شذرات

بسم الله الرحمن الرحيم

Maarif - - نبأ -

گذشتہ دنوں ایک سیمینار میں شرکت کے لیے ملیشیا جانے کا اتفاق ہوا۔ انڻر نیشنل

اسلامک یونیورسڻی، کوالالمپور نے وقف کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام کیا تھا۔ اس کا عنوان تھا History and Governance of Awqaf in South and Southeast''' Asia: Colonial Intervention and the Modernیہ سیمینار بنیادی طورپر IRCICA، استانبول کے تعاون سے منعقد کیا گیا تھا۔ اس کے علاوه اس کے انعقاد میں جاپان کی Toyo Bunko اور کیرالہ کی Academy Madin کا تعاون بھی شامل تھا۔ IRCICA علم و تحقیق اور وتہذیب ثقافت کے میدان ائٓی۔او۔میں سی کے تحت کرنےکام والا سب سے اساورہےادارهاہم کی علمی خدمات کا دائره وسیع ہے۔ یہ سیمینار ؍۵۔۴ جولائی کو یونیورسڻی کے سینٹ ہال میں منعقد ہوا۔ ہر لحاظ سے یہ ایک کامیاب سیمینار تھا۔ اس کی کامیابی ڈاکڻر ارشد اسلام اور ان کی ڻیم کی منظم اور انتھک کوشش اور محنت کا نتیجہ تھی۔ اس سیمینار میں ہندوستان، پاکستان، فلپائن، انڈونیشیا، بنگلہملیشیا، دیش، ترکی، جاپان زنجباراور کے اسکالرس نے لیاحصہ اور اس میں تیس تحقیقی مقالے پیش کیے گئے۔ اوقاف کے نظم و انصرام میں استعماری مداخلت بھی کاموضوع ایک حصہ تھی۔ مناسبتاس سے راقم حروف نے میںبرصغیر برطانوی حکومت کے ذریعہ الاولادعلیوقف کی معطلی کے علامہخلاف شبلی قیادتکی میں چلائی جانے والی عدیم المثال تحریک پر کلیدی خطبہ پیش کیا۔ اس تحریک کے نتیجہ میں ء۱۹۱۳ میں حکومت نے سلسلہاسکرکےپاسایکٹایک میں مسلمانوں کے حق تسلیمکو انُکیا۔ حالات میں ایکیہ بڑیبہت تھی۔کامیابی نےشبلیعلامہ آخر عمر کے پانچ سال وجداس جہد میں صرف کیے۔ ان کے عزم و حوصلہ نے اس تحریک کو برصغیر کے مسلمانوں کی اجتماعی آواز بنادیا اور برطانوی حکومت کو اصلاح احوال لیےکے مجبور کردیا۔ اس پرواقعہ اب سےسالسو زیاده کا عرصہ گذر چکا ہے۔ اس حق کی بازیافت کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے علامہ شبلی

کی قیادت میں جو المثالعدیم جد و جہد کی تھی اس سے اب کتنے لوگ واقف ہیں۔

نسل چینی علاوه کےمسلمانوں ہے۔ مشتمل پر مسلمانوں اکثریت کی ابٓادیمیں ملیشیا کے سگالی خیر اوراعتماد باہمیسبیہہیں۔ابٓادمیںتعدادبہمعتد وہاں بھیہندواورباشندےکے حاصل ازٓادی سے سامراج برطانویمیںء۱۹۵۷ نے ملیشیا ہیں۔ کرتےبسر زندگی میںماحول انقلابی میں دوعشروں آخری کے صدی بیسویں ملک یہ شکار کا بدحالی پر طور معاشی کی۔ کی محمد مہاتیر ڈاکڻر میں عرصہ مختصر کے ء۲۰۰۳ سے ء۱۹۸۱ ہوا۔ دوچار سے تبدیلیوں اس ہوا۔ کامیاب میں کرنے حاصل استحکام سیاسی اور اقتصادی مثال بے ملیشیا میں قیادت کے ماڈل اورمثال ایک لیے کےملکوں پذیرترقیوه گیا۔ بدل ہی نقشہکا ملک میںمدت مختصر کامیابی میں کرنے حاصل مقام باوقار ایک میں برادری عالمی اور آیا سامنے کر ابھر پر طور کی محمد مہاتیر ڈاکڻر دیا۔ ڈال میں حیرت کو دنیا نے ترقی معاشی رفتار تیز کی اس کی۔ حاصل ان اورہیں رکھتےحیثیت کی یادگارایکمیں تاریخ کیملیشیا سالبائیسیہ کے عظمیٰوزارت ملک کہ ساتھ کے اطمینان اور اعتماد اس ہے۔ جاتا کیا تسلیم معمار کا ملیشیا نئے طورپر بجا کو میں ء۲۰۰۳ مہاتیر ڈاکڻر ہے، کردیا ادا حدتک کی استطاعت اپنی نے انہوں حق کا خدمت کی

فیصلہ اپناکا ان یہکردی۔خالی جگہ لیےکےنسلنئی اور ہوگئے کشدستسےعظمیٰوزارت جب کیا وقت اس نے انہوں فیصلہ یہ تھے۔ نہیں مجبور بھی طرح کسی وه لیے کے اس اور تھا نظر اہلالبتہہے۔ مشکل ملنی مثال کی اس میں دنیا کی سیاست تھی۔ مکمل گرفت کی انپراقتدار تھی کی بندی منصوبہ جو نے انہوں لیے کے مستقبل کے ملک کہ تھی نہیں پوشیده بات یہ سے تھی۔ رکھتی حیثیت کی نشان سوالیہ بڑے ایک موجودگی عدم کی ابراہیم انور میں اس

رہے راست دست کے محمد مہاتیر ڈاکڻر میں ترقی و تعمیر کی ملیشیا ابراہیم انور

کے اعظم وزیر نائب بالآخر اور سنبھالیں وزارتیں اہم کئی نے انہوں میں حکومت کی ان تھے۔ مہاتیر ڈاکڻر وه میں عرصہ طویل کے ء۱۹۹۸ ستمبر سے ء۱۹۹۳ دسمبر ہوئے۔ فائز پر عہده خوش نہایتکو داریوں ذمہ کی عہدهاہماسنےانہوں اورتھےمعتمد قریبیسے سبکے محمد ایشیا وقت اس رہا۔ پاس کے ان بھی عہده کلیدی کا مالیات وزارت دوران اس کیا۔ ادا سے اسلوبی دونوںہے۔جاتی بڑھ مزید اہمیتکی اسنظر پیشکے اس تھا دوچار سے بحرانمالی شدید جس دینی اپنے ساتھ ساتھ کے صلاحیتوں انتظامیابراہیم انور تھی۔ اہٓنگیہم پوری درمیان کے لیڈروں تھا جاتا کیا تصور جانشین کا محمد مہاتیر ڈاکڻر انہیں تھے۔ معروف بھی لیے کے فکر اور مزاج معمولی غیر جو کا ترقی و تعمیر کی ملیشیا کہ تھا جاتا کیا محسوس اطمینان یہ پر طور عام اور بڑی گا۔ رہے جاری میں عہد کے جانشین لائق کے ان وه تھا ہوا شروع میں نگرانی کی ان کام انور اقتدار عنان نے محمد مہاتیر ڈاکڻر میں ء۲۰۰۳ اگر کہ ہے اتٓا میں ذہن خیال یہ سے حسرت اور منصوبے وه اور ہوتا رہا جاری بھی سفر کا ترقی کی ملیشیا تو ہوتی دی میں ہاتھ کے ابراہیم کی ترقی و تعمیر کی ملیشیا جو اور تھا کیا شروع نے انہوں کو جن ہوتیں رہی باقی بھی پالیسیاں لیکن ہوتا۔ گیابچ سے قہقری رجعت محیطپر عرصہ طویل کے سال پندره ملکاور تھیں ضامن اعتماد باہمی اور رفاقت طویل کی لیڈروں دونوں ان ہیں۔ ہوتے عجیب بھی معاملات کے سیاست موقع یہ کا کرنے بیان کو داستان دردناک اس گئی۔ بدل میں عداوت اور عناد شدید یکجہتی اور پر سال پندره ملیشیا تو ہوتا ہوا نہ ایسا اگر تھی۔ بدقسمتی بڑی کی ملیشیا یہ کہ ہے یہ واقعہ نہیں۔ ہوتا۔پرعروجبام کے ترقی وقت اساورہوتاگیا بچ سےسالو ماه ثمربے اورلاحاصل محیط گیا۔ دیا نکال بھی سے پارڻی انہیں پھر اور گیا ہڻایا سے عہده کے اعظم وزیر نائب کو ان پہلے شبہہ وشک میں بھردنیا کو جنگیا دیاڈال میں جیل کو ان تحتکے الزاماتایسےمیں ء۱۹۹۹ جیل مدت خاصی کو ان تک ملنے معافی شاہی میں مئی سے وقت اس گیا۔ دیکھا سے نگاه کی جنگکی بقا سیاسیاپنی اور براٴت اپنی سے الزامات ان رہے باہر وه بھی جب پڑی۔ گذارنی میں کامیابی نہایتصرف نہ نےعزیزه وان ڈاکڻر بیگمکی ان میں موجودگی عدمکیان رہے۔لڑتے کامیاب بھیمیں کرنے حاصل مقام اہمایکمیں زندگیسیاسی کی ملیشیابلکہ لڑیجنگ یہسے

رہیں۔

اعظم وزیر نائب کو بداوی احمد عبدلله نے محمد مہاتیر ڈاکڻر بعد کے ابراہیم انور سے عظمیٰ وزارت خود اور کردی سپرد کے انہی اقتدار زمام کی ملک میں بعد اور کیا مقرر لیکنکیا کام سےحیثیت کی اعظم وزیر نےبداویتکء۲۰۰۹ سےء۲۰۰۳ ہوگئے۔ کش دست بعد کے اس تھیں۔ گئی کی وابستہ ساتھ کے ان جو ہوسکیں نہ پوری توقعات وه سے ان کی انہیتربیتسیاسی کی جن گیا کیا مقرراعظم وزیر کو رزاقنجیبپرایما کے ہیڈاکڻرمہاتیر

سانحہ کسی لیے کے ملیشیا عہد یہ رہا۔ تک ء۲۰۱۸ مئی اقتدار عہد کا ان تھی۔ ہوئی میں نگرانی کے ہونے دوش سبک سے عظمیٰ وزارت کے مہاتیر ڈاکڻر جو رفتار کی ترقی تھا۔ نہ کم سے رزاق نجیب گئی۔بڑھ بہت رفتارکی زوال اس میں عہد کے رزاقنجیب تھی ہوچکی سست بعد رنگ اسی ڻولہ حکمراں پورا میں قیادت کی ان اور ہوئے ملوث میں بدعنوانی مالی سنگین خود اقتصادی اور تھا ابھرا پر طور کے ڻائیگر ایشین پہلے ہی دن کچھ ابھی ملک جو گیا۔ رنگ میں کی استحکام عدم مالی اور بدانتظامی کرپشن، تھا، گیا بن مثال ایک کی استحکام سیاسی اور اصلاحِ لیکن تھے ازٓرده سختسے حال صورتاس مہاتیر ڈاکڻرپر طورفطری گیا۔بن علامت

گیا۔ چلا دھنستا میں دلدل کی کرپشن ملک اور ہوگئیں ناکام کوششیں تمام کی ان کی احوال رزاق نجیب کہ بھی سے وجہ اس اور بھی سے حیثیت کی معمار کے ملیشیا جدید صورت ہوئی بگڑتیکیملک تھی، کی حاصل تربیتسیاسی سےانہی اور تھے انتخابکا انہی نجیب لیے کے نکالنے سے دلدل اس کو ملک ہوگئی۔ برداشت ناقابل لیے کے مہاتیر ڈاکڻر حال کی حاصل سےذرائع ناجائز تھا۔نہیںاسٓان کام یہلیکن تھا،ضروری خاتمہکا حکومت کی رزاق مضبوط بہت گرفت اپنی پر طبقے حکمراں نے رزاق نجیب ذریعہ کے دولت اندازه بے ہوئے کے انحدتکبہت بھی ابٓادیاکثریتیکی ملیشیا اثرزیر کے افسوںکے قومیت مالے تھی۔ کرلی انور کہ تھی صورت ہی ایک کی کرنے ختم حکومت کی رزاق نجیب تھی۔ گرفتار میں سحر سطح ملکی باوجود کے مشکلات و مصائب تر تمام جو جائے کیا شریک میں مہم اس کو ابراہیم ڈاکڻراہلیہکی انمیں موجودگیغیر کیانتھے۔رکھتےصلاحیت کی کرنے اداکردار موثرپر تھیں رہی کرتی پیروی کی مقدمات خلافکے انمیں عدالتوںطرح اچھیصرف نہ عزیزهوان یہ لیکن تھی۔ کی حاصل کامیابی میں کرنے حاصل مقام نمایاں ایک بھی میں سیاست ملکی بلکہ ہے یہ بات اہم تھی۔ ضرورت کی جراٴت اخلاقی معمولی غیر لیے کے اس تھا۔ نہیں اسٓان فیصلہ انورخود کہ ہےیہ باتاہمزیاده بھیسے اساترے۔پورے میں امتحاناسمحمد مہاتیر ڈاکڻر کہ نظرکواذیتوںاورتکالیفتماماناورہوئےکرتےفراموشکوتلخیوںتمام کیماضینےابراہیم کےانمیںمفاد تروسیع کے ملک تھیں، پہنچی سے وجہ کی مہاتیر ڈاکڻرکو انجوکرتے انداز کا ظرفی اعلیٰ بڑی میں سلسلہ اس سے طرف کی قائدین ہی دونوں لیا۔ تھام کو ہاتھ ہوئے بڑھے نتیجہکا اتحاداس کی۔قائم مثال ایک نے دونوں کر اڻھاوپر سے تحفظات شخصی اور ہوا مظاہره ناممکن ایک بظاہر منصوبہکا کرنے دخل بے سے اقتدار کو رزاقنجیب ہے۔ سامنے کے سب سے شکست اتحاد حکمراں بار پہلی بعد کے ازٓادی ہوا۔ کنار ہم سے کامیابی وه لیکن تھا منصوبہ زمام اعظم وزیر بحیثیت پھر بار ایک میں عمر کی سال ۹۳ نے محمد مہاتیر ڈاکڻر ہوا۔ دوچار طرف کی بادشاه کو ابراہیم انور ہیں۔ نائب کی ان عزیزه وان ڈاکڻر ہیں۔ چکے سنبھال حکومت ہیں میں جیل رزاق نجیب ہے۔ چکی مل رہائی سے بند و قید میں نتیجہ کے اس اور معافی سے ترقی و تعمیر کی ملیشیا بعد کے وقفہ طویل کے سال پندره ہے۔ ہوچکا شروع احتساب کا ان اور کش دست سے عظمیٰ وزارت محمد مہاتیر ڈاکڻر بعد دنوں کچھ ہے۔ ہوچکا شروع پھر سفر کا تھا۔ منصوبہ یہی بھی پہلے گے۔ لیں سنبھال اقتدار عنانِ جگہ کی ان ابراہیم انور اور گے ہوجائیں

ہیں۔ ہوگئے مہیا اسباب کے درآمدعمل پر اس سہیسے ہی دیر کہ ہے خوش ملک

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.