کے فن و فطرت اور کُل اسمائے ادب تصورات اجتماعی

جناب محمود شیخ

Maarif - - نبأ -

مابعد جدیدیت کے دور ابتلاء میں زبان و بیان کی حقیقت کے ساتھ

مرد و زن کے درمیان رشتوں کی اہمیت کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ کیونکہ زبان و ادب میں ترسیل کا سقم پیدا ہوگیا ہے۔ جسے غیربیانیہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر سیاسی معاشره کے پرورده افراد فطرت و فن، ہٴجذب صداقت و صراحت اور تفہیم و تعمیم کو بدلنے میں پیش پیش ہیں۔ ظلم و جبر اور استحصال کو غیر فطری تاویلات عقلی کے ذریعہ عدل و انصاف کا متبادل بناکر پیش کیا جارہا ہے۔ جس نے حیات و معاشرت کی مثبت و محترم قدروں کو نفس اماره کی غلامی پر مجبور کردیا ہے۔ اخلاقی زندگی کا تصور غیر اخلاقی علوم و فنون یعنی سائنس و ڻکنالوجی، سیاسی معیشت وغیره کی نفسی الٓودگی کے سبب فطری احتساب عمل کی طہارت و پاکیزگی سے محروم ہوگیا ہے۔ مرده ضمیری عام ہے۔ شفقت و محبت عنقا ہوگئی ہے، ناول، افسانہ اور شعر کی جگہ زندگی، روداد نفس کی ترجمانی میں مشغول ہیں۔ ان حالات میں ایک بار پھر انسان اور معاشره کی تشکیل نو کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ تاکہ انسان اور

کائنات کی فنی اجتماعیت کے مثبت خد و خال واضح ہوسکیں۔ زبان و بیان کسی فلسفی، دانشور اور سائنس داں کی ایجاد نہیں ہے۔

بلکہ اسے انسان کی اجتماعی زندگی کے شعور تخلیقیت نے ترتیب دیا ہے۔ جس میں مزدور پیشہ، محنت کش عوام کے علاوه زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے عام و خاص لوگوں کے جذبات و احساسات کا بیان

بھی شامل ہے۔ زبانوں کی تعمیر میں علاقائی بولیوں کا رول اہم ہوتا ہے ------------------------------------------------------------------------------------------------------جبل پور۔

جس طرح پیڑوں پر پہلے پھول آتے ہیں، پھر پھل لگتے ہیں۔ انسانی جذبات بھی ابتداء میں بولی ہی کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں، پھر یہی بولیاں ترقی کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد زبان کی شکل اختیار کرتی ہیں۔ اجتماعیت کا دائره جس قدر وسیع ہوگا زبان کی گہرائی و گیرائی کے علاوه خیالات پر دسترس اتنی ہی مضبوط ہوگی۔ سمندروں میں بہنے والے گرم راو دسر یپان ےک ںوٴدریا یک حطر یمقام ںبولیا راو ےمعاشر ایک دوسرے میں ضم ہوکر اجتماعی وحدت کی طاقت و توانائی کا سبب ہوتی

ہیں، زبان کا هٴدائر کار اسی سے وسیع ہوتا ہے۔ زبان بذات خود اسمائے کل کا مجموعہ ہے اس حقیقت کو سمجھنے

کے لیے قرآن’’ کریم‘‘ سے ایک مثال دی جاتی ہے: پرور تمہارے جب ہے قابل کے کرنے یاد وقت وه اور بنانے نائب اپنا پر زمین میں کہ فرمایا سے فرشتوں نے دگار نائب کو شخص ایسے میں اس تو کہا نے انہوں ہوں۔ والا کرتا خون و کشت اور کرے خرابیاں جو ہے چاہتا بنانا کرتے تقدیس و تسبیح ساتھ کے تعریف تیری ہم اور پھرے نہیں تم جو ہوں جانتا باتیں وه میں فرمایا نے خدا ہیں۔ رہتے پھر سکھائے نام کے چیزوں سب کو ادٓم نے اس اور جانتے۔ تو ہو سچے اگر کہ فرمایا اور کیا پیش سامنے کے فرشتوں علم جتنا ہے پاک تو کہا نے انہوں و۔ٴبتا نام کے ان مجھے بے نہیں معلوم کچھ ہمیں سوا کے اس ہے بخشا ہمیں تونے دیا حکم کو ادٓم نے خدا تب ہے۔ والا حکمت اور دانا تو شک ان نے انہوں جب وٴبتا نام کے چیزوں ان کو ان تم ادٓم! اے کہ تم نے میں کیوں فرمایا سے فرشتوں تو بتائے نام کے ان کو پوشیده سب کی زمین اور آسمانوں میں کہ تھا کہا نہیں سے پوشیده جو اور ہوں ظاہرکرتے تم جو اور ہوں جانتا باتیں چراغ، روشن ترجمہ( ۔ہے ممعلو ےمجھ بس وہ ےکرت

)۳۳ -۳۰ البقره: جاتی پہچانی سے نام اپنے شے ہر کی اسباب عالم سے اول روز

و شعور انسانی مگر ہیں۔ ہوسکتے جدا نام کے میناشیاء زبانوں مختلف ہے ہوتی۔ نہیں تبدیل کبھی طرح کی محبت کی ماں ابدی، فطرت اور ادراک اور تھا گیا کیا پیدا سے مڻی کو ادٓمؑ اور ہیں اولاد کی ادٓمؑ انسان تمام کیونکہ کسی کبھی زمین تو ہوتا نہ ایسا اگر ہے۔ فطرت انسانی ہی فطرت کی مڻی تو ہوں نہ معلوم نام کے اشیاء کو لوگوں اگر دیتی۔ نہ پناه میں اغٓوش اپنی کو

حیات و معاشرت میں کتنی دشواریاں پیدا ہوجائیں گی، یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ادٓمؑ للهکو نے تمام ناموں کا علم دے دیا تو ہزاروں سال قبل لوگ تصویروں کے ذریعہ رابطہ کیوں قائم کررہے تھے؟ دراصل اشاره، کنایہ میں رابطہ قائم کرنا بھی انسانی فطرت میں شامل ہے، نام بذات خود اشاره، کنایہ کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ جدید طرز حیات میں اشیاء کی پہچان کے لیے بجائے نام نمبروں کا استعمال بھی کیا جاتا ہے لیکن صرف نمبر ہی کافی نہیں ہوتے نمبروں کی پہچان بھی انسان کو اشیاء کے نام تک لے

جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ناموں کا علم ہی انسان کو دانا اور مدبر بناتا ہے۔ علم کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک علم اشیاء کی پہچان کے لیے مخصوص ہے۔ دوسرا علم حسّیاتی طور پر حواس خمسہ کی فطری سمجھ پر منحصر ہوتا ہے۔ صوفیہ کی زبان میں ایک علم ظاہری، خارجی، مجازی کہلاتا ہے اور دوسرا باطنی، داخلی اور حقیقی۔ لیکن مغربی فکر و ادب میں داخلی عناصر فکر کو نفسیاتی فلسفہ کے نام سے منسوب کیے جانے کا رواج عام ہے۔ فلسفہ چونکہ عینیت پسند ذہن کی اختراع ہے، اس لیے صرف ظاہری حقائق کی پیچیدگیوں پر یقین رکھتا ہے اور اس میں تاویلات عقلی ہی کے ذریعہ کائنات کی ہر شے کا مشاہده اور معائنہ کیا جاتا ہے۔ اس طرز فکر میں تمام نتائج، ظاہری اور نظری حقائق کے نفسیاتی بیان تک محدود ہوتے ہیں۔ فلسفہ کی کوئی اخلاقیات بھی نہیں ہوتی اور نہ وه کسی غیبی قوت و ادراک کا قائل ہوتا ہے۔ سماجی فلسفہ کی بنیاد بھی سیاسی اور معاشی فلسفہ کی نزمی رپ استوار یک گئی ہے۔ وسوسہ راو کتشکی یہ فلسفہ کی خصوصیت ہے۔ نام یا اسمائے کل کی ضرورت اور حقیقت سے اس کا کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ وه ہر شئے کو محض ایک معروض (Object( سمجھتا ہے۔ اس لیے صارفیت زده سیاسی معاشره میں انسان، حیوان اور

اشیاء سب کی قدر و قیمت کا معیار مادیاتی طور پر متعین کیا جاتا ہے۔ تہذیب و تمدن کی بنیاد فلسفہ نہیں ناموں کا علم ہی ہے۔ اگر اسمائے کل کو درمیان سے ہڻا دیا جائے تو تاریخ اور تاریخی تصورات ہی نہیں، تہذیب و تمدن کے تمام اثٓار بھی عہد تاریک میں دفن ہوجائیں گے۔ مادیاتی سائنس کا تصور بھی باقی نہیں ره سکے گا۔ خیر و شر اور عدل و انصاف کا نام و نشان بھی مٹ جائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ الفاظ کی اختراعی قوت اور امیجری کا وجود بھی نہ ہوگا، فلسفہ کا کوئی نام ہوتا ہے نہ فطرت۔ شاید اسی وجہ سے اطالوی فلسفی سسرو (CICERO) نے کہا تھا انسان’’ مملکت کے ان ہی قوانین کی اطاعت کرتا ہے جو قانون قدرت کے فطری اصول و

۔ہوں‘‘ مطابق کے ضابطوں گیا کیا تعمیر لیے کے انسانوں ذریعہ کے انسانوں سماج فطری ایک سب نباتات و جمادات حیوان، و انسان میں جس ہے اداره ایسا ایک آئے چلے رہتے ساتھ ساتھ سے اول روز تحت کے حیات ہٴضابط فطری آلوده نے فلسفوں کے ڻکنالوجی و سائنس معیشت، و سیاست جسے ہیں۔ زن و مرد کر دے فروغ کو نفسانیت صارفیت، تانیثیت، آج اور ہے کردیا جس ہے، جارہی کی پیدا درار میں رشتوں جذباتی اور اخلاقی درمیان کے علاوه کے فن و ادب تصورات اجتماعی کے سماج فطری اثر سیدھا کا

ہے۔ پڑرہا بھی پر قدروں مثبت کی ثقافت و تہذیب ہوتا وژن اجتماعی ایک کا سب تمثیل اور کنایہ استعاره، تشبیہہ،

و کم ضابطے و اصول کے نحو و صرف میں بیان و زبان کی دنیا تمام ہے۔ جذب رشتے کے کائنات اور انسان کہ ہے یہ وجہ کی اس ہیں۔ یکساں بیش کے باراں موسم مثلا ہیں۔ استوار مطابق کے تقاضوں فطری کے احساس و نہیں بیج ایسے اور ہیں ہوجاتے مشغول میں تیاری کی کھیتوں دہقاں ہی آتے بھی علم کا پکنے کے فصلوں ہوجائیں۔ ضائع میں پانی کے بارش جو ڈالتے کے ماں ہی ہوتے پیدا بچہ ہے۔ گیا کیا ودیعت پر طور قدرتی کو انسان اعضائے اور شئے ہر کی کائنات ہے۔ کرتا تلاش غذا اپنی میں سینے کی وںٴہوا اور حرارت کی آفتاب ہیں۔ مخصوص افعال تمام کے جسمانی پھل کے موسم ہر ہے۔ جاتا سما میں سمندر پانی کا دریا ہے متعین رفتار کائناتی انسان کہ ہے وجہ یہی ہیں۔ ہوتی جدا خصوصیات کی ان اور پھول کردار و مزاج کا انسانیت عالم ہے۔ کرتا تعین کا اعمال اپنے سے تغیرات ہر کے تاریخ مطابق کے ضابطوں کے ادراک و شعور فطری اور متوازن

ہے۔ رہا عمل روبہ میں دور صرف نہ ادب تصورات فطری کے انصاف و عدل اور شر و خیر

و اصول یمعاشرت راو نخاندا ہبلک ںہی ےکرت ہمحاسب اک تذا یک دفر احتساب کو انسان بھی میں تحفظ اور بقا کی رشتوں علاوه کے ضابطوں ہیں دیتے ترغیب کی کرنے اختیار حیات ضابطہ ایسا ایک ذریعہ کے عمل نہ ایسا اگر ہے۔ ہوتی ثانوی حیثیت کی عقل میں بست درو عملی کی جس بہادری، رحمی، صلہ محبت، و الفت جمال، و جلال قبح، و حسن تو ہوتا ہوتا۔ نہ بھی وجود کا قدروں مثبت کرده عطا کی اخلاق فطری اور دلی فراخ ہے، ابٓاد بھی اندر کے انسان دنیا ایک طرح کی دنیا باہری کہ ہے یہ حقیقت کو عقل سے مدد کی ضمیر قوت اپنی جو ہے، ہوتا دل اعلیٰ حاکم کا جس

کے العنانی مطلق کی عقل یہاں ہے۔ دیتا انجام زندگی امور کر دے تحریک شہرت و دولت اور اقتدار و قوت ظاہری لیکن ہوسکتی نہیں جگہ کوئی لیے کے نفسی قوت وه اور ہے دیتی بنا ریاکار اور ظالم کو انسان طلب کی مطلق کی عقل کر دے شکست کو ادراک قوت کی ضمیر اور دل ذریعہ اخلاقی کسی عقلی تاویلات ہے۔ ہوتا کامیاب میں کرنے ہموار راه کی العنانی لازمی کا جس ہوتیں، نہیں بھی پابند کی ضوابط و اصول فطری اور نظریے کی نفس ہوکر آزاد سے بندشوں اخلاقی فنون و علوم تمام کہ ہوا یہ نتیجہ

ہوگئے۔ کار مصروف میں غلامی ہے۔امرفطریایککششکیدوسرےایکدرمیانکےزنومرد متاثر کو انسانی ذہن بلندی کی قامت و قد اور ساخت کی جسم خانہ طلسم پہاڑوں لچکنا، جھومنا، کا شاخوں کی پیڑوں رواں، جوئے ہے۔ رہی کرتی نام بے کے کائنات و فطرت غرض اوٓازیں، ریز نغمہ کی پرندوں بلندی، کی ہے۔ محفوظ پر طور فطری میں ادراک و شعور انسانی چاہت کی رشتوں کی اجتماعیت اپنی نے اس لیے اس ہے۔ وحدت اجتماعی ایک چونکہ انسان کو دنیا تمام اور دیے نام کو رشتوں لیے کے توانائی کی وجود اور پختگی وجہ یہی ہے۔ دی جگہ میں ادب و شعر بناکر امین کا صداقتوں مرئی غیر جنسی اور رشتوں جذباتی کے مرد و عورت میں کہانیوں قصہ کہ ہے انس ہمدردی، رفاقت، دوستی، ہے۔ جاتا پایا پر طور مشترکہ بیان کا تعلقات اور معاشی پھر یا ہوں الجھنیں سماجی اور جذباتی شده پیدا سے محبت و لیکن ہیں۔ ہوتی موضوع کا ادب میں دنیا تمام کشمکش کی مسائل نفسیاتی سماجی پر طور عام ہے، حامل کا حیثیت الاقوامی بین بیانیہ جذباتی کا ادب جوائس، جیمس ہیں۔ جاتے کیے پسند زیاده ہی ناول اور افسانے جذباتی اور ڻامس ہیگرڈ، رائڈر ڈوما، الیکژنڈر مقابلے کے کافکا اور وولف ورجینا کے JK Wrowling میں سالوں گذشتہ ہے۔ زیاده کہیں مقبولیت کی ہارڈی امیر کی دنیا کو مصنفہ اور دیے توڑ ریکارڈ تمام کے آمدنی نے ناولوں

بنادیا۔ عورت ترین ، ہے پہچان مخصوص کی ادب تخلیقی بھی اجتماعیت طرح کی نام بیانیہ کہ چاہیے رکھنا یاد انہیں ہیں۔ ہوسکتے منکر کے نام افراد بعض بیدی سنگھ راجندر ہے۔ ہوتا حامل کا اہمیت بڑی نام کا کردار میں ناولوں دیا رکھ ڻیلر الزبتھ اگر نام کا رانو‘‘’’ کی سی‘‘ میلی چادر ایک’’ ناولٹ کے کے ناولوں دیگر ثباتی بے یہی گا۔ ہوجائے خاک لطف کا بیانیہ تو جائے کے کردار میں موضوعات سماجی کہ ہے یہ حقیقت ہے۔ ہوسکتی بھی ساتھ ذہن کا اورقاری ہے رہتا برقرار تسلسل کا جزویات اور واقعات ساتھ کے نام

مکمل بغیر کے مقامیت ناول اور افسانہ کوئی ہوتا۔ نہیں شکار کا اجنبیت نام کا کردار اور واقعہ بیان، اور زبان لہجہ، و لب مقامی ہوسکتا۔ نہیں بھی اور ناول ایسے ہے۔ مربوط میں اپٓس طرح کی کڑیوں کی زنجیر کچھ سب ایسا کوئی یا ہو نہ آہنگ ہم ساتھ کے نام کے کردار پلاٹ کا جن افسانے ہوسکتا۔ نہیں مقبول زیاده درمیان کے قارئین ہو نہ نام کوئی کا جس کردار استعمال میں افسانوں بجائے کی نام بھی الفاظ جیسے وغیره تم ہم، میں، وه، یہ سبب ہوتی۔ نہیں میں کسی تاثیر کی نام کے کردار مگر ہیں، جاتے کیے سے جس ہے، رکھتا بھی پہچان ثقافتی اور تہذیبی مذہبی، اندر اپنے نام کہ کے نگاروں افسانہ تمام کے اردو تو یوں ہے۔ آتا ابھر رنگ حقیقی کا بیان بعد کے چند پریم میں ضمن اس لیکن ہے اتٓی نظر انفرادیت کی ناموں یہاں ذریعہ کے نام اپنے کردار کے ان کہ ہے حاصل امتیاز یہ کو چندر کرشن حیرت ہیں، ہوجاتے منطبق طرح پوری ساتھ کے مسائل اور ماحول واقعہ، کی اس نام کا کردار میں مثنویات اور داستان کہ ہے یہ تو سچائی انگیز ہے۔ مشکل بھی کرنا جدا جسے کہ ہے ہوتا ضم طرح اس میں شخصیت

ہے۔ ہوجاتا ختم بھی بیان لطف سے بدلنے نام کا کردار اوقات بعض ہوسکتے نہیں استوار بھی رشتے کے انسان اور کائنات بغیر کے نام

کی آدمی صرف نہ سے نام کے رشتوں ہے۔ ہوسکتی قائم اجتماعیت نہ اور ہوتی پیدا کشش کی طرح الگ ایک بھی میں تعلقات اپٓسی بلکہ ہے ہوتی پہچان اور غم کے دوسرے ایک لوگ اور ہے ملتا فروغ کو سگالی خیر ہٴجذب ہے۔ کردیا منہا اگر کو رشتوں سے معاشرت و حیات ہیں۔ ہوتے شریک میں خوشی کا شخصیت نام بے کی اس گا۔ ہوجائے شکار کا Golo Living انسان تو جائے دولت ہوگا۔ اسیر کا ذات ہی اپنی صرف طرح کی ) Emoeba ( امیبا ایک وجود میں ان لیکن ہیں جاسکتے خریدے رشتے زده صارفیت اور میکانکی سے تصور کا غم اور خوشی ہوسکتی۔ نہیں توانائی اور تازگی کی محبت و خلوص کی مجسمہ متحرک کے پوست گوشت ایک محض انسان ہے، ہوجاتا ختم بھی بھی مونس و رفیق کا اس کوئی اور ہے ہوتا کناں نوحہ پر وجودہی اپنےطرح سلسلے کے یادوں میڻھی کھڻی اور شکوے گلے کے یاری دوست ہوتا۔ نہیں کو انسانی ذہن سے رشتوں جذباتی کے یقین و اعتبار ہیں۔ ہوجاتے منقطع بھی دنیا کی نفسانی خواہشاتاور ضرورت اپنی صرف وه ہوتا۔ نہیں سروکارکوئی کی نفساپنےصرفانسان طرحکی ناطقحیوان ہے۔کرتا پسندکرنا سفرمیں تشبیہہ، میں بیان و زبان میں صورت ایسی ہے، ہوتا کار مصروف میں غلامی فن و ادب بلکہ رہتی، نہیں باقی بھی ضرورت کی وغیره تمثیل کنایہ، استعاره، وجود نفسی کا انسان صرف اور ہیں ہوجاتے فوت تصورات اجتماعی تمام کے

ہی باقی رہتا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ اجٓ تمام دنیائے ادب میں امیجری کا

زوال اور ایک فنی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ زبان و بیان کی تعمیر و تشکیل میں اجتماعی افکار و نظریات کا

نہایت اہم رول ہے۔ خاندان اور معاشره اجتماعیت کی دو اہم اکائی ہیں، جن کی در و بست میں مرد و زن دونوں برابر کے شریک ہیں۔ فطری ضرورتیں اور خواہشات نفسی کی تکمیل کے ساتھ ساتھ حیات و معاشرت کا اجتماعی تصور بھی وسعت اختیار کرتا ہے۔ لوگوں کے درمیان آپسی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں، بھائی چارگی اور دوستی کے جذبات خون کے رشتوں میں منتقل ہوکر اپنے وجود کی اہمیت و افادیت کو نہ صرف افرادی سطح پر بلکہ زبان و بیان کی مختلف صورتوں میں استحکام حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں، رشتوں کا دائره جس قدر وسیع ہوتا جاتا ہے زبان و بیان کی اجتماعیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے، حالانکہ تمام رشتے انفرادی نوعیت رکھتے ہیں لیکن ان کا وجود اجتماعی نقد و نظر سے تقویت حاصل کرتا ہے، مشرقی تہذیب و ثقافت میں چونکہ انفرادیت کا تصور اجتماعی ہوتا ہے، اس لیے خاندان اور سماج کی تشکیل میں مرد و زن کی شمولیت لازمی ہے۔ صرف مرد یا صرف عورت

سے خاندان اور معاشره کی تعمیر ممکن نہیں ہوتی۔ ایک حقیقت جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، وه یہ کہ مشرقی طرز

حیات میں خاص طور پر مذہبی افکار ادب میں الوہیت کا تصور پایا جاتا ہے۔ کائنات کا خالق و مالک لله ہے، اسی کی ذات اقدس کو مرکز فکر بناکر زبان و بیان کی در و بست اور عبد و معبود کے رشتے استوار کیے گئے ہیں۔ تمام تعریف و توصیف کی مستحق صرف لله کی ذات ہے، جس کے آگے انسان مجبور ہے،محض مذکوره احساسات پربنیادکی ادبوزبان میں ایسے جملے ہیںگئیںکرلیوضعسےکثرتاصطلاحیںاور ہیں،عاموخاصزدزبانجو مثلاً لله سے ڈرو، لله واسطے رحم کرو، لله دیکھ رہا ہے، لله کی مہربانی ہے، لله کا شکر ہے، رحمت الٰہی، کاتب تقدیر، قادر مطلق وغیره ، چونکہ ذہن انسانی کو مذہبی شعور زندگی نے ترتیب دیا تھا اس لیے تقدیر، بندگی، روز حشر، داور ایمانمحشر، ایقان،و جنت جہنمو ، کون و مکان خیر، سزاشر،و و جزا، جیسی اصطلاحیں وجود میں ائٓیں لیکن اردو شعر و ادب کو متصوفانہ اصطلاحوں نے سب سے زیاده متاثر کیا ہے۔ مثلا حبیب، رقیب، عاشق، معشوق، جذب و شوق، زاہد، محتسب، رند، پارسا، وحشی، دیوانہ، فرزانہ، چاک گریباں، دامن عصیاں، تلاطم، صنم، حرم، عدم، کوچہ، خلوت، جلوت، اهٓ و فغاں، بقا و فنا اور نہ جانے کتنی اصطلاحیں زبان و ادب کا حصہ ہیں۔ جس کے اثرات خاص طور پر شعری ادب میں نمایاں طور پر محسوس کیے

جاسکتے ہیں۔ تشبیہہ، استعاره، کنایہ کے بیان میں عموما کائنات کی کسی بھی شئے کا انتخاب کیا جاسکتا ہے، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انسان کائنات کے ساتھ اپنے رشتوں کو استحکام دینا چاہتا ہے۔ تاکہ وه یہ ثابت کرسکے کہ وه اس وسیع و عریض کائنات کا دوست ہے، دشمن نہیں۔ اس نے اپنی اس جد و جہد کو عشق حقیقی اور عشق مجازی کا نام دے کر متعارف کیا اور کائنات کی ہر شئے فناپنےکو حصہکا جذبہبناکر و احساس ایککی غیرمرئی ابٓاددنیا کی۔ فنکار کے اعصاب پر عورت سوار ہوسکتی ہے لیکن اس نے اپنے زاویہ نظر کو اتنی وسعت عطا کی کہ زمین اور آسمان کی بے کراں و. سعتیں. بھی عورت کے وجود کا حصہ بن کر عقل و خرد کو مہمیز کر. گئیں ، افٓتاب وماہتاب، سمندر،جھیل،دریا، باد وهغرضشمیم،نسیم، سیکون چیز جسہے کی دامن محبوب میں سمائی نہ ہوسکے، مجاز سے حقیقت کی جانب تخلیقی سفر کے بیان نے نہ صرف شاعری بلکہ قصہ کہانیوں میں بھی امیجری کے ہزار رنگ بھرے ہیں، مگر دور جدید میں شعلہ عشق کے سیاه پوش ہوتے ہی زبان و بیان کے تمام رنگ پھیکے پڑگئے، صارفیت زده ذہنیت نے انسان کو نفس اماره کا غلام بناکر تصورات عشق و محبت کو سیاسی معیشت، مادیاتی اور جنسی کہانیوں کا ترجمان بنادیا۔ فلسفیانہ حقیقت پسندی نے علم و فن کی امیجری کو اس قدر متاثر کیا کہ انسان حقیقت و مجاز کے روایتی تصورات سے منحرف ہوکر نفس پرستی کے طلسم میں گرفتار ہے۔ دولت، شہرت اور حاصلاقتدار کرنے اسخواہشکی شدیدقدر انسانیتقدرکہہے کا تصور بھی مموہو اس رہوک ره ۔گیا یسیاس ہٴفلسف یزندگ ےن تبصیر بقل و رنظ کو خواہشات نفسی کا محکوم سےانسانبناکر ضمیر احتساباور عمل کی توانائی سلب. کرلی، خواہشات کو جذبوں کا نام دے کر تمام ادبی دنیا کو گمراه کیے جانے کا رجحان عام ہے، جس کی لاڻھی اس کی بھینس کے مصداق ظلم و

جبر کو عدل و انصاف کا متبادل قرار دیا جاتا ہے۔ قابوپرنفسیضرورتلیےکےکرنےحاصلکوضبطونظمدنیاوی ضروری ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جبکہ انسان خود احتسابی کے ذریعہ عدل و انصاف کی روحانی قوت عملی سے نہ صرف واقفیت رکھتا ہو بلکہ اس پر عمل پیرا بھی ہو لیکن جب انسان اپنے نفس کو خدا بنالیتا ہے تو اس کا دل مرده ہوجاتا ہے اور حق و صداقت کی پہچان تاویلات عقلی کی بہیمیت کی

نذر ہوجاتی ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں: عقل کو تنقید سے فرصت نہیں عشق پر عمل کی بنیاد رکھ

سائنس و ڻکنالوجی، سیاست و معیشت کی بنیاد عشق پر نہیں رکھی

جاسکتی کیونکہ علم ریاضی عشق کا متحمل نہیں ہوسکتا اور نہ عشق علم ریاضی کی طرح جمع نفی کا حساب رکھتا ہے، عشق دراصل صالح فطرت انسان کو قدرت کی عطا کرده نعمت ہے۔ جس کی بنیاد یقین و اعتماد پر قائم ہے۔ لله کی وحدانیت کا یقین، والدین کی شفقت و محبت کا یقین، رشتوں کی صداقت کا یقین، اخٓرت میں جواب دہی اور دنیا کے عارضی و فانی ہونے کا یقین ہی انسان کو کبر و غرور و نخوت سے معرّا زندگی کرنے کی ہمت و حوصلہ دیتا ہے۔ کدورت نفسی کے دور ہوتے ہی دلی جذبات قدرت کاملہ کی روشنی سے دمک ہیںاڻھتے اور انسانی وجود عشق و محبت سے سرشار ہوکر عالم انسانیت کے لیے ایک عمده نظیر بن جاتا ہے لیکن ادبی محاذ پر مرد و زن کی محبت اور اشیائے ظاہره کا حسن و جمال، قصہ، کہانی، حکایت، تمثیل اور مثنوی کے بیان میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ سائنس و ڻکنالوجی کے دور جدید میں ہجر و وصال کے قصے تمام ہوئے۔ کیونکہ عاشق و معشوق کے درمیان کوئی پرده یہیرہا۔نہیںہیحائل میںبیانکےکہانیوںقصہکہہےوجہ جیسیپہلےوهاب گرم جوشی بھی باقی نہیں رہی۔ اس لیے سوسیئر، رولاں بارتھ، دریدا اور فوکو نے مابعد جدیدیت کے نام پر ایک ایسے بیانیہ کی تلاش پر زور دیا ہے، جس کی زبان موجوده دور کے شعور تخلیقیت کے مادی اور نفسیاتی حقائق کی

ترجمانی میں ممد و معاون ثابت ہوسکے۔ دیکھیں کیا گزرے ہے، قطره پہ گہر ہونے تک ---------------------------------------------------------------------------------------------

فارم IV رول( نمبر )۸ نام رسالہ: معارف، اعظم گڑھ

نام پریس: معارف پریس، اعظم گڑھ نام پبلیشر: ڈاکڻر فخرالاسلام اعظمی مقام اشاعت: دارالمصنّفین، اعظم گڑھ قومیت: ہندوستانی ہٴوقفاشاعت: ماہانہ پتہ:دارالمصنّفین،اعظمگڑھ نامپرنڻر: ڈاکڻرفخرالاسلام اعظمی ایڈیڻر اشتیاقاحمدظلی قومیت:ہندوستانی قومیت:ہندوستانی پتہ: دارالمصنّفین،اعظمگڑھ پتہ: دارالمصنّفین،اعظمگڑھ نام و پتہ مالک رسالہ: دارالمصنّفین، اعظم گڑھ۔

میں ڈاکڻر فخرالاسلام اعظمی تصدیق کرتا ہوں کہ جو معلومات اوپر دی گئی

ہیں، وه میرے علم و یقین میں صحیح ہیں۔ ڈاکڻر فخرالاسلام اعظمی

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.