خانقاه عالیہ رشیدیہ، جون پور تاریخ اورکارنامے

ڈاکٹر محمد مجیب الرحمٰن

Maarif - - ء٢٠١٨ ستمبر معارف -

عرف تغلق محمد فخرالدین سلطان پہلے سوسال تقریباًسات سے آج کرنے قائم شہر ایک پر زمین ہموار کنارے کے گومتی دریائے نے جوناشاه کی ہندوستان تک سال ؍٢٠ کہ پہنچتا کو تکمیل پایۂ اراده کیاتھامگر اراده کا ہوگیا۔ رخصت دنیاسے اس وه میں ھ٧۵٢ اداکرکے داری ذمہ کی بادشاہت اور ہوا، نشیں تخت شاه فیروز سلطان بھائی چچازاد کا اس بعد کے اس میں واپسی مٹاکر کو سرکشی و بغاوت کی بنگال ملک وه جب میں ھ٧٧٢ جانب نگاه کی بادشاه تو ہوا، زن خیمہ پور جون متصل مظفرآباد قصبہ آباد شہر یہاں چاہاکہ اور پڑی پر زمین ہموار ایک گومتی دریائے لب مغرب خواہش وه کہ دیکھا میں خواب کو جونا ملک نے بادشاه شب اسی کرے، ہوکر سوار کو صبح ہو۔ موسوم سے نام میرے شہر یہ کہ کرتاہے ظاہر اس اور بنانے قلعہ کرکے تجویز مقام بلند ایک بعد کے معائنہ کے موقع شہر نے شاہی سخنوران دیا۔ کاحکم بسانے پور جون شہر میں اطراف کے اہل کے فن ہر نے بادشاه میں اس نکالی۔ بنا تاریخ سے لفظ کے پور جون زمانے ایک سے وجہ اسی تھا، کرایا آباد بلاکر سے دور و نزدیک کو کمال شہر اس سے وجہ کی جن گیا بن دارالسلطنت کا شرقیہ سلاطین شہر یہ میں کرام صوفیائے اور عظام علمائے گئی۔ ہوتی ترقی چوگنی رات دونی دن کی کتابیں کی تاریخ سے ذکر کے جن اٹھے، سے خاک کی یہاں سے کثرت قدیم ایک کے شہر تاریخی قدیم اسی وقت اس سردست ہیں۔ ہوئی بھری خدمات وعلمی دعوتی کی اس اور تاریخ کی رشیدیہ خانقاه مرکز، روحانی

ہے۔ جارہی ڈالی روشنی پر ایک میں آباواجداد منظر: پس خاندانی کا رشید محمد شیخ سلسلہ بانی میں اجداد کے ان ہیں۔ گزرے علماء و اولیاء العزم اولو ایک کر بڑھ سے

خاندان اس نے جنہوں ہے، آتا نام کا رومی یخشیٰ شیخ میں پشت بارہویں و علم اہل برابر میں خاندان اس بعد کے جن گاڑا، جھنڈا کا ولایت میں سے عرب نے اجدادکے رومی یخشیٰ شیخحضرت رہے۔ہوتےپیداعرفان وه سے وجہ اسی بنایا۔ سکونت جائے کو مقام نامی کلد میں روم ملک آکر میں پشت چوتھی بعد کے گزرنے پشت تین میں روم ہیں۔ جاتے کہے رومی سلطان میں دہلی وقت اس کیا۔ سفر کا دہلی سے روم نے رومی یخشیٰ شیخ سلطان پرتھا۔ النہار نصف سورج کا اولیاء الدین نظام حضرت المشائخ پذیر قیام میں پرگنہ امیٹھی میں بنکی باره اور ہوئے مرید کے المشائخ شیخ نعمتیں روحانی بعد کے وفات کی المشائخ سلطان نے انہوں ہوئے۔ پشت دسویں بعد کے رومی شیخ کیں۔ حاصل سے دہلوی چراغ نصیرالدین اشرف سید مخدوم حضرت جو ہوئے بزرگ ایک نامی الحمید عبد شیخ میں محمد شیخ رشیدیہ خانقاه بانی اور )١خلیفہ( مرید کے سمنانی گیر جہاں عثمان۔ اور مصطفیٰ ہوئے، دولڑکے کے ان تھے۔ دادا حقیقی کے رشید اولاد کی عثمان شیخ ہے۔ میں بہار پورنیہ گاه آرام آخری کی بزرگوں دونوں جیسا رشید محمد شیخ نے مصطفیٰ شیخ اور ہے ہوئی بسی میں امیٹھی ایک سے وعرفان علم اپنے نے جس پایا، فرزند با عارف اور عالم متبحر

اً)ملخص ،٣۴ تا ٣٢ ص الاخیار، سمات( کردیا۔ کوروشن جہاں شیخ بن رشید محمد شیخ شجره: نسبی کا رشیدیہ سلسلۂ بانی بن سعدی شیخ ابن راجو شیخ بن الحمید عبد شیخ بن الحق جمال مصطفی شیخ بن بڑے شیخ بن منجھلے شیخ بن عبدالواسع شیخ بن عارف شیخ یخشیٰ شیخ مخدوم حضرت بن الدین نصیر شیخ ابن مٹھن شیخ بن عبدالملک بن الدین نظام سلطان شیخ بن الدین حسام شیخ بن تول سلطان بن رومی شیخ حضرت بن عبدالسبوح شیخ بن عبدالمنان شیخ بن الدین شہاب سلطان امیرالمومنین بن ابان شیخ بن سقطی مفلس شیخ حضرت بن سقطی سری

)۶١ ص ایضاً،( عنہم۔ لله رضی عفان بن عثمان حضرت نے )٢( رشید محمد شیخ وخلافت: اجازت اور وتربیت تعلیم ، ولادت کو بادشاہت دور کے گیر عالم زیب اورنگ اور جہاں شاه گیر، جہاں اکبر، تو ہوئے کے سال چوده جب اور ہوئی میں ھ١٠٠٠ اکبری عہد پیدائش دیکھا۔ تخت نے جہاں شاه تو پہنچی کو سال؍٢٧ عمر کی ان ہوا، نشین تخت جہانگیر بادشاه گیر عالم زیب اورنگ تو پہنچے کو سال ؍۶٨ جب اور سنبھالا کو شاہی عمر کی سال؍٨٣ وه میں سال سولہویں یا پندرہویں کے نشینی تخت کی اس ہوا۔

)۴٣ ص ایضاً،( دیا۔ کہہ باد خیر کو فانی دار اس میں ھ١٠٨٣ پاکر

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.