شبلی کا رسالہ سیرت

ڈاکٹر محمد سینیٰ مظہر صدیقی

Maarif - - اكتوبر ر -

ہ رن ک اورر ب و خیز نتیجہ سے سب لب غ ک ت ریب ت صدی شبلی

یں۔ ی ار پر م ع نظر ت تدوین اور ت ی تح ت، طبوع نئی نئی کہ ے یہ عت اش کی ت تصنی اخرین و اولین دد ت کی نی ن شبلی ولان یں ان رواں ک یر و رواں رو تو ی و کہ ے افزا بصیرت و ر ب سے ظ رلح و اولیت کو عت طب ر دگ ی کی النبی سیرت تصنی ر ک ش کی ان یں۔ نئی کی تجزیہ و یق تح یں ری ن سیرت اردو کہ ے صل ح بوجوه یت فو ختصر ک وصو ولان اول ن ک نبوی سیرت ی پ روایت یہ پ بلند ہ سرن فنی غیر اور عنوان رواجی کے الاسلام بد ری ت سیرت لہ رس نی ب کے اس اور گ علی لوم ال درس ۔ تھ وا طب یں دور اولین سے یل تک کی ضرورت ایک کی ب نص دینی اور ر ب ئے ای کی سرسید ھویں آ کے عیسوی صدی انیسویں ۔ تھ گی کی لی ت وه سے وجہ کی فی ک عرصہ کچھ کے ت لاز اپنی نے شبلی ولان یں ی ز غآ کے عشر کے سیرت لہ رس ۔ کی رتب یں ت ح ص س پچ یں ن زب عربی اسے د ب ید ش ۔ تھ ت ضرور بی نص اور ی لی ت بلاشبہ ب انتخ ک ن زب عربی لیے ی جلد ۔ تھ گی لای پر طور کے دل تب کے سیرت لہ رس عربی کسی کو اس ہ ترج رسی ف ایک ک اس پر بن کی و دب کے ضوں ت تدریسی اور بی نص نے ی فرا یدالدین ح/ ید عبدالح ولان کو م ک اس اور گی جھ س ضروری لیے کے ہ ترج رسی ف کہ یں تے بت رائن اور ت ی تح و رات اش ۔ دی م انج کی ب انتخ ک گردرشید اورش زاد وں اپنے نے لہ رس صن شبلی ولان زوجہ نو ب ه ش ن سلط ونہ ی حضرت علی ہ ترج اردو ایک ک اس ۔ تھ سے حکم کے ں ج ن سلط نواب نے ل بھوپ ں خ الدین ید ح نواب ہ حتر کی ضرورت ده زی کی نسواں ن ج نے ن سلط ونہ ی م بی ۔ کی تبر بطور اور کی خ لیے کے ده است کے نوں ب ن سل اسے پر بن پچیس پر م سن افریں م ن ایک کے صدیوں دو شتہ گ ۔ کی ئ ش اسے یں ۔ گ علی ی، یونیورس سلم سیل، ریسر لوی د ولی ه ش و یہ اسلا علوم اداره بق س ر ائریک صدر، پروفیسر،

دو کے اس اور عربی لہ رس ایک پر نبوی سیرت دوران کے برسوں تیس اور سیرت لی ت و تصنی ۔ ی پ م انج ہ رن ک ک اردو و رسی ف تراجم تھ چک ج دی م انج بل صدی دو ہ رن ک ی ایس ایک ک تراجم اردو رسی ف کے س الن سید ابن سیرت م ا وه ۔ ر ری ج بھی یں د ب سلسلہ ک جس اور ہ ترج رسی ف سے لوی د ولی ه ش لم کے اس ، یون نورال تن عربی م را ر کس خ ے۔ ہ وا ک تراجم اردو دد ت کے اوراس حزون ال سرور کے اس کو سیرت لہ رس ہ وترج لی ت ز س ن رجح اور شتہ گ اس نے تھ س کے ہ ترج اردو اپنے اور رسی ف ہ ترج ی ل ال ولی عربی، تن اصل لہ رس عربی اصل یں ن ض کے ت ریب ت صدی شبلی ۔ دی چھ ج یک یں جلد ایک کی ن سلط ونہ ی ہ ترج اردو اور ی فرا ہ ترج رسی ف شبلی،

ے۔ گئی بن حیرت ئینہآ لیے کے بصیرت چشم ئی یکج اعترا یں چہ دیب اپنے نت دی و ر انکس ازراه نے الاسلام بد ول

نے انھوں ۔ ے وعہ ج ک ت س تب ا کے سیرت کتب چند وه کہ ے کی ضی اور ری الت فی ل الک کی یر ا ابن سیرت، لہ رس بول کے دا ابوال بلاشبہ ے۔ پرودی یں ن زب اپنی کو ان کر لے ت س تب ا سے الش کی ض عی اور فن م ف اپنے علاوه کے سیرت در ص دوسر ض ب نے ی گرا شبلی ے۔ تدوین اصول کہ جیس تھ لی م ک یں ترتیب و لی ت کی اس سے علم تبحر و لی ت ر ک ش جیس النبی سیر یں ر ع اخیر چونکہ نے صن ولان ر ا ی لاز ایک رنہ و وازنہ ک اس سے اول ن کے اان ل کی تصنی و عرو کے تبحر ی عل اور ارت فنی کے النبی سیر ول سے اس را۔ ھ نو سیرت یں رکردگی ک ی تصنی کی ان اور ے سکت ج چلای بھی پتہ ک ل ک ک جس ے م ک تی تجزی و ی ی تح سے الگ ایک یہ بھی۔ ک شغ سے یسی سے تراجم اردو و رسی ف اور تن کے لہ رس کے ان لیکن یں ن و سردست ی فرا ہ ترج رسی ف راست ک شبلی لہ رس عربی ۔ گے یں ر تےآ رات اش کچھ نہ ی ختل دو کی تن ایک نو ب ه ش ہ اردوترج بنی پر ہ ترج رسی ف اور اور عزیز شر ن اور ی گرا رتب کے لوں رس تینوں ان یں۔ بیریں ت نہ وجداگ ی ن وبی ی ن ی یں ہ د و چہ دیب اپنے نے یر ش دیر کے ین ن ص دارال صر پر ت ض ب نے ہ حتر ہ ترج اردو یں۔ دی لیں چند کی وازنہ بھی سے لہ رس اصل و تن عربی بلکہ کی یں ن تکیہ پر ہ ترج رسی ف

ے۔ کی بھی م ک ک تنسی و یم تر کرکے تن اصل وه کہ ے ہ ت و ہ سل اصول یہ یں ب ب کے ہ ترج ہ ترج ک رت عب کی تن یں ہ ترج اپنے تک حد کن اور ے ر دار وف ک

ک رت عب اصل کہ ے ی ط یہ بلاشبہ ۔ کر پی سے نت دی وم و

ہ ترج ختل رتوں عب اور بیروں ت اور لوں ج کے ہ ری کی سکت ج ے اور ری عب وں ترج نے ایس کی بھی ے ۔ اس کی واض و روشن ل نرآ جید کے عربی تن ک رسی ف ہ ترج ه ش ولی اور اس رسی ف ه ش اردو ک ہ ترج ه ش در عبدال لوی د ک ے۔ ابن سید س الن کے عربی لہ رس سیرت ک رسی ف ہ ترج حضرت ه ش اور اس کے ختل و دد ت اردو تراجم خ فن سیرت یں وجود یں ۔ کسی بھی ترجم کو یہ حق ی ط صل ح یں ن ے کہ وه اصل تن سے لے، ج رتیں عب ح کر ی سید ے د س ہ ترج کی ئے بج ان ک خلاصہ ۔ کرد ر ترجم کو یہ حق البتہ صل ح ے کہ وه کسی ت، ب ہ، وا بیر، ت رت عب وغیره سے اختلا کر تو اس پر اپن تصحیحی شیہ ح لکھ ۔ د وه اپنے حواشی و ت لی ت یں تصحی ت وا و بیرات ت م ک ک بھی کرسکت ے اور تشریحی ت لی ت کے ہ ری ل اج کی صیل ت اور حوالہ کی تشری بھی کرسکت ے۔ شبلی صن ی گرا کے ری ت بد الاسلام کے رسی ف ہ ترج ی فرا اور اردو ہ ترج ه ش نو ب ک ایک ی ی تح و تی تجزی ہ ل ط ر کس خ کے وق کے لیے یز بت وا اور ہ خ ی داں نے اس تی تجزی و یدی تن م ک کو چند نہ جداگ وین عن کے تحت زیب س رط کی جیس کہ وه ه ش لوی د کے

ہ ترج کے ب ب یں کرچک ے۔ غیر وفادارانہ ترجمہ: حترم رسی ف ترجم نے صن ی گرا کی ت ب سی عربی بیرات ت و ت ن بی ک اپن ن چ ہ ترج کی ے اور اصل کی پیروی نہ کی۔ وه تن کے ایک لہ ج کو تو کر دو تے بن یں اور ایک بیر ت کی دو بیر ت یں کرتے یں ۔ اور بس ت او ایک لہ ج یں دو ختل ت ن بی کو ودیتے س یں۔ ان سے ہ ترج کی عدم داری وف کے علاوه صن ک نش خبط اور ہ وا و لہ سیرت پراگنده ت وج ے۔ اس کی لیں ت ب یں۔

ت وف پدری کے ب ب یں شبلی ک لہ ج ے توفی ابوه عبدلله بعد

شہرین‘ جس ک رسی ف ہ ترج ی فرا ے پدر ب انجن عبد بن طلب عبدال بود انحضرت صلى اله عليه وسلم ہ دو بود کہ عبد ۔ رد ب رسی ف ہ ترج کے اتب یں اردو ہ ترج کی ر اس روایت و ن بی کی تصحی اپنے

شیہ ح یں کی۔ لت ک نبوی کی وصیت پدری اور لت ک لب ابوط ک عربی تن

ے واوصی ابا طالب برسول لله فقام ابوطالب بامره ورباه فی حجره۔ اس ک رسی ف ہ ترج ے لب وابوط را وصیت کرد ت انحضرت را ر درکن ر ۔ بپرورید اردو ہ ترج رسی ف کے بق ط ے۔ ان دونوں وں ترج یں

لب ابوط کی ی وا لت ک نبوی کے ہ رن ک کو وصیت پدری ک جزو دی بن گی ے جبکہ شبلی نے اسے بطور ہ وا و ہ رن ک لب ابوط ن بی کی ے۔ پرور و پرداخت نبوی کے ر ب یں تن شبلی ے ولما

ترعرع و بلغ اشده ظہر من صدق لھجتہ وصفا ء طویتہ ماظہربہ صیتہ وعلا ذکره حتی جری بہ المثل ولقبوه بالامین۔ اس ک رسی ف ہ ترج ی فرا ے

چوں ز ٓغ ب جوانی رسیدند ه اواز کیزه پ خوبی و راست ری ک ب انجن اویزه گو ر پیروجوان شد ت ان کہ ین ا نی ی راست ز ب ی ۔ خواندند اردو ہ ترج تن عربی اور ہ ترج رسی ف سے ختل ے اور ص خ ازاد۔ ہ ترج رسی ف عربی تن ک بندو پ دار وف یں ن ے۔ اور اس کے ختل روں ف ک ہ ترج نظر انداز کرکے اپنی بیر ت رکھت ے ۔ اردو ہ ترج ے جب آ جوان وئے تو ا کے کیزه پ دات ع اور ت صدا ک ر شخ

کے دل پر ر ا وا، ں ی تک سب ا کو ین ا تے ک ۔ تھے حضرت ہ خدیج سے نک نبوی ک اگلا ن بی شبلی ے اور وه بھی رسی ف یں ختل ے اور ض ب ت ن بی ط س کرت ے۔ اردو ہ ترج رسی ف ہ ترج کی پیروی کرت ے۔ لوں ج ک ال پھیر رسی ف سے اردو یں یآ ے لا تزوج خدیجۃ بنت خویلد ، وہوابن خمس و عشرین سنۃ و خدیجۃ یومئذ ابنۃ اربعین سنۃ، وکان من امره أن خدیجۃ کانت امراة تاجرة ذات شرف ومال ۔ ال رسی ف ہ ترج حضرت ہ خدیج کے کرسے شرو وت ے اور روں ع کے ن بی پر ختم ۔ بل ت ب عرب کے ب ا کے ر ب یں شبلی ک لہ ج ے ہ سرن ی وکانت للعرب یومئذ دیانات مختلفہ۔ اس ک رسی ف ہ ترج دراں ر روزگ عرب بریک لت ۔ نبودند ت ن دی ہ ختل ک صحی ہ ترج کرنے یں کی حت ب تھی اور اس کو ایک لت پر رکھنے کی ضرورت کی اردو تھی ہ ترج رسی ف ہ ترج ک بند پ ے اس نہ ز یں ل ا عرب ک کوئی ایک ب نہ ۔ تھ رسول صلى اله عليه وسلم کی دعوت توحید و اسلام کی ایک غز پر و بسیط اور

ادبی رت عب شبلی نے کئی لوں ج یں لکھی ے ولما دعاہم رسول لله صلى الله عليه وسلم

الی التوحید و الاسلام و انکرعلیہم عبادة الاصنام اخذتہم العزة بالاثم ، فاعرضوا، واستہزؤا، واکثرو ا من الجدل واللجاج ، وتشبثوا بحجج واہیۃ وشبہات ساقطۃ اس ک رسی ف ہ ترج غیر دارانہ وف بھی ے اور یل تس و تلخی کے رنگ بھی۔ ک چون برخدا پیغ ن ایش را براه راستین ونی ن ر

ود فر ن بت ت را فرو نہ ندوی د خدای رابہ پرستند ، تندو شآ ت اعتراض بے نی پی ۔۔۔ اوردند ہ ترج رسی ف یں توحید و اسلام ک ہ ترج کرکے نیرآ بیر ت اخذتھم العزة بالاثم ک ہ ترج اور ادی ا جدل نہ ص خ و بح کی بیر ت بھی ط س کردی ۔ اردو ہ ترج رسی ف ہ ترج کے پیچھے پیچھے تن عربی سے ت چلاگی ے جب ان لوگوں کے دلوں کی ی سی کے سبب سے ان توں ب ک ر ا نہ وا تو انحضرت صلى الله عليه وسلم نے یت ن ص اور روشن دلیلوں سے جو ی بدی تھیں اور ان کی جھ س یں آسکتی تھیں حق کو

ان پر بت ۔۔۔۔ال کی نکرین و ین ل خ اسلام ودعوت پر ت ب ا حجت اور حق دین بین

کے ر ب یں شبلی ن بی ک دد ت لوں ج پر ل شت اور یت ن ادبی ے فلما

احس منہم الکفر اثبت علیہم حجۃ الحق باستدلالات لطیفۃ سہلۃ الماخذ و سمحۃ التعاطی ، لاتبعدعن محجتہم ، ولا تخرج عن نطاق درکھم ، فاستدل علی وجود الخالق بشواھد الفطرة وعجائب آثارھا، وقال کما اوحیٰ لله الیہ۔۔ اس ک

رسی ف ہ ترج ی فرا ے پس چوں ازتیره درونی اں سخن ن یش ب در رفت، ن ب انجن بدلائل بین کہ جلوه ت بدا داشت واز نی گنج م ف نآ گروه بیرون نبود حق ن برایش بت کرد وبہ تنی ش ی فرنیآ بروجود ر افریدگ

حجت وردآ ، و بوحی ی ل ا ود۔۔۔ فر اس پور ہ ترج یں تن کے ظ ال و ت کل بیرات اورت کی

بندی پ یں ن کی گئی۔ اولین رسی ف لہ ج کس عربی تن ہ ترج ک ے فلما احس منہم الکفر تو انیر ے بیر ت اوراس تیره ک درونی سے ہ ترج کرن

ص خ دلچس ے۔ حج الحق کے استدلالات اور ان کی ت ص ک ہ ترج لصت خ یل تس و تلخی ے۔ اس کے د ب کے لہ ج ک ہ ترج یں ن کی گی اور د شوا فطرت اور اس کے ئب عج کے ر ا ک رسی ف ہ ترج بھی تن

کی بندی پ یں ن کرت ۔ اردو ہ ترج اوپر گزر چک جو رسی ف ک بند پ ے۔ ان م ت د شوا فطرت اور ان کے ر ا ئب عج کے لیے صن ی گرا نے سلسل اپنی ید ت و ری ت کے بغیر ختل سورتوں کی ت ای ل ن کی یں۔ ہ ترج ی فرا یں شرو کی تین ت ای ہ کری یم ابرا ، ،٢٢ ر ب روم تو ل ن کی یں اور اس کے د ب کی م ت ت یآ ہ کری ط س کردیں۔ وه یں النحل ، ، ، انبی ، رعد ره ب یس لآ ران ع اعرا الروم ،٢ ،٢٢ ،٢ ۔٢ ان م ت ت ای کی ایک خ دیت اف ے اور ہ ترج سے

ط س کرن کیونکر ئز ج رای ھ سکت ج ے ۔ اردو ہ ترج یں م ت ت یآ

ہ کری لب غ تن عربی سے لی گئی یں اور یں کور اور ہ ترج رسی ف کے برخلا تن اور اردو ہ ترج دونوں یں سوره یس کی ہ ج یتآ من یعید الخلق کور ے۔ خریآ ت ب کی تصری رتب نے اپنے شیہ ح یں کی ے۔ شبلی کے ن بی عربی کے اخری لوں دوج ک ط اس نہ جھ س یں انے والی ت ب ے۔ وه ر ک لت رس اور دین حق کی تبلی و م انج ی د ک م ا ترین ہ وا ے ۔ اردو ہ ترج ل رح ب رسی ف ہ ترج ک بند پ ے اور م ت ط اس و ت ح تس رکھت ے ر یہ دلچس ت ب ے کہ رسی ف کے ن فر

ید ح کو انر جید لکھ ے۔ بل ت ب ختل عرب ب ا و ئد ع کے ب ب یں رسی ف ہ ترج اور اس ک اردو ہ ترج نسبت دارانہ وف اور بند پ تن ے لیکن ض ب لوں ج اور روں ف ک ہ ترج یں ن کی ے اور دد ت لوں ج اور نوں بی یں ال

پھیرکی ے۔ ز غآ لت رس اور اس کے د ب دد ت نبوی ت دا ا کے ح ب یں

رسی ف ترجم ی گرا نے عربی تن کی رات عب ک بند پ ہ ترج یں ن کی ۔ دد ت لوں ج ک ط اس بھی کی ی ان ک ہ ترج کرنے سے ب اجتن ۔ کی اس ی س شکور ن کی وجہ سے ان کے تراجم کے م اس ک کر اسی عنوان کے تحت ۔ یآ غیر دارانہ وف ہ ترج کی چند لیں در یل یں۔ ان سے پتہ چلای سکت ج ے کہ عربی تن کی بیرات ت کے بق ط ی ده زی ریب رسی ف بیرات ت لائی سکتی ج تھیں ر یں ن لائی گئیں

ولما دعاہم رسول لله ا الی التوحید والاسلام وانکر علیہم عبادة الاصنام اخذتہم العزة بالاثم۔ چون بر پیغ ن خداایش را براه راستیں ونی ن ر

ود فر ن بت ت را ند فرود نہ وی خدای راپر ستند تند۔ اش

٢فلما احس منہم ا لکفر ا ثبت علیہم حجۃ الحق باستد لالات لطیفۃ

۔ ال چوں از تیره درونی نآ سخن ن یش ب رفت درن ب انجن بدلائل بین کہ

جلوه ت بدا داشت ال ت ص ی ل ا ک پیراگرا عربی یں جو بیرات ت واضحہ رکھت ے

ان ک خلاصہ رسی ف یں کردی گی ے جس ک کر ط اس کے ب ب یں ای ے۔ اردو ہ ترج رسی ف کی بندی پ کرت ے اور عربی بیرات ت سے دور ت پ ج ے۔ ز غآ لت رس کے بح یں جو عربی تن ے اس ک رسی ف

ہ ترج لکل ب ختل ے اور بیرات ت شبلی کی بندی پ یں ن کرت ۔ ایسی اور

لیں یں۔

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.