جات حوالہ

Maarif - - ء٢٠١٨ ستمبر معارف -

)١( قرآن، سورة النساء، آیت ۔١١ )٢( سمپتّی میں عورتوں کا ادھیکار ص ١١ تا ٢۵ ، فہیم اختر ندوی جامعہ، ملّیہ اسلامیہ، دہلی۔ )٣( سورة النساء ۔ آیت ۔١٢ )۴( ایضاً، آیت ١٧۶۔ )۵( صحیح بخاری ،٣ج کتاب الفرائض، باب ،٩٢٢ حدیث ۔١۶٣٧ )۶( 416 'yksd 8] v/;k; euqLef`r] ۔ )٧( 9[ v/;k; euqLef`r] 199 'yksd ۔ )٨( 6&5&8&2 lafgrk ½rSfÙkjh; ۔ )٩( 2&2&53 /keZlw=k ½ckS/kk;u ۔ )١٠( 1&17&1; vFkosZn 5] e0 8] v/;k; ½tqonsZ ، دھرم شاستر کا اتیہاس ، بھاگ ،١ ص ۴۴،۴٣ ، ڈاکٹر پانڈو رنگ وامن کانڑے ، اتر پردیش ہندی سنستھان لکھنؤ،، ء۔١٩٩٢ )١١( 194 'yksd 9] v/;k; euqLef`r] ۔ )١٢( 52 'yksd 3 v/;k; euqLef`r ۔ )١٣( _7 ea 17 lw 2] ea xosn] ۔ )١۴( 118 'yksd 9 v/;k; euqLef`r ۔ )١۵( 192 'yksd 9 v/;k; euqLef`r ۔ )١۶( 131 'yksd 9 v/;k; euqLef`r ۔ )١٧( 194 'yksd 9 v/;k; euqLe`fr ۔ )١٨( خاتون اسلام، ص: ٢٢۶ تا ،٢٢٨ ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری ، اداره البحوث الاسلامیہ ، بنارس ء۔١٩٩٢ )١٩( سورة النساء، آیت ،٣۴ ٣۵۔ )٢٠( سنن ابودائود، ج ،٢ کتاب الطلاق، حدیث ۴١٠۔ )٢١( مشکوٰة المصابیح، جلد ،٢ کتاب النکاح، باب الخلع و الطلاق، حدیث ۔٣١۴٣/١١ )٢٢( سورة البقره، آیت ۔٢٣٢ )٢٣( خزائن العرفان فی تفسیر القرآن، سورة البقره، آیت ،٢٢٩ دائره معارف اسلامیہ، ج ،١٢ ص ۴٩٩ تا ،۵٢٧ دانش گاه پنجاب ، لاہور، ء۔١٩٨٩ )٢۴( 46 'yksd 9] v/;k; euqLef`r ۔ )٢۵( 101 'yksd 9] v/;k; euqLef`r ۔ )٢۶( 346/ i`0 1] Hkkx bfrgkl dk keZ'kkL=k ۔ (٢٧( / Hkkx bfrgkl dk keZ'kkL=k 346 i`0 1] ۔ )٢٨( 72 'yksd 9] v/;k; euqLef`r ۔ (٢٩( v/;k; euqLe`fr

80 'yksd 9] ۔ )٣٠( شادی بیوگان اور نیوگ ص، ،١۴ ثناء لله امرتسری سلیم،

پریس امرتسر، ء،١٩١٧ 79 'yksd 9] v/;k; euqLef`r ۔ (٣١( / dk keZ'kkL=k 347 i`0 1] Hkkx bfrgkl ۔

e|ik · lk/kqo`Rrk p izfrdwyk p ;k Hkosr~A O;kf/krk okf/kosRrO;k fgaL=kkFkZ/uh p loZnkAA

شراب( پینے والی، برے چال چلن والی، شوہر کے خلاف چلنے والی، بیمار، لڑائی جھگڑا کرنے والی اور فضول خرچ کرنے والی عورت کو

چھوڑ دینا چاہیے) اور اسی باب ;v/;k کے اشلوک ٧٨ میں یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ

جو عورت کسی بدکار، پاگل یا کمزور شوہرکا احترام و خدمت نہ کرے تو ایسی عورت کو اس کا شوہر اس کے زیورات لے کر تین ماه تک چھوڑ دے۔ اس طرح مذکوره بالا اشلوکوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندو دھرم میں عورت کو کم یا زیاده مدت یا ہمیشہ کے لیے چھوڑا تو جاسکتا ہے لیکن

طلاق نہیں دی جاسکتی۔ )٣٠( بیوی کی طرح اگر شوہر بھی نامرد، ذلیل، سنیاسی اور بدکردار ہو

تو بعض دھرم شاستروں اور آچاریوں مذہبی( پیشوائوں) نے عورت کو بھی یہ اجازت مرحمت فرمائی ہے کہ وه اس کو چھوڑ سکتی ہے لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں جیسا کہ نارد سمرتی اور منو اسمرتی سے ظاہر ہے۔ اس سلسلے میں کَوٹلّے ;dkSfVY نے بھی اپنے ارتھ شاستر میں بہت مناسب تجویز

رکھی ہے اور وه یہ کہ: اگر’’ شوہر نہیں چاہتا تو بیوی کو چھٹکارا نہیں مل سکتا، اس طرح اگر بیوی نہیں چاہتی تو شوہر کو نجات نہیں حاصل ہو سکتی، لیکن دونوں میں آپسی اختلاف و نفرت ہے تو آزادی ممکن ہے اور

شوہر بیوی سے خوف زده ہوکر اس سے جدا ہونا چاہتا ہے تو وقتکےشادیکوزوجہ جو ہےملاکچھ کرواپساسے سےدینے شوہر کو آزادی مل سکتی ہے۔ اسی طرح اگر بیوی شوہر سے ڈر کر اس سے ہوناالگ چاہتی توہے ان دونوں کی شادی کے وقت جو کچھ حاصل ہوا تھا اس کو نہیں لوٹائے گا اور ان دونوں صورتوں میں چھٹکارا تو ہوگا لیکن طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ اس کا ہندو

دھرم میں کہیں کوئی وجود نہیں ۔ہے‘‘ )٣١( آج ہندوستانی قانون میں جو عورت کو طلاق کا حق حاصل ہے وه اسلام کی دین ہے کہ جب ء١٩۵۵ میں ہندوستانی دستور میں شادی و طلاق کا قانون بنا تو اس میں پہلی بار اسلامی قانون طلاق کو سامنے رکھتے

کے کتابوں مذہبی کی اس جو گیا دیا حق کا طلاق بھی کو ناری ہندو ہوئے ہے۔ برخلاف بالکل

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.