جرمن تحریروں میں سیرة النبیؐ کا سرمایہ ایک تعارفی مطالعہ

جناب ابوسعد اعظمی

Maarif - - ۳�٦ ء۲۰۱۸ مئی معارف ۵/۲۰۱ - ریسرچ شعبہاسکالر، عربی، علی گڑھ مسلم یونیورسڻی علی، گڑھ۔ anislahi@gmail.com

انیسویں اوربیسویں صدی عیسوی اس لحاظ سے کافی اہمیت کی

حامل رہی ہیں کہ اس دور میں جرمن محققین نے اسلامی موضوعات اور بالخصوص سیرت نبویؐ کو دلچسپی کا موضوع بنایا۔ سیرت ابن ہشام کا جرمن زبان ہوا۔ترجمہمیں رسول للهؐ کی زندگی، مدینہ اسلامیمیں جماعت کی تشکیل، غزوات النبیؐ وغیره جیسے موضوعات پر ان کی تحریریں سامنے آئیں اور سیرة النبیؐ کے موضوعات پر موجود اسلامی سرمایہ کا ان میں چلن عام ہوا۔ انسائیکلوپیڈیا اور نصابی کتابوں میں اس موضوع پر انہوں نے تحریریں فراہم کیں۔ قطع نظر اس سے کہ اس ضمن میں ان کا اسلوب معروضی تھا یا نہیں اس، حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اسلام، تاریخ اسلام اور مشاہیر اسلام کے ضمن میں دیگر مغربی مستشرقین کی طرح جرمن مستشرقین سے بھی شعوری یا غیر شعوری طور پر زبردست غلطیاں ہوئی ہیں اور اسلامی موضوعات پر اپنی تحقیقات میں وه انصاف نہیں کر پائے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود تحقیق و تدوین کے میدان میں ان کی کاوشوں کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی گرفت ممکن بھی ہے اور ضروری بھی مگر اس اعتراف کے ساتھ کہ ان کی تحقیقات سے

اسلامی علمی سرمایہ میں قابل قدر اضافہ ہوا ہے۔ سیرة النبیؐ کے موضوع پر جرمن مستشرقین کی بحث وتحقیق اور

ان کے ہٴنقط نظر کو منظر عام پر لانے کے مقصد سے فاس مراکش)( میں سیدی محمد بن عبدلله یونیورسڻی کے شعبہ آداب وعلوم انسانی نے ایسیسکو کے تعاون سے ۲۳ ۔ ۲۴ ۔ ۲۵؍ اپریل ۲۰۰۷ء میں ایک سہ روزه بین الاقوامی سیمینار منعقد کیا۔ اس میں اس موضوع سے متعلق گرانقدر مقالات

پیش کیے گئے۔ان میں جرمن مستشرقین کے یہاں سیرة النبیؐ سے متعلق موضوعات پر بحث وتحقیق کی تاریخ، ہٴمطالع سیرت کے باب میں جرمن مستشرقین کا منہج، جرمن ادب میں سیرة النبیؐ، کتب سیرت کے جرمن تراجم، دائرة المعارف میں سیرة النبیؐ پر مقالات، جرمن زبان میں سیرة النبیؐ سے متعلق سرمایہ، جرمن مستشرقین کی سیرتی کاوشوں سے متعلق عربی زبان میں موجود تحریری مواد، سیرة النبیؐ کے سرمایہ کی تحقیق میں جرمن اصحاب علم کی کاوشیں جیسے متنوع موضوعات کو موضوع بحث بنایا گیا۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر ایسیسکو نے ان مقالات کی اشاعت کا فیصلہ کیا اور ۲۰۱۱ء میں یہ ہٴمجموع مقالات السیرة’’ النبویۃ فی

الکتابات الالمانیۃ‘‘ کے عنوان سے منظر عام پر آگیا۔ یہ کتاب ۲۶۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں پیش لفظ، سیمینار کے مختلف اجلاسوں کی مکمل رپورٹ، افتتاحی اجلاس اور تجاویز، عربی ، انگریزی، جرمن اور فرانسیسی زبانوں میں سیمینار کا جاری کرده دعوت نامہ، افتتاحی اجلاس کی تفصیلات کے علاوه چار مرکزی عناوین کے تحت

کل پندره مقالات شامل ہیں۔ ان عناوین کو یوں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے: ۱۔ مطالعہ سیرت کے باب میں مستشرقین کا منہج، ۲۔ سیرة النبیؐ کے موضوع پر جرمن مستشرقین کی تحقیقی وتصنیفی کاوشیں، ۳۔سیرتی تصانیف سے متعلق جرمن مستشرقین کے جدید رجحانات، ۴۔ جرمن ادب اور جرمن میڈیا میں سیرة النبیؐ۔ یہ مقالات سیرة النبیؐ کے تعلق سے جرمن مستشرقین کی خدمات کے مختلف وںٴپہلو کا احاطہ کرتے ہیں۔ ذیل میں اس

کتاب کا ایک تعارفی مطالعہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پہلا مقالہ ڈاکڻر خالد زہری کا ہے۔اس کا عنوان ہے جرمن’’ مستشرقین کا منہج ہٴمطالع سیرت- تصوف کے آئینہ میں‘‘ بیس صفحات پر مشتمل اس مقالہ میں تصوف کے آئینہ میں سیرت کے امتیازی پہلوکو واضح کیا گیا ہے اور اسے طریقتشریعت، اور حقیقت کا مجموعہ قرار دیا گیا ہے۔ مقالہ کا خیال ہے کہ سیرت کا روحانی پہلو ہی اسے تاریخ کی سطح سے بلند کرتا ہے اور مسلمانوں کے ایمانی محرکات کو مسلسل مہمیز کرنے کا کام کرتا ہے۔ روح نبوت جسے اہل تصوف ولایت سے تعبیر کرتے ہیں اور شیخ اکبر کے نزدیک اہل نظر کے یہاں اسے اختصاص کہا گیا ہے وه کبھی ختم نہیں ہوتی۔ سیرة النبیؐ کے اس متصوفانہ عرفانی ہٴنقط نظر کی وجہ سے انسان کامل کا نظریہ سامنے آیا اور عبد الکریم الجیلی نے اپنی کتاب الانسان’’ الکامل فی معرفۃ الاواخر والاوائل‘‘ میں اس کے

مختلف عناصر کو جمع کردیا۔ یہ کتاب بہت سے مستشرقین کی تحقیق کا

موضوع بنی۔ بالخصوص جرمن مستشرق ہلموت ریتر ) Hellmut Ritter1971-1892) نے انسائیکلوپیڈیا آف اسلام میں شامل اپنے ایک مقالہ میں

اسے خاص طور پر موضوع بحث بنایا ہے۔ عبدالکریم الجیلی نے اس کتاب میں واضح کیا ہے کہ ذات محمدی ظاہر وباطن سے عبارت ہے اور اس کے صحیح فہم کے لیے ان میں سے کسی سے بھی استغناء ممکن نہیں،

خواه اس کا تعلق سیرت و شمائل سے ہو یا اوامر و نواہی سے۔ یہی نظریہ بہت سے جرمن مفکرین وفلاسفہ کے افکار کا سرچشمہ

ہے انہی میں ایک معاصر نام محمد کالیش (1966 Mohammed Kalisch ( ہے جس کے نزدیک انسان کامل کا نظریہ محمدؐ کی ذات سے محبت اور اپٓؐ کی سیرت کی اقتداء میں جلوه گر ہے۔ کارڻون کے ذریعہ لله کے رسولؐ کی شان میں گستاخی کے موقع پر اس نے اپنے ایک مقالہ میں تحریر کیا کہ یہ واقعہ ہے کہ پورا عالم اسلام نبی کی ذات میں بہترین اسوه اور انسان کامل پاتا ہے اور اس کی اقتداء ہر مسلمان پر فرض ہے، لہٰذا مسلمان کے دل میں نبی کریمؐ کے تئیں محبت واکرام کا جو جذبہ ہے اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے ص( ۱۱) مقالہ نگار نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ صوفیہ کی تحریروں میں اس طرح کے اشارات موجود ہیں کہ بعض صوفی ہ ک و رسولؐ س ے ملاقا ت او ر گفتگ و ک ا بھ ی شر ف حاص ل ہوتا جسےہے، کوتاه فہم اور ظاہری الفاظ تک محدود رہنے والے افراد رسولؐ سے حقیقی ملاقات پر محمول کر لیتے ہیں۔ حالانکہ لقاء سے مراد ان روحانی جہات کا عرفانی جلوه ہے جو رسولؐ کی سیرت کے ہر چھوڻے بڑے پہلو سے وابستہ ہے۔ مقالہ نگار نے اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے مشہور عارف ابو عبدلله محمد بن علی الحکیم الترمذی کی تصنیف ختم’’ الاولیاء‘‘ کا تذکره کیا ہے۔ان کے نزدیک نبی اور ولی دونوں کی سیرت کے درمیان کوئی فرق نہیں، سوائے اس کے کہ نبی کا لله سے تعلق بذریعہ وحی ہوتا ہے، جب کہ ولی کا لله سے تعلق بذریعہ الہام ہوا کرتا ہے ص( ۱۳۔) پھر اس فکر کے پس منظر کا جائزه پیش کرتے ہوئے بیرند رانکہ Bernd Radtke-1944) ،( ہامربورجشتال -) Josef Von Hammer 1884-1774 Rugtall:( ، جوتہ (1832-1740 Goethe:،( برند نومائیل فایشر Bernd M. Weischer) ( ،ریسک ہ)Johann Jakob Reiske:1774-1716،( فریدریک شلیجل )Friedrich Schlegel:1829-1772( ، ہانس جورج ) Gadamer: Georg Hans 2002-1900) اور دیگر جرمن مستشرقین کے ہٴنقط نظر سے بحث کی ہے

اور مشہور جرمن مستشرق ہلموت ریڻر کے ہٴنقط نظر کا اس کی تحقیق شده کتاب کتاب’’ مشارق انوار القلوب ومفاتح اسرار الغیوب‘‘ کے حوالہ سے تفصیلی جایزه لیا ہے۔ مقالہ نگار نے اس باب میں یہ صراحت کی ہے کہ یہ ہٴنابغ روزگار جرمن مستشرق عربی، فارسی، ترکی اور مشرقی زبانوں کے ذریعہ اسلامی سرمایہ کی تہ میں اترنے والا سب سے نمایاں مستشرق ہے۔ البتہ نبیؐ اور ان کے وارثین اولیاء کے درمیان تعلق کی نوعیت کا فہم اسے بھی حاصل نہ ہوسکا اور سیرة الاولیاء کی روشنی میں سیرة النبیؐ کے دائمی تسلسل کے ادراک سے وه قاصر رہا ص( ۱۹۔) اس مقالہ میں تصوف کی اصطلاحات کے بارے میں مستشرقین کی نارسائیوں کا تذکره بھی ہے اور بعض ایسے امور پر روشنی ڈالی گئی ہے جو عام

قاری کے فہم سے بالا تر ہیں۔ دوسرا مقالہ نبوت’’ محمدیؐ کے باب میں جرمن مستشرق نولدیکی

کا ہٴنقط نظر‘‘ کے عنوان سے ہے جیسا کہ عنوان ہی سے واضح ہے، اس میں نبوت محمدی سے متعلق نولدیکی (1931-1830 TheodorNodeke:( کے افکار کا جایزه پیش کیا گیا ہے۔ نولدیکی کے تعارف کے بعد یہ واضح کیا گیا ہے کہ اپنی تمام تر شہرت وآفاقیت کے باوجود سیرت کے تعلق سے اس نے بڑی فاش غلطیاں کی ہیں۔ اس لیے کہ علوم وفنون کی معرفت الگ اساورہے انصافساتھکے ہےچیزدوسریکرنا ص( ۳۲اس۔) کے فکر میں انحراف تعصب، اور عدم معروضیت صاف نظر آتی ہے۔ نولدیکی کے تنقیدی و تشکیکی رجحان میں مبالغہ آرائی ہے۔ اس کے یہاں صحیح روایات کے انکار اور ان میں شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوشش کثرت سے نظر آتی ہے۔اس کا خیال ہے کہ احادیث نبویہ میں یہودی ونصرانی اثرات ملتے ہیں۔ اس سے قبل جرمن مستشرق ابراہم غا یغر ) Abraham 1874-1810 Geiger:( نے بھی اپنی کتاب قرآن’’ نے یہودیت سے کیا لیا‘‘ میں ا س طرح کے اعتراضات اڻھائے تھے جو استشراقی تحقیق میں ایک نئی بحث کا آغاز تھی۔ اس کا مقصد قرآن کریم کے ان اجزاء کی تلاش و جستجو تھی جو یہودیت سے ماخوذومستفاد نظر آتے ہیں۔ مقالہ نگار نے صراحت کی ہے کہ نولدیکی نے بعض رواج پذیر شکوک و شبہات کی تضعیف کی ہے، لیکن اس نے جو شکوک وشبہات پیدا کیے ہیں ان کی زد اسلامی اساس و مسلمات پر پڑتی ہے۔ مقالہ نگار نے اہل’’ کتاب سے استفاده‘‘ کے جلی عنوان کے تحت نولدیکی کے ہٴنقط نظر سے بحث کی ہے۔نولدیکی کا خیال ہے کہ قرآن کریم یہودی افکار ونظریات سے متاثر ہے اور اس میں یہودی شعائر واصطلاحات شامل ہیں۔اسی طرح قصص

انبیاء اور ان کے اسما یہود سے ماخوذ ہیں، جبکہ کلمہ کا صیغہ لاالہ’’ الا لله‘‘ بھی یہودیت سے ماخوذ ہے ص( ۳۵۔) نبی کریمؐ پڑھنا لکھنا جانتے تھے یا نہیں؟ اس ضمن میں صلح حدیبیہ سے متعلق تاریخی دستاویزات کا جایزه لینے کے بعد نولدیکی قرآنی الفاظ پر توقف کرتے ہوئے یہ نتیجہ پیش کرتا ہے کہ آپؐ امی تھے۔ فاضل مقالہ نگار نے پورے مقالہ میں نولدیکی کے افکار کا تنقیدی جایزه پیش کرکے اس کے اعتراضات کو دور کرنے

کی اچھی کوشش کی ہے۔ مستشرقین’’ کے نزدیک سیرت نگاری میں اسقاطی مادی منہج کے

نقوش‘‘ کے عنوان سے تیسرے مقالہ میں جرمن مستشرق ولہاوزن ) Julius 1918-1844 Wellhausen:( کی سیرت سے دلچسپی کا مختصر تعارف اور سیرة النبیؐ اور تاریخ اسلام سے اس کی دلچسپی کا ذکر ہے۔ مقالہ نگار کا خیال ہے کہ استشراقی تحقیقات سے دلچسپی رکھنے والے علوم اسلامیہ کے بعض مغربی محققین کی نگاه میں اسقاط ایک قابل اعتماد منہج ہے۔ منہج اسقاط سے کیا مراد ہے اس کی تشریح اس طرح کی گئی ہے کہ جدید ماہرین نفسیات کے نزدیک اسقاط کی تعریف یہ ہے کہ مختلف حالات، نقطہ نظر اور واقعات پر اپنے تجربات وجذبات کو مسلط کرکے اور اپنے ہٴنقط نظر سے اسے دیکھ کر اس کی تشریح کی جائے ۔نبی کریمؐ کے متعلق ولہاوزن کے جو دس بڑے شبہات تھے، ان کا ذکر کرکے انہیں رفع کرنے کی عمده کوشش کی گئی ہے۔ اخٓر میں ان غلط فہمیوں کا جواب چار نکات

میں پیش کر دیا گیا ہے۔ چوتھا مقالہ معراج’’ اور علم کلام کا آغاز یوسف- فان ایس کا ہٴنقط

نظر‘‘ کے عنوان سے ہے جو ڈاکڻر احمد بوعود کا تحریر کرده ہے۔ اس کی ابتدا میں فان ایس (1934: JosefVanEss( کا مختصر تعارف اور اس کی تصنیفی خدمات کا تذکره ہے۔پھر معراج ورویت باری تعالی اور معراج وعلم الکلام کے آغاز پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ فان ایس کے مطابق معراج سے متعلق جو احادیث وآثار ہمیں ملتے ہیں ان کا تعلق بعد کے دور سے ہے۔ ان روایا ت کا ہٴسرچشم عراق ہے جس میں جزیره عرب کی بہ نسبت اس موضوع کا زیاده عموم ہوا اور عراق کے بعد ایران میناس کی اشاعت ہوئی۔ فان ایس نے اشاره کیا ہے کہ جومتون اس تعلق سے معروف انہیں، کا سلسلہ بلخ سے ہے۔ تحلیل وتجزیہ کے بعد فان ایس نے اپنا ہٴنقط نظر یہ پیش کیا ہے کہ کسی کا یہ اعتقاد نہیں کہ رسولؐ نے اپنے رب کو دیکھا تھا، بلکہ آپؐ نے پس حجاب آواز سنی تھی۔ اسی طرح کسی کا یہ عقیده نہیں ہے کہ ہٴواقع معراج صرف خواب تھا جو آپؐ کو دکھا یا گیا، بلکہ

اس کی حیثیت حقیقی واقعہ کی ہے اور یہ معجزه ہے۔ اخٓر میں فاضل مقالہ

نگار نے اپنے ملاحظات چھ نکات کی صورت میں پیش کیا ہے۔ سیرة’’ النبیؐ کے موضوع پر جرمن مستشرقین کی بحث وتحقیق‘‘ کے مرکزی عنوان کے تحت پانچ مقالات ہیں۔ پہلا مقالہ ڈاکڻر عبدالعزیز شاکر حمدان الکبیسی کا ہے جس کا عنوان ہے سیرة’’ النبیؐ کے موضوع پر جرمن مستشرقین کی تصنیفی کاوشیں- تحلیل ۔وتجزیہ‘‘ موضوع کی اہمیت کی طرف اشاره کرتے ہوئے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ یہ درحقیقت سیرت نبوی پر جرمن مستشرقین کی خدمات کو منظر عام پر لانے کی ایک کوشش ہے۔ اس میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے اس موضوع پر کوئی کتاب لکھی ہے اور ان کے امتیازی اوصاف کو اجاگر کیا گیاہے ۔ اسی طرح ان کے نقائص اور شعوری طور پر سرزد غلطیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے ص( ۶۹۔) مقالہ نگار نے الگ الگ دو فصلیں قائم کی ہیں، پہلی فصل میں ان مصنّفین کا تذکره ہے جنہوں نے سیرت کے موضوع پر کوئی کتاب تصنیف کی ہے۔ ان کے اسماء، مختصر حالات زندگی، تصنیفی خدمات اور سیرت کے موضوع پر ان کی تصانیف کا اجمالا تذکره ہے اور دوسری فصل میں انصاف پسند اور متعصب جرمن مستشرقین پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے منہج کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ابتداء میں مقالہ نگار نے یہ صراحت کر دی ہے کہ ان کے پیش نظر سیرتی مباحث میں جرمن مستشرقین کی تصانیف کا احاطہ نہیں ہے، بلکہ جہاں تک ان کی رسائی ہو سکی ہے ان کا تذکره کردیا گیا ہے۔ ذیل میں مقالہ میں مذکور جرمن مستشرقین اور ان کی تصانیف کا مختصر جایزه پیش کردینا

مناسب معلوم ہوتا ہے: ۱ ۔ ان ا مار ی شیم ل (2003-1922 Annemarie Schimmel: ( :

مولف محمد’’ نبی لله اٴو الرسول فی ۔الاسلام‘‘ ۲۔اٴوتوبرنسل(1941-1893 Otto Pretzl: ( : مولف محمد’’ صلى اله عليه وسلم

بوصفہ شخصیۃ ۔تاریخیۃ‘‘ ۳۔ اٴوجست فشر (1949-1865 August Fisher: :( مولف محمد’’

واحمد صلى اله عليه وسلم اسمان للنبی ۔العربی‘‘ ۴۔رودلف اشتروطمن (1940-1877 Rudolf Strothmann: :(

مولف بدرو’’ احد ۔وکربلا‘‘ مقالہ نگار نے صراحت کی ہے کہ مجھے اس بحث کی نوعیت کا اندازه نہیں ہے کہ اس کا تعلق نبی کریمؐ کے دونوں

غزوات سے ہے یا اس کی گفتگو کا مرکز کربلا او ر امام حسینؓکی شہادت ہے۔ ۵۔ریسکہ (1774:1716 Johann Jakob Reiske: ( : مقالہ نگار

نے یہ صراحت کی ہے کہ اس کے پیش رو مستشرقین نے اسلام اور نبی اسلام کی جو مسخ شده تصویر پیش کی تھی اس کی تصحیح کا سہرا اسی کے سر ہے۔اپنی تصانیف میں اس نے دین اسلام کی تحسین کی ہے اور نبی کریمؐ سے متعلق الزامات کی تردید بھی ہے۔اس کا خیا ل ہے کہ نبی کریمؐ کی بعثت اور دین اسلام کا غلبہ تاریخ عالم کا ایسا نادر واقعہ ہے جس تک عقل انسانی کی رسائی ممکن نہیں ۔اس نے پوری اتٴجر سے اپنی آراء کا اظہار کیا ہے۔اسی وجہ سے ارباب کلیسا اس کے خلاف صف آراء ہوگئے اور اسے زندیق قرار دیا ص( ۷۵۔) البتہ سیرت کے موضوع پر اس کی

کسی کتا ب کا تذکره نہیں کیا گیا ہے۔ ۶۔اسپرنگر (1892:1813 Aloys Sprenger: ( : اس کی کتاب ’

محمدصلى اله عليه وسلم’ کی حیات اور تعلیمات‘ ‘ کے عنوان سے ہے جو تین جلدوں پر

مشتمل ہے۔ ۷۔فایل گوستاف (1889:1808 GustavWeil:( : فایل گوستاف نے بہت سی کتابونکا جرمن میں ترجمہ کیا ہے۔اس میں ابن ہشام کی السیرة’’ بھیالنبیۃ‘‘ شامل ہے۔سیرت کے موضوع پر تصنیف کرنے والے چند مشہور جرمن مستشرقین میں گوستاف کا نام بھی شامل ہے۔ اس کی چند

نمایاں تحریریں اس طرح ہیں: آغازالف)( نبوت سے متعلق ایک واقعہ کے بارے میں رینو کو خط۔مجلہ آسیویہ مئی ۱۸۴۳ کے شمارے میں یہ شائع ہواہے۔ ب)( النبی محمدؐ ۔ حیاتہ و مذہبہ: ابن ہشام کی السیرة النبویۃ، علی بن برہان الدین الحلبی کی انسان’’ العیون فی سیرة الامین والمامون‘‘ جو سیرت حلبیہ کے نام سے معروف ہے اور حسین دیار بکری کی السیرة’’ النبویۃ‘‘ پر اس کا انحصار رہا ہے۔ فایل کی اس کتاب کا شمار سیرت اور پیغام سیرت پر تحریر کرنے والے جدید مستشرقین کی ابتدائی کتب میں ہوتا ہے۔ عبدالرحمٰن بدوی کی تصریح کے مطابق اس کتاب میں زبردست علمی خیانت کی گئی ہے اور تاریخی حقائق سے اغماض برتا گیا ہے۔ گوستاف فایل کا خیال ہے کہ نعوذ(

باﻟﻠہ) آپؐ کو مرگی کی بیماری تھی۔ ۸۔کارل بروکلمان (1956-1868 Carl Brockelman: ( : کارل

بروکلمان کا شمار نمایاں ترین جدید مستشرقین میں ہوتا ہے۔ اس کی تالیف کرده کتاب تاریخ’’ الادب العربی‘‘ کو زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس کو مختلف عربی علوم وفنون کے مخزن کی حیثیت حاصل ہے۔ اس میں مخطوطات، اس کی نوعیت اور اس کے محل وقوع وغیره کی تفصیلات ہیں ۔ اسی طرح تاریخ’’ الشعوب الاسلامیۃ‘‘ کے نام سے بھی اس کی اہم کتاب ہے، جسے منیر البعلبکی اور منبہ امین فارس نے عربی کا قالب عطا کیا ہے۔ یہ کتاب ۹۰۰ صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں ماقبل اسلام سے لے کر چودہویں صدی ہجری کے نصف تک عربوں کی تاریخ کا جایزه لیا گیا ہے اور اس پورے عرصہ میں مسلمانوں کے سیاسی وثقافتی احوال کا احاطہ کیا گیا ہے، البتہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اس نے جگہ جگہ ڻھوکریں کھائی ہیں اور معروضیت کا لحاظ نہیں رکھ سکا ہے۔ کہیں کہیں اس نے شعوری طور پر بھی علمی خیانت سے کام لیا ہے اور حتی الامکان

حقائق کو مسخ کرکے اسے بالکل غلط انداز میں پیش کیا ہے۔ بروکلمان نے اپنی کتاب میں پچاس صفحات میں سیرة النبیؐ کے

موضوع پر بھی گفتگو کی ہے۔ سیرت سے متعلق اس کی معلومات فاش غلطیوں اور افتراپردازیوں کا مجموعہ ہیں ص( ۷۸۔) مقالہ نگار نے سیرت سے متعلق اس کے چھ اہم نقائص کا جایزه لیتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ اس طرح کی بہت سے خامیوں کے ذریعہ اس نے رسول اسلام کی حقیقی

تصویر کومسخ کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ ۹۔نولدیکی تیودور (1930-1836 Theodor Noldeke: ( : نولدیکی

کو متفقہ طور پر جرمن مستشرقین میں نمایاں ترین مقام حاصل ہے۔ اس نے

جرمن زبان میں حیاة’’ النبی محمد صلى اله عليه وسلم‘‘ کے نام سے کتاب لکھی ہے۔ ۱۰۔ ہارویز (1931-1874 Josef Harovitz: ( : ہارویز نے واقد ی

کی مغازی‘‘’’ پر اپنا ڈاکڻریٹ کا مقالہ تیار کیا ہے۔ اسی طرح ابن سعد کی الطبقات’’ الکبری‘‘ میں غزوات نبی سے متعلق دونوں جلدوں کی تحقیق کی ہے۔ عبدالرحمٰن بدوی نے صراحت کی ہے کہ فرانکوفور سے یونیورسڻی میں ۱۹۲۱ - ۱۹۱۴ء تک اپنی تدریس کے دوران قرآ ن کریم اور سیرة النبیؐ اس کی دلچسپی کا خاص موضوع رہے ہیں۔ اس ضمن مینانہوں نے ۱۹۲۶ء میں شائع ہونے والی ان کی کتاب مباحث قرآنیہ کا ذکر تو کیا ہے

لیکن سیرة النبیؐ کے موضوع پر کسی کتاب کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ ص(۸۵( ۱۱۔یولیوس ولہاوزون (1918-1844 Julius Wellhausen: :(

تاریخ اسلام کے موضوع پر تصنیف کرنے والے مستشرقین میں ایک نمایاں نام یولیوس ولہاوزون کا بھی ہے۔ اس نے واقدی کی المغازی کا جرمن میں ترجمہ کیا ہے اور تنظیم’’ محمد للجماعۃ فی المدینہ‘‘ کتباور’’ محمد والسفارات التی و جہت الیہ‘‘ کے عنوان سے سیرة النبیؐ کے موضوع

پر دو گراں قدر کتابیں چھوڑی ہیں۔ دوسری فصل انصاف’’ پسنداور خائن ومتعصب جرمن مستشرقین‘‘

کے عنوان سے ہے۔ انصاف پسند مستشرقین کے ضمن میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جرمن میں تحقیق دو متوازی سمت میں چلی ہے۔جن مصنّفین نے اپنی علمی پختگی کو عیسائیت یا شخصی وتاریخی کینہ پروری سے محفوظ رکھا ہے انہوننے معروضی انداز میں سیرت کا جایزه لیا ہے اور جن حقائق تک ان کی رسائی ہوئی انہیں بغیر کسی خارجی اثر کے صاف صاف بیان کردیا ہے ۔ان کا مقصد خالص علمی تھا۔ انہوں نے بغیر کسی تحریف وتبدیل کے حقائق کو جوں کا توں رہنے دیا ہے ص(۸۰۔) دیگر مستشرقین نے اس طرح کے افراد پر خیانت علمی، جذباتیت کا وٴبہا اور عربوں سے رواداری اور ان سے تقرب کی خواہش کا الزام عاید کیا ہے۔ انصاف پسند مستشرق کی حیثیت سے فاضل مقالہ نگار نے ماری شیمیل اور ریسکہ کا خصوصی ذکر کیا ہے اور خائن ومتعصب مستشرقین کے افکار کا جایزه لیتے ہوئے یہ وضاحت کی ہے کہ ان کا مقصد شعوری طور پر اسلام اور نبی اسلام کی صورت مسخ کرکے حقائق کو غلط انداز میں پیش کرنا اور اہل مغرب کو اسلام سے بیزار کرنا تھا۔ قابل لحاظ بات یہ ہے کہ ظلم وخیانت سے متصف یہ مستشرقین مکر و فریب کے پتلے تھے۔ انہوں نے زبردست علمی کاوشیں پیش کیں، اسلامی موضوعات کی تہہ میں غوطہ زن ہوکر اپنے زبردست علمی نتائج سے دنیا کو حیرت میں ڈال دیایہاں تک کہ مسلمان ان کی تحقیق پر فریفتہ ہوکر ان سے استفاده کرنے لگے۔ لیکن اپنی ان تحقیقات کے اندر انہوں نے جابجا نبی کریمؐ کی حقیقی تصویر مسخ کرکے اسے غلط انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کی تصانیف کی حیثیت ایسی ہے جیسے کوئی شہد میں زہر ملادے۔ اس قسم کے مستشرقین نے بے تکے انداز میں افتراء پردازی نہیں کی ہے، بلکہ مصادر کو کھنگالا ہے اور ضعیف وموضوع روایات کا سہارا لے کراپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کی ہے۔ مقالہ نگار نے اس قسم کے مستشرقین میں کارل بروکلمان، یولیس ولہازون کا خصوصی تذکره کیا ہے، البتہ یہ وضاحت بھی کردی ہے کہ بعض مستشرقین غیر شعوری طور پر خطا و لغزش کا شکار ہوگئے ہیں۔ اس ضمن میں اسپرنگر کا خصوصی

طور سے نام آتا ہے۔ متعصب اور علمی خیانت کا ارتکاب کرنے والے ان مستشرقین نے اپنے ناپاک عزائم کو بروئے کار لانے کے لیے سیرة النبیؐ سے متعلق اپنی تحریروں میں جس طریقہ کار کو اختیار کیا ہے اسے فاضل

مقالہ نگار نے چوده نکات کی صورت میں پیش کیا ہے۔ دوسرا مقالہ ڈاکڻر محمد عبدو کا جرمن’’ زبان میں لله کے رسولؐ

سے متعلق تحریروں کی کتابیات‘‘ کے سےعنوان دواسےہے، حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں ان کتابیات کا تذکره ہے جن کے مصنف عرب یا پاکستان اور ترکی وغیره سے تعلق رکھتے ہیں ۔اس میں اکیس کتابوں کا ذکر ہے اور دوسری قسم میں برطانیاجرمن، اور فرانس سے تعلق رکھنے والے مولفین کی دس تصانیف کا تذکره ہے اور ان کے موضوعات کا دو ایک سطر میں تعارف بھی پیش کیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان تمام کتابوں کے عناوین جرمن میں بھی پیش کیے گئے ہیں اور حاشیہ میں ناشر کی بھی نشان دہی کر دی گئی ہے۔ آخر میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ یہ چند کتابیات ہیں جن کا تعارف مقصود ہے، احاطہ ممکن کتابیاتنہیں، کی

فہرست ملاحظہ ہو: ۱۔السیرة النبویۃ تالیف ابن ترجمہاسحاق، وتصحیح گرنارٹ روڻر۔۲۔ من سیرة النبیؐ دو( ۔جلدیں) ۳۔ سیرة نبیناؐ۔ ۴۔ نبی الرحمۃ -محمدؐ مشاہد من سیرتہ المطہرة۔ ۵۔النبی محمدؐ موجز: لتاریخ الثقافۃ الاسلامیۃ۔ ۶۔ النبی محمدؐ زعیما۔ ۷۔ الہجرة الی یثرب۔ ۸۔معجزات محمدؐ ۔ ۹۔محمدؐ بالمومنین وفٴر رحیم۔ ۱۰۔ محمدؐ رسول سیرةلله- النبی۔ ۱۱۔محمدؐ القدوة۔ ۱۲۔کنز الحکمۃ۔ ۱۳۔قصص الانبیاء من القرآن الکریم۔ ۱۴۔قدوتنا الوحیدة نبیناؐ۔ ۱۵۔ماذا یعنی کنانہج النبیؐ۔ ۱۶۔معجزة محمدؐ۔ ۱۷۔سیرة محمدؐ ۔ ۱۸۔سیرة النبی محمدؐ ۔ ۱۹۔النبی محمدؐ ومعراجہ۔ ۲۰۔نبی الرحمۃ محمدؐ ۔ ۲۱۔اٴحادیث عن سنۃ

النبیؐ۔ جرمن برطانیا، اور فرانس سے تعلق رکھنے والے ولفینٴم کی کتب: ۱۔سیرة آخر الانبیاءؐ۔ ۔میلاد۲ الاسلام۔ ۔محمدؐ۳ سیرتہ- حسب اقدم

المصادر۔ ۔محمدؐ۴ ۔ ۔محمدؐ۵ : سیرتہ وعقیدتہ۔ ۔محمدؐ۶ والقرآن۔ ۔محمدؐ۷ ۔ ۔میراث۸ محمدؐ ۔ ۔سیرة۹ النبیؐ۔ ۔عالم۱۰ تاریخالاسلام، وثقافۃ تحت تاثیر

النبیؐ۔ ڈاکڻر سعید العلمی نے سیرة’’ النبیؐ کے مخطوطات اور جرمن

استشراق‘‘ کے عنوان سے ان جرمن مستشرقین کا عمده تعارف پیش کیا ہے جنہوں نے مخطوطات کی حصولیابی کے لیے دوردراز کے سفر کیے اور اسے اپنی بحث وتحقیق کی جولان گاه بنایا۔ تمہیدی گفتگو کے بعد اس ضمن میں مستشرقین کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: مخطوطات کی حفاظت، فہرست سازی، تحقیق واشاعت اور سینکڑوں اسلامی کتب کے تراجم میں مستشرقین نے نمایا ں خدمات انجام دی ہیں۔ اس ضمن میں مستشرقین اور ہماری کاوشوں میں بعد المشرقین ہے۔ مخطوطات کے حصول کے لیے انہوں نے طویل مسافتیں طے کیں، کثرت سے پیسہ خرچ کیا اور جہد مسلسل کا سہارا لیا۔ بسا اوقات معمولی قیمتوں پر بھی بعض مخطوطات انہیں حاصل ہوئے انہوں، نے صرف مغرب کی لائبریریوں میں ہی اس کی ترتیب کا کام انجام نہیں دیا، بلکہ مشرق کے کتب خانوں میں بھی اس کی ترتیب میں اپنا تعاون پیش کیا۔ انہوں نے تکمخطوطات رسائی لیےکے مختلف اختیارذرائع چوریکیے، کی، کتب خانوں کے ذمہ داروں سے تعلقات استوار کرکے ان سے تحائف کی صورت میں مخطوطات حاصل کیے اور اسلام کا لباده اوڑھ کر عالم اسلام سے ہزاروں مخطوطات اچک لیے۔ حکومت کا بھی انہیں بھرپور تعاون حاصل رہا اور اس کام میں انہوں نے اپنی عمر کا بہترین حصہ لگادیا۔مخطوطات کے جمع وتدوین کرنے والے ممالک میں فرانس سر فہرست ہے۔ اسلام وعرب سے واقفیت اور عیسائیت کی اشاعت کے لیے ان مخطوطات کو حاصل کرکے انہیں چرچ کے سپرد کر دیا گیا۔ اس کے بعد ان جرمن محققین کا تذکره کیا گیا ہے جنہوں نے مختلف طریقوں سے مخطوطے حاصل کرکے ان کی تحقیق وتدوین کا کارنامہ انجام دیا ہے اور ان کے حاصل شده مخطوطات کی تفصیل بھی فراہم کی گئی ہے۔ چند اہم

مستشرقین کے نام اس طرح ہیں: ریسکہ (1774:1716 JohannJakobReiske:( ، فلوجیل ) Gusttav 1870-1802 Leberecht Fluegel: ( ، ویستنفلد (1899-1808 Westenfeld:،( ویلہلم الفارت (1909-1828 Wilhelm Ahlwardt: ( ، تیودور نولدیکی TheodorNoldeke:1930-1836)( ، یولیوز ولہاوزون ) JuliusWellhausen 1918-1844:)، الویس اسپرنگر (1892:1813 Aloys Sprenger: ( ، بولس برنالد Brunilp)( شاده (1952-1883 ShaadA.:،( جوزف شاخت ) Joseph

Schacht:1902-1969( ہلتزفیر (1909 Rhewsnah:۔( ایک اہم مقالہ مدرسۃ’’ لایسبیغ الالمانیۃ والکتابۃ فی السیرة ہرمانالنبویۃریکندوف ‘‘ًمثالا کے عنوان سے ہے۔اس کی ابتدا میں مقالہ نگار نے وضاحت

کی کہہے جرمن میں سیرت نگاری کا جب ذکر گاائٓے تو برلین یونیورسڻی اور ا س کے سربراه الاستاذة انجلیکا نویفیریت Augelika Neuwirth) ( اور ایرلنغن یونیورسڻی او را س کی سربراه الاستاذه ہارتموت بوبتسین HartmutBobzin)( کا ذکر ضرور کیا جائے گا۔ اسی طرح جدید جرمن یونیورسڻی میں مدرسہ لایسبیغ

کا ذکر بھی ناگزیر ہے ص( ۱۱۰۔) ہرمان ریکندرف، جو اسی مدرسہ کا ترجمان ہے، اس کی تفصیل

پیش کرنے سے قبل مقالہ نگار نے ان خطوط کی نشان دہی کردی ہے جن سے جرمن میں بحث وتحقیق کے اس اہم مرکز کے نقوش واضح ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد ہرمان کی انفرادیت کی طرف اشاره کرتے ہوئے اس کی کتاب سیرت’’ نبی الاسلام ‘‘محمدؐ کا تفصیلی جایزه لیا ہے۔ یہ کتاب ایک سو چونتیس صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں کل پانچ عناوین ہیں۔ اس کا اسلوب خطابی ہے گویا کہ وه ایک ایسے قاری سے جواس موضوع میں ماہر نہیں ہے براه راست مخاطب ہوا ہے۔ ا س کے بعد پانچوں عناوین تاثیرات محمدؐ وآثاره، غزوات محمدؐ، محمدؐ واتباعہ علیۃ، القوم وعامۃ الناس اور کیف عامل

النبیؐ غیر المسلمین کے تحت ان کا تفصیلی جایزه لیا گیا ہے۔ ڈاکڻر حنان السقاط کامقالہ تقدیم کتاب طور محمداندریہ: حیاتہ وعقیدتہ کے عنوان سے شامل ہے۔ ابتدا میں طور اندریہ Torandrae:1885-1947ک ا تعار ف ہ ے او ر ا س ک ے امتیاز ی وجو ه پر روشنی ڈالی گئی ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ طوراندریہ نبی کریمؐ کی شخصیت پر فریفتہ ہے اور علم، اخلاق، روحانیت اور قیادت ہر لحاظ سے وه اپٓ کو عبقری شمار کرتا ہے۔ اس کے بعد اپٓؐ کی مختلف جہات کا جایزه لیتا ہے۔ اس تناظر میں بہت سے مقامات پر وه بالکل الگ رائے پیش کرتا نلیکہے، هو ہی تسلیم کرتا ہے کہ آپؐ ایک عظیم شخصیت کے مالک تھے۔طور اندریہ کا خیال ہے کہ محقق کے لیے موزوں یہی ہے کہ وه نبی کریمؐ کی تشکیل کرنے والے عناصر کو اس کا صحیح مقام دے۔ اس نے یہ بھی صراحت کی ہے کہ آپؐ کی تاثیر اپنے دین میں سب سے زیاده ہے۔ اس لیے آپؐ کا دین مادی وروحانی دونوں جہات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس کا دوسرا اہم وصف یہ ہے کہ اس کے نزدیک اسلام ایک ہمہ گیر روحانی تحریک ہے جو، انسان کی زندگی کو مقصد اور نصب العین عطا کرتی ہے۔ اسی طرح نبی کریمؐ کو مسلمانوں کے نزدیک جو مقام ومرتبہ اور بلند مقام حاصل ہے اس پر بھی اس نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔اپنے عیسائی سپ رمنظ یک ہوج ےس سا ےن تبہ ےس ینبو تواقعا یک مختلف توضیحات کی نبیہیں، کے انتظامی امور سے متعلق اس کی رائے یہ ہے

کہ آپؐ نے اپنے مشن کی تکمیل کے لیے ہر موقع کا فائده اڻھایا۔ اسی طرح آپؐ نے اپنے متبعین کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی کہ اسلام ہی صاف شفاف دین ہے۔ اس کے علاوه جتنے بھی مذاہب ہیں سب باطل کی آمیزش ہے۔ کتاب کی آخری فصل میں لله کے رسولؐ سے متعلق مغربی نظریہ پر روشنی ڈالی گئی ہے اور یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ یورپ میں نبیؐ کی جو منفی تصویر پیش کی گئی ہے اس کا اصل سبب ة۵٫ٴ۵نشا. الثانیہ کے دور کے ادباء ہیں، یہودی ومسیحی علماء کا اس میں کوئی قصور نہیں ص( ۱۲۳۔) مغربی مصنّفین نے ہمیشہ اس خیال کی تائیدکی کہ اپٓ نے ایک غیر حقیقی دین پیش کیا ہے اور اسلام نفرت وعداوت اور جبر واکراه کا دین ہے، جبکہ مغرب کے بالمقابل استشراق نے اسلام کی حقیقی صورت پیش

کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکڻر حسین تایتائی کا الاسلاممقالہ’’ والسیرة النبویۃ فی المانیا بین مناہج الاستشراق ودافع المسلمین المستشرق بیتر شول نموذجا‘‘ کے عنوان سے ہے۔مقالہ نگار نے صراحت کی ہے کہ مختلف تاریخی وسیاسی اسباب کی بنا پر فرانس، ہالینڈ، اڻلی اور برطانیہ کے بالمقابل جرمن میں مستشرقین کی تحقیقات کا سلسلہ کافی تاخیر سے تقریبا سولہویں صدی عیسوی میں شروع ہوا۔اس ضمن میں جرمن میں مسلمانوں کی آمد اور ان کے قیا م پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور یہ واضح کیا گیاہے کہ اس وقت تعداد کے لحاظ سے جرمن میں اسلام دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے۔استشراق کے پیش نظر شروع سے ہی اسلام اور عربی واسلامی تاریخ وثقافت کا مطالعہ رہا ہے، البتہ ان کے مقاصد کے ضمن میں نقاد کی مختلف آراء ہیں: یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی تہذیب وثقافت کی نشر واشاعت میں استشراق کا اہم کردار رہا ہے، لیکن اس سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا کہ ان کی تاریخ کو مسخ انکرنے، کے مذہب پر تنقید اور عالم اسلام پر سامراج کو غلبہ اور اقتدار عطا کرنے کے لیے ان میں کمزور مقامات کی نشان دہی بھی ہمیشہ

استشراق کے اہم مقاصد کا جز رہا ہے۔ اس کے بعد اسلامی موضوعات پر جرمن مستشرقین کا منہج کے عنوان سے چار الگ الگ مناہج کا تذکره کیا گیا ہے۔ المنہج’’ المسیحی الردیکالی، المنہج المحافظ الاکادیمی، المنہج العلمانی السیاسی اور المنہج الحواری الاجتماعی‘‘ اور بہت اختصار سے ا ن کا تعارف بھی کرایا گیا ۔ہے رآخ ںمی ’’ المنہج اللاتوری‘‘ کے عنوان سے مستشرق بیتر شول 2014-1924) Peter Scholl Latour: کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ واضح کیا گیا

ہے کہ اس کے منہج کا انحصار ان امور پر ہے:

۱۔اسلام کے تئیں اہل مغرب کے نظریہ کی تصحیح۔ ۲۔دین اسلام

میں قوت کے سرچشمہ کو نمایاں کرنا۔ ۳۔ثقافت اسلامی کی اسا س کا مطالعہ۔ ۴۔مقالات کے نشر واشاعت کے لیے ذرائع ابلاغ کا استعمال۔

۵۔عالم اسلام کا حقیقی اور زمینی مطالعہ۔ بیتر شول نے فکر اسلامی سے متعلق مغربی ہٴنقط نظر کا

معروضی انداز میں مطالعہ کیا ہے اور اسلام، اس کے فکری سرمایہ اور اسلامی ثقافت کے متعلق مغربی تحقیقات کا اپنی تحریروں میں کثرت سے تنقید کے ساتھ مسیحیت اورمغربی ثقافت کے اخلاقی وروحانی زوال کی طرف اشاره بھی کیا ہے۔ اسی طرح اس نے اسلام کی روحانی طاقت وقوت کی نشان دہی بھی کی ہے، البتہ اسلام کی نشر واشاعت سے متعلق اس کی

بعض آرا ناقابل قبول ہیں۔ اگلا البعدمقالہ’’ الاصولی والمقاصدی فی الکتابات الاستشراقیۃ

اللمانیہ‘‘ کے عنوان سے ڈاکڻر نورالدین بن مختار الخادمی کا ہے۔ اس کی ابتدا ء میں انہوں نے البعد’’ الاصولی‘ کی‘ تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس’’ کا مفہوم اصول فقہ سے متعلق تمام معلومات ونتائج کا علم ہے، جس کے ذریعہ اصول کی حقیقت آشکار ہوتی ہے خواه، مضمون کی معرفت یا علمی سطح پر یا اسلوبمنہج، اور کیفیت کی سطح پر یا کسی دوسرے ثقافتیعلمی، اور ماحولیاتی سطح پر یا عمومی، ثقافتی وعمرانی سطح پر‘‘ اور بعد مقاصدی کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے، شریعت’’ اسلامیہ کے مقاصد یا ان مقاصد پر عمل کو ظاہر کرنے والا پہلو بعد’’ مقاصدی‘‘ کہلاتا ہے ۔ اس سے ان کے شواہدنقوش، اور عناصر وآثار کا پتہ چلتا ہے۔مقاصد کی مختصر تعریف یہ ہے کہ اس سے مقصود مصالح کا حصول اور مفاسد کا ازالہ ہے۔ا س کے بعد مقالہ نگار نے یہ سوال پیدا کیا ہے کہ جرمن استشراق کی تحریروں سے مقصود کیا ہے؟ ان کا خیال ہے کہ مستشرقین کی تحریروں سے مقصود وه تحریریں ہیں جن کا مقصود مشرق عربی واسلامی کی تاریخ، تہذیب، ثقافت و تمدن، علوم وفنون، آداب، رسم ورواج اور آبادی وماحولیات سے بحث کرنا ہے۔ ایک سوال یہ بھی پید ا ہوتا ہے کہ کیا استشراق کے پیش نظر صرف شرق اسلامی کا مطالعہ ہے یا وسیع جغرافیائی وعالمی پس منظر میں پوری امت اسلامیہ کے مختلف اطوار ومراحل کا مطالعہ ہے؟ ایک مرکزی عنوان جرمن’’ استشراقی تحریروں کے اجمالی نقوش‘‘ کے نام سے قائم کیا ہے ، پھر مختلف ذیلی عناوین کے تحت ان کا تفصیل سے تجزیہ کیا ہے اور یہ واضح کیاہے کہ تاریخ اسلام، زبان وادب اور دیگر علوم وفنون کے موضوع پر جس طرح کی استقصائی

تحریریں مستشرقین کے یہاں ملتی ہیں۔ ایسی اختصاصی تحریروں کا اصو ل فقہ میں فقدان ہے البتہ جزئی اور سطحی انداز میں کہیں کہیں اس کا تذکره کیا گیا ہے جس سے اس کا پورا تصور واضح نہیں ہوتا۔ اس کے بعد الدراسۃ’’ المشبوہۃ والمشوہۃ للاصل والمقاصد‘‘ کے عنوان سے ان تحقیقات کا جائزه لیا ہے جن کا مقصد اصول ومقاصد کی حقیقت کو مسخ کرنا اور اسے غلط انداز میں پیش کرنا ہے۔مقالہ نگار نے صراحت کی ہے کہ مستشرقین کے پیش نظر ہمیشہ ناپاک عزائم، گندے محرکات اور سنگین قسم کے الزامات رہے ہیں اوراس کا مقصد عالم اسلام میں امن وسکون، تہذیب وثقافت اور قانون کی حالت کو مسخ کرنا اور اسے تباه وبرباد کرنا ہے۔ اس کے بعد اس کے چند مظاہر کی طرف اشاره کرکے ان کا تنقیدی

جایزه پیش کیاہے وه درج ذیل ہیں: ۱۔قرانٓ کریم کے تقدس، اعجاز اور تربیتی، تشریعی اور ثقافتی

خوبیوں کا انکار۔ ۲۔کتب احادیث کے سلسلے میں تشکیک اور روایات کا انکار۔ ۳۔رواة حدیث کے بارے میں تشکیک۔ ۴۔عربی زبان کے بارے میں تشکیک۔ ۵۔اسلامی مسلمانوںتاریخ، کی تہذیب وثقافت کے بارے میں تشکیک۔ اس کے بعد ان اسباب کا تفصیل سے جایزه لیا گیا ہے جس کی وجہ

سے مستشرقین کے یہاں غلط بیانی اور حقائق سے چشم پوشی در آئی ہے۔ آخر میں یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ ایسے مستشرقین بھی بڑی تعداد میں ہیں

جن کے یہاں معروضی انداز پایا جاتا ہے۔ ڈاکڻر سعید المغازی کا رسولمقالہ’’ للهؐ فی تصور المستشرقہ الالمانیۃ ماری شیمیل‘‘ کے عنوان سے ہے۔اس مقالہ میں ایک انصاف پسند اہم جرمن مستشرقہ محترمہ انا ماری شیمیل (۲۰۰۳ - ۱۹۲۲) اور ان کی کتاب وان’’ محمدا رسول کاتعارف‘‘للهؐ پیش کیا گیا ہے۔ اسلام، رسول اسلام، اسلامی وعربی تہذیب و ثقافت کی تاریخ، تصوف، صوفیانہ فکر، عربی ، فارسی اور موضوعاتجیسےزندگیموجودهکیمسلمانوںاورعربیخطشاعری،ترکی پر ان کی ایک درجن سے زائد کتب اور سینکڑوں مقالات ہیں۔ مقالہ نگار نے اس کی بعض اہم کتب کی فہرست بھی نقل کی ہے۔اس کے بعد سیرت نبوی سے متعلق اس کی اہم کتاب، جو ۱۸۹۱ میں جرمن زبان میں اور ۱۸۹۵ میں انگریزی میں شائع ہوئی تھی، اس کا تفصیل سے تعارف کرایا ہے۔ انگریزی ترجمہ کے مطابق کتاب کا عنوان ہے وان’’ محمدا رسول احتراملله: واجلال الرسول فی التدین ۔الاسلامی‘‘ اس میں مقدمہ وپیش لفظ کے علاوه باره فصلیں

ہیں۔ ان کے عناوین اس طرح ہیں:

۱سیرت- اور سیرت اعظمؐ کی اصطلاحات کی طرف اشاره۔

۲شمائل- اخلاقنبویؐ، وعادات رسولؐ کا تذکره۔ ۳- رسولؐ کی عظمت۔ ۴- معجزه۔ ۵- محمدؐ بحیثیت شفیع۔ ۶- اسماء النبیؐ۔ ۷نور- محمدیؐ۔ ۸عید- میلاد النبیؐ ۔ ۹- اسراء ومعراج۔ ۱۰- نبیؐ کی تعظیم میں عرب وغیر عرب کے منظوم قصائد، مدینۃ الرسولؐ کی زیارت کے عنوان سے شعراء کے قصائد، ہمدحی دقصائ وغیره ۔ ۱۱حیات- نبویؐ کی تشریح نو۔ ۱۲- شاعر اسلام

علامہ اقبال کی شاعری میں رسولؐ کا تذکره۔ مصنف ماری شیمیل کے مطابق مذکوره کتاب اس کی چالیس سالہ

کوششوں کا ثمره ہے۔ مقالہ نگار نے اس کی زندگی کے مختلف پہلو اور اس کی اسلام دوستی کاتفصیلی جایزه پیش کیا ہے اور ان الفاظ میں اس کی تحسین کی ہے: مصنفہ’’ کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے کھلے دل

سے اسلام کی عظمت اور اس کی علمی فتوحات کا اعتراف کیا ۔ہے‘‘ ڈاکڻر عبدالعزیز انمیرات کا مقالہ السیرة’’ النبویہ فی الاستشراق

الالمانی: نظرات فی الدراسات المنصفۃ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس میں ان انصاف پسند کامستشرقین جایزه ہے، جنہوں معروضینے انداز میں سیرت کا مطالعہ کیا ہے او ر کسی نظریہ کو اپنے اوپر مسلط کرکے احساس برتری کا شکار نہیں ہوئے ہیں۔ مقالہ نگار نے یہ صراحت کی ہے کہ استشراق کے پیش نظر دو خاص مقاصد رہے ہیں۔ سیاسی و سامراجی اورفکری وثقافتی بعض مستشرقین کے پیش نظراپنی تحقیقات کے ذریعہ تہذیب و ثقافت کے اس نمونے سے اگٓاہی حاصل کرنا تھاجس کی اساس اسلام نے وضع کی تھی اور تہذیب و ثقافت کے مختلف میدان میناس کے کارناموں کا تعارف مقصود نےتھاجس کیانطرفکینبویسنتاورکریمقرانٓ توجہخصوصی مبذول کروائی۔ ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ مغربی بحث وتحقیق میں اسلام کے متعلق جو بھی تحریریں منظر عام پر ائٓی ہیں ان میں سیرة النبی کو خاص توجہ حاصل رہی ہے، خواه انفرادی سطح پر یا اکیڈمی کی سطح پر اور ان میں سے بیش تر میں نظریہ میں اعتدال اور گفتگو میں انصاف کا لحاظ نہیں رکھا جاسکا اور اسلام دشمن مشنری ممالک نے اس کا جو دائره کار متعین کردیا تھا عموما وه اسی کے ارد گرد گردش کررہی ہیں۔ مقالہ نگار نے انصاف پسند مستشرقین کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے صحیح لکھا ہے: عربی’’ اور اسلامی سرمایہ کی بحث وتحقیق اورجمع وترتیب و تدوین میں بعض مستشرقین کی جو گراں قدر خدمات ہینانھیں کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اجٓ اسلام اور مسلمانوں سے متعلق استشراقی اداروں کے ناپاک عزائم، حقائق سے چشم پوشی اور حقیقت سے انحراف بالکل واضح ہے۔

مستشرقین کی کوششوں ہی کے نتیجہ میں ہزاروں کرم خورده مخطوطات ہٴعرص تک هٴپرد خفا میں ره کرمنظر عام پر ائٓے ہیں۔ مستشرقین کے متعلق خواه کسی بھی رائے کا اظہار کیا جائے جمع، وترتیب اور تحقیق وتدوین کے میدان میں ان نمایاںکی خدمات ہیں ۔بالخصوص جنہوں نے نظریاتی، اورمادی سامراجی وٴدبا کسیہوکربالاترسے صرفتکحد معروضیاورعلمی انداز میں اپنی بحث وتحقیق کے نمونے پیش کیے ہیں ۔ مقالہ کے اخٓر میں مقالہ نگار نے فلوجل، کریستان شنور (۱۸۲۲ - ۱۷۴۲) اور کارل بروکلمان کے حوالہ سے یہ واضح کیا ہے کہ ان کے بارے میں خواه کچھ بھی کہا جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہماری تہذیب و ثقافت، تاریخ اور علمی سرمایہ سے روشناس کرانے میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔ اسی طرح بہت سے مخطوطات ان کی کوششوں

سے زمانہ کی دست برد سے محفوظ رہے ہیں ۔ غوتہ’’ ورسول الاسلام ‘‘محمدؐ کے عنوان سے ڈاکڻر عبدالرزاق مسلک کا مقالہ بھی شامل کتاب ہے۔ جرمن شعراء وادبا ء کی ا س فہرست میں، جنہیں مشرق اور عالم اسلام کی تہذیب وثقافت اور آداب سے خصوصی دلچسپی رہی ہے، ایک اہم نام غوتہ کا ہے۔عربی شعر وادب اور اسلام سے اس کی دلچسپی کی وجہ سے اس کی ادبی تحریروں میں اثر پذیری صاف نظر آتی ہے۔ انشودة’’ ‘محمدؐ ‘ کے نام سے اس نے شان رسالت میں جو مدحیہ قصیده کہا ہے اس نے ہمیشہ کے لیے اسے زنده وجاوید بنادیا ہے۔ اس مقالہ میں لله کے رسولؐ کے بارے میں غوتہ کے نظریہ اور ان ادبی الہامات کا تذکره ہے جس کا سرچشمہ ذات رسولؐ ہے۔مقالہ نگا ر نے تفصیل سے ان اسباب پر روشنی ڈالی ہے جن کے نتیجہ میں عربی زبان اوروادب اسلام سے غوتہ دلچسپیکی نےہے۔اسرہی اس کی دو خاص وجہیں بتائی ہیں ایک تو وه غوتہ کے زمانہ میں رواج پذیر افکار اور ےدوسر ہغوت اک یذات ،رجحان سج یک ہوج ےس هو اپنے معاصرین میں ممتار ہے۔ آخر میں اس کے بعض اشعار انشودة’’ ‘‘محمدؐ

سے پیش کیے گئے ہیں، جن سے اس کی عقیدت کا اظہار ہوتا ہے۔ اخٓری مقالہ ڈاکڻر خالد لزعر کا الاسلام’’ ونبیہ محمد والجدل

بعضہما فی بعض الکتابات الالمانیہ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ مقالہ کا اغٓاز اس بحث سے ہوا ہے کہ ادب الرحلات میں اسلام کی جو تصویر پیش کی گئی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس کا اسلام اور مسیحیت کے مابین مکالمہ سے کوئی تعلق ہے،نہیں اسبلکہ میں اسلام کو اورخوف دہشت کی علامت قرار دیا گیا ہے۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ مختلف جرمن سیاحوں نے اسلام کے تعلق سے جو آراء پیش کی ہیں ان کے سبب شروع سے ہی اسلام کی غلط

تصویر پیش ہوئی ہے۔ مقالہ نگار نے حرمن زبان میں ان کی کتابوں سے متعدد اقتباسات نقل کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ اس طرح کے جملے عام قارئین کے ذہن میں خوف کی کیفیت پیدا کرتے ہیں اور اسلام کا انکار اور مسلمانوں سے بغض وعناد ان کی مجبوری بن جاتی ہے۔مشہور جرمن سیاح جی رولفس (1896-1831 Grehard Rohlps: ( مسلمانوں کے ساتھ کسی بھی دینی مسئلہ میں بحث ومباحثہ سے یہ جواز پیش کرتے ہوئے منع کیا ہے کہ وه منطقی زبان نہیں سمجھتے اور ان کے نزدیک ہر بحث کا جواب صرف اگٓ اور تلوار ہے۔ تاریخی حوالہ سے اپنی بحث کو مدلل کرتے ہوئے مقالہ نگار کا خیال ہے کہ ساتویں صدی سے سترہویں صدی کے آخر تک یعنی تقریبا ایک ہزار سال بالعموم مغرب کا اسلام کے تعلق سے معاندانہ ہٴنقط نظر رہا ہے۔ صلیبی جنگ کے اغٓاز سے ہی اسلام کو نقصان پہنچانے اور اس کے خلاف برسرپیکار ہونے کے مقصد سے اصحاب کلیسا کی پشت پناہی میں قرانٓ کریم کے متعدد تراجم ہوئے ہیں۔ اس کا اغٓاز ۱۱۴۳ھ میں ایک پادری سےترجمہکے ہوا ہے۔اربابِ کلیسا کی اسلام دشمنی تکقرآنصرف محدود نہیں رہی، بلکہ انہوں نے رسول اسلامؐ اور اسلامی نصوص کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ مقالہ نگار نے تاریخی تناظر میں بہت سے جرمن مستشرقین کا حوالہ دیا ہے اور ان کی کتب سے اسلام مخالف اقتباسات بھی پیش کیے ہیں اور واضح کیا ہے کہ اس طرح کے اقوال بغیر کسی حوالہ کے جرمنی

صحافت میں کثرت سے منقول ہیں ۔ کتاب کے اخٓر میں چوده نکات کی صورت میں سیمینار میں منظور

ہونے والی چوده اہم تجاویز اور سہ روزه سیمینار کی مفصل رپورٹ بھی شامل ہے اور افتتاحی اجلاس میں خطاب کرنے والی اہم شخصیات کے خطبات بھی اس میں شامل کردئے گئے ہیں ۔خلاصہ یہ ہے کہ سیرة النبیؐ کے موضوعات پر جرمن مستشرقین کی تحقیقات، ان کے ہٴطریق کار، اس فن میں جرمن زبان میں موجود هٴذخیر کتب، جرمن اصحاب علم کی نگاه میں لله کے رسولؐ کی حیثیت کا اندازه ہوتا ہے اور جرمن جامعات میں سیرة النبیؐ کے موضوعات سے دلچسپی رکھنے والوں کے سامنے غور وفکر کا ایک نیا باب وا ہوتا ہے۔ یہ کتاب دستاویزی حیثیت کی حامل ہے۔ سیرة النبیؐ کے تعلق سے جرمن مستشرقین کی خدمات کا جب بھی ذکر آئے

گا اس کتاب کو نظر انداز کرنا آسان نہ ہوگا۔

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.