باب التقریظ و الانتقاد

Maarif - - نبأ -

پاکستان سے چند جدید علمی مطبوعات - ۵ ڈاکڻر عارف نوشاہی

مآثر رحیمی: ایک ایرانی، عبدالباقی نہاوندی -۹۷۸( ھ۱۰۴۲/

-۱۵۷۰ ء)۱۶۳۲ یک یفارس فتصنی رمآث یرحیم اک وارد ترجمہ سید منصور علی سہروردی وفات:( ء۱۹۹۵ کراچی) نے کیا، پروفیسر شریف حسین قاسمی دہلی)( نے اس پر نظر ثانی کی اور ڈاکڻر حسن بیگ اسکاٹ( لینڈ) نے حواشی و ضمیمہ جات کا اضافہ کیا۔ یوں چار ملکوں کے اہل قلم کی کاوش سے زیر بحث کتاب ماثٓر حیمی خان( خاناں بیرم اور عبدالرحیم کی سوانح) تیار ہوئی اوربیک وقت دو اشاعتیں ہوئیں دارالمصنّفین( شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ، ء؛۲۰۱۷ الفیصل، لاہور، ء،۲۰۱۸ ۲۸۰ ۔صفحات) میرے پیش نظر اس کی لاہوری اشاعت ہے۔ اس ترجمے کی بنیاد مآثر رحیمی فارسی)،( مطبوعہ کلکتہ، -۳۱ ء۱۹۲۴ کی دوسری جلد ہے۔ یہ ترجمہ، خان خانان بیرم خان، خان خانان عبدالرحیم، ان کے اجداد اور اخلاف سے متعلق ہے۔ لیکن جہاں جہاں ضرورت پڑی وہاں وہاں مآثر رحیمی کی پہلی اور تیسری جلد سے بھی اقتباسات مستعار لے لیے گئے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ ماثٓر رحیمی کا کوئی مسلسل ترجمہ نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد پر ہر دو خانِ خانان کے سوانح ماخوذ اور مرتب کیے گئے ہیں اور ان کی حیات سے جڑے ہوئے واقعات ک شرح و بسط دینے کے لیے حسن بیگ صاحب نے حواشی اور ضمیموں کا اہتمام کیا ہے۔ اس طرح یہ ایک مستند سوانح بن گئی ہے۔ حسن بیگ صاحب کے مقدمے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ماثٓر رحیمی کی تین جلدوں مطبوعہ( کلکتہ) میں سے پہلی اور دوسری کا ترجمہ سہروردی مرحوم وفات:( ء)۱۹۹۵ نے کیا تھا اور تیسری جلد کا مکمل ترجمہ اس اشاعت یعنی( ماثٓر رحیمی کی زیر نظر اشاعت) کے لیے ضروری نہیں سمجھا گیا۔ لیکن اس سوال کا جواب نہیں املت ہک یسہرورد ممرحو اک اپور ہترجم ںکہا رگیااو سا یک موجوده اشاعت کے لیے تلخیص کس نے کی؟ بہرحال ترجمہ بہت عمده اور رواں ہے اور دکھائی دیتا ہے کہ سہروردی مرحوم کتاب کی زبان اور برصغیر کے تہذیبی پس منظر کو اچھی طرح جانتے تھے۔ اگر جز رسی کے ساتھ هٴادار معارف نوشاہیہ، اسلام آباد۔

ترجمے اور متن کا تقابل کیا جائے تو بہت سارے مسائل کو شاید اس لیے نظر انداز کرنا پڑے کہ موجوده اشاعت ماثٓر رحیمی کی ایک ماخوذ اور ملخص اشاعت ہے اور اخذواقتباس یا تلخیص کرنے والے کااپنا کوئی معیار تھا اوور اس نے متعلقہ حصوں میں بھی بہت ساری باتین چھوڑ دیں۔ اس کے باوجود چند ایک مقامات پرترجمے پر دوباره غور کرنے کی ضرورت

جیسے:ہے، آزمائش’’ کے لیے خدمات پر مامور فرمایا‘‘ ص( ۹۲)، یہ فارسی

عبارت بجہت’’ ازٓمایش در حضور خدمت می فرمودند‘‘ ج(۲ ،ص ۱۰۵) کا ترجمہ ہے۔ واقعے کے سیاق و سباق مینمتن کا لفظ درحضور‘‘’’ بہت اہم ہے جو ترجمے میں نظر انداز ہوگیا ہے۔ یعنی اکبر عبدالرحیم، کے کارنامے سن کر حیران ہوتا اور آزمانے کے لیے اپنے’’ سامنے‘‘ درحضور)( کام

انجام دینے کے لیے کہتا تاکہ اسے بچشم خود دیکھ کر یقین اسٓکے۔ اس’’ سفید عمارت کے جملہ حصے اپنے مال و دولت سے تیار

کرائے ہیں‘‘ ص( )،۲۰۶ یہ فارسی عبارت و’’ وابستہ این بنای خیر را از عین المال خود تعمیر نموده‘‘ ج( ، ص )۶۰۱ کا ترجمہ ہے۔ اس میں سفید’’

عمارت‘‘ کہاں سے اگٓئی؟ انواع’’ و اقسام کے عراقی پھولوں سے سجا‘‘ ص( ۲۰۹)، یہ فارسی عبارت’’ بانواع فواکہ عراقی و خراسانی آراستہ‘‘ ج( ،۲ ص )،۶۰۰ ترجمے میں فواکہ کا ترجمہ پھول کیا گیا ہے جب کہ پھل ہونا چاہیے، اور

خراسانی قلم انداز ہوگیا ہے۔ حسن بیگ صاحب نے مشینی کتابت کی وجہ سے کتب میں اغلاط

کے اضافے کی بات کی ہے ص( )،۱۷ ایسا ہی ہے۔ لیکن ان اغلاط کو محتاط اور باربار کی پروف خوانی سے کم کیا جاسکتا ہے۔ ماثٓر رحیمی

میں بھی ایسی اغلاط ان کی کوشش کے باوجود موجود ہیں، جیسے: علیہ راجعون )۱۶ص( درست: الیہ راجعون؛ خواہوں کی کثرت

ص( )،۹۱ درست: بدخواہوں کی کثرت؛ تربیت پر . معمور کیا ص( . )۹۱ درست: تربیت پر مامور کیا؛ فرماروائی ص( )۲۱۰ درست: فرمان روائی ؛ نہاوندی کی تاریخ وفات ھ۱۰۲۴ درج ہوئی ہے ص( )،۲۵۶

درست ھ۱۰۴۲ ہے۔ شاه عبدالعزیز محدث دہلوی: شاه عبدالعزیز محدث دہلوی -۱۱۵۹( .

ھ/۱۲۳۹ -۱۷۴۶ ء)۱۸۲۴ کے�. احوال، ملفوظات، مکتوبات اور دیگر

نوادرات کا ایک مجموعہ محمد، اقبال مجددی صاحب کی جمع و تدوین کے ساتھ شائع ہوا ہے پروگریسو( بُکس، لاہور، ء،۲۰۱۸ ۳۷۳ صفحات) ۔ یہ دراصل ماضی قریب میں شاه صاحبؒ پر شائع شده چند عمده تحقیقی کتب اور مقالات کا انتخاب ہے۔ مرتب نے ابتدا میں شاه صاحبؒ اور ان کے سوانح نگار مصنّفین / مقالہ نگاروں، جن کے اثٓار اس مجموعے میں شامل ہیں، کے حالات کا اضافہ کیا ہے۔ ان میں ایک نام ڈاکڻر محمد ایوب قادری کا ہے ص( )۵۳ لیکن ان کی کوئی چیز اس مجموعے میں شامل نہیں ہوئی! اس مجموعے میں شاه صاحبؒ کے حالات پر اولین رسالہ کمالات عزیزی تالیف نواب مبارک علی خان، مرتبہ سید ظہیرالدین احمد واللہّی بھی تجدید طبع ہوا ہے، لیکن اس میں عجیب بات یہ ہوئی ہے کہ پورے متن میں نونِ غنّہ کی جگہ نونِ اعلان کمپوز ہوگیا ہے جو موجوده ہٴطریق املا نہیں ہے۔ فارسی اشعار کے متن کے اندراج اور ان کے اردو ترجمے میں بھی

اشکالات ہیں، جیسے: اگر انٓ ترک شیرازی بدست او دل ما را درست:)،۱۲۴ص( بدست ارٓد۔ خانہ زرین است دنیا، عیش او پا در رکاب۔ شہسوار ست انٓکہ زین جانہ رود دامن چیده است ص( ۔)۱۲۵ دوسرا مصرع اس طرح موزوں ہوسکتا ہے: شہسوار است انٓکہ دامن چیده زین خانہ رود۔ مرتب نے مصرعہ اولی میں لفظ رکاب دیکھ کر خانہ’’ زرین است‘‘ کا ترجمہ’ دنیا زین ہے ‘ کردیا ہے۔ زدنیا چو رخت اقامت بہ نسبت ص( )،۲۳۱ درست: اقامت ببست ایک جگہ هٴماد تاریخ خورشید’’ ہند‘‘ یوں کتابت ہوگیا ہے: وفات او یکی خورشید بند است )۲۳۲( یک چرا غیست درین خانہ از پرتو انٓ ص( )،۲۳۳ درست: کہ پرتو انٓ فپرو یخوان تدق نظر ےس ہن ےہون یک ہوج ےس بکتا کے تحقیقی مقالات کی تدوین کا معیار بری طرح متاثر ہوا ہے۔ کمالات عزیزی میننون غنہ کویکسر نونِ اعلان میں تبدیل کرنے کا ذکر ہوچکا۔ صفحہ ۲۳۲ کے سات سطری حواشی میں چار سہوالقلم ہیں: خزینۃ ة الاصفیا، اور سال طباعت ھ۱۲۹ درست:( خزینۃ الاصفیا، سال طباعت ھ)،۱۲۹۰ الاعام

درست:( الاعلام)، آثار الضادید درست:( آثار ۔الصنادید) مکتوبات حضرت شاه احمد سعید دہلوی: شاه احمد سعید مجددی دہلوی انمجموعہایککاخطوطفارسیکےء)۱۸۶۰-۱۸۰۲ھ/۱۲۷۷-۱۲۱۷( کے مرید حاجی دوست محمد قندھاری ھ/۱۲۸۴-۱۲۱۶( ء)۱۸۶۷-۱۸۰۱ نے جمع کیا اور اس پر مقدمہ لکھا۔اس مجموعے کا ایک ہی قلمی نسخہ

بخط جامع، خانقاه احمدیہ سعیدیہ، موسی زئی شریف ، ڈیره اسماعیل خان میں ہے جس کی بنیاد پر، پروفیسر ڈاکڻر غلام مصطفی خان نے اسے ہٴتحف زواریہ در انفاس سعیدیہ نام سے ء۱۹۵۵ میں کراچی سے شائع کیا تھا۔ اب اسی قلمی نسخے کا عکس بہ ہٴمقدم مفصل محمد اقبال مجددی صاحب شائع ہوا ہے دارالاسلام،( لاہور و مکتبہ سراجیہ، موسی زئی شریف، ء،۲۰۱۸ ۱۹۴ + ۳۲ ۔صفحات) اس مجموعے میں کل ؍۱۳۷ خطوط ہیں۔ان میں سے کم از کم ؍۹۷ خطوط جامع حاجی( دوست محمد قندھاری) کے نام ہیں۔ محمد اقبال مجددی صاحب نے اپنے مقدمے میں مکتوب نگار اور جامع کے حالات زندگی لکھے ہیں اور ان مکاتیب کی اہمیت پر الگ روشنی ڈالی ہے۔ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ: پاکستانی پزشک ڈاکڻر محمد منیر احمد

سلیچ نے اپنا تخصص وفیات نگاری اور الواح مزارات نویسی میں پیدا کرلیا ہے ۔چنانچہ اب تک اس موضوع پر ان کی حسب ذیل کتب شائع ہوچکی ہیں: خفتگان خاک گجرات( ء)،۱۹۹۶ وفیات نام وران ء)،۲۰۰۶پاکستان( وفیات اہل قلم ء)،۲۰۰۸( تنہائیاں بولتی ہیں ء)،۲۰۱۲( وفیات مشاہیر کراچی ۔ء)۲۰۱۶( اب اسی موضوع نپرا کی نئی کتاب بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ شائع ہوئی ہے قلم( ونڈیشنٴفا انڻر نیشنل، لاہور، ء،۲۰۱۸ ۴۷۲ صفحات، بڑی تقطیع، تین ۔کالمی) اس ء۱۹۴۷اگست۱۴میں تا ۱۴ اگست ۲۰۱۷ وفات پانے والے ۳۲۰۰ ممتاز پاکستانی اردو اہل قلم کے کوائف اور تاریخ ہاے وفات درج ہیں۔تمام اندراجات بہ ترتیب حروف تہجی مرتب ہوئے ہیں۔اس کتاب اور اس سے پیشتر بھی ڈاکڻر صاحب کی دیگر کتابوں کی خوبی یہ ہے کہ ہمینپاکستانی دور کے محققین، اہل قلم اوردیگر ناموروں کی ولادت اور وفات کی تاریخیں دمِ دست مل جاتی ہیں اور دیگر مآخذ کھنگالنے سے بے نیاز کردیتی ہیں۔چونکہ تواریخ وفات پر تحقیق ہی مصنف کا تخصص ہے لہٰذا وه صحیح تاریخ تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھتے ہیں اور اپنی سابقہ مطبوعہ کتب میں در انٓی والی غلطیوں کی انٓنے

والی کتابوں میں درستی کرتے رہتے ہیں۔ مصنف نے صابر’’ آفاقی‘‘ اندراج میں راج ترنگنی کذا)( کو ان کے

اردو تراجم میں شامل کیا ہے۔ جہاں تک مجھے علم ہے صبر افٓاقی نے راج ترنگینی تاریخ( کشمیر) کا فارسی متن تصحیح کیا تھا اور یہی ء۱۹۷۴ میں

اسلام ابٓاد سے شائع ہوا تھا۔ان کے قلم سے کبھی اردو ترجمہ نہیں ہوا۔ ’’ محمد شفیع، پروفیسر مولوی‘‘ اندراج میں مقالات مولوی محمد شفیع کو دو جلدوں میں بتایا گیا ہے۔ حالانکہ اس کی پانچ جلدیں بہت عرصہ ہوا شائع ہوچکی ہیں۔یادداشت ہای مولوی محمد شفیع نام سے الگ جلد بھی

شائع ہوئی ہے۔اس اندراج میں مصنف نے پروفیسر مولوی محمد شفیع کی صرف تین کتابونکا ذکر کیا ہے جن میں دو مقالات کے مجموعے ہیں۔یہ مولوی محمد شفیع کے شایان شان نہیں ہے۔ان کے دیگر کام اس سے زیاده شاندار اور قابل ذکر جیسےہیں، فارسی میں مطلع سعدین و مجمع بحرین ،

هٴتذکر میخانہ اور مکاتبات رشیدی کی تدوین۔ محمد اسماعیل ذبیح کے ایک شعری مجموعے کا نام شراب ظہور

کتابت ہوا ہے ص( ۔)۳۵۷ قیاس کہتا ہے کہ شراب طہور ہوگا۔ بقول مصنف اس’’ کتاب میں ہر اس شاعر، ادیب، مترجم کو شامل کیا

ہے جس نے کسی ادبی موضوع پر اردو میں قلم اڻھایا‘‘ ص( )۷ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ اہم اہل قلم شامل ہونے سے ره گئے ہیں جیسے ابوالکمال غلام رسول برق نوشاہی وفات:( ؍۲ اپریل ء)۱۹۸۵ جن کی کتاب نوشاہی شعرا تو مصنف کی فہرست ماخٓذ میں شامل ہے ص( )۴۶۶ لیکن وه ہیں۔ایکمصنفکےکتباردوکئیبھیعلاوهکےاسوهہیں۔نہیںشاملخود اور معروف محقق ڈاکڻر ظہور الدین احمد وفات:( ؍۱۲ فروری ء)۲۰۱۴ کا نام بھی ہمیں نظر نہیں اتٓا جنہوں نے اردو زبان مینچھ جلدوں میں پاکستان میں

فارسی ادب لکھی۔ وه اس کے علاوه بھی کچھ اردوکتب کے مصنف ہیں۔ بحر زخار جلد( سوم) : وجیہ الدین اشرف بحرتذکرےفارسیکے زخار

تصنیف( لگ بھگ: ھ۱۲۰۲ ء۱۷۸۸/ ) کی پہلی دو جلدیں پروفیسر ڈاکڻر اذٓرمیدخت صفوی تصحیحکی’’ و تدوین‘‘ کے ساتھ، مشترکہ طور پر مرکز تحقیقات فارسی مسلم یونیورسڻی علی، گڑھ اور مرکز تحقیقات فارسی رایزنی فرہنگی سفارت اسلامی دہلیایران، نے بالترتیب ء۲۰۱۲ اور ء۲۰۱۴ میں شایع کی تھیں جن پر راقم السطور کا ایک تبصره پہلے شائع ہو چکا ہے دیکھیے:( عارف نوشاہی، هٴتذکر’’ بحر زخار کی بعض غیر مستند روائتیں‘‘، فارسیکامقالےاس؛۴۱۲-۴۰۵صفحاتء،۲۰۱۵جونگڑھ،اعظممعارف، ترجمہ ہوکر بھی شائع ہوچکا ہے، ملاحظہ ہو: شیوا امیر ہدایی، نگاہی’’ بہ چند روایت غیر مستند در هٴتذکر بحر زخار‘‘، آینہ پژوہش، قم، شماره ،۱۷۰ سال بیست ونہم، شماره دوم خرداد و تیر ۱۳۹۷ شمسی، جون وجولائی ء۲۰۱۸ ،

ص ۔)۱۳۸-۱۳۳ اتفاق یہ ہوا کہ میرا مقالہ جون ء۲۰۱۵ میں چھپا اور میں فروری

ء۲۰۱۶ میں علی گڑھ پہنچا تو ڈاکڻر صاحبہ کے نیاز بھی حاصل ہوئے۔ میرا مقالہ ڈاکڻر صاحبہ کی نظر سے گذر چکا تھا اور مجھے اندیشہ تھا ڈاکڻر صاحبہ ملیں گی تو مجھ سے کچھ شکر رنجی ہوگی، گلہ ہاے دوستانہ کریں

بابت اس نے انہوں کہ ہوئی مسرت اور حیرت کر دیکھ یہ مجھے لیکن گی۔ اور دکھایا اداره اپنا پلائی، چائے ملیں، سے جوشی گرم اوربڑی جتایا نہ کچھ زخار بحر ہی نے میں خود کیں۔ عنایت بھی مطبوعات کچھ کی مطلب میرے ڈاکڻر پر اس گی؟ ائٓے کب جلد تیسری کی اس کہ لیا پوچھ اور چھیڑا ذکر کا نے آپ اب کہ دیا جواب ھسات کے مسکراہٹ خیز معنی ایک نے صاحبہ شاء ان اب لہٰذا چاہیے، ہونا اشاریہ ساتھ کے کتاب کہ ہے دیا کہہ میں) مقالے( کی جلد تیسری اور اگٓیا پاکستان واپس میں ہوگی۔ شائع کتاب سمیت اشاریے لله کی جلد اس بھی جب سے دوستوں گڑھی علی لگا۔ کرنے انتظار کا اشاعت ہے رہا بن اشاریہ ابھی کہ ملا جواب یہی کیا، استفسار میں بارے کے اشاعت اپنے یہاں میں باتوں باتوں پہنچا۔ انٓ ء۲۰۱۸ مئی اب ہوئی! نہیں شائع کتاب اور کے ان لگے کہنے تو ہوا ذکر کا کتاب اس سے دوست کتاب دار محلےّ ایک کتاب دکھلائیے۔ کہا سے تجسس نے میں ہے۔ موجود جلد تیسری کی اس پاس ستمبر تاریخ کی اشاعت پر جس تھی ہی جلد تیسری آئے۔ لے وقت اسی وه کو دوستمیرے ہے۔نہیںاشاریہکوئی ساتھکے کتاب لیکنہے۔درجء۲۰۱۴ تقسیم بطور پر اس اور گئی بھیجی سے ہندوستان میں ء ۲۰۱۷ اپریل کتاب یہ ڈاکڻر پروفیسر بھی جلد یہ ہے۔ ہوئی لگی مہر کی دہلی ایران فرہنگ کارخانہ تحقیقات مرکز پر طور مشترکہ سے تدوین و تصحیح کی صفوی میدخت آذر فرہنگی رایزنی فارسی تحقیقات مرکز اور گڑھ علی یونیورسڻی مسلم فارسی امید ۔صفحات) ۳۷۷ + مقدمہ( ہے کی شائع نے دہلی ایران اسلامی سفارت کیونکہ ہوگی، مشتمل پر اشاریوں جلد چوتھیکی سلسلے اسکہ چاہیےرکھنی نام سینکڑوں کے کتب اور مقامات افراد، مبالغہ بلا میں جس کتاب، ضخیم اتنی ہے۔ نہیں ممکن بغیر کے اشاریے منضبط ایک رسائی تک ان ، ہیں داخل ہے: مشتمل پر ہشتم اور ہفتم ششم، ہٴلجّ جلد تیسری کی بحرزخار طریقت ہٴسلسل کا جن تذکره کا متاخرمشایخ اور متقدم ایسے ششم: لجّہٴ

ہٴلجّ )؛۲۷۱-۱ ص( ہے گیا کیا مرتب تہجی ترتیب بہ اسے اور ہے نہیں معلوم نساء احوال ہشتم: ہٴلجّ )؛۳۵۰ -۲۷۱ ص( سلسلہ ہر مجاذیب اولیاے ہفتم: متعینہ اور مقرره کوئی میں ‘‘ لجّہٴ ’’ دو آخری )؛۳۷۷ -۳۵۱ ص( صالحات

اتٓی۔ نہیں نظر ترتیب غیر بعض کی مصنف میں مقالے بالا محولہ اپنے نے السطور راقم

و تصحیح سے طرف کی مرتب ساتھ ساتھ اور تھا لیا جائزه روایتونکا مستند افسوس تھیں۔ دی تجاویز کچھ اور تھی کی دہی نشان کی کمزوریوں کی تدوین جلدونمیں سابقہ ہینجو مسائل وہی بھی میں جلد اس کہ ہے پڑتا کہنا ساتھ کے ہیں کردی جمع روایتیں کی طرح ہر یابس و رطب نے مصنف گئے۔ دیکھے

اور اس میں کرامات اور خوارق عادات کے واقعات بھر دیے ہیں۔ سماجی حالات بہت کم ہیں۔اس تذکرے میں مصنف کے معاصرین کے حالات ہی قابل

اعتنا ہیں۔ مصنف نے جن اشخاص کو یہ کہہ کر ہٴلج ششم میں رکھا ہے کہ ان کا ہٴسلسل طریقت مجہول ہے، اس پر تحقیق ہونی چاہیے تھی کیونکہ، بعض مشایخ کا سلسلہ معلوم ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ بعض کی نسبت طریقت خود مصنف نے لکھی ہے جیسے شاه محمد پناه قادری( ص )،۹۱ مولوی

محمد عالم چشتی ص( ۔)۱۸۹ مصنف نے کئی تراجم ایک کتاب ارایک‘‘’’ سے نقل کیے ہیں۔راقم السطور اس نام کی کتاب سے بے خبر ہے۔ کتاب کی فاضل مرتب نے اپنے مقدمے مینبحر زخار کے جن ماخٓذ کا ذکر کیا ہے صفحہ( غ‘‘)’’ ان میں یہ نام

شامل نہیں ہے۔بہتر ہوتا وه اس کتاب کے بارے میں کچھ کہتیں۔ مصنف نے ایک شخص کا دوبار ذکر کیا ہے اور اس تکرار کی

طرف وه متوجہ نہیں ہوئے۔ص ۸۷ پر شیخ’’ بوذر بوز انجانی‘‘ اور ص ۲۴۸ پر شیخ’’ نوزر بوزنجانی‘‘ ایک ہی شخص ہے اور دونوں کے حالات میں یکساں واقعہ درج ہوا ہے۔درست نام ا بوذربوزجانی ہے ۔وه جہاں دفن ہیں اس جگہ کا نام بوزجان ہے اور یہ ایران کے صوبہ خراسان کے شہر تربت جام کے مضافات میں واقع ہے۔ راقم السطور ۲۰۱۷ء میں ان کا مزار دیکھ چکا

ہے۔ بعض نام کتاب میں تسامح سے غلط درج ہوئے ہیں یا کتابت میں غلطی جیسے:ہے، بہاء الدین عمر ابروہی ص( ۸۹ درست) نام: ابر دہی، ابرده خراسان

کی ایک قدیم بستی اب بھی موجود ہے؛ صاین الدین علی برکہ اصفہانی ص( ۱۵۴) درست نام : ترکہ

اصفہانی ہے؛ شیخ عبدلله تلبنی ص( ۱۷۲) درست نام: تلنبی یعنی نون کی باء پر تقدیم ہے ، اس کی نسبت تلنبہ سے ہے ۔یہ مقام اب بھی ملتان کے پاس موجود ہے؛ فخرالدین نورستانی ص( ۲۰۴)، درست نام : لورستانی، ان کا ذکر

رشحات عین الحیات میں ہے۔

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.