ادبیات

Maarif - - نبأ -

حمد باری تعالیٰ پروفیسر مقصود احمد مقصود

کہاں طاعت شوقِ ، عمل جوشِ میں مجھ ، ترا ہوں ناتواں و عاجز هٴبند کہاں طاقت کی تحمل و صبر میں دل دے بخش ہی یوں بس کر نہ ازٓمائش پاسکا میں نہ کو تجھ افسوس بھی پھر بالیقیں قریب ہے بھی سے جاں رگِ تو کہاں چاہت میں مجھ طرح کی اولیا ، کہاں صداقت میں طلب میری ہے سچ کروں جاکر سے کس بیاں ابتر حالِ کچھ اتٓا نہیں میں سمجھ پریشاں ہوں کہاں رفاقت و قرب احساسِ کو دل مگر میرا ہے طاعت مصروفِ جسم کر چھوڑ در تیرا کہاں وںٴجا بھی پھر ہوں گنہگار سراپا مانا نے میں کہاں سکونت و پناه جائے کوئی بھلا میں جہاں اس سوا کے اس اور ہے بات کیا کی تعجب میں اس اخٓر تو ائٓی لوٹ ہی فورا جو توبہ میری کہاں ندامت ویسی میں عاصی قلبِ ہے مطلوب میں عالی دربارِ جیسی ہے ذات تری کلفت و رنج دافعِ ، سکوں کا دل ہے مقدس ذکرِ تیرا کہاں راحت و تسکین میں دنیا کو اس ہوا بھی جو بیگانہ تیری سے یاد ترا قراںٓ ہے شاہد کا حقیقت اس نہیں حد کوئی تو یوں کی رحمت تیری کہاں رحمت و غفران ابرِ ہٴسای مگر پہ مصطفٰےؐ عظمتِ منکرِ

کا کام کس ہے تقویٰ اور زہد کا ان جنہیں نفرت ہے سے خدا بندگانِ کہاں ولایت و وصل کے واسطےان ، کہاں عنایت کی رب میں قسمت کی ان واسطے ہی کے عبادت کی رب اپنے جو اپنی زندگی ہیں کردیتے وقف کہاں دولت حرصِ ، حشم وجاه حبِ پھر مقصودؔ میں مطہر قلبِ کے ان سابق صدر، ہٴشعب فارسی، عربی و اردو، ایم، ایس یونیورسڻی آف بڑوده، بڑوده ،۳۹۰۰۰۲ گجرات۔

غ زلیں جناب وارث ریاضی *

جنوں کیا ہے؟ محبت کیا ؟ وفا کیا؟ بہ جز اهٓ و فغاں ، غم کے سوا کیا؟ رهِ اخلاص میں راهِ وفا میں کو نا اشٓنا کیا؟ اشٓنا کیا؟

شعورِ زندگی جس میں نہیں ہے وه کیا جانے خودی کیا ہے؟ خدا کیا؟ نہیں جب امتیازِ دین و دنیا تو کیسی پارسائی؟ پارسا کیا؟

کبھی مایوس ہوتا ہے جہاں میں کسی بھی حال میں مردِ خدا کیا؟ کبھی زنداں ، کبھی دار و رسن ہے ہماری بے گناہی کی سزا کیا؟ کہاں پہنچا ہجوم بے خودی میں تجھے اے وحشتِ دل ہے پتا کیا؟ غزل چھیڑو رَباب غم پہ !وارثؔ خوشی کے ساز پر نغمہ سرا کیا؟

جناب محمد طارق غازی **

ملے غضب اہل میں والوں وٴسبھا سیدھے ملے کُڈھب کرگس میں نگاه ہٴویران زہر میں زباں شکوه، پہ ہونڻوں قہر، میں انٓکھوں قوم ساری ہے روتی حسی بے کلاه اوڑھے ملے جب سےان ملے کےطرح اسی تحفے ملے جانبلب سبھی مریض کے تہذیب شرار ہے بھی شعلہ وه تو ملا گر سے مانگے ملے طلب بے جو میں دہر ہے وہی عزت غم ہجوم رقصاں طرح کی بیم گرداب ملے طرب اہل فقط کش نالہ میں شہروں میاں چلو، واپس کے سمیٹ بیاں و لفظ ملے ادب بے بہت میں نگر ادب کے ان سنا میں اخباروں کے اردو شور کا ماتم ملے سبب کا اس بھی میں سرخیوں کاش اے واسطے کے دنیا کے چھوڑ درد کا دنیا ملے نسب عالی میں ذات اپنی محدود

کیا بھی شرمنده سے التفات احسان ملے کب سے دل مگر روز تو یوں ہیں ملتے گونج کی حرم نصاب میں مدرسہ کے ذروں ملے رب تو انساں میں کائنات جو لے سن * ہٴکاشان ادب، سکڻا دیوراج، پوسٹ بسوریا، وایا لوریا، مغربی چمپارن، ۔۸۴۵۴۵۳بہار Mob:8986132474 ** ڈائریکڻر امم سڻڈیز وس،ٴہا ڻورانڻو، کینڈا۔

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.