شذرات

بسم الله الرحمن الرحيم

Maarif - - نبأ -

ء۱۹۱۷ نومبر جب تھی گئی دی رکھ دن اسی بنیاد کی ریاست یہودی میں فلسطین

تھا کیا دستخط پر اعلامیہ سے مختصر اس نے بالفور آرتھر خارجہ وزیر کے برطانیہ میں کا آبادی یہودی میں فلسطین ارضِ وقت اس ہے۔ جاتا جانا سے نام کے اعلامیہ بالفور جو ایسی ایک نے اس کہ تھا نہیں ہی اتنا صرف جرم کا برطانیہ تھا۔ کم سے فیصد دس تناسب خواہش کی باشندوں اصل کے اس تھا، نہیں استحقاق کا قسم بھی کسیکا اس پر جس سرزمین یہودیوں دوران کے مینڈیٹ اپنے بلکہ دی بخش کو قوم دوسری ایک خلاف کے مرضی اور ان کی برطانیہ کی۔ بھی کوشش ممکن ہر لیے کے کرنے اشٓنا تعبیر کو خواب دیرینہاس کے کی یہودیوں میں خطہ اس میں برسوں بیس اگلے سے وجہ کی تعاون بھرپور اور کوششوں اسرائیلی میں ء۱۹۴۸ بالآخر سلسلہ یہ ہوگئی۔ فیصد ستائیس کر بڑھ سے فیصد دس آبادی تاریخ منحوس کی انٓے میں وجود عالم کے ریاست اسرائیلی ہوا۔ منتج پر تاسیس کی ریاست اسرائیلی میں سرپرستی کی برطانیہ میں عرصہ کے ء۱۹۴۸ سے ء۱۹۱۷ ہے۔ مئی ؍۱۴ فلسطینی تھی، پائی بھی تربیت میں نگرانی کی انہی نے جنہوں ذریعہ کے گردوں دہشت رہا۔ جاری برابر سلسلہ کا دخلی بے کی فلسطینوں سے وطن اپنے اور قبضہ پر املاک اولاد کیان اجٓ ہوئے۔ جلاوطن فلسطینی لاکھ سات میں نتیجہ کےفلسطین جنگمیں ء۱۹۴۸ گذار زندگی کی جلاوطنی میں ممالکمختلفکے خطہ لوگ یہہے مشتمل پر نفوسملینکئی کا امید کی واپسی وہاں اور ہے آباد دنیا کی دل کے ان بھی اب سے یاد کی وطن ہیں۔ رہے ابٓادیوں عرب اور گری غارت و قتل وقت اس ہے۔ روشن میں انٓکھوں کی ان بھی اب چراغ ستر آج تھا ہوا شروع سلسلہ جو کا قبضہ غاصبانہ پر زمینوں کی ان اور انخلاء جبری کے اسرائیل تو نہ ہے۔ جاری سے رحمیبےاور شدتاسی بھی بعد کے عرصہ طویل کےسال

میں۔ سرفروشی جذبہ کے فلسطینوں نہ اور ائٓی کمی کوئی میں مظالم کے

ہیں۔ مناتے جشن کا تشکیل کی ریاست اسرائیلی اور فتح اپنی اسرائیلی کو مئی ؍۱۴

ہیں۔ کرتے یاد پر طور کے دن کے بربادی اور مصیبت یعنی النکبہ یوم فلسطینی کو دن اس کے گردیدہشت اسرائیلی دن جس ہیں کرتے تازه یاد کی دن اس دراصل وه مناکرالنکبہ یوم عرصہ کا سال ستر پر سانحہ عظیم اس تھا۔ پڑا چھوڑنا کو عزیز وطن اپنے کو ان میں نتیجہ عینی کے واقعات ان جو ہیں گئے ره ہی خال خال لوگ کے نسل اس اب اور ہے چکا گذر کے فلسطین نے اسرائیل میں نتیجہ کے جنگ روزه چھ کی ء۱۹۶۷ دوران اس تھے۔ شاہد اپنا کو اس اور کرلیا قبضہ بھی پر المقدس بیت مغربی ساتھ ساتھ کے علاقہ وسیع ایک تھی ورزی خلاف صریح کی قرارداد کی متحده اقوام یہ کردیا۔ اعلان کا بنانے دارالسلطنت ملککسی میں وقتوں پہلے تھی۔گئی دی حیثیتکیشہرعالمی ایک کوالمقدس بیت میں جس کہتھا کافی اتنا بس لیے کے کرنےشامل میں مملکتاپنی اسے اور لیے کےکرنے قبضہ پر کوئی اگر اب لیکن کرلے۔ قبضہ پر اس طاقت بزورِ وه کہ ہو قوت فوجی اتنی پاس کے کسی ہوگا ناجائز قبضہ وه مطابق کے قوانین الاقوامی بین تو کرلے قبضہ پر ملککسی قوت بزورِ

اور اگر وہاں کے اصل باشندوں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کردیا جائے تو ان کو واپسی حاصلحقکا ہوگا۔ اسی کےحق فلسطینیتحت واپسیوطن دستسےحقکے بردار ہونے ہیں۔نہیںتیارلیےکے چنانچہ النکبہیوم منانے کے ساتھساتھ وه الرجعہحق یعنی واپسی کے حق پر اصرار کرتے ہیں۔ اس کی ایک علامت کے طور پر انہوں نے گھروںاپنے کی چابیاں سنبھال کر رکھی ہیں۔ اب وہاں نہ وه گھر ہیں اور نہ وه در اور نہ ان کی مدد سے ان کی قسمت کے بند قفل کھلنے والے ہیں لیکن ان کی یادگار اور ان سے وابستگی کی علامت کے طور پر ان کی نفسیاتی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ اس سلسلہ میں ایک غیر معمولی بات یہ ہے کہ سےوطن محبت کے نقوشگہرےان کو اور اس کی بازیافت قربانیہرلیےکے کے لیے تیار رہنے کے جذبہ کو اپنی نئی نسلوں تک منتقل کرنے میں وه پوری طرح کامیاب رہے

ہیں بلکہ واقعہ ہے کہ نوجوان نسل کا ہٴجذب سرفروشی شاید پہلے سے بھی زیاده ہے۔

ان مخصوص اسباب کی وجہ سے جن کی بعض تفصیلات ابھی آپ کے سامنے

پیش کی جائیں گی اس سال حق الرجعہ کے سلسلہ میں مظاہروں کا سلسلہ مارچ ہی سے شروع ہوگیا تھا۔ مئی؍۱۴ کو اس تحریک کے زیرِ اثر غزه سرحدکی پر ایک عظیم الشان اور عدیم المثال مارچ کا اہتمام کیا گیا۔ اس مارچ کو روکنے اور اس تحریک کو کچلنے کے لیے اسرائیل ظلم و ستم کی ہر حد کو پار کرگیا اور نہتے فلسطینی مظاہرین کے خلاف ایسی بربریت کا مظاہره کیا جس کی مثال ظلم و جبر سے بھری ہوئی اس دنیا میں بھی کم ہی ملے گی۔ اس سال یوم النکبہ اور حق الرجعہ کی مناسبت سے اس غیر معمولی مارچ کی ایک علامتی اہمیت اور بھی تھی۔ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینوں کی املاک اور زمینوں پر غاصبانہ قبضہ اور وہاں یہودی بستیوں کی تعمیر کے ذریعہ اس خطہ کے اور خاص طور حقائقزمینیکےالقدسسے بدلنےکو کوششکی بہتتو پہلے سے جاری ہے لیکن اس سال امریکہ کی طرف سے ایک غیر معمولی اقدام نے پوری صورت حال کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے اور قبلہ اول پر خطرات کے منڈلاتے ہوئے بادل اور گہرے ہوگئے ہیں۔ ڻرمپ کی صدارت کے بعد امریکی پالیسیوں میں جو جوہری نوعیت کی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ان کے اثراتِ بد کو پوری دنیا میں محسوس کیا جارہا ہے۔ انہیں میں ایک غیرمعمولی حدتک دور رس اہمیت کی حامل تبدیلی کا تعلق القدس سے ہے۔ امریکہ نے کچھ دنوں پہلے اسرائیل میں خانےسفارتاپنے ابیبتلکو یروشلمسے کرنےمنتقل کا فیصلہ کیا اور دنیا بھر کی مخالفت کے باوجود اس پر عمل درآمد بھی کرلیا۔ اس کے افتتاح کے لیے انہوں نے ؍۱۴ مئی کی تاریخ منتخب کی جس سے فلسطینیوں کی شومی قسمت کی ابتدا بھی وابستہ ہے۔ اس پس منظر میں اس سال حق الرجعۃ کے مارچ کی اہمیت بھی بہت بڑھ گئی۔ یہ دراصل مظلوم و مقہور فلسطینیوں کی طرف سے امریکہ کے اس اقدام کا جواب بھی تھا اور سعودی عہدولی سمیت ان تمام لوگوں اور حکومتوں کا بھی جواب تھا جو ان کو یہ فیصلہ تسلیم کرلینے کا مشوره دے رہے تھے۔ یہ بلاشبہ ایک تاریخی مارچ تھا اور فلسطینیوں کے اس غیر متزلزل عزم کا واظہار اعلان تھا کہ وه کسی صورت میں بھی اپنے اس حق سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں چاہے اس کے لیے ان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ اپنے گذشتہ

کی نوعیت بنیادی نہایت ایک میں حال صورت کی القدس اب میں مقابلہ کے پہلے فلسطینیوں بھی لیےپہلے کے حفاظت کی اول قبلہ اور بازیابی کی فلسطین ہے۔ اچٓکی تبدیلی سے لہو اپنے تک اب نے انہوں کو چراغ اس اور ہے کیا پیش کانذرانہ جان اپنی ہی نے اخلاقی اسلام عالم پورا پہلے البتہ ہے، کرنا ادا کو انہی فریضہ یہ بھی ایٓنده ہے۔ رکھا روشن اس کی موت اور زندگی حصہ اہم ایک کا اسلام عالم اب لیکن تھا۔ ہوتا ساتھ کے ان پر طور وںٴپا دبےتبدیلییہہے۔ساتھکے اسرائیل اور امریکہ بلکہہےنہیںساتھ کےان میںکشمکش تھے چھپاتے کو روابط اپنے ساتھ کےاسرائیل ممالک یہ لیکن تھی اچٓکی ہی پہلے دنوں کچھ اب تھے۔ کرتے اظہار کا یکجہتی اور ہمدردی پر طور ظاہریساتھ کے مقاصد فلسطینی اور اور قدیم نہایت کے ان سے جس علاوه کے امریکہ اور ہے ہوچکا ختم زمانہ کا تکلفات ان داری پرده اور احتیاط کسی میں سلسلہ کے تعلقات بھی ساتھ کے اسرائیل ہیں۔ روابط مستحکم اور ہے میں زد کی خطرات شدید اول قبلہ وقت اس جاتی۔ کی محسوس نہیں ضرورت کی بلکہ ہے، دی چھوڑ اوپر کے فلسطینیوں داری ذمہ کی حفاظت کی اس نے اسلام عالم عملا کہ ہے یہ خواہش اور کوشش کی حصہ اہم ایک کے اسلام عالم کہ ہے یہ تو بات سچی لاحاصل اس مطابق کے خیال اپنے کے ان اور کرلیں صلح ساتھ کے حالات بھی فلسطینی پرموقف اپنے ترکیصرف وقت اس میں حق کےفلسطینہوجائیں۔کش دستسے مزاحمت ہیں۔ رہے دے ساتھ کا اس حدتک کسی بھی ممالک اور بعض اور ہے قائم سے مضبوطی ہے۔ کو الغیب عالم صرف تو علم کا اس ہوگا کیاظاہر میں سلسلہ اس سے پردے کے مستقبل ادا کو داریوں ذمہ اپنی میں سلسلہ کے اول قبلہ نے اسلام عالم کہ نہیں چاره بغیر کہے یہ لیکن کو ان تو میں العزت رب بارگاه تو نہیں یہاں اگر ہے۔ کیا ارتکاب کا کوتاہی شدید میں کرنے

ہوگا۔ دیناہی حساب کا اس

حکمرانوں اسرائیلی سفاکخلاف کے اس کہ تھا معلوم خوب کو ان میں روشنی کی تجربوں کے ان اور ڻرمپ ایوانکا میں خانہ سفارت امریکی طرف ایک چنانچہ ہوگا۔ کیا ردعمل کا تو تھا جارہا منایا جشن کا منتقلی کی خانہ سفارت میں قیادت کی شوہر یہودی گیر سخت ایسا تھی۔ ہورہی بارش کی گولیوں دھند اندھا پر فلسطینیوں معصوم اور نہتے طرف دوسری کے ہڻلر تھا۔ جارہا کیا لیے کے مارنے سے جان بلکہ نہیں لیے کے کرنے منتشر کو مجمع دل سنگ اور سفاک ظالم، زیاده بھی سے اس اسرائیلی یہ والے کرنے نوحہ رات دن کا مظالم ساڻھ ساتھ ایک زخمی۔ ۲۷۷۱ اور ہوئے بحق جاں فلسطینی نہتے ساڻھ دن اس صرف ہیں۔ ہوں گئےہار بازی کی جان میں بعد سے بہت سے میںزخمیوں ہوگئے۔ گل چراغ کے گھروں کے بعد ہوگی۔ بدترسے موت لیےکےان زندگیکہ گےہوںزخمی اتنے سے بہت اور گے ادھر براں مزید گیا۔ چلا ہوتا اضافہ مسلسل میں تعداد کی مجروحین اور مقتولین میں دنوں سہولیات طبیمیں غزه ہے۔ کررہا حملےہوائی مسلسل پر غزه اسرائیل سےدنوں کئی گذشتہ کے ان ہیں کررہے کام طرح کسی اسپتال چند جو ہے، کمی سخت کی وںٴ دوا ضروری اور نکال نہیں وقت بھی لیے کے والوں ہونے زخمی پر طور شدید وه کہ ہے وٴ دبا اتنا کا کام اوپر

ہے۔ ہوا بنا اسپتال گھر ہر کا غزه وقت اس عملا ہیں، پارہے

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.