا حافظ نہ گر و مرغ بر دام ایں برو

آشیانہ است بلند را عنقا کہ

انہیں وه ہیں مختصر بہت خیالات معنوی کے شاعری کی جگر کو والوں سننے ہیں کہتے جب وه مگر ہیں رہتے دُہراتے کر پلٹ اُلٹ ہوتا یہی مذاق رنگِ کا شاعری فطری ہر ہے۔ ہوتی معلوم نئی بات وه جو کہتا نہیں وه ہے۔ کرتا محسوس جو ہے کہتا وہی وه کہ کیوں ہے رنگ فطریکاشخصہرطرحجساورہیںکرتےمحسوسدوسرے طرح اسی کرتاہے، تراوش سے اس وہی کہ ہے ہوتا خاص طبیعت ظاہر ہی یکساں وه جگہ ہر جو ہوگا ایک بھی رنگ فطری کا شاعر ہر وه ہیں کہتے کی دوسروں نہیں کی دل اپنے جو لوگ وه البتہ ہوگا۔ لحاظ اس وه مگر ہیں کرتے نمایندگی کی دل ذوقِ ہر اور محفل رنگ کا غزل ہیں۔فارسی واعظ و خطیب ور پیشہ بلکہ نہیں، شاعر سے محسوس نظر صاحبِ ہر کو ان مگر ہے کلام کا حافظ نمونہ بہترین میں بیان طرز نہیں، نیرنگی میں خیالات کے حافظ کہ ہوگا کرتا ہر کی حافظ جو ہیں خیال ہوئے بندھے چند وہی یعنی ۔ ہے نیرنگی طرز اور اظہار طریق اپنے غزل ہر مگر ہیں۔ ہوتے ظاہر میں غزل ہے ہوتا ادا میں اس طرح سو سو خیال ہی ایک ہے، الگ میں تعبیر

مگر ہر جگہ اس کی شان نرالی اور طرز نئی ہے، یہی حال خیامؔ کی رباعیوں کا ہے، چند خیالات ہیں جوہر دفعہ نیا قالب بدل کر اور نئی

شکل میں جلوه گر ہو کر سامنے آتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ یہ وه شاعر ہیں جو الفاظ و تراکیب کے حسن کے باوجود صرف ان چیزوں کو کمال نہیں جانتے، بلکہ ان کے اندر چند حقیقتیں مرکوز رہتی ہیں۔ وہی ره ره کر ابھرتی اور نالہ موزوں کی صورت اختیار کرتی ہیں۔جگر کی شاعری میں نہ ز لف و شانہ ہے نہ سرمہ و آئینہ، نہ ہوس بالائے بام، نہ شکایتِ منظرِ عام۔ اس کے کاشانۂ خیال میں چشم ہائے بسمل کی آئینہ بندی ہے، نہ اس کے محبوب کے ہاتھوں مینقصاب کی چھری اور جلادکی تلوار ہے، نہ مستوهہے۔کاریگلکیجگرودلکےشہداءمیںکوچےکےاس ہے اور اسی مستی میں کسی نادیده کا سراپا مشتاقِ نظر ہے، وه اس کے حجابات کو اپنے رعشہ دار ہاتھوں سے بار بار اٹھادینا چاہتا ہے مگر نہیں ا ٹھاسکتا، وه جھانک کر دیکھنا چاہتا ہے مگر نہیں دیکھ سکتا۔ اس کی تمنا کی آنکھیں اس کو کبھی بے حجاب دکھادیتی ہیں تو وه ہاتھ بڑھا کر چھونا چاہتا ہے مگر وه تصویر نگاہوں سے غائب

ہوجاتی ہے۔ جگر مست ازل ہے، اس کا دل سرشار الست ہے۔ وه محبت کا متوالا ہے اور عشق حقیقی کا جویا، وه مجاز کی راه سے حقیقت کی منزل تک اور بت خانے کی گلی سے کعبے کی شاه راه کو اور خم خانے کی بادهٔ کیف سے خود فراموش ہو کر پیکر بزم ساقی کوثر

تک پہنچنا چاہتا ہے۔ جگر بہ ظاہر سرشار مگر در حقیقت بیدار ہے۔ اس کی آنکھیں پُرخمار، مگر اس کا دل ہوشیار ہے اور کیا عجب کہ خود جگر کو بھی اپنے دل کی خبر نہ ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس کے کلام میں یہ اثر

نہ ہو۔ دوستاں عیب نظر بازی حافظ مکنید کہ من او را از محبانِ خدا می بینم سید سلیمان ندوی

شبلی منزل ، اعظم گڑھ

؍٧ مئی، ء١٩٣٢

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.