کی ندویؒ سلیمان سید علامہ انتقال کا عاصم شمیمہ صاحبزادی (۲۰۱۸ - ۱۹۲۴)

Maarif - - ۳۹۳ ء۲۰۱۸ مئی معارف ۵/۲۰۱ -

شمیمہمحترمہ صاحبزادیبڑیسےسب کیندوی سلیمان سید علامہ مرحومہ شمیمہ ہوگیا۔ انتقال صبح کی اپریل ؍۱۲ مورخہ میں کراچی کا عاصم کی مرحومہ انشاءلله تھیں۔ خاتون اخلاق اوربا دل ساده سیرت، نیک انتہائی ان تاج کا مغفرت و رحمت اور ہوگی سفارشی میں الٰہی دربارِ نیکی ایک ایک

ہوگا۔ پر سر کے سے تھیں۔سب بیڻیاں چار اور بیڻے دو کے ندوی سلیمان سید علامہ ء۱۹۱۶ اپریل میں گڑھ اعظممنزل، شبلی جو تھے سہیل ابو سید بیڻے بڑے پر عہدے کے افٓیسر کسڻم وه ہوگئے۔وہاں منتقل کراچی میں بعد ہوئے، پیدا میں لڑکیاں تین اور طفیل ابو سید اور ابوفضیل سید بیڻے دو کے ان ہوئے۔ فائز میں کراچی بچے تمام باقی اور کنیڈا فضیل ابو سید ہیں۔ سمیہ اور فائقہ شائقہ، سید ہوا۔ میں کراچی میں ء۱۹۹۵ دسمبر ؍۱۵ انتقال کا سہیل ابو سید ہیں۔ مقیم ء۱۹۳۲اکتوبر؍۶جو ہیںلله حفظہ ندوی سلمانسید بیڻے دوسرے کےصاحب کی افریقہ جنوبی ندوی سلمان سید ہوئے۔ پیدا میں گڑھ اعظم منزل، شبلی کو ہیں۔ چکے ره اسلامیات ہٴمطالع ہٴشعب صدر اور پروفیسر میں یونیورسڻی ڈربن اور میں امریکا سال کئی ہیں۔ مقیم وہیں بعد کے ہونے سبکدوش سے ملازمت میں اسڻڈیز اسلامک فار سینڻر اکٓسفورڈ اور کالج کراس سینٹ میں برطانیہ وائس ، ارٓڻس آف فیکلڻی ڈین وه علاوه کے اس ہیں۔ دی انجام خدمات تدریسی شمیمہ ہیں۔ رہے بھی رکن کے سینٹ اور کار صلاح خصوصی کے چانسلر بیڻی دوسری تھیں، بڑی سے سب میں بیڻیوں کی صاحب سید عاصم میں گڑھ علی منزل، حنا جو ہیںایس) اے ائٓیصاحب: حسین سید بیگمشکیلہ( کراچی جو ہیں لله) عطاء سید ڈاکڻر بیگم( شمیسہ بیڻی تیسری ہیں۔ حیات بقید کرتی آیا ہیں، رہتی میں قطر جو ہاں کے شاذیہ بیڻی اپنی اکثر اور ہیں مقیم میں ان ہیں، الدین) محی سید بیگم( ثوبیہ بیڻی چھوڻی سے سب کی صاحب سید ہیں۔

ہوا۔ میں کراچی کو ء۱۹۸۸ اکتوبر ؍۵ انتقال کا ان تاراتھا، نام گھریلو کا بہار۔ پڻنہ،

دار کو ء۱۹۲۴ ی جنور ؍ ۲۴ پیدائش کی عاصم شمیمہ مرحومہ

یہ جب گزرا۔ بچپن کا ان وہیں ہوئی۔ میں گڑھ اعظم منزل شبلی، المصنّفین بھی میں مجلسوں وادبی علمی ساتھ اپنے اکثر انھیں صاحب سید تو تھیں چھوڻی مجلس ایک صاحب سید کہ ہے واقعہ کا دفعہ ایک چنانچہ تھے۔ کرتے جایا لے گاندھی تھے۔ موجود بھی جی گاندھی جہاں گئے لے ساتھ اپنے بھی انھیں میں تقریباعمرکیانوقتاسدیا۔میںتحفہہارقیمتیایککوعاصمشمیمہنےجی میں کہا کر لے ہار یہ سے جی گاندھی نے عاصم شمیمہ ہوگی۔ رہی سال ۹-۸ کرتی نام کے عوام کے ہندوستان اسے میں گی۔ کروں کیا کر لے ہار قیمتی اتنا سے واقعہ اس جی گاندھی کردیا۔ واپس کو جی گاندھی ہار کر کہہ یہ اور ہوں جذبے کے لڑکی اس میں کہ کہا میں مجلس اسی نے انہوں اور ہوئے متاثر بہت

(۱( ہوں۔ متاثر بہت سے سےصاحبعاصمابوسیدجنابمیںء۱۹۴۱ نکاحکاشمیمہمرحومہ تھے۔ بھتیجے زاد چچا کے صاحب سید صاحب، عاصم ابو سید ہوا۔ میں دیسنہ مسلم گڑھ علی نے انہوں ہوئے۔ پیدا میں دیسنہ میں ء۱۹۱۷ عاصم ابو سید وه میں بعد کی، حاصل ڈگری کی بی ایل۔ ۔ ایل پھر ایم۔اے۔ سے یونیورسڻی پروفیسر میں کامرس افٓ کالج گورنمنٹ میں کراچی اور ہوگئے منتقل کراچی پیشہ کا وکالت پر طور مستقل پھر رہے۔ بھی میں سیاست دنوں کچھ ہوگئے۔ ان کو ء۱۹۹۹ مئی ؍۱۱رہے۔ وابستہ سے اسی تک وقت اخیر اور لیا کر اختیار وانشا ادیب اچھے علاوه کے ہونے قانون ماہر وه ہوگیا۔ میں کراچی انتقال کا مختلف مقالے قدر گراں کئی کے ان پر ندویؒ سلیمان سید علامہ تھے۔ پرداز مشتمل پر تحریروں وفیاتی کی صاحب سید ہیں۔ موجود میں کتابوں اور رسائل شائع سے کراچی الشرق، مکتبہ میں ء۱۹۵۵ بار پہلی جو رفتگاں‘‘ یاد’’ کتاب

تھا۔ سے قلم کے عاصم ابو سید مقدمہ مفصل و موثر نہایت کا اس تھی ہوئی ایک کے ان تھیں۔ بیڻیاں دو اور بیڻے تین کے عاصم شمیمہ مرحومہ جناح میں ء۱۹۵۴جمعہ بروز جولائی ؍۲۲ میں سنی کم انتقال کا عامر ابو بیڻے اپنے چنانچہ تھا ناک اندوه ہی بڑا لیے کے ان واقعہ یہ ہوا۔ میں کراچی اسپتال، میری’’ کہ لکھا ہوئے کرتے کاذکر اس میں گل‘‘ بوئے’’ مجموعے شعری کی ندوی سلیمان سید علامہ حضرت والد میرے حادثہ ناک اندوه پہلا کا زندگی بھی سنبھلنے سے غم اس ابھی اور ہوئی کو ء۱۹۵۳ نومبر ؍۲۲ جو تھی وفات دس ءکو۱۹۴۸ اپریل ؍۱۲ جو عامر ابو سید بچہ سالہ ۸ میرا کہ تھی پائی نہیں ان الرحمہ علیہ صاحب والد جہاں( تھا ہوا پیدا میں بھوپال محل، شیش دن بجے فون مجھے نے بہن) زاد پھوپھی( ہادی شمیسہ بہن چھوڻی کی عاصم شمیمہ واقعہ یہ )۱) ہیں۔ مقیم یہاں کے شازیہ بیڻی اپنی میں قطر دنوں ان جو بتایا، پر

مہینوں چند کے وفات کی نانا اپنے تھے) مامور پر عہدے کے القضاة قاضی دنوں کے اکٓسیجن میں اسپتال جناح شام بجے ۶ ء،۱۹۵۴ جمعہ بروز جولائی ؍۲۲ بعد لیے کے ہمیشہ کر چھوڑ تڑپتا کو سب ہم ہوا کرتا کشمکش سے وموت حیات ساتھ دلی نے حادثہ جانکاه اس ۔ راجعون الیہ وانا ﻟﻠہانا جاملا۔ سے حقیقی مالک ہوکر جدا بے کی دل اور دیا کاحوصلہ پکڑنے قلم بار پہلی لیے کے اظہار کے ترجمانی

(۴۲ ص گل، بوئے مجموعہ شعری( ۔گئی‘‘ ڈھل میں الفاظ قراری بیڻے دو باقی ہے۔ سے نام کے جذبات‘‘ کے ماں زده غم’’ نظم درد پُر یہ

کے ان ہیں میں کراچی ‘‘ شمونہ’’ بیڻی بڑی سے سب ہیں۔ حیات بقید دوبیڻیاں اور بیڻوں ہیں۔ رہتی میں ریاض جو ہیں سیما‘‘’’ بیڻی دوسری ہے۔ ہوچکا انتقال کا شوہر اور کراچی مہینہ چھ وه ہیں انجینئر میرین جو ہیں ابوعادل سید بڑے سے سب میں میں کراچی عاشر ابو سید بیڻے چھوڻے ہیں۔ رہتے میں نائجیریا لاگوس مہینہ چھ

ہے۔ بزنس کا .I.T اپنا کا ان ہیں، ہے ظاہر اہمیت کی اس اور توجہ کی والدین میں تربیت و تعلیم کی بچوں

جب نے عاصم شمیمہ ہے۔ سکتا جا دیکھا بخوبی عکس کا والدین میں صالح اولادِ کا گہواره کے فضل و علم جیسے گڑھ اعظم دارالمصنّفین انہیں تو سنبھالا ہوش بھینعمتکیرہنمائیکی شخصیتجیسیصاحبسیداورملاماحولوادبیعلمی ماحول گذارا۔ ساتھ کے بزرگوں علم اہل بچپن پورا اپنا وہاں نے انہوں ہوئی۔ میسر نے شوق و ذوق اس رفتہ رفتہ کیا۔ پیدا شوق کا پڑھنے لکھنے بھی اندر کے ان نے کاغذ ذریعہ کے قلم کو جذبات دلی بھی نے زمانہ حوادث اور لی کر اختیار پختگی میں زمانے اس افسانے و مضامین کے ان چنانچہدیا۔ کر مجبور پرنے کر منتقل پر ہندو ملک تقسیم ہوئے۔ شائع میں رسالوں جیسے عصمت‘‘’’ اور نسواں‘‘ تہذیب’’ نعت حمد ، غزلیں نظمیں، سینکڑوں کی ان تک اب میں رسالوں مختلف کے پاک سعادت کی کرنے پیش کو نظم ایک صرف کی ان یہاں ہیں۔ چکی ہو شائع وغیره تفصیل کی ندی اس ہے۔ لکھی پر ندی‘‘ جرائن’’ نے انہوں جو ہوں۔ رہا کر حاصل کبھی ہے گذرتی کر ہو سے گائوں دیسنہ کے بہار صوبہ یہ کہ ہے طرح اس کچھ جہاں بستی دیسنہ یعنی تھی۔ رکھتی درجہ کا پناه‘‘ شہر’’ لیے کے گائوں اس ندی یہ پارکے ندی تھی۔گذرتیہوئیلہراتی ندیطویل طولیہسے وہیں تھیہوتیختم پر نہیں اسٓان جانا انٓا جہاں تھیں۔ ابٓاد بستیاں چھوڻی چھوڻی کی ہندوئوں اور مسلمانوں نہیں موجود وقت ہر بھی کشتی پر، کشتی پھر یا جائیں آئیں کر تیر خود تو یا تھا۔ تھا۔ نہیں ممکن وقت ہر جو تھا پڑتا کرنا اہتمام پر طور کاخاص اس بلکہ تھی۔ رہتی تھے۔ جاتے آتے کر گزر لوگ تو تھا جاتا ہو کم پانی کا اس جب میں گرمیوں ہاں چھوڻی والے بستی وقت کے شام جہاں تھا میدان وسیع بڑا کا ریت کنارے کے ندی کسی کو اس سے لحاظ کے دلچسپی اپنی اپنی اور ہوجاتے جمع میں ڻولیوں چھوڻی میں زمانے اس دیتے۔ بدل میں ماحول پرلطف کے ساحل سمندری خوبصورت

کی ہندوستان لیے کے دیکھنے جسے تھی بھی لائبریری بڑی بہت ایک میں دیسنہ کرپلانی،اچٓاریہ پرشاد، راجندر بابو جیسے تھیں۔ لاتی تشریف شخصیتیں بڑی بڑی حبیب ورما، ناتھ بدری ، صاحب محمود سید ڈاکڻر صاحب، حسین ذاکر ڈاکڻر ضرور دیدار کا ندی اس سب وه وغیره، گاندھی مہاتما شروانی، خاں الرحمٰن لیکن ہیں وابستہ یادیں سی بہت کی والوں دیسنہ سے ندی اس طرح اس کرتے۔ سے اس چہ چناں سکا ره نہیں محفوظ بھی وںٴگا یہ سے ہنگاموں کے ازٓادی جنگ

: لکھی نظم پردرد یہ نے عاصم شمیمہ مرحومہ ہوکر متاثر

جرائن’’ ندی‘‘

وفا و مہر هٴجاد جرائن ائے ! جرائن اے ہوا کیا زمانہ وه رفاقت! تیری وه ہائے کو شام ہمیشہ پر ندی تھیں جمتی محفلیں کو شام تماشا یہ تھے دیکھتے آکر لوگ میں پیر و جوان تھے مباحث علمی طرف اک میں شمشیر و کشتی رہتے مصروف کچھ اور ہے یاد کبڈی وه کی دیسنہ نوجوان

ہے یاد ندی اپنی کی وطن کو مجھ ہے یاد ماں الا اتنا شور اتنا کے بچوں قہقہے کناں ماتم تھی سے حسرت کر دیکھ گردوں چشم گی جائے لگ یہاں ایسی اک آگ تھی خبر کیا گی جائے بجھ یہاں کی چراغوں کتنے روشنی ہے یاد زمانہ خونی وه کا آزادی جنگ ہے یاد بہانا کا آنسو پہ لاشوں کفن بے سے مظلومین خونِ پانی کا ندی ہے سرخ کے معصومین ننھے لاشے تھے آتے تیرتے گواه کی شہیدوں خونِ ہے تو تو جرائن اے گواه کی شہیدوں رہنا وہاں بھی محشر روزِ

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.