علائی خلجی مہم پر ایک نظر

جناب محمد طارق غازی

Maarif - - نبأ -

ماہنامہ معارف بابت فروری ء۲۰۱۸ کے شذرات میں مدیر محترم ڈاکڻر اشتیاق احمد ظلی نے ایک ہندوستانی فلم کے پس منظر میں سلطان علاء الدین خلجی کے بارے میں ھکچ اہم تاریخی معلومات معارف کے محترم قارئین کے مطالعہ کے لیے پیش فرمائی تھیں۔ اگرچہ یہ

درمیان قعر دریا تختہ بندی کرده ای

کی ایک صورت ہے پھر بھی قصہ ہائے پارینہ کی گاہے گاہے باز خوانی بھی خود کو اپنے موثر ملی وجود کا احساس دلانے کے لیے ضروری ہے اور یہ اس لیے ہےضروری کہ زمانہموجوده میں بلکہ(بہت حد زیاده)سے پڑھے لکھے لوگوں، بشمول مسلمانان جنوبی ایشیا کا ایک طبقہ برصغیر جنوبی ایشیا میں اپنی تاریخ سے لاعلمی کی بنا پر دور ماضی کے ہر قابل ذکر شخص کو توہین و تذلیل کی ان پستیوں میں دھکیلے دے رہا ہے جہاں انہیں دیکھ کر لگتا ہے جیسے امت مرحومہ کا واقعی انتقال ہوچکا ہے اور اس حادثہ کو دوچار سو سال ہوچکے ہیں۔ اِنَّا ﻟِٰﻠہِّ وَاِنَّا اِلیَْہِ رَاجِعُوْن۔ حیرت ہے اتنا عرصہ گزر گیا اور قوم کو اس سانحہ کی اطلاع ہی نہ ہوئی۔ دانشوروں سے بحث مباحثہ مقصود نہیں۔ یہانمیں چند ایسے حقائق پیش کرنا چاہوں گا جن سے کم از کم یہ معلوم ہو کہ ماضی میں مسلمان اتنے ذلیل اور بے شعور و نکمے اور عیاش نہیں تھے جیسا کہ اجٓ بتایا اور باور کیا جارہا ہے، بلکہ

ماضی کا یہ قصہ الڻا لکھا اور پڑھا جارہا ہے۔ پہلی اطلاع یہ ہے کہ ہندوستان کے دو سب سے بڑے محسنوں میں

سے دوسرے، اورنگ زیب عالم گیر کے بعد اب پہلے علاء الدین خلجی کو بھی ولین بدذات( و شریر) بنا دیا گیا۔ ملک میں اس حقیقت کا عام اعتراف نہ ہوا کہ ہندوستان کو جغرافیائی سیاسی اوراقتصادی وحدت دینے کی مہم

شروع کرنے والا شخص علاء الدین خلجی تھا اورہندوستانی مسلمانوں ------------------------------------------------------------------------------------------------------ڈائریکڻر امم سڻڈیز وس،ٴہا ڻورانڻو، کینڈا۔

صدیوںکی مہمبعداسکےکوششوںلگاتارکی شخصوالاکرنےمکملکو اورنگ زیب عالم گیر تھا۔دونوں ہندوستان کے محسن تھے۔ حق تو یہ تھا ان دونوں کو ہندوستان کا قومی ہیرو مانا جاتا۔ اپنے اپنے ظرف کی بات ہے۔ ایک کو انگریزوں نے بدنام کیا اور دوسرے کو اب رسوائیوں کا نشانہ بنا

دیا گیا۔ یہ قصہ قدرے تفصیل چاہتا ہے لیکن اس کا سرنامہ یہ ہے کہ جو قوم اپنے محسنوں کا انکار بلکہ ان کی توہین و تذلیل میں مشغول ہوجاتی ہے عمرانی تسلسل میں وه خوداپنے اجتماعی افادی وجود کی نفی کرتی ہے

اور اس کے نتائج بالاخٓر اس کے سامنے اتٓے ہیں۔ تاریخی واقعیت جسے اب فسانہ سازی کے غبار میں چھپا دیا گیاہے یہ ہے کہ سلطان علاءالدین خلجی -۱۲۹۶( ء)۱۳۱۶ نے بر صغیر جنوبی ایشیا کو جغرافیائی سیاسی اقتصادی وحدت اور متحده قوم بنانے کا عمل شروع کیا تھا اور ۵۱۱ سال میں ۳۰ مسلم سلاطین کی انتھک اور جاں گسل محنت و کوشش اور ۱۵ نسلوں کی بے مثال قربانیوں کے نتیجہ میں اورنگ زیب عالم گیر کی وفات ء)۱۷۰۷( تک ہندوستان جنت نشاں کشمیر و کابل سے کورو منڈل ساحلی( تمل ناڈو) تک اور کامرو آسام)( سے کھمبایت تک بطور متحده ملک ایک سیاسی نظام کے تابع اگٓیا تھا ، اوراس کی اقتصادیات تاریخ میں پہلی بار وحدانی معاشی نظام میں مرتب و منضبط ہوئی تھیں، یعنی تاریخ میں پہلی بار پورا بر صغیرموثر اور نفع بخش قومی وحدت سے

متصف ہوا تھا۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل چند بیانات قابل لحاظ ہیں: ۔۱ مغل دربار کے امیر، خان راسخ عنایت ولادتلله( ء)۱۷۰۲ ابن خان صادق دیوان لطف لله انصاری پانی پتی نے مغلیہ عہد کے فرامین یکجا کرکے ء۱۷۵۰ میں رقعات عنایت کے عنوان سے شائع کیے تھے۔اس میں مغل سلاطین بابر، ہمایوں، اکبر، جہاں گیر، شاه جہاں اور اورنگ زیب خطوطسرکاریکے فرامیناور صورتکتابی میں مرتب کیے یہہیں۔گئے فرامین فارسی زبان میں ہیں۔ یہ کتاب عنایت ہٴنام نثر اور رقعات عنایت خانی کے عنوانوں سے بھی معروف ہے۔عہد حاضر کے مورخ مانک لال گپتا سورسیز( آف مغل ہسڻری- ۱۵۲۶ تا ۱۷۴۰۔ اڻلانڻک۔ نئی دہلی ء۔۱۹۸۹ ص -۶۳ Sources of Mughal History) کا بیان ہے کہ’’ رقعات عنایت خانی مغل دور کی تاریخ کی ایک کارآمد دستاویز اور قیمتی سند ہے جو اس زمانہ کے حالات پر روشنی ڈالتی ہے‘‘ محمد( طارق غازی، تذکار الانصار۔ سوانحی شذره: خان راسخ عنایت لله۔اقرا ایجوکیشن ونڈیشن،ٴفا

ء۔۲۰۱۸ممبئی۔ ص ۔)۲۱۰ ۔۲ نواب صمصام الدولہ شاه نواز ء)۱۷۳۱-۱۶۶۳ت:خان( عہد عالم گیری کے مورخ و سوانح نگار تھے۔ ان کی مشہور تالیف ماثٓر الامراء

ہے۔ اس کتاب میں ان کا بیان ہے: محمد’’ اورنگ زیب بہادر نے فتوحات اور خوش بختی سے پورے

ہندوستان پر اپنا تسلط قائم کرلیا۔‘‘ Muhammad Aurangzeb Bahadur through his conquests and good fortune brought the whole of India under his control .

صمصام الدولہ شاه نواز خان۔ماثٓرلامراء۔ذکر میرک شیخ ہروی۔ج ۔۲ ص ۷۸ Eng. tr. H Beveridge; Revised by Baini Prashad.

۔۳ مولانا سیدمحمد میاں نے اس حقیقت کا اعلان کیا ہے کہ اورنگ زیب عالم گیر کے عزم و استقلال کی تنزلبدولت’’ کے بجائے حدود مملکت دو چند ہوگئیں اور ہندوستان جو ایک ہزار سال سے بہت سے حصوں میں بڻا ہوا تھا ایک مرکز کے ماتحت متحد ۔ہوگیا‘‘ سید( محمد میاں۔ علمائے ہند

کا شاندار ماضی، :۴ ۹۷۸ حاشیہ )۱ ۔۴ بدھسٹ دور کے ماہر ہندوستانی مورخ راماشنکر ترپاڻھی نے اپنی کتاب قدیم ہندوستان کی تاریخ ص( -۳۴ اردو ترجمہ سید سخی حسن نقوی، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی ء)۱۹۹۸ میں ڈاکڻر ارٓ۔ کے۔ مکرجی کی کتاب دی فنڈامینڻل یونڻی آف انڈیا - Radhakumud Mookerji. The Fundamental Unity of India ) کے حوالہ سے اعتراف

کیا ہے کہ برصغیرہندوستان میں مسلمانوں کی آمد سے پہلے شمالی ہندمیں بڑی بڑی سلطنتیں سمندر کی لہروں کی طرح ابھر کر وجود میں ائٓیں اور کچھ عرصہ بعد ڻوٹ کر فنا ہوگئیں۔ اقتدار کی بھوکی نگاہوں نے وندھیاچل کے اس پار جنونی( ہند کو) للچائی نظروں سے بہت دیکھا لیکن پورا ہندوستان کسی زمانہ میں بھی کسی ایک راجہ کے زیر نگین نہ اسٓکا۔ قدیم ہندستان میں سیاسی اتحاد کا نہ ہونا ہماری تاریخ کا کمزور ترین پہلو ہے۔

راماشنکر( ترپاڻھی ، قدیم ہندوستان کی تاریخ، ص )۳۴ ۔۵ کولکاتا میں مقیم عہد رواں کے بنگالی مورخ دیودان چودھری کا بیان ہے کہ ۵۱۵ قبل مسیح میں جب فارس کے دارا اول نے وادی سندھ کے کچھ حصہ کو اپنی سلطنت میں شامل کیا تو ماوراء سندھ زمین سولہ مہا جن پدوں بڑے( رجواڑوں/ ریاستوں MahaJanpad ) میں تقسیم تھی۔

DevdanChaudhuri. HowHindusBecameHindus. DailyO-Open to Opinion. 17-10-2017

بیانات اور بھی ہیں اور ہندو مورخین ہی کے ہیں۔سب کا ذکر

ضروری نہیں۔ راما شنکر ترپاڻھی کے بیان سے اس خیال کی تردید ہوتی ہے کہ

اشوک موریہ یا گپتا راجہ بکرماجیت کے زمانہ میں تمام تر ہندوستان ایک راج کے تابع ہوگیا تھا۔ عام طور پر پایا جانے والایہ خیال اگر درست نہیں ےہ وت ےب شک نمسلما نسلاطی ےن ختاری ںمی یپہل ربا ربرصغی کو جغرافیائی سیاسی وحدت عطا کی تھی۔ اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ اشوک کے زمانہ میں ریاست کلنگا اڈیشہ( اور شمالی ساحلی انٓدھرا) کے خلاف ایک بڑی جنگ کا ذکر تاریخ میں ضرور اتٓا ہے لیکن اس کے علاوه اشوک کی کسی جنگتوسیعی کے سےذکر تاریخ خالی ہے۔ تاریخ ایسیمیں کوئی داستان نہیں ملتی کہ کسی اولوالعزم بادشاه نے محض اپنے محل میں بیڻھے بیڻھے وسیع علاقے اپنی حکومت میں شامل کیے ہوں۔ اس کام کے ماضی و حال کے حکمرانوں کو بڑی جاں فشانی کرنی پڑی ہے۔ عصر حاضر میں انڈولوجی قدیم( ہند کی تاریخ) کے ماہر جرمن مورخین ہرمن کلک ء)۱۹۳۸و:( (Hermann Kulke ) اور ڈیڻمر روتھرمنڈ ( Dietmar Rothermund) کا خیال ہے کہ اشوک کی حکومت کا دائره اتنا وسیع نہیں تھا جتنا بیان کیا جاتا ہے اور اس متذکره رقبہ کے اندرکئی بڑے بڑے ازٓادوخود مختار قبائلی سیاسی نظام موجود تھے۔ اشوک کی سلطنت کا رقبہ جو بھی ہو، تاریخ یہ ہے کہ یہ موہوم اتحاد بھی زیاده عرصہ برقرار نہ ره سکا اور کچھ ہی مدت بعد وسط ایشیا نے اپنی راه الگ کر لی اور سرزمین

ہند کم سے کم سات رجواڑوں میں بٹ گئی تھی۔ مفتی شوکت علی فہمی کا بیان ہے کہ اشوک کے ۲۳۲بعد( قبل مسیح) موریہ حکومت کا شیرازه بکھر گیا، ملک میں متعدد خود مختار ریاستیں قائم ہوگئیں اور ہندوستان سابق کی طرح بہت سے ڻکڑوں میں تقسیم ہوگیا، حتی کہ گپتا خاندان کی حکومت تقریبا( ء)۲۴۰ قائم ہونے تک ہندوستان کی تاریخ اندھیرے میں ہے۔ ایک صدی تک طوائف الملوکی کا دور دوره رہا۔ جس سردار کو بھی موقع ملتا وه ایک محدود علاقہ میں اپنی چھوڻی سی خانہ ساز حکومت قائم کرلیتا تھا۔ اس طرح ہندوستان میں بے شمار ناقابل ذکر حکومتیں قائم ہوچکی تھیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسی حکومت ںنہی یتھ سج یک بجان ہتوج یک شوکتجاسکے( علی

فہمی، ہندستان پر اسلامی حکومت۔ ص ۵۴ اور ۔)۵۷ اسی طرح گپتا سلطنت کے دوران بھی چندر گپتا ثانی بکرماجیت کے دور حکومت تـ:( -۳۸۰ )۴۱۵ میں تقریبا سارا ہندوستان، فغانستان، نیپال اور ایران کا بڑا حصہ ایک مرکزی حکومت کے تابع بتایا جاتا ہے، لیکن چونکہ قدیم ہندوستان میں تاریخ نویسی کا رواج نہیں تھا اس لیے اس دور کے متعلق بیانات ظنی ، گمانی اور اساطیری ہیں اور اسی لیے بیانات باہم دیگر

خاصے مختلف ہیں۔ اس معاملہ میں اساطیری یا نیم اساطیری بیانات کوحقیقت کے

طور پر قبول کر بھی لیاجائے کہ اشوک کا راج آسام سے بلوچستان اور مشرقی ایران تک اور افغانستان سے جنوب مینموجوده تلنگانہ تک پھیلا ہوا تھا توبھی اتنی بات ثابت ہے کہ اشوک کے جانشین اس کی عظیم سلطنت کو برقرار نہ رکھ سکے اور وه سلطنت کئی چھوڻی چھوڻی ریاستوں میں تقسیم ہوگئی۔ کچھ ڻٓھا سو سال بعد ہرش وردھن جیسے عادل اور ترقی پسند راجہ کی حکومت بھی اگلی نسل میں بکھرگئی تھی۔ ہرش کی حکومت نہ تو پورے شمالی ہند پرحاوی تھی اور نہ بندھیاچل ست پڑا کے جنوب میں اس یک چپہن نتھی۔مورخی یہ کا سقیا ےہ ہک گپتا نخاندا یک تحکوم بھی صرف شمالی ہند میں محدود تھی۔ پانچویں صدی مینگپتا راج کا انتشار شروع ہوا تو مسلم دورحکومت کے آغاز تک تقریبا ہزار برس میں ہندوستان’’ میں کوئی مرکزی حکومت نہیں تھی‘‘ اور ملک میں لاتعداد علاقائی حکومتیں قائم ہوگئی تھیں۔ (http://www.ushistory.org/civ/8e.asp( علاء الدین خلجی سخت مزاجی کی وجہ سے کچھ زیاده نیک نام نہیں تھا۔ مورخ ظاہر نویس ہوتا ہے اور اسے عموماکًسی حکمراں کے مزاج کے معاشرتی، اخلاقی، یا نفسیاتی اسباب سے زیاده غرض نہیں ہوتی۔ اشوک موریہ اپنے باپ اور بھائیوں کو قتل کرکے تخت پر بیڻھا تھا۔ تاریخ کا بیان یہاں اکٓر رک جاتا ہے۔ اورنگ زیب نے باپ کو نظر بند کردیا اور بھائیوں کو زنده نہ رہنے دیا۔ یہی بیانیہ تاریخ ہے۔ علاء الدین خلجی سے بھی ایسے واقعات منسوب ہیں جو خانقاه میں شخصی عیب اور عام لوگوں میں ناپسندیده کہلاتے ہیں۔ یہاں نہ ان کی تردید مطلوب ہے نہ تلخیوں پر شکر کی تہہ چڑھانی ہے۔ کہنا یہ ہے کہ انسان کی شخصیت کئی عوامل سے مل کر بنتی ہے اور وہی عوامل کسی خاص سمت میں اس فرد کی نفسیات کے اظہار کا سبب ہوتے ہیں۔علاء الدین خلجی اگر مغلوب الغضب شخص تھا تو اس کی نفسیات کا یہ پہلو مستقل مطالعہ کا مطالبہ کرتا ہے اس لیے کہ وه کوئی عام آدمی نہیں بلکہ ایک بڑے ملک، وسیع سلطنت اور

اور تھا رہا بنا مزاج کا اس معاشره کا اس تھا۔ بادشاه کا رعیت مزاج منتشر ہے معاشره وه طلب تحقیق تھا۔ ہورہا مرتب پر معاشره اثر کا مزاج کے اس سے معاشره اپنے وه کیا تھا۔ بنا حاکم شخص جیسا الدین علاء میں جس رسوم مروجہ یا تھا چاہتا بنانا معاشره کا قسم خاص کسی اور تھا غیرمطمئن تھینـ۔ رہی بن سبب کا اضافہ میں غصہ فطری کے اس جو تھا بددل سے نفسیاتی کے زندگی کی جوانی بچپن، کے گاندھی اندرا مثلا سے پہلو اسی میراث بطور پر ہندوستان اور سڻار بلیو آپریشن ایمرجنسی، میں منظر پس عمرانی نئی میں تاریخ مطالعہ کا جذبہ کے کرنے قائم حکومت خاندانی محل کا گفتگو تفصیلی پر موضوع اس یہاں ہے۔ کرسکتا درج وضاحتیں تاثیر سیاسی کی نفسیات کی الدین علاء سے پہلو خاص ایک البتہ ہے۔ نہیں

ہے۔ مقصود سمجھنا کو بڑے ذکر کا خلجی الدین علاء سلطان میں تاریخ کی سلطنت دہلی علمائے تذکره’’ نے محلی فرنگی لله عنایت مولانا ہے۔ آتا اندازمیں ڈرامائی اور دین عالم کے دور اس خلجی الدین علاء کہ ہے لکھا میں محل‘‘ فرنگی ہے جاتا کہا تھا۔ بیعت سے برناوی انصاری بدرالدین مخدوم بزرگ صوفی سکندر میں دل کے خلجی الدین علاء ہی لیتے میں ہاتھ حکومت زمام کہ

ہوا۔ پیدا ارمان کا بننے عالم فاتح طرح کی مقدونی خلجی الدین علاء اولوالعزم بعد کے بننے بادشاه کہ ہے روایت’’

فتح تک ہندوستان کر نکل سے یونان نے سکندر طرح جس کہ سوچا نے کے خلجی علاءالدین کہلائے۔ عالم فاتح بھی وه تھے گاڑے جھنڈے کے خدا و اگٓاه خود درویش جیسے برناوی انصاری بدرالدین مخدوم طریقت شیخ اس الدین علاء جوسلطان ملاتھا کوکیا سکندر کرکے فتح دنیا کہ کہا نے اگٓاه تو ہے ہی کرنا کام کچھ کا ناموری کہ دیا مشوره اسے اور کرے۔ طمع کی جو ارض ہٴخط ہی ہک ےہ ہی مکا ابڑ یبھ ےس تفتوحا یک رسکند ںہا اکائی اورسیاسی ملک ایک بھی کبھی میں تاریخ اپنی ہے کہلاتا ہندوستان میں وقت ہی ایک ےس زمانوں کے رامائن اور بھارت امہ رہا۔ نہیں لوڻی یں بہار کی دیس اس نے رجواڑوں اور راجوں بڑے چھوڻے سیکڑوں کو باشندوں کے اس اور ملک ایک کو سرزمین اس تو ہے کرنا ہیں۔کچھ سوانحی الانصار۔ تذکار غازی۔ الانصاری طارق محمد( ۔بنادو‘‘ قوم ایک ممبئی۔ فاونڈیشن ایجوکیشن اقرا انصاری۔ منصور میاں محمد شذره:

)۴۰۹ ص ء۔۲۰۱۸ اس اور گئی بھا کو دل کے خلجی الدین علاء بات یہ کی مرشد اپنے

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.