مولانا عبدلله کاپودروی مرحوم

Maarif - - ء٢٠١٨ ستمبر معارف -

ء)٢٠١٨ ء-١٩٣۵(

کو اسلامیہ ملت پوری نہیں ہی ہندوستان کو جولائی ؍١٠ افسوس علم، اپنے جو ہوا احساس سے شدت کا محرومی سے شخصیت ایسی ایک کی دین کر بڑھ سے سب اور عالیہ اخلاق سوزی، دل دردمندی، فضل، مصروف العمر مدة ہوکر پروا بے سے نمود و نام میں داری پاس و خدمت گیر ہمہ اپنی جو ہے ہونا رخصت کا عالم ایسے واقعی جانا کا ان رہا، عمل گجرات کو ان تھا۔ عالَم ایک خود بجائے سے صفات جہات ہمہ اور عالم بلکہ ہندوستان پورے وه کہ ہے یہ حقیقت گیا، کہا فخر کا دارالخیرات گے۔ آئیں یاد مدتوں کاپودروی عبدلله مولانا تھے۔ فخر باعث لیے کے اسلام تھے گجراتی ہوئے۔ پیدا میں میانمار موجوده برما میں ء١٩٣۵ وه

تھا مقیم وہیں خاندان کا ان سے وجہ کی کاروبار کے ماجد والد میں برما لیکن گمنام یہی آج اور آگئے میں کاپودرا بستی ایک کی گجرات وه ہی جلد لیکن گئی۔ بن عوام زد زبان اور نام نیک سے نسبت کی مولانا صرف بستی سی جہاں ہوئی، میں دیوبند دارالعلوم پھر اور ڈابھیل تعلیم کی مولانا خاص سے مدنی احمد حسین سید مولانا حضرت علاوه کے بزرگوں اور تعلق کا ان میں بعد کی۔ حاصل بیعت اجازت اور ہوئے بیعت رہا۔ تعلق آخری گویا اداره یہ اور ہوا سے دارین فلاح دارالعلوم کے گجرات ترکیسر فلاح رہا۔ مرکز کا امیدوں اور آرزوؤں اور جہد و جد کی ان تک سانس کاپودروی مولانا کہ ہیں اللسان متفق پر خوبی اس والے جاننے کو دارین کی ان دیا۔ ڈھال میں ٹکسال کی رجال کو اداره اس سے عمل حسن اپنے نے حقیقت ہے۔ جاتا کیا سے سب ذکر کا رجال‘‘ تصنیف’’ میں خوبیوں شمار بے کی عطا نعمت کی دل فراخی کو ان نے علم وسعت کے مولانا کہ ہے یہ ان عزت، و قدر کی اشخاص کے ان اور خیال مکتب ہر اور طبقہ ہر تھی۔ ہوتی تمنا ہی دیکھتے کہ تھا دلنواز اور دلنشیں ایسا اعتراف کا خدمات کی

تھی کہ کاش دل و دماغ کی یہ وسعت اور ظرف کی بلندی سب میں عام

ہوجائے۔ علم اور کتابوں کا ان کا شوق تو غضب کا تھا۔ دارالمصنّفین وه کئی

بار تشریف لائے اور ہر بار یہاں کی کتابوں کی فرمائش کرتے، فون پر برابر نئی مطبوعات کے بارے میں واقفیت حاصل کرتے اور فرماتے کہ جلد سے جلد ان کو کتاب بھیجی جائیں۔ شبلی و سلیمان کے ذکر میں ہم نے ان کو اشک بار دیکھا۔ انتقال سے پہلے وه شاید امریکا یا کناڈا میں تھے۔ ان کو معارف کے شذرات کے انتخاب کے مجموعہ کا علم ہوا جو ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کے تعلق سے تھا۔ بڑی بے تابی سے فون پر اس کے بارے میں گفتگو فرمائی اور حکم دیا کہ یہ نمبر ان کو فوراً بھیج دیے جائیں۔ یہ سب محض اس لیے تھا کہ ان کی فطرت اور سرشت ہی علم پرور

اور علم نواز ودیعت ہوئی۔ طبقۂ علماء میں یہ کہنا شاید ہمارے لیے جسارت کی بات

ہو لیکن ہے یہی بات کہ ایسا انکسار، ایسا تواضع، ایسی محبت، ایسی شفقت، کم دیکھنے میں آتی ہے، خصوصاً ان کے لیے جو ان کے معیار پر

اترتے نہیں نظر آتے تھے۔ زندگی کا بیشتر حصہ تدریس یا تنظیم میں گزرا لیکن ان کے قلم کو بھی ان سے شکایت نہیں۔ اگر رہی بھی ہوگی تو شاید یہی کہ سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم، ان کی عربی اور اردو کئی کتابوں کا ذکر کیا جاتا ہے جیسے گجرات کی علمی تاریخ پر اضواء علی تاریخ الحرکۃ العلمیہ عربی میں اور اردو میں علامہ قطب الدین نہروالی، علامہ یوسف بنوری وغیره۔ ترجمے بھی ہیں جیسے علامہ بدرالدین عینی اور دیوان امام شافعی۔ ان کی ایک کتاب صدائے دل، کئی جلدوں میں ہے۔ انہوں نے اپنے دست مبارک سے تیسرا حصہ مرحمت فرمایا، ٹائٹل پر یہ شعر درج کیا کہ

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے

کتاب صدائے دل بھی ہے اور دوائے دل بھی۔ ان کی زندگی، مقصد اور جذبہ و روح کی تمام تجلیاں اور بجلیاں جیسے اس میں سمٹ آئی ہوں۔ زیاده تر توجہ علمائے کرام کی جانب ہے۔ یہ کتاب ہر شخص کے مطالعہ کی چیز ہے۔ دین سے دنیا کے رشتے کو انہوں نے جس طرح سمجھایا، اسے خاص طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ لله تعالیٰ ان کے اعمال

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.