شذرات

بسم الله الرحمن الرحيم

Maarif - - ء٢٠١٨ فروری معارف -

مخصوص کسی کو نسل نئی کی اس سے طور خاص اور قوم کسی دینے فروغ کو نظریہ خاص کسی درمیان کے ان اور ڈھالنے میں سانچے ذہنی کی نظریات فسطائی کہ ہے وجہ یہی ہے۔ تاریخ ذریعہ موثر سے سب لیے کے تاریخ مطابق کے نظر نقطۂ اپنے اور حیات تصور اپنے میں حکومتوں حامل کو عمل اس ہے۔ رہا چلن کا لکھنے ازسرِنو اسے بلکہ تشریح و تعبیر نئی کی وقت ہوگا۔ نہ بیجا تو جائے دیا نام کا تخلیق اور ایجاد کی تاریخ نئی ایک اگر حاصل درجہ کا تاریخ اصل کو تاریخ ایجاد نو اسی ساتھ ساتھ کے گذرنے کی قسم اس ہے۔ ہوجاتی فراموش دھیرے دھیرے تاریخ اصل اور ہے ہوجاتا کو گیری ہمہ اور وسعت کی اثرات کے اس اور عام قبول کے تاریخ گھڑت من کے پدماوتی رانی اور خلجی الدین علاء سلطان میں ملک وقت اس تو ہو دیکھنا جس نے افسانہ ایک چاہیے۔ دیکھنا کو شدت کی قضیہ ہوئے چھڑے سے تعلق اپنی کو حصے بڑے ایک کے ملک نہیں، واسطہ بھی کا دور سے حقیقت کا کہ ہے عالم یہ کا شدت کی جذبات میں سلسلہ اس اور ہے رکھا لے میں گرفت کی انحراف بھی میں درجہ کسی سے جن ہیں حقائق تاریخی اصل یہی جیسے کا حقائق تاریخی اصل پر موضوع اس تک جہاں جاسکتی۔ دی نہیں اجازت نے جس کو حکمراں ایسے ایک نہیں۔ والا پوچھنے کوئی کو ان تو ہے تعلق بہتر ایک لیے کے باشندوں کے یہاں اور لیے کے دفاع کے ارض خطہ اس ملک کی جن دیں انجام خدمات قدر گراں ایسی میں باب کے کرنے فراہم زندگی ہے جارہا دیا قرار مجرم کا جرائم سنگین ایسے ہے، نہیں مثال میں تاریخ کی جاسکتا کیا اندازه کا خطرات ان سے اس کیا۔ نہیں ارتکاب کبھی نے اس کا جن کرنے تسلیم پر طور کے حقائق تاریخی کو باتوں خیالی اور افسانوں جو ہے کے اس اور شخصیت کی علاءالدین سلطان ہیں۔ آسکتے پیش کو ملک سے ہے، نہیں ممکن تو گفتگو تفصیلی کوئی یہاں میں سلسلہ کے حکمرانی طرز کسی میں ذیل سطور ساتھ کے اختصار پر پہلوؤں بعض متعلق سے اس البتہ

گی۔ جائے کی کوشش کی ڈالنے روشنی قدر مختصر سے مختصر کوئی کی حکمرانوں عظیم کے ہندوستان حکومت عہد( خلجی علاءالدین سلطان میں اس بھی تو جائے بنائی فہرست کی حکومت سال بیس کل نے اس ہوگا۔ شامل ضرور نام کا )١٣١۶ -١٢٩۶ ملک مثال کی اس دیے انجام نے اس کارنامے جو میں مدت مختصر اس لیکن لیکن ہے وسیع بہت دائره کا فتوحات کی سلطان ہے۔ مشکل ملنی میں تاریخ کی کی چتوڑ میں اس نہیں، موقع یہ کا تفصیل کی جن سے وجہ کی اسباب مختلف میں تاریخ کی ہندوستان شمالی ہوئی۔ حاصل حیثیت معمولی غیر کو فتح

رہا حاصل مرتبہ و مقام جو کو چتوڑ میں تاریخ کی راجپوتانہ اور کو راجپوتانہ ہے۔ ہوجاتا شامل عنصر اساطیری کبھی کبھی میں اس سے وجہ کی اس ہے کرلیا فتح حصہ بڑا ایک کا ملک نے الدین علاء سلطان اگرچہ کہ ہے وجہ یہی جو کا نفرت شدید اور تلخی میں یادوں وابستہ سے فتح کی چتوڑ لیکن تھا آتا۔ نہیں نظر میں سلسلہ کے فتح کی علاقہ اور کسی وه ہے ہوگیا شامل عنصر جو میں سلسلہ اس کیا۔ فتح کو چتوڑ میں ١٣٠٣ نے الدین علاء سلطان

ہم اندر کے اس اور ہے تضاد اور اختلاف بڑا میں اس ہے پہنچا تک ہم بیانیہ کی خسرو امیر میں مآخذ تاریخی معاصر نہیں۔ ممکن کرنا پیدا توافق اور آہنگی بنیادی کو شاہی‘‘ فیروز تاریخ’’ کی برنی الدین ضیاء اور الفتوح‘‘ خزائن’’ نے انہوں اور تھے ہمراه کے سلطان میں مہم اس امیرخسرو ہے۔ حاصل اہمیت کی شاہد عینی کے واقعہ کو ان چنانچہ ہے۔ لکھا حال دیکھا آنکھوں کا اس لیکن ہے۔ مختصر بیان کا برنی مورخ معاصر دوسرے ہے۔ حاصل حیثیت اس نے مورخ اور کسی تک سال سو ڈھائی قریب اگلے اور مورخین معاصر شخصیت اور کسی کی طرح اس نہ اور لیا نام کا پدماوتی رانی تو نہ میں سلسلہ بات کوئی کی طرح اس اگر تھا۔ ناقد کا سلطان برنی کیا۔ اشاره کوئی طرف کی موضوع اس تک جہاں کرتا۔ نہ ذکر کا اس وه کہ تھی نہیں وجہ کوئی تو ہوتی رہنا یاد یہ میں سلسلہ اس تو ہے معاملہ کا حکایتوں رائج میں راجستھان پر رہے حسّاس بہت میں سلسلہ کے حمیت و غیرت قومی اپنی راجپوت کہ چاہیے پڑا کرنا سامنا کا شکست ہاتھوں کے حکمرانوں کے دہلی بھی جب کو ان ہیں۔ کی رکھنے محفوظ مطابق کے جذبات قومی اپنے کو داستان اس نے انہوں ہے اہم نہیں۔ ضروری ہونا مطابق کے واقعہ حقیقت کا اس چنانچہ ہے۔ کی کوشش کی ان سے جس جائے رکھا محفوظ طرح اس کو یاد کی اس کہ ہے یہ بات کو ان میں داستانوں ان ہی ساتھ پائے۔ آنے نہ آنچ پر حمیت قومی اور بہادری کہ جب ہے جاتا دکھایا ہوئے کرتے داری پاس کی اقدار اخلاقی اعلیٰ ہمیشہ ہے۔ جاتا کیا پیش سے حیثیت کی انسان کمتر پر طور اخلاقی کو فاتح رہی حاصل مقبولیت بہت کو قصہ کے پدمنی رانی میں حکایتوں راجستھانی سلسلہ اس البتہ ہے۔ کردیا محفوظ میں کتاب اپنی اسے نے ٹاڈ کرنل اور ہے پدمنی رانی تو گئیں کی تخلیق داستانیں یہ جب ابتداءً کہ ہے مشکل کہنا یہ میں خواتین حامل کی صفات نسائی اعلیٰ یا تھی شخصیت حقیقی کوئی مراد سے

تھا۔ گیا کیا استعمال پر طور کے استعاره اسے لیے کے چتوڑ کی فتح سے تقریباً ڈھائی سو سال بعد دہلی سے دور جائس میں ایک صوفی بزرگ ملک محمد جائسی نے شیر شاه کے عہد میں ء١۵۴٠ میں پدماوت‘‘’’ کے نام سے ایک داستان قلم بند کی۔ اس داستان کو ہندی ادب میں

حاصل شہرت حدتک اس نے افسانہ اس جلد بہت ہے۔ حاصل حیثیت کلاسیکی اس اور کیا نقل کو اس میں تاریخوں اپنی نے مورخین کئی کے بعد کہ کرلی کی تفتیش اور تحقیق کسی میں سلسلہ کے واقعات والے ہونے بیان میں ہے کی وضاحت کی بات اس خود نے جائسی حالانکہ سمجھی۔ نہیں ضرورت چتوڑ اور مایا مراد سے علاءالدین میں اس اور ہے کہانی ایک محض یہ کہ دوسرے شامل میں کہانی اس نے انہوں طرح اسی ہے۔ جسم مراد سے قصہ’’ کہ ہیں لکھتے وه پھر ہے۔ کی وضاحت بھی میں بارے کے کرداروں ورنہ نکالنا۔ مکھن کر متھ متھ اسے میں دہی جیسے ہے ہی ایسا کہنا کہانی کا علاءالدین کہاں اور پدمنی رانی کہاں یعنی راجہ کا کہاں اور رانی کی کہاں طلب غور بھی پھر بات یہ ۔کرنا‘‘ حملہ پر چتوڑ ہوکر فریفتہ پر حسن کے اس وجہ کی کرنے منتخب لیے کے کردار اس کو الدین علاء میں افسانہ اس کہ ہے بتانے معلومات ذریعہ اور ماخذ اپنا تو نہ کو والے لکھنے کہانی ایک ہے۔ کیا میں داستان اس ضرورت۔ کی بتانے سبب کا اس نہ اور ہے ہوتی مجبوری کی سے کردار تاریخی حقیقی کے اس وه ہے گیا کیا پیش میں انداز جس کو سلطان بری میں اس کو شخصیت کی اس کہ ہے یہ واقعہ رکھتا۔ نہیں مماثلت کوئی شدید ساتھ کے حکمراں عظیم اس اور ہے گیا کردیا مسخ اور مجروح طرح کہ نہیں قرینہ کاکوئی کرنے معلوم یہ ہے۔ گیا کیا ارتکاب کا ناانصافی یا ہے تعلق کوئی میں قصہ کے جائسی اور داستان اس معروف میں راجستھان یا ہوں ہوئے متاثر سے داستان اس جائسی کہ ہے ہوسکتا تو بھی ایسا نہیں۔ کے ان ہو۔ ہوئی متاثر سے افسانہ کے جائسی داستان رائج میں راجستھان نظر صرف یکسر سے امکان اس سے وجہ کی پہلوؤں کے مماثلت درمیان

جاسکتا۔ کیا نہیں میں دنوں آخری کے حکومت عہد کے التمش الدین شمس سلطان

نہس تہس کو حصوں بڑے کے افغانستان اور ایران ایشیا، وسط خاں چنگیز حکمت کی التمش تھا۔ رہا دے دستک پر سرحد کی ہندوستان بعد کے کرنے سلطنت دہلی یہ تک سال سو اگلے لیکن گیا ٹل خطره وه تو وقت اس سے عملی کے سلاطین میں عرصہ طویل اس رہا۔ بنا مسئلہ کا موت اور زندگی لیے کے کیسے حفاظت کی مملکت سے منگولوں کہ تھا یہ مسئلہ اہم سے سب سامنے اثر زیر کے اس کہ تھا مسلسل اور شدید اتنا دباؤ کا منگولوں جائے۔ کی دہلی تک آخر کے صدی بعد کے التمش اور گیا رک بالکل سلسلہ کا فتوحات زمانہ کے علاءالدین سلطان ہوا۔ نہیں اضافہ کا علاقہ نئے کسی میں سلطنت قیادت کی (Duwa Khan) خاں داوے کرگیا۔ اختیار شدت مزید خطره یہ میں اراده کے فتح کی ہندوستان سے عزم اور جوش نئے ایک نے منگولوں میں سرحدی پر طور عام سرگرمیاں کی ان تک ابھی کیا۔ رخ کا خطہ اس سے

اس تھیں۔ مرکوز پر دہلی نگاہیں کی ان اب لیکن تھیں رہتی محدود تک علاقوں یہ کا ان تو ہوتا رہا حکمراں اور کوئی علاوه کے الدین علاء سلطان وقت ایک کہ ہے یہ عظمت کی علاءالدین سلطان ہوجاتا۔ پورا شاید خواب دیرینہ شروع سے پھر سلسلہ کا فتوحات ہوئی رکی سے مدت ایک نے اس تو طرف کے سلطنت مثال کی اس ہوئیں فتوحات جو میں حکومت عہد کے اس کیا۔ نہیں میں حکومت دور پورے کے مسلمانوں میں برصغیر بعد کے عہد ابتدائی گجرات، راجستھان، صرف نہ نے فوجوں کی اس میں مدت قلیل نہایت ملتی۔ بلکہ تھے قریب نسبتا سے دہلی جو کرلیا فتح کو علاقوں جیسے چندیری مالوه، کو علاقوں دراز دور اور عریض و وسیع کے ہند جنوبی اور دکن مہاراشٹرا، صرف نہ کا مملکت سے خطره منگول نے اس طرف دوسری کرلیا۔ فتح بھی طویل وه کہ دیا کچل طرح اس کو طاقت کی ان بلکہ کیا دفاع پر طور موثر حالات کرسکے۔ نہیں ہمت بھی کی کرنے رخ طرف کی ہندوستان تک مدت نازک نہایت کہ ہے جاسکتا لگایا سے بات اس اندازه قدر کسی کا سنگینی کی مخصوص کے وقت اس کیا۔ محاصره کا دہلی بار دو نے منگولوں میں حالات موثر کا تخت پایہ شاید کہ تھا اندیشہ سخت کا بات اس نظر پیش کے حالات کے دہلی پر موقع کے محاصره ایک کے طرح اس جاسکے۔ کیا نہ دفاع جنگ بھی طرح کسی کو سلطان نے الملک علاء معتمد کے سلطان اور کوتوال میں میدان کھلے اور کیا نہیں قبول نے سلطان جو دیا مشوره کا بچنے سے نے منگولوں میں حکومت عہد کے اس دی۔ شکست ناک عبرت کو منگولوں دوچار سے شکست ہربار لیکن کیے حملے بڑے اور کئی میں علاقوں مختلف اور دیا چھوڑ کرنا رخ کا ہندوستان نے منگولوں کہ ہوا یہ اثر کا اس ہوئے۔ الدین علاء سلطان وقت اس اگر ہوگیا۔ محفوظ سے حملوں مسلسل کے ان ملک سیلابِ اس تو ہوتا رہا نہ متمکن پر تخت کے دہلی سلطان کا عزم آہنی جیسے آسان بھی کرنا تصور کا بربادی و تباہی گیر ہمہ اس آج تھا۔ مشکل روکنا کا بلا ساتھ کے فتوحات وسیع اتنی آتی۔ میں ملک اس میں جلو کے ان جو نہیں کارنامہ معمولی غیر ایسا کا علاءالدین سلطان باب سدّ کا خطره کے منگولوں کے اس جاسکتا۔ کیا نہیں بھی اندازه پر طور صحیح اب کا اہمیت کی جس ہے ہوا حشر وہی بھی کا ہندوستان ورنہ چاہیے۔ ہونا مند احسان کا اس کو ملک لیے

تھا۔ ہوا کا ایران اور ایشیا وسط ہاتھوں کے منگولوں جو ہوتا اعلیٰ ایک خلجی الدین علاء سلطان علاوه کے ہونے فاتح عظیم ایک سلطنت دہلی وقت اس ، بیٹھا پر تخت کے دہلی وه جب تھا۔ بھی منتظم کا درجہ جہاں میں مدت طویل اس تھا۔ چکا گذر عرصہ کا صدی ایک تقریباً پر قیام کے علاقوں سرحدی کے مملکت منگول اور رہا رکا سلسلہ کا فتوحات طرف ایک

طور خاص بھی میں ڈھانچہ انتظامی کے سلطنت وہیں رہے، کرتے تاراج کو تھی ہوسکی نہیں رفت پیش ذکر قابل کوئی میں نظام کے گذاری مال پر میں علاقوں دیہی تھا۔ مدار و دار کا استحکام مالی کے سلطنت پر اسی حالانکہ تھا۔ رائج وہاں پہلے سے قیام کے سلطنت جو تھا جاری نظام وہی حدتک بڑی توجہ طرف اس نے جس ہے حکمراں پہلا کا سلطنت دہلی الدین علاء سلطان کہ ہو نہ بیجا شاید تو جائے کہا یہ اگر دیا۔ انجام کام کا نو تنظیمِ کی اس اور دی ہاتھوں کے الدین علاء سلطان تکمیل کی نفوذ کے سلطنت میں علاقوں دیہی تھا ہوچکا برپا انقلاب ایک ہی ساتھ کے قیام کے سلطنت تو میں شہروں ہوئی۔ وجہ اسی تھی۔ پاچکی راه تبدیلی کچھ بہت میں طریقوں طور کے سہن رہن اور شہری تر زیاده مسلمان ہیں۔ دیتے نام کا انقلاب شہری اسے مورخ بعض سے ہاتھ کے طبقات انہی بھی اب انتظام کا علاقوں دیہی اور تھے آباد میں علاقوں زندگی کی وہاں لیے اس تھے۔ آئے کرتے کام یہ سے دراز زمانہ جو تھا میں زندگی دیہی کا اصلاحات کی سلطان تھی۔ قائم پر روش پرانی اپنی حدتک بڑی وجہ اسی تھی۔ ابتدا کی دور نئے ایک یہ میں علاقوں دیہی پڑا۔ اثر گہرا پر

ہیں۔ کرتے تعبیر سے انقلاب دیہی اسے مورخین بعض سے کسی جو ہے کارنامہ ایسا ایک کا الدین علاء سلطان کنٹرول مارکیٹ

تمام کی زندگی ضروریات نے اس ہوا۔ نہیں ممکن سے حکمراں دوسرے سالی قحط کہ کیا نافذ سے کامیابی اتنی کو اس اور کیا تعین کا نرخ کے چیزوں اور آئی کمی کوئی کبھی میں سپلائی کی چیز اور کسی یا غلہ تو نہ باوجود کے نظام ایک پورا لیے کے اس آیا۔ فرق معمولی سے معمولی کوئی میں قیمت نہ گئے کیے قائم بازار الگ الگ گئے، بنائے ضوابط اور قوانین گیا، کیا وضع کی قانون بھی لیے کے کسی کہ گیا کیا قائم نظام موثر ایسا کا نگرانی اور خلاف کی قانون لوگ جو باوجود کے اس رہی۔ نہیں ممکن ورزی خلاف دوسروں کہ تھی جاتی دی سزا ایسا کو ان تھے جاتے پائے مرتکب کے ورزی پر خرچ کم کہ تھا یہ مقصد ایک جہاں کا کنٹرول مارکٹ ہو۔ عبرت سے اس کو دفاعی کی ملک ذریعہ کے جس ہوسکے ممکن رکھنا کا فوج بڑی ایک پر پیمانے بڑے بھی سلسلہ کا فتوحات اور ہوسکیں پوری بھی ضرورتیں شامل سے ہی ابتداء بھی عنصر کا بہبود عوامی میں اس وہیں سکے، ره جاری قاضی التجار ملک ہے۔ گیا کیا بیان واقعہ ایک میں المجالس‘‘ خیر’’ تھا۔ کسی سلطان ہوئے۔ حاضر میں خدمت کی سلطان بیگ قرا ملک اور حمیدالدین ہوا۔ نہیں تک احساس کا آمد کی ان اسے کہ تھا غرق طرح اس میں سوچ گہری تمام فائده کا جس ہے چاہتا کرنا کام ایسا کوئی وه کہ بتایا نے اس پر پوچھنے نے اس بعد کے فکر و غور بہت ۔رسد) خلق بہمہ فائده تا( پہنچے کو خلق

میں کرنے وضع کو نظام پورے اس کیا۔ فیصلہ کا نفاذ کے کنٹرول مارکیٹ کا دلچسپی جس نے سلطان میں سلسلہ کے چلانے سے کامیابی اسے اور اٹھا حکمراں وہی صرف وه اٹھائی زحمت جو پر طور ذاتی اور کیا مظاہره ہو۔ فکر حدتک معمولی غیر کی آسائش اور بہبود کی رعایا اپنی جسے تھا سکتا درشتی اور سختی میں مزاج کے الدین علاء سلطان کہ ہے صحیح یہ

وه تھا۔ فقدان کا اعتدال میں سزاؤں والی جانے دی لیے کے شکنی قانون تھی۔ مدرسہ کے تجربہ نے اس خود بقول بلکہ تھا نہیں بھی لکھا پڑھا زیاده کچھ پاک بھی سے کمزوریوں اخلاقی تھا۔ نہیں پابند کا عبادات تھی۔ پائی تعلیم میں نشانہ کا تنقید سخت لیے کے کمزوریوں کی طرح اس اسے نے برنی تھا۔ نہیں اس تو نہ پر رعایا عام کہ ہے یہ بات کی رکھنے یاد میں سلسلہ اس ہے۔ بنایا درشت اور گیری سخت کی اس نہ اور تھا پڑتا اثر کا کمیوں ذاتی ان کی کرنے شکنی قانون اور مخالفین کے حکومت نشانہ کا سختی کی اس کا۔ مزاجی میں سلسلہ کے نفاذ کے ضابطوں اور قانون یہاں کے اس تھے۔ بنتے والے ساتھ کے والوں کرنے پابندی کی قانون لیکن تھی۔ نہیں گنجائش کی نرمی کسی حکمرانی مکمل کی قانون میں معاشره نتیجہ کا اس تھا۔ نہیں مسئلہ کوئی کا اس کوئی کو مملکت بعد کے استیصال کے منگولوں ہوا۔ ظاہر میں شکل کی بے اور لاگ بے کے قانون مملکت اندرون تھا۔ گیا ره نہیں لاحق خطره بیرونی اور تھی گئی ره نہیں ممکن اندازی خلل میں امان و امن سے وجہ کی نفاذ لچک وجہ اس تھی۔ گئی ره باقی گنجائش کوئی لیے کے روی غلط اور کاری غلط نہ شعر ادب، و علم کرلیا۔ اختیار رخ تعمیری نے مزاج عمومی کے معاشره سے بن پہچان کی عہد اس ترقی مثال بے میں فنون و علوم مختلف اور شاعری و ویسا تھا مجمع جیسا کا ماہرین کے وفنون علوم مختلف وقت اس میں دہلی گئی۔ کے شاہی‘‘ فیروز تاریخ’’ تفصیل کی اس ہو۔ ملا کو دیکھنے کبھی ہی شاید پھر کہ تھی حس اخلاقی اتنی اندر کے اس علاوه کے اس ہے۔ محفوظ میں صفحات کی ترک نوشی شراب خود پہلے تو کیا کافیصلہ پابندی پر شراب نے اس جب

کرادیا۔ ضائع کو ذخیره کے شراب اور ہوں کیے مرتب اثرات جو پر زندگی کی شہریوں عام نے ماحول اس ماحول کے امان و امن مکمل ہے۔ جاسکتا کیا سے آسانی اندازه کا اس گے زیاده سے گذارنے زندگی کی البالی فارغ بغیر کے ہراس اور خوف کسی میں، اپنی یہ لیے کے لوگوں شمار بے ہے۔ کرسکتا آرزو کیا اور آدمی عام ایک نہایت چیز ہر متعلق سے زندگی ضروریات جب ہوگا۔ رہا تجربہ پہلا کا نوعیت سے جور و ظلم کے طرح ہر وه اور تھی دستیاب سہولت بہ پر قیمت ارزاں

کے ان لیے کے اس بنایا ممکن یہ لیے کے ان نے حکمراں جس تھے۔ محفوظ احساس اور مندی احسان نہیں۔ مشکل لگانا اندازه بھی کا احساسات اور جذبات کردیا فائز پر مقام ایسے ایک میں تخیل کے عوام اسے نے جذبات کے تشکر دہلی ہو۔ ہوا نصیب کو حکمراں کسی ہی شاید میں ہندوستان کے وسطیٰ عہد جو وقت اس پر طور خاص تھا مقام کیا کا سلطان میں دماغ و دل کے شہریوں کے یہ بعد کے انتقال کے اس جب تھے کرتے محسوس کیا میں بارے کے اس وه ہی یاد آمیز حسرت ایک صرف کی اس اور ہوگیا خیال و خواب پھر کچھ سب حوصلہ و عزم مثال بے اپنے نے اس جو گئی الٹ ہی بساط وه اور گئی ره باقی سے واقعہ اس اندازه قدر کسی کا اس تھی۔ سجائی لیے کے رعایا اپنی سے کے اولیاءؒ الدین نظام شیخ اور بزرگ چشتی مشہور جو ہے جاسکتا لگایا خیر’’ مجموعہ کے ملفوظات کے دہلی چراغؒ نصیرالدین شیخ جانشین خیر’’ اور کیا بیان میں مجلس کی شیخ نے قلندر حمید مرتب کے المجالس‘‘ سلطان روز ایک وه کہ کیا بیان نے قلندر حمید کردیا۔ محفوظ میں المجالس‘‘ اپنی لوگ کہ دیکھا نے انہوں وہاں گئے۔ کو زیارت کی مزار کے الدین علاء حمید تھے۔ رہے باندھ دھاگے پر قبر کی سلطان لیے کے تکمیل کی حاجتوں کو اس اور دیکھا خواب نے انہوں کو رات دیا۔ باندھ دھاگہ ایک بھی نے قلندر لیے کے ضرورتوں جن کہ ہے ہوتا واضح سے اس کیا۔ بیان سامنے کے شیخ پر مزاروں کے بزرگوں بعض تھیں۔ ہوتی بھی پوری وه تھا جاتا باندھا دھاگہ کے روائی حاجت پر مزار کے حکمراں کسی البتہ ہے رواج کا باندھنے دھاگہ کوئی پر قصہ اس ہم ہے۔ نہیں مثال اور کوئی کی باندھنے دھاگہ سے مقصد کے دور اس کہ ہیں چاہتے دیکھنا یہ صرف تو ہم چاہتے۔ کرنا نہیں تبصره تھی محفوظ طرح کس یاد کی الدین علاء سلطان میں حافظہ اجتماعی کے عوام ایک وه میں حافظہ عوامی تھا۔ مرتبہ و مقام کیا کا اس میں تخیل کے ان اور کے پاس آس اپنے وه جب تھا۔ ہوچکا فائز پر مرتبہ کے بزرگ کرامت صاحب کی عہد کے الدین علاء سلطان بخود توخود گے ہوں رہے دیکھتے حالات ہوں پہنچتے تک نتیجہ اس وه اور ہوگی ابھرتی پر تخیل پرده کے ان تصویر کرامت صاحب کوئی وه کیا کچھ جو میں وقت کم اتنے نے سلطان کہ گے کے وقت واقعہ یہ کہ ہے یہ بات اہم ایک میں سلسلہ اس ہے۔ کرسکتا ہی بزرگ پر اس اور رہے خاموش وه اور گیا کیا بیان سامنے کے شیخ بڑے سے سب کہ ہے واضح یہ میں روشنی کی تفصیلات ان کیا۔ نہیں اظہار کا نکیر کسی اس ہے، کی پیش تصویر جو کی علاءالدین نے جائسی محمد ملک میں پدماوت ناانصافی بڑی ساتھ کے اس یہ اور ہے نہیں تعلق کوئی سے حقائق تاریخی کا تصویر منفی یکسر جو کی الدین علاء سلطان مورخین پرست قوم انتہاپسند ہے۔

ہے۔ ملتی تقویت کو اس سے مشتملات کے افسانہ اس ہیں رہے کرتے پیش

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.