حواشی

Maarif - - نبأ -

)۱( کندن بی بی، نواب صا دق محمد خان رابع ء)۱۸۹۹-۱۸۶۶( کی اہلیہ اور ریاست بہاول پور کے مغربی علاقہ خان رپو کے کای سرئی دمحم رمضان خان افغان کی صاحبزادی تھیں۔انہیں سرکاری طور پر حضور’’ حضرت مائی صاحبہ کا‘‘ خطاب دیا گیا تھا اور اسی نام سے مخاطب کیا جاتا تھا۔ ڈیراور کے شاہی قبرستان میں دفن ہیں۔ )۲( ان امدادی رقوم کی تفصیل: اہم’’ خطوط و دستاویزات ریاست بہاول پور‘‘ -۱۸۷۲( ء)۱۹۲۱ عنوان کے تحت ء۱۹۸۰ کی دہائی تک محافظ خانہ، بہاول پور میں موجود تھی۔ اب یہ دستاویزات ضائع ہو چکی ہیں۔ )۳( کونسل آف ریجنسی کے دیگر ممبران میں مرزا سلطان احمد( ریونیو ممبر)، مولوی عبدالرحمان ملڻری( ،ممبر) ندیوا دآسانن فنانس(

ممبر) شامل تھے ,Nazeer Ali Shah, Sadiq Namah, Maktaba jadeed, Lahore 72 P: 1959,۔. )۴( مولانا غلام حسین ء۱۹۰۸ میں نواب صادق محمد خان خامس کے

اتالیق مقرر ہوئے۔ ء۱۹۲۴ میں جب نواب صاحب کو اختیارات منتقل کیے گئے تو انہیں امور داخلہ اور محکمہ تعلیم کی وزارتیں تفویض ہوئیں۔ عربی اور فارسی کے بلندپایہ عالم تھے۔ فارسی اور اردو میں نعتیہ اشعار کہتے تھے اور حقانی تخلص کرتے تھے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: عصمت درانی، ریاست بہاول پور کے عمائد کی فارسی ادبی خدمات، معارف، مئی ء،۲۰۱۶ ص ۔۳۳۸ )۵( پہلے اجلاس کی صدارت نواب صادق محمد خان خامس، دوسرے کی حبیب الرحمان شروانی اور تیسرے کی سید سلیمان ندوی کو کرنا تھی قمر( الزمان عباسی، ص ۔)۴۸ )۶( یہ مہمان خانہ اسلامیہ یونیورسڻی کے موجوده کیمپ افٓس کے بالمقابل واقع تھا۔ ؍۱۳ دسمبر ء۱۹۴۹ کو مولانا شبیر احمد عثمانی کی وفات اسی عمارت میں ہوئی جو جامعہ کی نصاب سازی کے لیے یہاں مقیم تھے۔ بعد ازاں ایک طویل مدت تک قائد اعظم میڈیکل کالج کے ہاسڻل کے طورپر استعمال ہوتی رہی۔ اب یہ عمارت منہدم ہو چکی ہے۔ اس نام کا ایک محل ڈیره نواب صاحب میں بھی موجود تھاجو ولی عہد نواب محمد عباس خان عباسی ء)۱۹۸۸-۱۹۲۴( کی اقامت گاه تھا۔ )۷( یہ خطبہ الندوه وٴلکھن اپریل( ء۱۹۴۰ ) کے علاوه الزبیر، بہاول پور نمبر، ء۱۹۸۲ ص( ۱۸۲ تا )۱۸۷ اور الزبیر، بہاول پور نمبر ء۱۹۹۴ ص( ۲۴۵ تا )۲۴۹ اور صادق ایجرڻن کالج کے مجلہ نخلستان ادب اجرا( ء)۱۹۱۲ کے شخصیات’’ نمبر‘‘ ء۲۰۱۲ میں ص( ۸۴ تا )۸۶ بھی شائع ہوا۔ )۸( حکیم احمد علی سیف ضلع روہتک کے رہنے والے تھے۔ بصارت چشم سے محروم تھے۔ذریعہ معاش طبابت تھی۔ شعر وسخن سے دلچسپی تھی لیکن خود کو نعت کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ ھ۱۳۴۹ میں پاک و ہند کے مشہور نعت گو شعرا کا منتخب کلام بوستان نعمت نام سے مرتب کر کے شائع کروایا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے شہاب دہلوی، مسعود حسن، بہاول پور میں اردو، ء،۱۹۸۳ اردو اکیڈمی، بہاول صپور، ۔۲۴۹ )۹( پروفیسر شیخ عبدالمجید بہاول پور میں بابائے’’ تعلیم‘‘ نام سے مشہور تھے۔ ان کے زمانے میں کالج میں بہت سی علمی و تعلیمی اصلاحات کے علاوه مجیدیہ’’ ہسڻاریکل سوسائڻی‘‘ قائم ہوئی، جس کے صدر وه خود تھے منور( علی

خان، ص ۔)۵۶

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.