غزل

پروفیسر سید امتیاز احمد ماہر علیگ

Maarif - - ء٢٠١٨ ستمبر معارف -

علامہ( سید سلیمان ی ندو کی زمین پر جو انہوں نے حضرت ی تھانو کے انتقال پر حسب ذیل مطلع کے ساتھ کہی تھی) داغ فراق یار مٹایا نہ جائے گا اب دل کا یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

اب راز ہائے عشق چھپایا نہ جائے گا مجھ سے یہ راه و رسم نبھایا نہ جائے گا سر سے اتار دوں گا نہ جانے کہاں اسے بار گران زیست اٹھایا نہ جائے گا دامن گل مراد سے بھرلو کہ وقت ہے دوباره پھر یہ باغ لگایا نہ جائے گا میداں میں ہوگی عقل برابر گریز پا جب تک جنون عشق کو لایا نہ جائے گا کھاتے رہیں گے زخم یہ مرہم کے واسطے دست سوال ہم سے بڑھایا نہ جائے گا اندوه یاس و غم سے ہیں الفاظ مضمحل حال شب فراق سنایا نہ جائے گا دیکھو وه بے نقاب سر بزم آگئے محفل میں اب چراغ جلایا نہ جائے گا دنیا تلاش حق کے لیے پھر چلی ہے آج فطرت کی اس خلش کو دبایا نہ جائے گا انداز مصلحت بھی ضروری ہے دوستو دل میں جو ہے زبان پہ لایا نہ جائے گا ر ماہ ملیں وه راه میں ممکن نہیں ہے یہ اور مجھ سے ان کی بزم میں جایا نہ جائے گا

باره دری بہار شریف، سابق پروفیسر علامہ اقبال کالج، بہار شریف۔

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.