باب التقریظ والانتقاد

Maarif - - ۳۸� ء ۲۰۱۸ مئی معارف ۵/۲۰۱ - تحریر بے’’ عدیل‘‘ مرتب ڈاکڻر مسعود الحسن عثمانی

متوسط سے قدرے بڑی تقطیع، سولہ سو صفحات پر مشتمل، مجلد مع گرد پوش کی یہ کتاب اپنی ضخامت، جامعیت اور افادیت، ہر لحاظ سے واقعی اسم بامسمیٰ ہے بلکہ یہ کتاب’’ بے عدیل‘‘ کہی جانے کی بجا طورپر مستحق ہے۔ کہا گیا کہ یہ قاضی عدیل عباسی مرحوم کی پچاس سال کی تحریروں کا انتخاب ہے، لیکن اس انتخاب میں جس دیده ریزی، پھر اس کی کمپوزنگ، پروف ریڈنگ، طباعت، اشاعت میں جن جاں گداز مراحل سے

گزرنا پڑا ہوگا، اس کا اندازه کرنا آسان نہیں۔ قاضی عدیل عباسی مرحوم، صحافی تھے، تحریک خلافت میں

شامل ہی نہیں اس کے رکن رکین تھے، مسلم یونیورسڻی اور اردو کی محبت میں سرشار تھے، سیاست کے میدان کے مردان کار میں تھے، لیکن سب سے بڑھ کر وه ملی حمیت اور ملک میں شریعت کے تحفظ کے اس جذبہ سے معمور تھے جس کی مثالیں اور روشن مثالیں کم ہی ملتی ہیں اور جس کا سب سے بڑا ثبوت ملک کی ازٓادی کے بعد، انتہائی نامساعد حالات میں مسلمان بچوں کی دینی تعلیم کے لیے ان کی بے مثال جد و جہد ہے، فرزانگی کے ساتھ دیوانگی کے ایسے امتزاج کا نہایت خوش گوار مشاہده،

ملت کی قسمت میں کم ہی آتا ہے۔ قاضی صاحب مرحوم نے اس سال اس دنیا میں آنکھیں کھولیں جس سال سرسید نے اپنی آنکھیں موند لی تھیں، یہ تو محض اتفاق ہے لیکن بعض اتفاقات اپنے دامن میں ایسی داستانیں چھپائے رکھتے ہیں کہ داستانوں کا سلسلہ قائم کرنے میں دشواری نہیں ہوتی۔ دیکھنے اور سننے والوں کے لیے آسانی ہوتی ہے کہ ایک باب ختم ہونے پر دوسرے باب کی ابتدا، نامانوس نہیں ره جاتی، استعجاب نہیں ره جاتا کہ ایک نے ملت کے مصائب و مسائل کا حل، غاصب اور استعماری یلغار میں کس طرح تلاش کیا تو دوسرے نے اپنی ہی حکومت اور آزاد فضا میں حقیقی آزادی کی راه ہموار

کرنے میں کس طرح جسم و جاں کی قربانی پیش کی۔ تحریر بے عدیل دراصل حریت بے عدیل کی داستان ہے، ایسی داستان

عجب کیسا ہے، کردار کا قوم ایک امت ایک دراصل کردار مرکزی میں جس طاقت باجبروت ایک نوجوان نوخیز کا سال چوبیس بائیس محض کہ ہے معاملہ سلطنت کون کو ہند اہل کہ ہو کررہا بلند حق هٴاوٓاز سے جراٴت اس سامنے کے حق کیا کا کرنے ایسا اسے اور ہے کرسکتا مجبور پر رہنے ملحق سے برطانیہ کر چھین حرب الٓات سے ہم میں مدت قلیل نے اس کہ لیے اس صرف کیا ہے؟ ازٓادی و عصبیت سے قلوب ہمارے کرکے بزدل زیاده سے نازک صنف ہمیں سے برطانیہ حکومت ہمیں جو ہے چیز کیا وه ...... لیے کھینچ جذبات تمام کے

ہے؟ کررہی مجبور پر رہنے ملحق نہیں لیے اس ابُال اور جوش کا عمر صرف کو جذبات ان کے نوجوانی قریب یعنی میں ء۱۹۳۰ بھی، استحکام اور ہے بھی ارتقاء میں ان کہ جاسکتا کہا کیا سے جملہ اس مشاہده کا جوش و فکر ارتقائے اس میں عمر کی سال تیس کہ نہیں قابل اس استغراق کا ممات بعد حیات تصور، کا موت کیا’’ کہ ہے جاسکتا اصل کا رفعتوں کی نظر و فکر میں ء۱۹۳۸جائے،نکالاوقتواسطےکے اس اسلام خدمت ہیں، العین نصب بڑےدو کے زندگیمیری’’ کہ اگٓیا سامنے بھی مقام سے برادری انسانی عام تعلق کا ایک’’ کہ تھی واضح بھی وجہ حریت‘‘ خدمت و یہ میرا مسلم، ایک بحیثیت ہے، سے ہندوستان یا وطن تعلق کا دوسرے اور ہے نجاتکیانسانیارواحصرفنہاندرکےاسلاماصولکہہےعقیدهتسخیرناقابل مذاہب دیگر تمام ہے، موجود حل کا مسائل مشکل تمام کے دنیا بلکہ ہے مضمر میں عقیدهمیرے بغیر کے جس ہے کلچرعظیم ایک بھی کا اسلام مذہبطرح کی کا اسلامیہ فرائض وطن، ازٓادی ...... سکتی ره نہیں زنده انسانیت بحیثیت انسانیت

۔ہے‘‘ مطلق حرام غلامی اور ہے جزو ایک فیوض کےمرادابٓادی گنج رحمٰن فضل حضرت اور تعلیم کی گڑھ علی کی خدمات و افکار کے ان اور شخصیت کی عباسی عدیل قاضی ارٓاستہ، سے کے قیمت و قدر کی ان کہ ہے عام احساس یہ اگر باوجود کے معنویت و اہمیت کمی اس جہاں کتاب نظر زیر ہے، بجانب حق احساس یہ تو رہی کمی میں تعین اور ہے۔ کرتی پیدا بھی شدت میں اذیت کی احساس اس وہیں ہے کرتی تلافی کی جراٴت نے امت کہ ہے جاتی دے پر دروازے کے دل و ذہن بھی دستک ایک

برتی؟ کیوں توجہی بے سے مثالوں تقلید قابل ایسی کی گفتار لذت اور کردار بار اس نے مرتب فاضل لیے کے جواب کے جن تھے سوال تو کچھ

دینی سلف، ایام یاد شخصیت، کیے، قائم باب پر باب لیا، پر شانوں اپنے کو عظیم ہلال، رویت حج، سفرنامہ لا، پرسنل مسلم یونیورسڻی، مسلم اردو، کونسل، تعلیمی ہوگئی۔مرتبتاریخملیوملکیکیصدیایکگویاخلافتتحریکترکی،تاریخ اقبالحرف وه ابتدائیہ کاخدمات وشخصیت کہہےظاہرسے اسی سلیقہ کاترتیب

ہے، جس میں غیرت جبرئیل، صور اسرافیل، نشاط رحیل، تیغ اصیل، حجاب دلیل، شعلہ نوا، قندیل کی تلمیحوں اور استعاروں میں پوشیده قاضی عدیل کی یافت

صریحکے ہیں۔اشارےواضحو اس باب کے جتنے مضامین ہیں سب ان ہی اشاروں کی تفسیر ہیں،

مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے مضمون کی ابتدا ہی پوری شخصیت کا ائٓینہ ہے افرادباکمالکےعہداسہمارےصاحبقاضی’’کہ اسنےجنہوںتھےمیں عہد اور تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں، لله تعالیٰ نے ان میں علم و عمل، قول و فعل، دین و سیاست، جدید و قدیم اور تقریر و تحریر کی وه متضاد صلاحیتیں جمع کردی تھیں جو اسی دور کے نہیں بلکہ ہر دور کے اکثر باکمال افراد میں متفرق و منتشر ہوتی ہیں ..... ایک نہایت غیور اور باحمیت مسلمان جو دین کا درد اور کیملت فکرایسی تھارکھتا جو دل دماغو اور اعصاب پر حاوی ۔تھی‘‘ درد و فکر یہی تو متاع مومن ہے اور لگتا ہے کہ یہ متاع بے بہا قاضی صاحب کو ازل سے ودیعت ہوئی، خلافت تحریک میں ان کی شمولیت گویا ان کے کاروان درد کی پہلی منزل تھی، زاد راه وہی سرسید کی نظر و وفکر عمل، ایک تحریر مسلمانوں کی روحانی اذیت کے اسباب کے عنوان سے ہے، افغانی اور مولانا محمود حسن، مولانا عبدالباری فرنگی محلی، محمد علی جوہر سب کا ذکر ہے لیکن کیانلفظکاعظمتلیےکےشخصیتکیسرسیدبعدکے۱۸۵۷ زبان پر ایٓا تو اس لیے کہ وه عہد افٓریں تھے، ان کی نظر میں یہ عہد افٓرینی کی صلاحیت سرسید کی روشن ضمیری اور دانائی میں مضمر تھی، قوم کو ہمت دلانا، عمل کے لیے امٓاده کرنا اور سب سے بڑھ کر ناامیدی کے اندھیروں میں امید کا چراغ جلانا یہ وه اوصاف ہیں جن کی بنیاد پر کسی فرد کے خاص اور عظیم ہونے کا فیصلہ کیا جانا چاہیے، اس کے باوجود مذہبی معاملات میں قاضی صاحب کی عقیدت مندی، حق بیانی کے اڑٓے نہیں ائٓی، سیاست اور مذہب دونوں میں سرسید کی مرعوبیت کی نشان دہی بھی انہوں نے بدلائل کی۔ یہی حال مولانا محمد علی جوہر کے ذکر میں ہے، ان کی بعض کمزوریاں ان کی نگاه میں ائٓیں اور قلم سے ظاہر ہوئیں، لیکن جب بعض مالی معاملات میں کچھ لوگوں نے الزامات لگائے تو انہوں نے صاف لکھا کہ جس’’ طرح یہ حساب مرتب ہوا اور وهدی،سےجانبکیعلیمحمدمولانانےندویسلیمانسیدعلامہصفائیجتنی قوم کی پست اخلاقی اور ایک عظیم خادم قوم کی جو بے وقری ہے اس کو بیان کرنے کے لیے پتھر کا کلیجہ چاہیے، علامہ سید سلیمان ندوی کے بیان اور تمام تفصیلی حساب مرتب ہونے کے بعد شرپسنددوں کے منہ پر سیاہی لگی اور

معاملہ ختم ہوا مگر کتنے عظیم نقصان کے بعد یہ مرحلہ طے ۔ہوا‘‘ خلافت کاتحریک یہ باب ان کےلوگوں لیے خاص طور چشمسے کشا

کا صاحبقاضیہیں،منکرکےہیافادیتاورضرورتکیتحریکاسجوہے قیام، کا خلافت ہے، بنیاد کی مذہب اور روح کی اسلام گویاخلافت’’ کہ تھا یقین تو اگر جوہر علی محمد مولانا رہا، فریضہ مذہبی لیے کے مسلمانوں استحکام اور بقا اہم ایک یہ کہ تھی صاف وجہ تو تڑپے طرح کی ابٓ بے ماہی پر خلافت الغائے ہے۔ کی ہی فریضہ مذہبی لیے کے مسلمان کسی اولیت اور تھا معاملہ مذہبی گویا یہ پہنچنا لندن کر لے خلافت وفد کا علی محمد کہ لکھا نے صاحب قاضی سرو بے لیے کے بچانے سے ڈوبنے کو کشتی کی خلافت جو تھا چیلنج ایک تھا، دیا کو سربراه کے قوت ترین عظیم کی دنیا نے لیڈر جری کے قوم سامان کی ذہنوں کے نقادوں سیاسی اور مورخوں سوال یہ ملا؟ کیا سےخلافت تحریک کی ان ہے، ہی اور کچھ تجزیہ کا صاحب قاضی لیکن ہے رہا کرتا کشائی نقاب دیں، بکھیر دھجیاں کی ہونے رعایا کی برطانیہ نے خلافت تحریک میں نظر اتٓش صفت، پروانہکو باشندوں تمام کے ہندوستان سکھایا،فخر پر ہونے ہندوستانی میں گاه تجلی کی فطرت اپنی کرکے ازٓاد سے جبلت کی کرنے طواف کا فرنگ سرے ارٓزو کی مرمڻنے لیے کے ازٓادی اور قربانیوں انفرادی .... سکھایا ہونا ابٓاد ہوا۔ پیدا سے ہی خلافت تحریک جمہور، بیداری ہٴ نغم لیکن تھی نہ مفقود سے زیاده متعلقسےازٓادیتحریکمیںانتخاباسکےتحریروںکیصاحبقاضی درج نمونہ جو سے حیثیت کی مدیر لیے کے زمیندار روزنامہ ہے، نہیں مواد بعد کے خلافت تحریک ہے۔ ظاہر صاف رنگ کا ازٓاد مولانا میں اس ہے کتاب کے صاحب قاضی پر موضوعات جیسے یونیورسڻی مسلم اور لا پرسنل مسلم نظر حامل کے معنویت زیاده سے پہلے اجٓ تاثرات اور اندیشے خیالات، و افکار

ہیں۔ اتٓے پرسنل مسلم’’ کہ تھا واضح بالکل نظریہ کا ان متعلق کے لا پرسنل مسلم ہوگی، صاف زیادهبات تو جائے کہا اعمال وعقائداسلامی صاف صاف اگر کو لا کوئی اندر کے چیز جس میں ملکوں کے دنیا’’ کہ لکھا نے انہوں جگہ ایک تفصیل کی قانون کے اسلام ..... ہے تقسیم کی جائداد کی وراثت وه نہیں یکسانیت کی متوفی جاسکتا، کیا نہیں وضع قانون بہتر سے اس کہ ہوگا معلوم تو جائے کی میں ہاتھوں مختلف ہو، نہ جمع وه میں ہاتھ ایک کہ تقسیم ایسی کی جائداد متروکہ پرسنل مسلم ۔ہے‘‘ باب درخشاں کا اسلام ہو، عقل مطابق رسیدی حصہ اور جائے کی صاحب قاضی جواب جیسا کا اعتراضات کے دونوں غیروں اور اپنوں پر لا کئی جگہ ایک ملا، نہیں کو اوروں انداز یہ کہ ہے واقعہ ہے، ملتا میں تحریروں بحث اپنی لوگ یہ کہ ہے یہ مشکل’’ کہ ہیں لکھتے وه کرکے ذکر کا ناموں مسلم لاپرسنلمسلمکہ ہیںکرتےشروعسےمفروضہبنیادبےاورغلطقطعیکواس یہ حقیقت.... ہے نتیجہ کا فیصلوں لگام بے کے عدالتوں یا ہے ہوا بنایا کا انگریز

مطابقکےسنتوقرانٓصرفنےعدالتوںتکاجٓسےکمپنیانڈیاایسٹکہہے شیعہ کر سمجھ نااہل کا تعین و تفسیر کی سنت و قرانٓ کو اپنے اور ہے کیا فیصلہ ہے۔ بنایا رہنما اپنا ہیں، جاچکی دی قرار مستند جو کو کتابوں کی فرقوں اورسنی یونیورسڻی مسلم ہوئے، داخل میں ۱۹۲۴ میں گڑھ علی صاحب قاضی

و تعلیم اسلامی ساتھ کے حاضره علوم وه کہ تھی رائے کی ان میں بارے کے گڑھ علی جاسکتی۔ کی نہیں جدا حیثیت یہ سے اس اور ہے بھی مرکز کا تربیت واقعہایککا سینیرجونیرسےتعلقکےسہیلاقبالعلامہرہی، اتٓی کوان یاد کی سہیل کردیا، ادا بل کا حضرات ان نے جونیر ایک کہ لکھا میں انداز پرُاثر بڑے گڑھ علی’’ کہنکلاسےزبانکیاناورہواطاریاضطرابوکرب پرصاحب کہ ہیں اڻھتے کہہ وه میں قصوں طویل کے روایات صالح کی گڑھ علی مرگیا‘‘ ۔تھا‘‘ نہیں نیشنلسٹ گڑھ علی کہ ہے ہوئی پھیلی پر طور کے فہمی غلط بات یہ’’ ہوں جلی لاکھ عنوانات سارے یہ میں زندگی کتاب کی صاحب قاضی

باب نمایاں سے سب درخشاں، سے سب کا کتاب اس کی ان کہ ہے یہ حق لیکن اکثریت نصاب، کا تعلیم ابتدائی بعد معا کے وطن ازٓادی ہے، تحریک تعلیمی دینی ملک ساتھ، کے اسکول اسلامیہ کہ گیا بنایا نماینده طرح اس کا تہذیب و مذہب کے و مذہب اپنے ذریعہ کے نصاب حکومتی نسل، نئی کی اقلیت بڑی سے سب کی قاضی میں ایسے تھا، وقت نازک عجب ہوجائے، گانہ بے سے تہذیب و زبان بجائے، کی ہونے متصادم راست براه سے تعلیم نظام کے حکومت نے صاحب علی مولانا بقول کہ کی تدبیر وه کی تعلیم اسلامی متوازی ایک پر سطح پرائمری عرصہ طویل ایک ادھر تحریک تعمیری اور مفید ڻھوس، زیاده سے اس میاں علی کہ ہے معاملہ عجیب کیا ائٓی، نہیں میں وجود میں تاریخ کی ہند مسلمانان سے پائی تڑپ وه کی تعلیم دینی نے اے ایل ایم کانگریسی اور وکیل فارغ، کے گڑھ کے ان کو ان اور تڑپایا کو دین اہل وعلماء بیسیوں میاں علی مولانا بقول نے جس ہی ان کو خود نے میاں علی مولانا کیا، مجبور پر آنے باہر سے عزلت گوشہ ہے احسان وه کا صاحب قاضی یہ کہ لکھا ہوئے کرتے شمار میں نشینوں عزلت اور ملک بعد کے ازٓادی کہ ہے یہ حقیقت سکتا۔ بھول نہیں العمر مدت کو جس نہیں بھول کبھی کو احسان کے صاحب قاضی نسل مسلم نئی کی یوپی خصوصا اس کہ ہیں جانتے والے جاننے ہے، رونق جو میں جامعات و مدارس اجٓ سکتی، تاریخ پر نویسی تاریخ نے جس کا اس ہے، شامل کا کس جگر خون میں رونق قاضی کہ کیا اعلان اور اعتراف نے نظر اہلِ کہ طرح اس دی، ترجیح کو سازی مستقبل دینی کا مسلمانوں میں ہندوستان بغیر کے تحریک تعلیمی دینی کی صاحب خطره وابستگی کی نسلوں ایٓنده کی ان سے ثقافت و تہذیب اسلامی اور ایمان اور

گی۔ اجٓائے میں

پوری گویا کی کونسل تعلیمی دینی ہے، نمایاں باب یہی قدرة میں کتاب کی صاحب قاضی سے عنوان کے شب و روز آئینہ میں ضمن اسی ہے، تاریخ عوامی بھایا؟ کیوں زیاده کو دل گوشہ، یہ جانے خدا ہیں، اقتباسات کچھ کے ڈائری دوئی کی طَب مخا اور طِب مخا جہاں لیکن ہے ہوتا اور کچھ معاملہ کا تحریروں ڈائری ۱۹۶۱ اگست ؍۱۳ ہے۔ ہوتا دوسرا بھی عالمکا کیفیت کی خلوتوں وہاں ہو نہ کونسل تعلیمی دینیاب’’ ہیں لکھتے ہے، پھیلتا طرح کس دردایک پر صفحہ کے باتیں بس کی، قوم ہے شان کیا واه قوم! اور ...... نہیں سرمایہ کوئی پاس کے جی سے محنت است، دریں سخن طلبی زر اور ماشاءلله لله، سبحان تعریفیں، احساس وہی اور دن اور ایک ۔والی‘‘ رکھنےعزیزکو درمو دام اور والی چرانے ہے رہی توڑ دم ہے، عزیز زیاده سے جان مجھے جو کونسل تعلیمی دینی’’ اذیت جوش کا قومہے،سناڻاگہراطرفچاروں..... فکر کوکارکنوںنہ ہے سرمایہ نہ رو کر کھول دل کہ ہے چاہتا جی بار بار میرا’’ ۔گیا‘‘ ره کر بن ابُال کا واڻر سوڈا اشک ائٓے، نہ انٓسوسےکثرت پر موت کی مرحومبھائیمیں جن انٓکھیں وه لوں، الٓام ومصائب کہ ہے کہتا دل ہے، طرف چاروں جو فضا کیدینی بے....ہیںبار برداشت ہونا مدفون کا تہذیب قدیم یہ فضا، ہوئی بدلتی یہ لیکن ہیں ہوجاتے برداشت

۔ہوتا‘‘ نہیں لیکن ہے معیوب تکرار کی کلمات تحسینی صرف غالبا میں التقریظ باب صفحاتسوسولہہو،شمارہیعیبشایدبھیکرناتلاشکچھلیےکےانتقادونقد کتابی علاحدهاگرکو ابواب ان کہ ہوا خیال کردیکھ کو فخامت و ضخامت اس کی ہوتا، سامان کا راحت لیے کے دونوں قاری اور مرتب تو جاتا کیا شائع میں شکل اس نے قلم فگار دل شاید یا زرنگار کے مرتب عرض میں اخٓر کے کتاب مگر دیدار الگ الگ جائیں، کردیے حصے کے محل تاج’’ کہ کیا صاف یوں کو خیال کہہ نہیں دیکھنا کا محل تاج کو اس لیکن گا ہوجائے تو دیدار جائے، دی دعوت کی زیارت پوری میں نظر ایک ہے، میں یکجائی کی اس حسن کا محل تاج سکتے،

ہے۔ اور کچھ ہی لطف کا محل تاج یقینا کتاب یہ میں دنیا ادبی اور مذہبی ملی، تاریخی، کی اردو

بھی کو جگر خون اس شامل میں ترتیب و تشکیل کی اس وقت دیکھتے ہے، بغیر کے جس اور ہے ضمانت کی نمود کی پاره فن بھی کسی جو چاہیے دیکھنا کے مکتبوں کے بستی اور وٴلکھن ہے، روپے سو باره قیمت ناتمام۔ نقش سارے کتاب سے وٴلکھن چوک، اشٓیانہ عارف اترپردیش، کونسل تعلیمی دینی علاوه

ہے۔جاسکتیکیحاصل ص -ع

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.