جہان’’ شبلی‘‘ ڈاکڻر محمد الیاس الاعظمی

Maarif - - ۳�۳ ء۲۰۱۸ مئی معارف ۵/۲۰۱ - azmi408@gmail.com

ہشتم قسط کی شبلی‘‘ جہان’’ میں شماره کے ء۲۰۱۸ اپریل معارف دو دریافت نو کے ء)۱۹۱۴ -۱۸۵۷( شبلی علامہ میں جس ہے ہوئی شائع کی شبلی علامہ باوجود کے جانے گذر صدی ایک ہیں۔ شامل خطوط ہے جاسکتا لگایا اندازه سے اس ہے، جاری سلسلہ کا دریافت کی تحریروں سے دہائی ڈیڑھ گذشتہ سطور راقم ہے۔ وسیع درجہ کس شبلی جہان کہ مکتوبات کت با راو ےہ فمصرو ںمی نتدوی و عجم یک یشبل تباقیا نوادرات اور شبلی مراسلات شبلی، جہان اور شبلی شبلی، شذرات شبلی، کی خطوط مذکوره ہے۔ کرچکا پیش میں خدمت کی شبلی قدردانان شبلی، اس البتہ ہے ہوا اضافہ میں شبلی ذخیره یقینا سے اشاعت اور دریافت

ہیں۔ طلب توجہ اور تصحیح امور چند میں مضمون زبیری امین محمد منشی جو خط دوسرا شامل میں شبلی جہان مشاہیر’’ مضمون کے فاروقی حمزه محمد ہے، نام کے ء)۱۹۵۸ -۱۸۷۰) ج اردو، مجلہ مطبوعہ( نام‘‘ کے زبیری امین خطوط مطبوعہ غیر کے نے فاروقی حمزه محمد ہے۔ گیا کیا نقل سے ء)۲۰۱۳ ،۴۱ شماره ،۹۰-۸۹ جہان ہوئے کرتے زنی رائے پر اس ہے لکھی تمہید جو میں مضمون اپنے

کہ: ہے لکھا نے مرتب کے شبلی کے مہدی محمد خلاف کے شبلی مولانا الحروف راقم’’

میں شبلی‘‘ کتابیات’’ ہے۔ لاعلم سے کتابچے بھی کسی لکھے ۔نہیں‘‘ ذکر) (؟ مذکور کا رسالے ای کتاب کسی ایسے بھی

(۲۹۸ ص ء،۲۰۱۸ اپریل معارف( کی راقم ہیں۔ نہیں صحیح باتیں دونوں یہ کی بدایونی شمس ڈاکڻر ملاحظہ ہے۔ موجود اندراج کا رسالہ اس میں شبلی‘‘ کتابیات’’ کرده مرتب اعظم دارالمصنّفین مطبوعہ ،۴۰۲ نمبر اندراج ،۷۶ ص شبلی، کتابیات ہو

ء۔۲۰۱۱ گڑھ،

محمد مہدی کا رسالہ تذکره’’ شمس العلماء مولانا شبلی‘‘ مختلف کتب

خانوں میں محفوظ ہے۔ ایک نسخہ مولانا ازٓاد لائبریری علی گڑھ کے ڈاکڻر رام بابو سکسینہ کلیکشن میں بھی ہے، اس کا عکس راقم کے پاس بھی ہے۔ ؍۶۱ صفحات پر مشتمل یہ رسالہ بشیر پاشا سیریز کے تحت اسلامیہ ہائی اسکول اڻاوه سے شائع ہوا ہے۔ سنہ اشاعت ندارد، البتہ دیباچہ پر ؍۷ دسمبر ء۱۹۲۵ کی تاریخ درج ہے۔ محمد حمزه فاروقی کی یہ رائے بھی صحیح ہے کہ یہ رسالہ منشی

محمد امین زبیری ہی کی کوشش کا نتیجہ ہے۔ محمد مہدی نے دیباچہ کا آغاز اس طرح کیا ہے: مولوی’’ محمد امین صاحب کی فرمائش کی تعمیل میں بشیر پاشا سیریز کے لیے اس سے قبل تذکره’’ مولانا نذیر احمد صاحب مرحوم و مغفور‘‘ لکھا تھا اور تذکره ہذا بھی اسی سلسلہ کے لیے مولوی صاحب ممدوح ہی کی فرمائش سے مرتب کیا گیا ۔ہے‘‘ البتہ یہ رسالہ علامہ شبلی کے خلاف نہیں لکھا گیا ہے۔ محمد حمزه فاروقی نے اپنے مضمون کی تمہید میں امین زبیری کے

خطوط شبلی کی تدوین و اشاعت اور ان کے معاندانہ رویے کا ذکر کیا ہے، ڈاکڻر شمس بدایونی نے اس کی تردید کی ہے اور اپنے موقف کی تائید میں اپنے ہی مقدمہ خطوط شبلی کا یہ اقتباس نقل کیا ہے: ان’’ خطوط کی ترتیب کے وقت مرتبین کی نیت شبلی کی

کردار کشی اور بدنامی کی نہ تھی بلکہ ایک عبقری شخصیت کی

زندگی کے ایک نئے انوکھے اور کسی حدتک نامعلوم پہلو اور افکار شبلی پر اس کی نشاندہی تھی جیسا کہ دونوں دیباچوں خطوط( شبلی، طبع اول و دوم) کے مطالعہ سے اندازه ہوتا ۔ہے‘‘ بحوالہ( معارف اپریل ء،۲۰۱۸ ص (۲۹۸ ڈاکڻر خالد ندیم نے اپنی کتاب شبلی’’ شکنی کی روایت اور دوسرے

مضامین‘‘ نشریات( لاہور ء)۲۰۱۷ میں بھی یہی رائے پیش کی ہے۔ ص ۱۹ خطوط شبلی کا مقدمہ منشی امین زبیری نے بابائے اردو مولوی عبدالحق سے لکھوایا جو اس وقت -۲۶( ء)۱۹۲۵ علمی حلقوں میں شبلی مخالف سمجھے جاتے تھے، چنانچہ انہوں نے مقدمہ میں بہت سی لایعنی باتوں اکل( کھرے، تنگ مزاج) کے علاوه یہ بھی لکھا کہ مولانا’’ شبلی کی تصانیف کو ابھی سے لونی لگنی شروع

سخت بہتوهسکتا،بچنہیںکوئیسےہاتھوںکےزمانہہے۔ہوگئی کتابیں بعضکیانہے۔ ہاتھ کے اسیانصافاخٓریمگرہے مزاج صرف بعد کے مدت کچھ اور ہیں جاتے بھولتے لوگ سے ابھی ،۲۶ ص اول، طبع ، شبلی خطوط( ۔گی‘‘ ائٓیں نظر میں خانوں کتاب

بھوپال) امین منشی باوجود کے اشاعت کی اس اور شکنی شبلی صریح اس حقیقت ہوتا۔ معلوم نہیں انصاف قرین دینا قرار صاف کم از کم کو نیت کی زبیری نقطہ کاشکنیشبلی مقدمہ کااس بالخصوصاشاعت کیشبلی خطوطکہ ہے یہ کتابیں اور مضامین جو نے زبیری امین منشی میں ادوار کے بعد ہے۔ اغٓاز قلم اہل دوسرے میں بعد کہ ہے یہ واقعہ ہیں، حصہ کا شکنی شبلی سب وه لکھیں کا سب ان ہوئے مرتکب کے کشی کردار اور لکھیں کتابیں مخالفانہ جو نے

ہیں۔ تحریریں کی ہی زبیری منشی اور مقدمہ کا اردو بابائے ماخذ بنیادی جس مقدمہ کاشبلی خطوط کہ ہے ہوتا معلومضروری بھی ذکر یہ یہاں

تنقید مضامین سلسلہ کا شیرانی محمود حافظ گیا، لکھا میں ء)۱۹۲۵ -۲۶( زمانہ یہ رہا۔ جاری تک بعد سال دو اور تھا جاری سے پہلے سال تین العجم، شعر شائع میں اردو‘‘’’ رسالہ کے ان نگرانی زیر کی اردو بابائے خود مضامین سلسلہ حبیب مولانا لیے کے لکھنے مقدمہ نے زبیری امین باوجود کے اس تھا۔ ہورہا کے ندوی سلیمان سید مولانا اور دریابادی عبدالماجد مولانا شروانی، الرحمٰن نیت کی ان کہ جائے کرلیا تسلیم کیسے یہ پھر کیا، انتخاب کا اردو بابائے بجائے امین منشی سے شبلی علامہ کہ ہے ضرور بات خیز تعجب یہ ہاں تھی۔ صاف العجم شعر توجہ ساری کی علامہ ہوئے قائم روابط میں زمانہ جس کے زبیری تھے کرچکے عزم یہ وه اور تھی ہوچکی طرف کی النبیؐ سیرة کر ہٹ سے دے کتاب ایسی ایک کو دنیا تو رہی سلامت بھی آنکھ ایک اور گیا نہ مر اگر’’ کام پاکیزه اسی اور ۔ہوسکتی‘‘ نہیں تک برس سو کئی توقع کی جس گا، وںٴجا اور لکھے خطوط بار کوبار زبیری امین محبی‘‘’’ نے انہوں لیے کے تکمیل کی الصحابہ سیر النبیؐ، سیرة صرف نہ سے افشانی‘‘ زر’’ کی جہاں سلطان بیگم قومی یہ کی شبلی دیکھا۔ خواب کا دہی انجام کی کاموں علمی دوسرے بلکہ کارنامے تاریخی اور ادبی علمی، الشان عظیم کے ان اور سوزی دل دردمندی، جس اور ائٓے نہیں نظر کر کیوں میں مقابلہ کے شبلی خطوط کو زبیری امین سونحکیشبلیعلامہلکھیںعمریاںسوانحکیکمالاربابکئینےانہوںطرح کہ رہے واضح لکھا۔ نہیں کیوں تذکره کا کارناموں جہت ہمہ کے ان اور عمری و حیات کی شبلی علامہ جب گیا کیا وقت اس اہتمام کا اشاعت کی شبلی خطوط

تھی۔ ہوئی نہیں شائع کتاب مستقل کوئی پر خدمات

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.