معارف کی ڈاک

سیوری، موضع منزل، خداداد بہار بیگوسرائے، منجھول، پوسٹ ء۲۰۱۸ ؍۵ ؍۲۳

Maarif - - نبأ -

مقالات شبلی ہشتم میں طباعتی غلطیاں

مکرمی! سلاممسنون

معارف کے زر سالانہ کی ادائیگی کے ساتھ ہی منگائی گئیں تین کتابوں مقدمہ’’ سیرة النبیؐ، مقالات شبلی جلد ششم و ہشتم‘‘ میں مطالعے کا اغٓاز موخر الذکر حصے سے کیا، جس کا طبع جدید ء۲۰۱۰ ہے۔ میں جب اس کے صفحہ ۵۳ بعنوان اشاعت’’ کتب قدیمہ کے دوسرے اورجزایککےگرافپیرا اس وجہ ہے‘‘برابردونوں....وجودکاانگویاسے پر پہنچا تو ایک طرح کی خلجانی کیفیت سے دوچار ہوگیا اور خود سے اسے پر کرنا ناموزوں سمجھ میں آیا۔ اس لیے اس امر کی طرف اشاره کریں گے تاکہ صحیح اندراج سے واقفیت ہوسکے۔ یہی کیفیت صفحہ ۱۵۵ والی عبارت میں در انٓے والی خالی جگہوں کے سلسلے میں ہے۔ املائیازیںعلاوه اوراضطراب اغلاططباعتی کا بھی احساس ہوا، املا کے سلسلے میں صفحہ ہے:خدمتپیشحصہیہکانامےسپاسفارسیپر۱۰۲ ’’... و مقالات ایشاں کہ در مجلہ الندوه ہر ماہی اشاعت می پزیرد ۔ہے‘‘ اردو میں می پزیرد کی کتابت تو می’’ پذیرد‘‘ ہے جبکہ کتاب کے نشان

زده حصے میں می’’ پزیرد‘‘ ہے۔ اگر فارسی میں ایسا ہی ہے تو اس بابت بھی رہنمائی کریں گے، نیز کروڑ کے املا کے تعلق سے بھی خامہ فرسائی کریں گے کیونکہ پیش نظر کتاب میں کرور)( پڑھنے کو ملتا ہے۔ صفحہ ۱۷ پر امٓادگی‘‘’’ کے بدلے، امٓدگی‘‘’’ اور صفحہ ۹۸ پر

استحکام‘‘’’ کی جگہ استحام‘‘’’ کا چھپ جانا طباعتی اغلاط کے ذیل میں ہے۔ مسئلہ’’ ارٓمینیا‘‘ کے زیر عنوان ایک انڻری کے پہلے پیراگراف صفحہ گوارهزحمتبھیمیںبارےکےمفہومکےرپوڻر‘‘’’لفظایکوالےانٓےپر۱۷۸ کریں علمیاپنیگے۔ سببکےبضاعتیبےومائیگیکم خود سے اس کے افہام و تفہیم کے مرحلے سے گزرنے سے قاصر ہوں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ایٓنده اشاعت میں کتاب میں انٓے والے انگریزی نام کو اردو کے ساتھ انگریزی میں بھی لکھ دیا جائے تاکہ علم میں اضافہ بھی ہوجائے

اور صحیح تلفظ کا پتہ بھی چل جائے۔ مثلا صفحہ ۱۷۷ پر در انٓے والے دو نام دراک’’ فیلر‘‘ اور کارینکی‘‘’’ وغیره ۔ اسی طرح اگر عربی نام کو بھی اعراب سے مزین کردیا جائے تو بہ اسٓانی صہبائے مطالعہ دواتٓشہ ہوجائے۔ درخواستیہسےاپٓلیےاسہیں،رہتےمیںجزیرےعلمیاپٓچونکہ کررہا ہوں کیونکہ یہ اپٓ کے لیے قدرے اسٓان ہے اور علمی’’ گروه‘‘ سے متعلق ہونے کے سبب آپ کا فرض بھی ہے اور ایک طرح کا قرض بھی۔ اپنی تہی دامنی اور ایک عجیب طرح کے ماحول میں بود و باش اختیار کرنے پر مجبور ہوجانے کے باعث اپنی دلی کیفیات، قلبی واردات اور ذہنی جراحات کے اظہار کے لیے اس کتاب میں پڑھے ہوئے درج ذیل شعر کا سہارا لیتا ہوں: صوفیاں مستند و زاہد بے خبر

از کہ پرسم من ره میخانہ را اپنیہوں،سکتاکہہکیاکےاسسوائےمیںبارےکےکتاباسبہرکیف

علمی بساط کے مطابق اس سے مستفید ہونے کی کوشش کی اور اس کے کےعناوینکےمتفرق‘‘اورسیاسیتعلیمی،مذہبی،’’ اندراجاتتحت سے بہره ور ہوا نیز سمجھ سے ماورا حصے کی تفہیم اور وتوضیح تشریح کے لیے اپٓ سے راجع ہوں۔ سید الطائفہ نے جس انگریزی ترجمے کے مسودے کی کم گمشدگی پر اظہار تاسف کیا ہے وه واقعتا بہت افسوس وناک اندوه واقعہناک ہے۔ اسے مرور ایام اور امتداد زمانہ کے علاوه اور کیا کہا جائے: ا عندلیب مل کے کریں اهٓ و زاریاں

تو ہائے گل پکارے میں وںٴچلا ہائے دل سےفہمندوی‘‘سلیمانسیدعلامہ’’مصنفمیںششمحصہشبلیمقالات بالاتر ہے، اس لیے اس بابت بھی رہنمائی کریں گے کیونکہ تشنہ لب کو تو کوثر و تسنیم کو طلب کرنا ہی ہوگا، اس لیے کہ وللناس’’ فیما یعشقون مذاہب‘‘ کی صدائے حق کی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور اس سے بھی کسی مجال انکار ہو کہ: محبت است کہ دل را نمی دہد ارٓام وگر نہ کیست کہ اسٓودگی نمی خواہد معاف کیجیے خط طویل ہوگیا لیکن ؎ لذیذ بود حقیقت دراز تر گفتم خدا اپٓ کو صحیح سلامت رکھے تاکہ اپٓ مسرور و بامراد رہیں۔ امٓین(

ثم امٓین) فقط نیاز کیش جناب راجو خان

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.