کارنامہ شعرالعجم تنقیدی و ادبی اہم ایک

Maarif - - ء۲۰۱۸ اپریل معارف -

اپنی ترکیبی اجزائے کے کلام کہ ہے یہ مراد سے اس

ہو نہ پیچیدگی معنوی اور لفظی ایسی کوئی میں اس اور ہوں پر حالت اصلی کجا تو طبقہ متوسط کا علم اہل اور ہوجائے مشکل تفہیم کی اس سے جس کہ ہے ضروری لیے اس ہو۔ قاصر سے فہم کے اس بھی طبقہ کا خواص غیر استعارات، و تشبیہات الفہم عسیر تراکیب، و الفاظ نامانوس میں کلام اس کہ جائے کیا گریز سے اصطلاحات علمی مشکل اور تلمیحات معروف

ہے۔ ہوتا پیدا اغلاق معنوی میں کلام سے ذکر کا اس ہے اہمیت جو کی اہتمام کے مره روز میں سادگی

ہیں: لکھتے شبلی مولانا ہوئے بول اور روزمره کہ ہے دخل بہت کو بات اس میں ادا سادگی’’ زبانوں عام چونکہ مره روز اور جائے رکھا لحاظ زیاده کا چال پورا ساتھ کے ہونے ادا لفظ ایک لیے اس ہے، ہوتا چڑھا پر مشکل ے س ے سہار ے ک س ا ر او ے ہ ا آجات ں می ن ذہ ہ جمل نامور بڑے بڑے ہے۔ ہوتی اسٓانی میں سمجھنے کے مضمون مره روز خیال اعلیٰ سے اعلیٰ کہ ہے یہی کمال اصلی کا شعراء بات معمولی گویا کہ ہیں کرتے ادا طرح اس میں چال بول اور چیز عام کوئی سادگی کہ ہو پیدا خیال یہ کو کسی شاید یہاں ہے۔ عسیر بھی خیالات معمولی لیے کے عوام پاسکتی۔ قرار نہیں سمجھ سے آسانی بھی کو مضامین مشکل خواص اور ہیں الفہم

عام کہ ہے یہی سادگی نہیں۔ صحیح خیال یہ لیکن ہیں۔ سکتے کرتے

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.