مطبوعات جدیده

Maarif - - ء٢٠١٨ مارچ معارف -

قدوائی، شافع پروفیسر بازدید: ایک سرسید سوانح صفحات گردپوش، مع مجلد طباعت، و کاغذ عمده تقطیع، متوسط ممبئی، لمٹیڈ، جامعہ مکتبہ پتہ: روپے،؍٣٠٠ قیمت: ،١ ٠

اور پٹنہ گورکھپور، دہلی، اور گڑھ علی ہاؤس، بک ایجوکیشنل

مکتبے۔ مشہور کے نگر سری کے زندگی قومی و ملی اور اصلاحی تعلیمی، کی خاں احمد سرسید سوانحی بعض کے ان ہے، آگیا وقت گویا کا پختگی اور زور اب میں مطالعہ اس پہلو یہی کا مطالعہ ہے، جارہی کی نظر بھی پر استناد اور واقعیت میں حالات کے سرسید موضوع اصل کہ گیا کہا صحیح بھی یہ ہے، نمایاں بھی میں کتاب خود میں رسائل جیسے الاخلاق تہذیب اور گزٹ ٹیوٹ انسٹی گڑھ علی کے دور تو جائے دیکھا ہے۔ تعین کا قیمت و قدر کی ان اور جائزه کا تحریروں کی سرسید محدود تکوابستگیسےاداروںسرکاریاورملازمت خاندان،کے سرسیدکتاب جس ہے، مضمون ایک بھی سے عنوان کے ماخذ کا جاویدحیات میں آخر ہے، آخر حرف اور اول حرف جاوید حیات میں شناسی سرسید کہ ہے اعتراف یہ میں عمری، سوانح یہ کیا کہ ہے بھی سوال یہ لیکن ہے رکھتی حیثیت کی دونوں اصل کا جاوید حیات کہ گیا دیا یہ جواب ہے؟ بھی آخر حرف کا سرسید مطالعہ اس کی صاحبمنشی اورہے مسوده مطبوعہ غیر ایک کا الدینسراج منشی ماخذ منشی خود کہ تک یہاں گئی، دی نہیں اہمیت واقعی قرار کو اس باوجود کے اولیت نہیں شائع تک آج تو مسوده کا ان اور رہی میں ہی خفا پردهٔ شخصیت کی صاحب اسی ہے، پہلو تحقیق تشنہ کا سرسید مطالعہ یہ نزدیک کے مصنف فاضل ہوسکا۔ کوشش کی کرنے پورا حدتک ایک کو کمی اس نے انہوں نظر پیش کے احساس بار بار نظر کی ان میں بازدید پوری اس نہیں، متعلق سے باب اسی یہ اور کی ایک ہیں، فہم ناقابل نزدیک کے ان جو رہی، پڑتی پر تسامحات کے جاوید حیات پر مسوده کے صاحب منشی زیاده سے ضرورت نے حالی کہ بتائی یہ وجہ سرسید مثلاً دی، نہیں اہمیت زیاده کو تحریروں کی سرسید خود اور کیا انحصار میں؟ حکومت عہد کے کس تو آیا سے ہرات وه کہ ہے معاملہ کا خاندان کے ہے، ضرور اختلاف تو نہیں تضاد میں اقوال کے تینوں حالی اور گراہم سرسید، مقبولیت وه کی جاوید حیات وجہ کی اس تو ہوئی نہیں اگر تحقیق کی اختلاف اس دھند گہری کی کاری فراموش پر بیان کے سرسید مصنف بقول نے جس ہے کوئی اگر کہ ہے وزن میں رائے اس کی مصنف لیے اسی ، کردی مستولی کرلینا قبول اسے پھر تو ہے نہیں میں تردید کی بیان کے سرسید شہادت تاریخی کو قول اس نے انہوں لیے اسی ہے معروضی قطعی مطالعہ کا مصنف ۔ چاہیے

لہٰذا تھی، لکھی میں عمر کی سال ٨٠ نے سرسید فریدیہ، سیرت کہ کیا نقل تائیداً حالی ہے، رہتا احتمال کا غلطی میں اندراج کے واقعہ کسی کے قبل صدی نصف لفظ کا میرؔ مرتبہ ١ قریب یعنی جگہ ہر ساتھ کے نام کے والد کے سرسید نے یہی کہ چاہیے جانا لکھا سید کے میرؔ بجائے نزدیک کے مصنف کیا، استعمال کو تقلید کی طرز اس کے حالی ہے، اظہار کا مطابقت سے داری دیانت تحقیقی ازسرنو کی بیانات اور تقلید تحقیق، میں اردو کہ کیا ناپسند کر کہہ یہ نے انہوں نے خاں محمد سید بھائی کے سرسید ۔ ہے رہی محترز حدتک بڑی سے توثیق سید نام کا اس میں محبت کی بھائی حالی، بقول اور کیا جاری اخبار ایک سے دہلی ہے، کرتا ظاہر کو تعلق خاندانی نام یہ نزدیک کے مصنف فاضل رکھا، الاخبار کے اخباروں سے نام اس کہ ہے عرض ہوتا، قبول قابل زیاده الاخبار احمد ورنہ کچھ کی لفظی رعایت میں دہلی ہے، ممکن تو بھی اشاره لطیف کا ہونے سید کی باٹ ٹھاٹ رئیسانہ کے حامد سید بیٹے بڑے کے سرسید آئے۔ نکل ہی گنجائش فائلوں کی گزٹ ٹیوٹ انسٹی گڑھ علی بیان کا ذکاءلله منشی میں تردید کی روایتوں نہیں صحیح زیاده الزام پر حامد سید میں روشنی کی جس گیا، نکالا خوب سے اور نوشی شراب خصوصاً کمزوریوں بعض کی محمود سید طرح اسی لگتے، سے سب کی کتاب گئی، کی نقل شہادت کی زبیری امین میں رد کے تفاخر جذبہ چلتی کئی سے رسائی تک مصادر مستور لیکن اصل کہ ہے یہی خوبی بڑی الملک محسن وقت کے تدفین کی سرسید جیسے آگئی سامنے حقیقت کی کہانیوں کے سرسید کہ لگتا نہیں قیاس قرین یہ کہ گیا کہا لیے اسی بات، والی چنده کے ہوگی۔ ہوئی سے چنده کے الملک محسن تکفین، میں موجودگی کی اعزه قریبی عملی میں اداروں سرکاری کی سرسید حصہ اہم اور مفید بہت ایک کا کتاب اور دارانہ دیانت سے خیالات بعض کے سرسید میں جس ہے، بیان کا موجودگی بناکر تعلیم ذریعہ کو انگریزی کہ تھا خیال کا سرسید گیا، کیا اختلاف مندانہ جرأت نے مصنف ہیں، جاسکتے کیے طے ساتھ کے سرعت انتہائی منازل، کے ترقی بہ کی اختلاف بتایا، والی کھانے چغلی کی فکر طرز نوآبادیاتی کو وکالت اس اور تناظر فکریاتی تر وسیع کا سرسید کہ گیا کہا بھی یہ باوجود کے گنجائش شدت عبارت سے کرنے شکست کو ایجنڈے نوآبادیاتی دراصل کاوشیں عملی کی ان اس دراصل کامیابی کی کتاب اس بہتر کہیں میں قیمت لیکن کہتر میں قامت ہیں۔ تاریخ الطبیعیات، مابعد مذہب، سے مطالعہ کے سرسید کہ ہے سے وجہ کی یقین اعلیٰ کہ ہے ہوتا ثابت بھی یہ اور ہے جاتی ہوتی آباد دنیا ایک کی تہذیب اور کی سرسید رکھتی۔ نہیں علاقہ کوئی سے مداحی مدلل اور مضامین تکرار تحقیق، و وقعت کتاب یہ میں کرنے عطا استناد و اعتبار کو سوانح کے ان سے صحافت ادب اردو جب ہے ہوجاتی سوا اور خوشی ہے، کامیاب سے لحاظ دونوں قبولیت میں صورت کی محقق حق، جویائے ایک نقاد نظر بالغ کا نظریوں ترین جدید کے

ص-ع ہے۔ آتا نظر گر جلوه

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.