برید فرنگ ایک مطالعہ

محمد عمیر الصدیق دریابادی ندوی

Maarif - - نبأ -

جو ہے سے اعمال ان کے انسان چہ اگر تعلق کا سیاحت و سیر

میں فطرت اور سرشت کی انسان لیکن میں، عبادات نہ ہیں اتٓے میں فرائض کہ ہے اثر کا اسی سکتا، جا کیا نہیں بھی انکار سے موجودگی کی شوق اس مجھے سے بہشت باغ کہ اجٓاتاہے سوال معصومانہ یہ پر زبان کبھی کبھی سفر، کہ ہے بتاتا خود سفر کا دنیا اس سے بہشت کیوں؟ تھا دیا سفر اذن انسان دنیا نہیں، خالی سے حکمت کسی میں رکھنے بنائے سفر ہم کو انسان گوناں اور کرانی بے کی اس درازی و وسعت کی اس تو آئی سامنے کے قدم ہر لیے اس ہے، دراز جہاں کار کہ دی آواز پر طور فطری نے گونی ذره کے کائنات اس کہ ہے کرتا اشاره اور ہے روکتا پر مقام کسی نہ کسی

چاہیے۔ دیکھنا بھی طرف کی اس ہے، اشٓکارائی ذوق جو میں ذره میں اس ہے، مجید قرآن کتاب ترجمان عمده سے سب کی فطرت عمل کہ دیکھو کر پھر چل میں جہان اس کہ گیا کہا بار زیاده سے ایک بھی یہ اور بھی پر انتہا کی اس اور ہو نظر پر ابتدا کی اس ہے؟ کیا تخلیق فی سیروا ہے، ناگزیر بھی منزل آخری کوئی کی مسافر تو ہے سفر کہ

الاخٓره۔ النشاٴة ینشی لله ثم الخلق بدء کیف انظروا ثم الارض زندگی انسانی ذکر کا اس یہاں گی، رہیں ہوتی تفسیریں کی ایٓت اس بطور میں ضمن کے اہمیت اور ضرورت جواز، کے سیاحت و سیر میں

گیا۔ کیا کے اصل ایک میں برکتوں کی علوم ہمارے غالبا مضمون کا سیاحت سفر، سیر، کے سمجھ اسی ذخیره بڑا ایک کا ادب ہمارے کہ ہے اثر کا اسی گیا، سمجھا کی قدرت کہ گیا کر مجبور پر کہنے یہ کو ہم اور آگیا سامنے میں نتیجہ گزراں جہان اور مکانی تبدیل نہیں، تماشاہی کا قلمونیوں بو اور نیرنگیوں نئیاورگزرناہوئےسمیڻتے دولتکیخلاقمعرفتسےفرازو نشیبکے حیران ایک کر بڑھ سے سب اور کرنا تلاش کو گاہوں گزر اور راہوں

مسافر کے کشکول میں علم و معرفت کی نئی یافتوں کے سرمایہ کو دیکھنا، عین تقاضائے فطرت ہے، وه تقاضا جو کھوئے ہووں کی جستجو کی لذت بخشتا ہے، کوہساروں، وادیوں، دشت و بیابانوں چشموں اور وںٴدریا سے گزرتے ہوئے جیسے کوئی کہتا ہے کہ ہزاروں سال سے ان ہی راہوں سے کیسے کیسے لوگ، کارواں اور قافلے گزرتے رہے، کہاں سے آئے اور کہاں گئے، پہلا انسان جب ان راہوں سے اشٓنا ہوا ہوگا تو کیا خبر تھی کہ ان ہی راستوں سے کتنی تہذیبیں گزریں گی، مڻیں گی اور پھر بنیں گی۔ یہی احساس کسی عام مسافر کو خاص مسافر یا سیاح کے روپ میں ڈھال دیتا ہے، خاص یوں کہ یہی مسافر اجنبی وں،ٴفضا ان دیکھے اور انوکھے مناظر کی دید سے اپنی فکری دنیا کو نیا رنگ دینے والا بن جاتا ہے اور اس کا تجربوںدامن کی سےکثرت مالا ہے،ہوجاتامال اس انٓکھوںکی عکسکے جب قلم سے کاغذ پر اترتے ہیں تو وه ان میں حیرت، عبرت، مسرت اور حقیقت کے رنگ ایسے گہرے کرتا جاتا ہے کہ یہ مرقعے انسانی زندگی کی علمی و راثت کا بیش قیمت سرمایہ بن جاتے ہیں اور یہی سرمایہ اہل نظر کی نظر میں تاریخ انسانی کے تسلسل کا اہم اور شاید سب سے دلچسپ

ذریعہ بن جاتا ہے اور معاملہ یہ ہوتا ہے کہ ؎ بہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلند

سفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسند

عقل اگر پختہ ہے تو کہتی ہے ؎

سفر زندگی کے لیے برگ و ساز

سفر ہے حقیقت سفر ہے مجاز

اور اگر پختگی سے زیاده سر میں کوئی سودا ہو تو پھر مطالبہ

کچھ اور کا ہوتا ہے کہ ؎ منظر وه طلب کر کہ تری انٓکھ نہ ہو سیر

سارے سفر نامے بس اسی طلب شوق کا سامان ہیں، اردو ادب بھی

اس سے تہی مایہ نہیں، سینکڑوں سفر نامے کتابی شکل اور ہزاروں سفر نامے رسالوں کے صفحات میں اسی حقیقت کے شاہد ہیں، دارالمصنّفین، علامہ شبلی کی یادگار ہے اور ان کے دبستان کا شعار بھی، مولانا شبلی اردو کے معلم جدید کہے گئے، ادب کے متعدد اصناف ان کی نسبت سے معتبر بھی ہوئے اور لائق تقلید بھی، مولانا شبلی کے سفرنامہ مصر و شام و روم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے اردو ادب میں ایک وقیع اور

ایک محض کو سفر اس شبلی لیکن ہوا، اضافہ کا سفرنامے معلومات از پرُ نہ تھا امر غیرمعمولی کوئی یہ کہ کیوں تھے مانتے سفر علمانہ طالب بھی لکھنا سفرنامہ وه سے وجہ اسی تھی، ندرت چنداں میں سفر واقعات سے مدت کہ ایٓا بھی خیال یہ اور ہوا اصرار کا دوستوں تھے، چاہتے نہیں کے ممالک اسلامی ہے، بند طریقہ کا سیاحت و سیر میں جماعت ہماری کی پریشاں اوراق ان لیے اس ہوتی، نہیں اطلاع بالکل کی حالات صحیح سفر معمولی اور عاجلانہ اسے نے شبلی مولانا ڻھہری، وجہ یہی کی ترتیب کو دینے لقب کے الرحلہ کتاب یا سفرنامے کو ان اور کہے! حالات کے

کیا۔ تعبیر سے نظری تنگ کہ ہے یہی حقیقت ورنہ تھی عظمت خاکسارانہ کی شبلی علامہ یہ

ذکر کا نامہ سفر اس ہے۔ سرمایہ بہا بیش سفرنامہ یہ میں خزانے کے اردو یہ میں اس کی توسیع کی وراثت جس نے دارالمصنّفین کہ گیا کیا لیے اس اور وارث کے شبلی علامہ ندویؒ سلیمان سید مولانا رہی، شامل ہمیشہ خوبی کے شیر جوئے کی اسلامیہ علوم کہ ہوئے کے شان اس اور ہوئے جانشین

کہ ہوا عام اعتراف یہ اور کہلائے فرہاد

وعراق وشام تونس و مصر تابہ شہرت کی جس وقار گردوں بمکہ تا عزت کی جس غبار وبے نشین دل باتیں کی جس محقق وه زرنگار خامہ کا جس افشاں نور نامہ کا جس

النبیؐ، سیرت کہ تھا کمال کا زرنگار خامہ و افشاں نور نامہ کے ان مالک، امام حیات رانی، جہاز کی عربوں القرآن، ارض سے عائشہؓ سیرت رہیں کرتی مال مالا کو ادب و علم اردو کتابیں مثال بے جیسی وغیره خیام کا تتبع کے استاد مثال بے رہیں، کرتی بھی کوشاد روح کی شبلی علامہ اور پر دعوت کی افغانستان بادشاه میں ء۱۹۳۴ نے انہوں جب کہ تھا نتیجہ مسعود راس سر اور اقبال علامہ میں جس کیا سفر علمی ایک کا افغانستان سفرنامے کے افغانستان کی، قلم سپرد روداد ایک کی اس تھے، ہمراه بھی تعلیمی صرف سفرنامہ ہی نلیک تھے گئے لکھے یبھ ےپہل ےس سا ور دیده اور دل صاحب اور مورخ ایک رہا، نہ محدود تک ہی مشاہدات اور ادبی علمی، دیا، بنا کیا سے کیا کو سفرنامے اس نے احساس کے مورخ کی شبلی مولانا گیا، کر اختیار حیثیت کی شاہکار یہ سے حیثیت تاریخی کا حالات جزئی یا سری سر کو اس بھی نے ندویؒ سلیمان سید مولانا طرح کا اس لیکن بتایا اہم غیر ہی خود نے انہوں کو معلومات بعض بتایا، اندراج

انوکھی کو سیاح بھی باتیں چھوڻی چھوڻی کی ملک غیر کہ دیا بتا بھی سبب غزنین، کابل، ورنہ تھی نفسی کسر کی ان یہ ہیں، ہوتی معلوم نئی اور ادبی، کی مقامات ان کر بڑھ سے اس اور چمن بغمان، قندھار، قلات، انداز دلفریب اس قزح قوس ایک کی رنگوں تہذیبی ثقافتی، مذہبی، تاریخی، رشتہ کا حال زمانہ سفرنامہ یہ کہ کہا نے والوں کہنے کہ ائٓی سامنے میں سفرنامہ یہ کا دن چار ہے، والا دینے جوڑ سے دونوں مستقبل اور ماضی سکتا مل نہ جو بھی میں عرصے طویل کے سال چار لیے کے مسافر عام تاریخ، افکار، احوال، تذکره، سوانح، ہے، نہیں کیا گیا، بن خزانہ کا اس ایک کا سدید انور نظر، پر سب رسائل اخبارات معابد، مدارس، جغرافیہ، صنف اس کر لکھ روم و شام و مصر سفرنامہ نے نعمانی شبلی کہ ہے قول نے ندویؒ سلیمان سید مولانا قدم اگلا کا ارتقا تھی، ڈالی طرح نئی میں ادب نے محمود) خالد پروفیسر( نقاد ایک ہمارے اور اڻھایا کر لکھ افغانستان سیر مختصر اس مگر ہے سفر روداد ایک بظاہر افغانستان سیر کہ لکھا خوب کے ان دیا، بنا سفر جذباتی اور تاریخی نے صاحب سید کو سفر زمینی سے بے اور تابی بے شوق، وارفتگی علاوه کے شدت کی جذبہ میں اسلوب

دی۔ کر پیدا کیفیت سی کی شعر ہوکر یکجا نے ساختگی صاحب سید پہلے برس چوده قریب سے افغانستان نامہ سفر لیکن تحریک میں ہندوستان میں ء۱۹۲۰ ،تھی یک رسی یبھ یک ہبرطانی ےن تھی، میں نرغہ کے یورپ عثمانیہ، خلافت کی ترکی تھا، غلغلہ کا خلافت یورپ چہ اگر شعلے صاحب سید بقول تھی، ہوچکی شروع جنگ کی بلقان کو وخروش جوش کے مسلمانوں کے ہندوستان مگر تھے رہے اڻھ میں تھی، رہی جا لڑی میں ہی ہندوستان جنگ یہ کہ تھا ہوتا معلوم ایسا کر دیکھ چکی ہو قائم خلافت مجلس لیے کے تعاون اور ہمدردی سے ترکوں یہاں کی ترکی نے مجلس اسی تھی، نمایندگی کی طبقہ ہر وقت اس میں جس تھی محمد مولانا کی، تیاری کی بھیجنے وفد ایک لیے کے انگلینڈ میں حمایت میں وفد اس صاحب سید تھے، ممبر کے اس وغیره حسنین سید جوہر، علی کے انگلینڈ سے حیثیت تاریخی اور مذہبی کہ گئے کیے شامل لیے اس یہ میں مقاصد کے وفد لکھیں، جواب کا ان ائٓیں، مضامین جو میں اخباروں کیوں جائے کی ہموار عامہ رائے لیے کے ازٓادی کی ہندوستان کہ تھا بھی سید نہیں، ممکن بغیر کے آزادی کی ہندوستان تحفظ کا اسلامیہ بلاد کہ احباب اپنے نے انہوں سے وہاں تو پہنچے برطانیہ ہمراه کے وفد صاحب یہ میں شکل کتابی لیکن چھپے، میں رسالوں مختلف جو لکھے خط کو اجٓ اگر کہ تھا کہنا خود کا صاحب سید ائٓے، سامنے ہوکر یکجا میں ء۱۹۵۱

حقیقت دیتا، کام کا نامہ سیاحت تو ہوتا شائع مجموعہ یہ پہلے سال بتیس سے جامع کے خوبیوں تمام کی نامہ سیاحت طرح پوری خطوط یہ کہ ہے یہ کہ ہے بھی لکھا میں بارے کے ناموں سفر نے محقق ایک ہمارے ہیں، سے تکنیک اس کہ ہے ممکن ہے، تکنیک ایک کی سفرنامہ بھی خطوط کی نامہ سفر باقاعده جو رہے نہ قائم تسلسل و ربط منطقی کا واقعات ضرور ذریعہ بہترین یہ کا رکھنے محفوظ سفر روداد تاہم ہے، خاصیت کو ہمجموع ےک طخطو نا سے ہوج یاس شاید ےن بصاح دسی ،ہیں تعبیر سے ڈاک کی انگلینڈ یعنی فرنگ برید بجائے کے انگلستان سفرنامہ اور سچائی کی بیان ساختگی، بے مجموعہ، یہ کہ ہے یہی حقیقت لیکن کیا

نہیں۔ کم سے سفرنامے بہتر سے بہتر کسی میں تازگی برید لیکن ہے کیا شمار کا سفرناموں میں تعداد کثیر نے لوگوں کی سفرناموں نے جس ہے احساس یہی نہیں، نام میں فہرست اس کا فرنگ کیا۔ امٓاده پر کرنے شامل کو فرنگ برید کی صاحب سید میں سرائی داستان تاریخی ایسی صرف اشاعت کی کتاب اس میں نظر کی صاحب سید

کی اسلام عالم اور یورپ ہندوستان، کے ء۱۹۲۰ سے جس ہے رکھتی افادیت بھی لکھا نے انہوں ہے، ملتی مدد میں سمجھنے اور دیکھنے تصویر سیاسی میں حالت ایسی ہے، چکا بدل نقشہ کا یورپ بعد کے عظیم جنگ دوسری کہ تاریخی ایک تاہم گئی مٹ کیا اور ہے گئی ره باقی چیز کیا کہ سکتا جا کہا نہیں ورنہ ہے، شان کای کی تواضع علمی بھی یہ لیکن ہے۔ ضرور دستاویز بھی بعد کے صدی ایک قریب احوال یہ کے تک ء۱۹۲۰ ستمبر سے فروری

ہیں۔ چیز کی ہی اجٓ گویا بھی سے لحاظ ثقافتی و سیاسی نہیں ہی تازه کر مل سے اقتدار ارباب کے وہاں تھا، کا انگلینڈ ہے ظاہر سفر یہ

سید مسافر اور سیاح جب لیکن تھا، مقصد کا اس کرنا پیش کو مطالبات اپنے کی ان کو واقعات اور وسعت کی نظر پھر تو ہو والا وروح ذہن کے صاحب کی اسلوب کے کرنے پیش کو ان اور صلاحیت کی دیکھنے میں شکل اصل

ہے۔ ہوجاتی ہی اور کچھ انفرادیت و جدت کے اڻلی اور لینڈ سوئزر فرانس، پیرس میں سفر اس کے انگلینڈ

ہیں۔ سکتے کر تعبیر بھی سے فغاں و اهٓ مقامات کو سب ان ائٓے بھی مقامات صدارت کی تلک مسڻر ہوا، شروع سفر سے بمبئی کے زمانہ اس پہلے توقع کی جس گیا پہنچ کراچی تو چلا جہاز گیا کہا الوداع کو وفد میں ہند خاک طرح اس کہ لگے کہنے دیکھیے دل کا صاحب سید تھی، نہ سے

کس نفرت سے انگریزوں ہوگیا، حاصل شرف کا دیکھنے اور دفعہ ایک کو کا مذاق انگریزی میں جہاز کہ لکھا ،تھی کو دیوانوں کے ہند ان حطر دن سات چلتے چلتے میں سمندر ہے، ده تکلیف زیاده سے سب کھانا بدبودار لیے کے بہلانے دل نہیں، سامنے کے نظر چیز کوئی کے پانی بجز ہوگئے ؎ کہ گئی ہو نظم ایک ملیں، موجیں متلاطم کی عرب بحر کیا، ملا

ہے رواں سے شان کس ہمارا عرب بحر

دیکھ کو آبادی ہندوستانی وہاں تو ہوا انداز لنگر جہاز میں مصرع

یہ کہ سے روائی فرماں کی زبان اردو کر بڑھ سے اس اور ہوا تعجب کر جب اہو دشا بت وت لد نلیک ،ہے عوسی کت نریگستا ےک ہافریق نزبا ژولیده تھے، فام سیہ تھے حال بد دیکھا، کو باشندوں حبشی کے مصوع کے ان تک قیامت آنکھیں ہک ایسے تھے، ایمان چشیده قذو لیکن تھے جلووں کے گیری بغل کی ان اور بوسی دست کی ان شگفتگی، کی چہروں

سکتیں۔ بھلا کونہیں سےعینککیشیکسپیئرکووینسنےلوگوںکہلکھاتوایٓاشہروینس وجواں، پیر ڻوپی، لال میری ہوں، رہا دیکھ سے انٓکھوں اپنی میں ہوگا دیکھا

بچائے۔ سے بد نظر خدا ہے، مرکز کا نگاہوں کی جنس ہر ولطیف سخت سی اگٓ میں دلوں جگہ ہر کہ پایا تو گزرا سے مقامات جن تک اب کا جزیروں چھوڻے چھوڻے کہ ہوا معلوم تو دیکھا کو وینس ہے، ہوئی لگی عمارت تاریخی گار یاد شہر تمام ہے، جزیره ایک بھی وینس ہے، جال ایک پتھر ہر کا یہاں ہیں، ہوئے بنے سے پتھروں یعنی سنگی راستے تمام ہے، افسوس لیکن ہے، مرقوم نقش کا مرحوم دہلی گویا ہے، صفحہ ایک کا تاریخ

ہیں۔ قائم اور زنده تک اب عمارات یہ ہے، منہدم ویران دہلی کہ سید لگیں، ہونے ملاقاتیں اور کانفرنسیں گیا، پہنچ لندن وفد کار اخٓر تقریریں کی پارلیمنٹ ممبران تمام کے وہاں کہ ہوا قائم تاثر پہلا کا صاحب مگر ہے جاتا دیا طعنہ پر تعصب تو کو مسلمانوں تھیں، لبریز سے تعصب

ہے۔ ارٓہی نظر میں یورپ تمام جو ہے چیز کیا یہ لاکھ ہے، بھرا سے چمنیوں اور انجنوں شہر تمام کہ دیکھا نے انہوں

اور کالر ایک گا، گرے ہی سیاه پانی تو دھوئیے منہ ہاتھ لیکن کیجیے کوشش صاحب سید طرح کی سیاہی اس کی جسمجاتا، ره نہیں کا کام دن دوسرے کف ساتھ کے فراوانی کی دولت کہ آئی نظر کالی بھی تصویر سماجی عام کو میں راستوں کہ ہے یہ عالم ہے، باہر سے تعین حد بھی ازٓادی کی اخلاق

خصوصا شب میں کسی نیک سر شت کا متانت کے ساتھ چلنا مشکل ہے، شراب نوشی اور خنزیر خوری کا یہ حال ہے کہ صدہا تاکید و احتیاط کے باوجود کوئی محفوظ کسیے ره سکتا ہے، یہ تو ظاہری حالت ہے، غور کیا تو معلوم ہوا کہ ہر شے یہاں تجارت ہے، پالیڻکس بھی تجارت ہے، اخبارات اور مضمون نگاروں پر جو زر پاشی کرے گا وه عوام کو بھی اپنی مڻھی میں لے لے گا، یونانیوں اور ارٓمینوں نے بے حد روپیہ جھپڻاہے۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ مستشرقین بہت شریف ہیں اور اپنے ملک کے ارباب سیاست سے سخت ازٓرده ہیں، مسلسل جنگ نے تمام یورپ کو تھکا دیا ہے، گرانی کا یہ عالم ہے کہ گنے کی قیمت گویا ہمارے روپیہ اور شلنگ کی ہمارے انٓے کے برابر

ہے، بخشش یا ڻپ اس کثرت سے ہے کہ ادٓمی گھبرا اڻھتا ہے۔ یہاں یہ بھی معلوم ہوا کہ علم بھی سیاست کے لیے سیکھا جاتا ہے۔ سید صاحب کی غیر حاضری میں مولانا عبدالماجد دریابادیؒ نے معارف کے شذرات لکھے وه اس وقت فلسفہ امن کے یورپی ترجمان و شارح زیاده تھے، اپنی بات شذرات میں لکھی تو یورپ کی وںٴفضا نے سید صاحب سے یہ تاریخی جملے ادا کرائے کہ تخیل اور عمل دو مختلف عالم ہیں، تغلق نے خسرو کو پیدا کیا، اکبر نے عرفی کو نشو ونما بخشا، قابوس و خوارزم شاه نے ابن سینا کو ابن سینا بنایا، دولت سامانی نہ ہوتی تو ابن سینا کو گنجینہ علوم کتب خانہ میسر نہ آتا، سلجوق و ترک نہ ہوتے تو رومی ایشیائے کوچک کی سر زمین میں نہ پیدا ہوتے، محکوم قوم کا در مانده دماغ، فلسفہ عمل کو بھی نہیں سمجھ سکتا، بوس اگر حاکم قوم میں پیدا ہوتا تو اس کو اپنے تجربہ خانے کے لیے در بدر بھیک نہ مانگنی پڑتی، ڻیگور کا عالم تخیل اگر اس کے دنیائے عمل کے مطابق ہوتا تو خطاب اعزاز سے محرومی پسند نہ کرتا۔ دل افسرده قوم کے لیے نہ فلسفہ کا امن اور نہ شاعری کا ہنگامہ، خیام کا پر سکون دماغ ملک شاه سلجوقی کی

تلوار کے سایہ میں ارٓام پا رہا تھا۔ ایک اور جگہ انگلینڈ کی وںٴہوا نے سر گوشی کی کہ لوگ کہتے ہیں کہ پہلے شیکسپیئر چاہیے میں کہتا ہوں کہ پہلے آزاد ہندوستان۔ انگلینڈ ہے کیا؟ یہاں کی پالیڻکس یہ ہے کہ جب تک کوئی کام ہو نہ

جائے اس کو الفاظ کا طلسم جانو، یہاں بہترین مدبر وه ہے جو کذب اور دروغ گوئی کے فن میں سب سے زیاده کمال رکھتا ہو، چنانچہ مسڻر لائڈ

جارج یہاں کے بہترین مدبر ہیں۔

سے تباہی گیر عالم اپنی ہم کہ ہے یہ وه ملی بات نئی جو میں یورپ مگر ہیں حال خستہ طرح ہماری جو ہیں قومیں متعدد یہاں ہوں، نہ مایوس کوحکومت کیوہاںنےصاحبسیدہے،ہارینہیںہمتتکاب نےانہوں انصاف وعدل وه ہے یہ کہ کہا ہوئے کرتے تعبیر سے حکومت کی خائنوں اس انگریز ہے، کو شاہنشاہی باجبروت کی انگلینڈ نشہ پُرغرور کا جس نہیں میں ترقی عہد اپنے قوم قوت پر ہر اور ہیں سمجھتے نہیں وقت ہاتھوں کے جارج لائڈ قوم انگریز کہ چاہیے کرنا یقین یہ لیکن ہے، سمجھتی

ہے۔ رہی کر تیار اپٓ مقبره کا شہنشاہی اپنی پروپیگنڈه، تھی وه ہوئی، معلوم نئی کو صاحب سید بات اور ایک منوانا کو دنیا تمام بات جو جھوٹ یا سچ سے لحاظ کے مقصد اپنے یعنی سے ذریعہ کے ایجنڻوں اور جلسوں ، اشتہارات اخبارات، کو اس ہو چاہتے کونہ ہر اور گوشہ ہر نیچے کے مینا گنبد اس کہ دو پھیلا جگہ ہر قدر اس اور جائے بن واقعہ تاریخی بعد روز چند اور دے سنائی صدا ایک وہی سے کو عوام اور میں کتابوں کو خواص ہوجائے، یقین کو قوموں مہذب تمام

جائیں۔ دکھائے تماشے وہی میں تھیڻروں اور ناڻکوں اسی ہے رہا جی میں سایہ کے برطانیہ تیغ عالم تمام اجٓ طرح جس

و علم اپنا سے رگوں اور عصبات برقی ان خمسہ حواس کے دنیا تمام طرح زمین جسم میں صورت کی تاروں کی رائڻر جو ہیں کرتے حاصل وجدان دنیا سے برس سو تقریبا کہ پڑا ماننا آکر یہاں ہیں، ہوئے پھیلے پر سطح کی

نہیں۔ اعتبار کوئی کا تاریخ کی کے حریت و آزادی اور جمہوریت کی یورپ کر بیڻھ میں ہندوستان ارباب بھی یہاں عملا کہ ہے یہ واقعہ لیکن ہیں جاتے سنے قصے بڑے یہ صرف کو عوام میں، مشرق درجہ جس ہیں مستبد درجہ اسی حکومت منتخب وزراء کہ ہے اختیار کو ممبروں کریں منتخب ممبر کہ ہے اختیار نہ اور ہے اختیار کوئی پر ممبروں کو عوام عملا تو نہ بعد کے اس کریں،

اختیار۔ کوئی پر وزراء کو ممبروں اور رہے آتے میں نگاه کی صاحب سید دونوں سماج اور سیاست

بد کی یہاں کہ ہے یہ حقیقت کہ لکھا رہے، اترتے پر کاغذ کر بن لفظ

ہے۔ کام کا کرام اولیائے ہونا نہ متاثر سے اخلاقی ہندوستانی میں کیمبرج گئے، بھی کیمبرج گئے، اکٓسفورڈ صاحب سید

کی وہاں دیا، لکچر پر ضرورت کی زبان ہندوستانی یا اردو سامنے کے طلبہ

دار کو ہم کر دیکھ کو اس کہ لکھا ایٓا، یاد گھر کر دیکھ کو ماحول اور عمارتوں

سکون۔ وہی اور خاموشی وہی جنگل، کے درختوں وہی اگٓیا، یاد المصنّفین ان تو دیکھا انتظام کا رانی کشتی جگہ دونوں کیمبرج اور اکٓسفورڈ

لیے اس ہے جزیره انگلستان کہ دیا پہنچا تک اصل کی اس نے دماغ کے دنیا انگلستان لیے اسی اور چاہیے ہونا ملاح مجبورا کو باشندوں کے یہاں

ہے۔ طاقت بحری بڑی سے سب کی طرز ومغربی مشرقی کہ ہوا معلوم کر دیکھ کو کیمبرج و آکسفورڈ طالب کہ ہے یہ مدعا کا علم طالب مشرقی ہے، فرق مینکیا تربیت و تعلیم ہے یہ منشا کا تعلیم طرز مغربی لیکن ہوجائے ماہر میں علوم درس زیر علم

ہو۔ بالیدگی میں واخلاقی ودماغی جسمانی قوائے تمام کے علم طالب کہ ۷۵ ںمی نا ،تھے ہطلب رہزا ود بقری ںمی ڈآکسفور توق سا

اس میں کیمبرج تھے، تیس قریب طلبہ مسلمان میں ان اور تھے ہندوستانی کی طرز قدیم عمارتیں کی کالجوں کے دونوں ان تھی، تعداد زیاده سے نے دل کے صاحب سید گیا، رکھا کے فخر بطور پر حالت اسی کو ان تھیں، اس ہیں رہی پاک سے محکومیت کی غیروں جو ہیں قومیں وه یہ کہ کہا پھر

ہیں۔ روزگار نقشِ تک اب اثٓار کے قدامت کی ان لیے رائے کی صاحب سید میں شروع متعلق کے لوگوں کے فرانس لیکن ہیں، لیوا نام کے غریبوں مزدوروں، اور پسند انصاف وه کہ تھی اچھی درجہ پرلے کو ان صاحب سید کہ تک یہاں گئی چلی بدلتی رائے یہ میں بعد سے اخلاق کے طبقہ خاص ایک کے ہند کہ لکھا لگے، سمجھنے منافق کا لیے کے دیکھنے پاس آس بھی اجٓ جملہ یہ ہے، جلتا ملتا بہت اخلاق کا ان ہے، بہت اخلاق نمائشی ظاہری میں فرانسیسیوں کہ لکھاہے، کرتا مجبور کھاکر دھوکہ سے باتوں کی ان وفود بیسیوں کے اقوام طلب حریت کی دنیا

ہیں۔ رہے کر شماری اختر لیے کے ازٓادی اپنی سہارے کے ان بہت ذکر کا پارک ہائڈ ساتھ کے مجسموں کے ہال البرٹ مشہور

لکھا ہے، دی ڈھا قیامت یہاں نے انداز طنزیہ کے صاحب سید ہے، دلچسپ اعزاز یہ کو ملک کے ان صرف اور کے ان کہ ہے فخر کو انگریزوں کہ فخر بھی یہ کو ان عملا لیکن نہیں وجود کا فاحشہ قانونا یہاں کہ ہے حاصل غرض دریا، باغ، چوراہا، گلی، راستہ کوئی کا ملک کے ان کہ ہے حاصل کے طبقہ‘‘ شریف’’ اس ہے سکتا پا رہگذر جسم مادی کوئی جہاں مقام وه ہر

نہیں۔ محروم سے وجود

کہ ہے دلچسپ بڑا بھی اور مطالعہ یہ کا نفسیات کی انگریزوں الاقوامی بین میں اس کہ ہے ہوا واقع تنگ قدر اس فطرتا دماغ کا انگریزوں نہیں جاہی غرضی خود قومی سے دماغ کے ان نہیں، صلاحیت کی وسعت پہلے کہ ہے اتنی صرف یہ گیا، اتر بھی رعب کا جمہوریت کی ان سکتی۔ اب ہوگئے مالک نواب دار، تعلقہ و زمیندار میں بعد تھا، ہوتا مالک بادشاه جن ہے میں ہاتھ کے گروں سودا اور مندوں نودولت تاجروں، قوت تر تمام اور رونق کی تجارتوں اپنی صرف مقصد کا سیاست کی ان ہے، لبرل نام کا کی طبقہ غریب و مزدور کے یہاں حالانکہ بس اور ہے حصول کا دولت بھی لوگ یہ لیکن ہے، کی طبقہ عام ہمارے جو ہے کیفیت وہی کی بسی بے کچھ سے بہتات کی دولت ہیں، بہتر سے لوگوں کے درجہ متوسط ہمارے یہ کی دولت کہ کیا سوال نے صاحب سید ہے، جاتا مل بھی کو ان حصہ ہے کہتا متنبی شاعر عرب سے؟ جیبوں ہماری کیا سے؟ کہاں آئی بہتات صاحب سید یہاں ہے، ہوا ابٓاد یورپ کر لٹ ایشیا فوائد، قوم عند قوم مصائب کے یہاں تو ہیں ہوتے خالی گھر ہمارے’’ کہ ہے ہوجاتا ظاہر صاف درد کا ہم ہے، ائٓی بہار کی سنجاب و ریشم یہاں تو ہوئے ننگے ہم ہیں، بھرے گھر پہل چہل یہ میں ریستورانوں اور ہوڻلوں کے یہاں تو ہیں مرتے سے بھوک پس ہیں، سجے خانے عشرت یہ یہاں تب ہیں خانے غم گھر ہمارے ہے،

بس! اور ہے سودیشی چیز اصل عمر سامنے کے ان تو دیکھا کو ڻیگور میں لندن نے صاحب سید الجھے کرتا، زرد بڑا داڑھی، لمبی قد، دراز گئی کھنچ صورت کی خیام فرانس صاحب سید پہنے۔ ڻوپی بڑی گول سیاه ایک بال، کے سر ہوئے شہر ایک کےوہاں کھینچی، خوب کیا تصویر کی ازٓادی یوم کےوہاں پہنچے جس کو چشموں ان پہنچے، بھی لیے کے علاج سے پانی گرم کے ویشی یاد کی گیر راج کے بہار کو ان کر دیکھ کو اس گیا بنایا تجارت سامان طرح ہندوستان اجداد و ابٓاء کے ان کہ لکھا تو ملے کے ماریشس لوگ کچھ اگٓئی،

ہیں۔ دیتے جان پر ہندوستان تک اب یہ مگر تھے ائٓے ماریشس کر چھوڑ جو ہے ملتی میں تجزیہ کے صاحب سید بات کی پتہ بہت ایک

کے ہیں کرتے تعبیر سے بالشویکوں وه کو جن کمیونسڻوں کے روس کی نیکی کسی صاحب سید میں بارے کے ان ہے، کی تعلق سے برطانیہ

رکھتے۔ نہیں توقع ہے، نہیں کیا میں نامہ سفر مکتوباتی اس کے فرنگ برید غرض طرح کس میں باطن سے ظاہر ہیں، بنتے تجزیات طرح کس مشاہدات

سفرنامہ یہ ہے، جاتا کیا طرح کس ادراک کا حقیقت اور ہے سکتا جا جھانکا میں جس اسلوب وه کا صاحب سید مستزاد پھر اور ہے مثال اعلی کی اس کہیں سے کہیں کو لطف کے ادب نے جراحت کی دل اور امٓیزش کی طنز میں چیز ہر کو یورپ کہ ہے سکتا لکھ کون اور جملہ یہ ہے، دیا پہنچا کہ ہیں کہتے طرح جس ہے، آتا نظر بنیاپن ہی بنیاپن اور تجارت ہی تجارت کیا کو درد اس اور ہے آتا نظر خدا ہی خدا جگہ ہر کو صوفیوں کے ایشیا ازٓادی کی دنیا ازٓادی کی ہندوستان کہ ہے یہ اب عقیده و ایمان میرا کہ کہیں لینڈ سوئڻزر صاحب سید و،ٴکرا آزاد ہندوستان تو ہے کرانا آزاد کعبہ ہے، کچھ لیے اس اڻلی دیکھا، فلارنس دیکھا، نو میلا گزرے، کر رک میں اڻلی ہے، جھلکتی بھی روح کی مشرق میں قالب مغربی کے یہاں کہ لگا اچھا وصورت شکل ہے، نمایاں پرتو کا ایشیا میں اخلاق و عادات انداز، و طرز اسی ہے اتٓی نظر جمنا گنگا کی مغرب و مشرق بھی میں روپ و رنگ اور نظر ہوئی گری سے ذوق معیار کو قومیں مشرقی صورتیں، کی یہاں لیے دھوکہ کا ہندوستان بالکل کہیں کہیں کہ ہیں ایسے تو دیہات ہیں، آتی نہیں کے پہلے سوسال دآگئی، یا دلی پرانی وہی پھر تو دیکھا کو روم ہے، ہوتا لگی عجیب لڑکی وه کو ان میں نیپلس ہے، دلچسپ بڑا بھی حال کا ویڻکن نے جوہر مولانا تھی، دور سے انگریزی مگر تھی جانتی زبانیں کئی جو کیسے، پوچھا ہیں؟ ہوتے مغرور بڑے انگریز بولی تو پوچھی وجہ کی اس

ہیں۔ لکھتے سے حرف بڑے کوI یعنی میں وه کہ لیے اس بولی جگہ سے غرض کی کرنے ابٓاد سے یہودیوں کو فلسطین میں زمانہ اس شرمی بے نے قافلہ یہودی ایک کے سربیا تھا، رہا جا جایا لے کو ان سے جگہ المقدسبیت ایٓنده کہ سوچا نے صاحب سید کیے، مظاہرے جوکے غیرتی بے اور

ہے۔ سامنے جواب کا اس بعد صدی ایک اجٓ ہوگا، کا نوعیت کس تمدن کا صاحب، سید کہ ہے بھی یہ خصوصیت ایک کی سفرنامہ اس

کی قاید کے وفد سیاسی ایک نے جنہوں تھے شخص پہلے کے ہند علمائے ضرورت کی کہنے یہ میں اخٓر رکھا قدم پر زمین سر کی یورپ سے حیثیت اسی بھی اجٓ استعمار ہے، کشا چشم مطالعہ کا نامہ سفر اس بھی اجٓ کہ نہیں

ہے۔ فرق کا رنگ کہیں کہیں بس ہے، دشمن کا انسانیت طرح

پروفیسر اور افغانستان‘‘ سیر’’ شام‘‘، و مصر و روم سفرنامہ’’ میں مضمون مختصر اس ہے، گیا کیا استفاده بھی سے مطالعہ‘‘ کاتنقیدی سفرناموں اردو’’ کتاب کی محمود خالد کتابیں یہ کہ بھی یہ اور جائے بن نہ خاطر بار تحریر مختصر کہ گئے دیے نہیں حوالے

ہیں۔ متداول اور عام

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.