شذرات

بسم الله الرحمن الرحيم

Maarif - - معارف جون ء٢٠١ -

اور مرتبہ اہمیت، کی اس کیاہے تیار لٹریچر الشان عظیم جو نے دارالمصنّفین دارالمصنّفین تک جب’’ کہ ہے جاسکتا لگایا سے اعتراف اس کے اقبال علامہ اندازه کا مقام یہ ۔گا‘‘ رہے باقی بھی اسلام میں ہندوستان تک وقت اس گا رہے میں ہندوستان لٹریچر کا اردو یہ کہ ہوگا نہ بیجا تو جائے کہا یہ اگر ہے۔ میں زبان اردو تر تمام لٹریچر مایہ گراں و علم کہ ہے ظاہر ہے۔ کیا مند ثروت کو ادب و زبان اردو نے اس اور ہے آبرو کی زبان واقف سے زبان اردو جو ہے باہر سے دسترس کی لوگوں ان ذخیره قدر گراں یہ کا دانش لیکن تھے، ناواقف سے اردو جو تھی نہیں کم تعداد کی لوگوں ایسے بھی پہلے ہیں۔ نہیں سے اردو جو ہے ہوا اضافہ مسلسل میں تعداد کی لوگوں ایسے ساتھ کے گذرنے وقت خود بجائے یہ ہوسکتے۔ نہیں مستفید سے لٹریچر بخش حیات اس سے وجہ کی بیگانگی اور ضرورتوں عصری ہے۔ پہلو ایک صرف کا مسئلہ یہ لیکن ہے، بات کی تشویش ہیں۔ طالب کے توجہ جو ہیں پہلو اور کئی ہوئے جڑے سے اس میں تناظر کے تقاضوں کس میں حالات ہوئے بدلتے کے ہندوستان بالخصوص اور دنیا کہ ہے یہ بات کی سوچنے مقاصد ان وه اور رہے باقی بھی اہمیت کی لٹریچر اس کہ جائے بنایا یقینی کو بات اس طرح کے گذرنے وقت تاکہ تھا گیا کیا تیار وه لیے کے حصول کے جن رہے کرتا پورا بھی کو

رہے۔ باقی اور قائم معنویت کی اس ساتھ -------------------------------------------------------------

کئی متعلق سے اس تو ہیں کرتے غور سے نظر نقطہ اس پر مسئلہ اس ہم جب

یہ کارنامہ اہم ایک کا دارالمصنّفین ہیں۔ طالب کے توجہ جو ہیں آتے سامنے کر ابھر پہلو کے معاندین دوسرے اور مستشرقین پر اسلام تاریخ اور اسلامؐ پیغمر اسلام، نے اس کہ ہے پر سطح تحقیقی اور علمی بلکہ لیا نوٹس صرف نہ کا اعتراضات والے جانے کیے ذریعہ اردو کہ ہوا حاصل ضرور تو یہ فائده بڑا ایک سے اس دیا۔ بھی جواب بخش تشفی کا اس پیدا شبہات و شکوک جو سے وجہ کی اعتراضات ان میں دماغ و ذہن کے مسلمانوں داں امر ایک بھی یہ لیکن ہوگیا۔ تدارک ذریعہ کے لٹریچر اس حدتک ایک کا اس تھے ہورہے گئی لکھی وه میں جواب کے جن سکیں پہنچ نہیں تک لوگوں ان تحقیقات یہ کہ ہے واقعہ نے دارالمصنّفین تھے۔ ہورہے متاثر سےان لوگ جو علاوه کے مسلمانوںداں اردو یا تھیں گرامی کے اس لیکن کیا ادا خوب خوب اور کردیا ادا فرض اپنا حدتک کی مقدور اپنے تو اس جو سکیں پہنچ نہیں تک لوگوں ان کاوشیں مایہ گراں یہ کی محققین اور مصنّفین قدر

ہے۔ باقی بھی اب کام یہ تھے۔ مخاطب اصل کے --------------------------------------------------------------

وطن برادران سے طور خاصمیں سلسلہکے حکمرانی عہدِ مسلممیں ہندوستان

میں ملک میں برسوں چند گذشتہ ہیں۔ جاگزیں فہمیاں غلط سی بہت میں دماغ و ذہن کے و لب کے اعتراض اور ہے ہوا اضافہ بہت میں ان میں نتیجہ کے پرستی فرقہ ہوئی بڑھتی عہد کے ہندوستان نے دارالمصنّفین ہے۔ آگئی تندی اور تلخی حدتک معمولی غیر میں لہجہ جواب کا اعتراضات سے بہت ایسے میں اس ہے کیا تیار لٹریچر جو پر تاریخ کی وسطیٰ سامنےکرابھرتصویر جوکی وسطیٰعہد کےہندوستان سےمطالعہکےاسہے۔ موجود

ہیں۔ کرتے پیش مورخین پرست فرقہ جو ہے مختلف یکسر سے تصویر اس وه ہے آتی کےسماجہندوستانی اثر زیر کے پالیسی کی رواداری مذہبی دلانہفراخ کی حکمرانوں مسلم دوسرےایکاورتھےگذارتےزندگیساتھکےملاپمیلباہمیطرحجسطبقاتمختلف آنکھوں مرقعخوبصورت اور موثر نہایتایک کااستھےرہتے شریکمیں درددکھکے آجاتی نظر بھی اب جھلکیاں کی جس تہذیب جمنی گنگا کی ہندوستان ہے۔ آجاتا سامنے کے خوبصورت نہایت بھی کا اس تھی۔ دین کی یگانگت باہمی اور ماحول روادارانہ اسی ہیں، سے دسترس کی وطن برادران ان لٹریچر قیمتی یہ لیکن ہے، موجود میں کتابوں ان پرتو ہورہے متاثر سے اس میں تعداد بڑی اور ہیں ہدف اصل کے مہم زہریلی اس جو ہے باہر چلا کرتا سرایت میں ریشہ و رگ کے معاشره دھیرے دھریے زہر کا پرستی فرقہ ہیں۔ سے وجود کے اس لوگ لیکن ہے موجود سامان حدتک کسی کا مداوا کے اس ہے۔ جارہا نےحسین ذاکرڈاکٹرمیں بارے کےلٹریچر کردهتیارکے دارالمصنّفین ہیں۔ نہیںواقفبھی و زبان اعتدال، کے لہجے معروضیت، کی مضمون نفس میں خصوصیت کی اس’’ تھا کہا اس ہے۔ وسعت کی نظر و قلب نمایاں زیاده بھی سے ان اور علاوه کے سلاست کی بیان تہذیب ہندی ایرانی، یونانی، تعلقات کے تہذیب اسلامی کہیں جہاں نے مصنفوں کے مکتب سکندرو قصہ’’ اور ہے ابھارا کو پہلو کے وصل بجائے کے فصل وہاں ہیں، دکھائے سے کی بات اس ضرورت ۔ہے‘‘ دی ترجیح کو کرنے بیان وفا‘‘ و مہر حکایت’’ پر سنانے دارا‘‘ ہندوستان نزدیک کے جن جائے پہنچایا تک لوگوں ان کو حکایت اس کی وفا و مہر کہ ہے ظلم، امتیاز نشانِ کا اس اور ہے محدود تک قصہ کے دارا و سکندر حکمرانی مسلم میں

ہے۔ رہا کوشی عیش اور استحصال ناانصافی، جبر، --------------------------------------------------------

اردو نسل نئی اپنی ہماری خود اب کہ ہے یہ بات اہم زیاده شاید بھی سے سب ان تربیت و تعلیم کی لوگوں جن لٹریچر یہ نے دارالمصنّفین ہے۔ جارہی چلی ہوتی بیگانہ سے صحت کی افراد طرح جس ہیں۔ جارہے ہوتے ناآشنا سے اس خود وه تھا کیا تیار لیے کے لیے کے ترقی عقلی اور علمی کی معاشره طرح اسی ہے ضروری غذا متوازن لیے کے کی نسلوں کئی اور ہے موجود لٹریچر مند صحت یہ ہے۔ ضروری لٹریچر مند صحت بہ معتد ایک کا نسل نئی کی مسلمانوں والی ابھرنے میں ہندوستان لیکن ہے رہا کرتا رہنمائی کے نسل نئی کہ ہے ضرورت شدید کی بات اس جہاں ہے۔ جارہا بھولتا ذائقہ کا اس حصہ ہےضروریبھییہوہیںجائےکیکوششممکنہرکیلانےقریبسےاردوکوافرادان نہ ایسا اگر جائیں۔ کیے استعمال ذرائع ممکن تمام لیے کے کرنے فراہم غذا فکری کو ان کہ کٹ سے اساس تہذیبی اور فکری ، مذہبی اپنی وه کہ ہے اندیشہ سخت کا بات اس تو گیا کیا میں ہندوستان نہیں۔ ممکن بھی لگانا اندازه کا نتائج سنگین کے جس ہوگا سانحہ ایسا یہ جائیں۔ تکحدکسکونسلنئیہمکہہےپرباتاسحدتکبڑیانحصارکامستقبلکےمسلمانوں موجوده کے ہندوستان ہیں۔ ہوتے کامیاب میں رکھنے آگاه سے تاریخ اور تہذیب مذہب، اپنے برطانوی پہلے صدی ایک ہے۔ ہوجاتی دوچند اہمیت کی اس ہوئے دیکھتے کو حالات کٹ سے تاریخ اپنی اور ماضی اپنے حدتک بڑی مسلمان اثر زیر کے پالیسی سامراجی قائمکےاناورشبلیعلامہپرطوربنیادی کامکاجوڑنے سےتاریخاپنیکوانتھے۔گئے کے تدارک کے اس اور ہے درپیش خطره وہی پھر بار ایک اب تھا۔ کیا نے اداره اس کرده

لیے کے قوموں دوسری ہے۔ ضرورت کی آنے آگے کو دارالمصنّفین پھر بار ایک لیے

سے تاریخ اپنی لیے کے مسلمانوں لیکن ہے ہوسکتی بات کی دلچسپی علمی ایک تاریخ سے حافظہ اپنے فرد کوئی اگر ہے۔ حافظہ ہمارا یہ ہے۔ مسئلہ کا موت اور زندگی واقفیت نہیں ضرورت کی نگاہی ژرف زیاده بہت لیے کے جاننے انجام کا اس تو ہوجائے محروم اپنے اور جائے کٹ سے تاریخ اور ماضی اپنے جو ہے ہوتا کا قوم اس حال یہی ہے۔

ہوجائے۔ محروم سے حافظہ اجتماعی --------------------------------------------------------

گیا بنایا منصوبہ کا تعمیرنو کی دارالمصنّفین پہلے سال چند جب کہ تھی وجہ یہی ابتدائی ابھی چنانچہ تھا۔ موجود طرح پوری احساس کا ضرورت اس سے ہی ابتدا تو گئیدیڈالبیلداغکیکاماسکہتھیہوئینہیںنصیببھیفراغتسےکاموںضروری انگریزی اور ہندی کو کتابوں کی اکیڈمی باوجود کے مشکلات اور دشواریوں تر تمام اور شائع ترجمے بعض اور ہوا ترجمہ کا کتابوں کئی گیا۔ کردیا شروع کام کا کرنے منتقل میں انگریزی اور ہندی کو دارالمصنّفین ہیں۔ آچکی میں صفحا ان تفصیلات یہ گئے۔ کیے بھی سلسلہ کے ان گئیں کی شائع کتابیں جو چنانچہ تھا نہیں تجربہ کوئی کا اشاعت کی کتابوں کی ان براں مزید تھی۔ ضرورت کی جس جاسکا کیا نہیں حاصل معیار وه کا طباعت میں کو سلسلہ اس قلت کی وسائل علاوه کے اس ہوسکا۔ نہیں انتظام معقول کوئی بھی کا نکاسی کہ تھی خواہش یہ سے ہی ابتدا سے وجہ کی اسباب ان گئی۔ بن راه سدِ میں رکھنے جاری بہتر کے اس تو لیتا لے اداره اچھا کوئی والا کرنے کام میں میدان اس داری ذمہ کی اس اگر کے کوشش حدتک کسی اور خواہش ہوجاتی۔ پیدا صورت مناسب کی پانے انجام پر طریقہ و فضل کے لله اب کہ ہے خوشی بڑی ہمیں تھی۔ سکی مل نہیں کامیابی میں اس باوجود

Pharos Media and کا دہلی ۔ ہیں ہوگئے مہیا اسباب کے اس سے کرم برسوں وه ہے۔ نہیں اداره اجنبی کوئی لیے کے علم اہل Publishing Pvt Ltd. سلیقہ اور کامیابی نہایت گزٹ‘‘ ملی’’ اخبار روزه پندره انگریزی مسلم واحد کا ہندوستان اہم میں تناظر کے حالات موجوده کے ہندوستان اداره یہ ہی ساتھ ہے۔ رہا کرتا . شائع سے دنیا طباعتی اب اور ہے رہا کرتا شائع بھی مطبوعات قدر گراں پر موضوعات حسّاس اور گزٹ‘‘ ملی’’ تحت کے جبر کے حالات سے بدقسمتی ہے۔ شناخت ایک اپنی کی اس میں قومی ہماری یہ تھی۔ زیاده سے پہلے ضرورت کی اس جب ہوگیا بند میں وقت ایسے ایک کا مسلمانوں کے ہندوستان اشاعت کی اخبار انگریزی ایک ہے۔ المیہ بڑا ایک کا زندگی سکی۔ نہیں سنبھال کو اس قوم مسلم بڑی اتنی تو نکلا وه جب لیکن تھا خواب پرانا بہت ایک اپنی دیتیں۔ ساتھ کا اس تک کہاں قربانیاں اور کاوشیں ذاتی کی ایڈیٹر اور بانی کے اس اورلاگبے جساورکیاقائم معیارصحافتیجونےاخباراسمیںحیات فرصتمختصر ہے بھی فخر قابل وه کی قائم روایت . کی کرنے پیش کو مسائل مسلم میں انداز خوف بے ہوگیا معاہده سے اداره اس کا دارالمصنّفین کہ ہے خوشی حد بے ہمیں بھی۔ تقلید قابل اور کرے بھی شائع کو ان اور گا کرائے بھی ترجمہ کا کتابوں کی دارالمصنّفین اب اداره یہ ہے۔ منافع صرف ہے۔ کرسکتا پیش ہی اداره نظریاتی کوئی جنہیں ہیں ایسی شرائط کی معاہده گا۔ ایک اسے ہم ہوسکتا۔ نہیں آماده کبھی پر شرائط ایسی اداره کوئی والا رکھنے نظر پر ہیں۔ کرتے تصور ذریعہ کا تکمیل کی مشن اہم ایک اسے بلکہ سمجھتے نہیں معاہده تجارتی کی ادائیگی کی داری ذمہ ملی بڑی ایک اور ہے بھی توسیع کی مشن کے دارالمصنّفین یہ

انشاءلله گی۔ آئے میں عمل سے اشتراک کے دونوں ان جو بھی کوشش

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.