غزل

Maarif - - ء٢٠١٨ ستمبر معارف - سہارن پور۔

مانوی جمیل جناب

مرا پاسبان ہے اجالا کا نظر تری مرا جہان ہوا روشن سے چراغ اسی

میں تصرف مرے سے کرم کے اسی زمیں مرا آسمان ہے روشن سے نور کے اسی

مرے ارادوں کی تعبیر یہ رکوع و سجود ترے ارادوں کی تعبیر ہے جہان مرا

تیری رحمتیں کہ تھے عمل جزائے سکھ وه مرا امتحان کہ ہے عمل سزائے دکھ یہ

کوئی نہینہے بت چہره بے کہ گا سکوں سمجھ مرا گمان اگر چھولے کو وجود ترے

آئینہ کا عمل و فکر مرے ہے زمانہ مرا ترجمان یہ کا اس ہوں ترجمان میں

ہے امانت کی تاریخ مری سانحہ یہ مرا پاسبان ہے قاتل کا قبیلہ مرے

جو ہاتھ بڑھ کے ستاروں کو چھونا چاہتے ہیں قدم قدم پہ ملے گا انہیں نشان مرا

بغیر تیرے پہ راستوں انہیں ہوں رہا بھٹک مرا جہان ہوئے ہوتے ترے لُٹا جہاں

نہیں امتیاز کا پرائے اپنے ل جمی مرا میزبان ہے بھی سخی ہے بھی کریم

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.