شعرالعجم ایک اہم ادبی و تنقیدی کارنامہ

جناب الطاف احمد اعظمی

Maarif - - ء٢٠١٨ فروری معارف -

بھی آج طرح کی عہد کے ان کتاب آرا معرکہ یہ کی شبلی علامہ

ہیں، کرچکے طے منزلیں کئی کی ترقی تنقید کی اس اور ادب اردو کہ جب کوئی میں مقبولیت کی اس اور ہے پایہ گراں سے اعتبار تنقیدی اور ادبی فارسی موضوع کا شعرالعجم‘‘’’ ہے۔ ہوا اضافہ بلکہ ہوئی نہیں واقع کمی کی کتاب اس شبلی علامہ بھی۔ تنقید کی اس اور ہے بھی تاریخ کی شاعری

ہیں: لکھتے میں دیباچہ کے جلد پہلی ممتاز سے سب بھی میں قابلیت کی لطیفہ فنون خاک کی ایران’’

کو جوہر خاص اس نے اسلام تھا۔ خمیر کا اس شاعری بالخصوص اور تھی طرف ایک شاعری کی دنیا تمام کہ پہنچایا حدتک اس اور دیا چمکا زیاده تک آج کہ ہے یہ افسوس لیکن طرف۔ ایک شاعری کی ایران صرف اور لکھی نہیں تاریخ ایسی کوئی کی شاعری کی ایران میں زبان اسلامی کسی عہد بہ عہد طرح کس ہوئی، شروع کب شاعری کہ ہوتا ظاہر سے جس گئ قومی اور ملکی بدلیں، صورتیں کیا کیا ہوئے، قائم انداز کیا کیا بڑھی، ڈالا؟ اثر کیا پر قوم و ملک نے اس خود کیے، اثر کیا کیا پر اس نے حالتوں جن ہیں اشعار بیاض درحقیقت وه لیکن ہیں بہت تذکرے کے شعراء حالات کے شعراء ہیں۔ دیے لکھ کرکے انتخاب اشعار عمده کے شعراء میں انقلابات کے عہد بہ عہد کے شاعری اور ہیں کم نہایت اور کم واقعات اور محسوس سے مدت کو کمی اس نہیں۔ ذکر مطلق تو کا اسباب کے ان اور

(١( ۔تھا‘‘ رہتا میں بن ادھیڑ اس اکثر اور تھا کررہا ----------------------------------------------------------------------------------

۔ ١١٠٠١٩ دہلی نئی ایکسٹینشن، آباد تغلق ،٢۴ نمبر گلی ،۴٠٢ نمبر فلیٹ بی، ٩٠١ زیڈ۔ آر

کا کتاب اس کہ ہے ضروری لینا دیکھ یہ پہلے سے بڑھنے آگے سلیمان سید جناب ہو۔ ازالہ کا فہمی غلط بڑی ایک تاکہ ہے کیا تالیف سنۂ ء١٩٠۶ نومبر کہ ہے لکھا میں دیباچہ کے پنجم جلد العجم‘‘ شعر’’ نے ندوی نے شبلی علامہ ہی بعد کے تصنیف کی دبیر‘‘ و انیس موازنہ’’ میں بیان ذیل درج کے صاحب سید لیکن ۔)٢( کی شروع تالیف کی شعرالعجم

(٣( ہے۔ ہوتی بھی نفی کی خیال اس سے مدت ایک میں دل کے مولانا تخیل کا العجم شعر’’

سب کہ ہے ہوتا معلوم سے تحریروں کی ان تھا۔ موجود سے چنانچہ آیا۔ خیال کا موضوع اس کو ان میں ء١٨٩٩ پہلے سے پر فارسی’’ ہیں: لکھتے میں خط ایک کے ء١٨٩٩ جولائی ؍٢۶ کیونکہ گا پڑے لینا کام سے خیال عالم صرف کو مجھ درحقیقت صرف ہے کچھ جو نہیں، پاس میرے بھی دیوان ایک کا فارسی کی ادوار کے اس ہیں: یہ کے اس کام ابتدائی ہے، میں دماغ

و الفاظ متروکات اور شاعری خصوصیات کے دور ہر تقسیم، سے شاعری ریویو، پر کلام کے شعراء بڑے بڑے محاورات،

(۴( ۔ہوا‘‘ پیدا کیا اثر معاشرتی اور اخلاقی ملکی، کا لکھنے العجم‘‘ شعر’’ کہ ہے ہوتا معلوم صاف سے مکتوب اس

بہت سے ء١٩٠۶ میں دنیا کی حقیقت کر نکل سے دل کے علامہ خیال خیال کا تالیف کی العجم‘‘ شعر’’ کہ ہیں بتاتے قرائن تھا۔ ہوچکا نمودار پہلے اور تھے مقیم میں گڑھ علی وه جب تھا، ہوگیا پیدا وقت اسی میں دل کے ان عبدالرزاق مولوی میں سلسلے اس ہوا۔ بھی آغاز کا تالیف کی اس وہیں بڑی تھے، ہمدم و رفیق کے شبلی علامہ جو بیان کا ء)١٩۴٨ م( کانپوری

ہیں: لکھتے وه ہے۔ رکھتا اہمیت العجم شعر تصنیف اخیر کی مولانا بعد کے موازنہ’’

ہوئے صرف سال بیس یا پندره تقریباً میں تصنیف کی جس ہے ۔تھا) دیکھا میں گڑھ علی نے میں مسوده ابتدائی کا کتاب اس( زمانے اس تھے، پروفیسر میں العلوم مدرسۃ صاحب مولوی کی پرشیا‘‘ آف ہسٹری لٹریری’’ کتاب کی براؤن پروفیسر میں جو( ترجمہ پورا کا کتاب اس اور تھی آگئی ہوکر طبع جلد پہلی شعر چنانچہ تھا۔ نظر پیش کے مولانا تھا) کیا نے شاگردوں سے اس اور ہے گئی رکھی پر کتاب کی براؤن بنیاد کی العجم تھی۔ ہوچکی شائع سعدی‘‘ حیات’’ کتاب کی حالی خواجہ قبل کی العجم شعر کر رکھ سامنے کو کتابوں دونوں ان الغرض

جو العمده‘‘ کتاب’’ کی قیروانی علامہ اور ہے گئی کی تالیف

نفع کافی بھی سے اس ہے، کتاب لاجواب ایک پر العرب شعر العلماء شمس میں زبان اور وغیره) استدلال طرز( ہے گیا اٹھایا کانسخہ فارس‘‘ دان سخن’’ کیونکہ ہے گئی کی تقلید کی آزاد ادب اردو بہرحال رہا۔ برسوں میں حضر و سفر ساتھ کے مولانا

(۵( ۔ہے‘‘ کتاب لاجواب ایک العجم‘‘ شعر’’ میں استفاده سے مصادر جن میں تالیف کی العجم شعر نے شبلی علامہ شامل بھی کتابیں وه میں ان کہ ہے ممکن نہیں، دستیاب تفصیل کی ان تھا کیا بیان یہ کا کانپوری لیکن ہے میں اقتباس کے اوپر ذکر کا جن ، ہوں رہی شعر’’ کر رکھ سامنے کو کتابوں ہی دو مذکوره نے علامہ کہ نہیں صحیح ہے ہوتا معلوم ضرور یہ سے بیان اس کے ان البتہ تھی۔ کی تالیف العجم‘‘ کردیا شروع میں گڑھ علی کام کا لکھنے کے العجم‘‘ شعر’’ نے شبلی کہ سے ایام‘‘ یاد’’ کتاب کی کاکوروی الحسن ضیاء مولوی تائید کی بات اس تھا۔ میں شاگردوں عزیز کے شبلی علامہ کاکوروی کہ رہے ملحوظ ہے۔ ہوتی تھے، رہتے مقیم میں ندوه وه جب کے خلوت و جلوت کی ان اور تھے

ہیں: لکھتے وه تھے، باش حاضر ادھر ء)،١٩٠٧( ہوئی شائع ایران ادبیات کی براؤن’’

نے علامہ کہ سمجھے لوگ تھا۔ ہوچکا اشتہار بھی کا العجم شعر کچھ بہت شعرالعجم‘‘’’ پہلے سے اس مگر لیا سے اس خیال یہ ایک کا کتاب کی براؤن نے مصنف چین بے تاہم تھی۔ ہوچکی

کہ کہا یہ تو کہا پھر لیا۔ سن ترجمہ کا اس پڑھواکر لفظ ایک

(۶( ۔کیا‘‘ نہیں کام میرا نے اس الحمد نے شبلی علامہ کہ ہوگیا واضح بالکل سے بیانات مذکوره غالباً اور تھا کردیا شروع میں ہی گڑھ علی کام کا تالیف کی شعرالعجم‘‘’’ علامہ کیا۔ گریز سے اشاعت لیکن تھے۔ کرچکے مکمل جلد پہلی کی اس بار زیاده سے ایک پر مسودے کے کتاب ہر اپنی وه کہ تھی عادت یہ کی ہر اپنی مولانا’’ ہیں: لکھتے ندوی سلیمان سید جناب تھے۔ کرتے ثانی نظر بعد کے چھانٹ کانٹ اور نظر تکرار اصلاح، و حک کی بار بار تصنیف تہذیب و اصلاح عمل اس بھی العجم شعر چنانچہ )٧( ۔تھے‘‘ کرتے شائع وقت جس علامہ کہ تھی یہ وجہ دوسری کی تاخیر میں اشاعت گزری۔ سے کے ادبیات ایرانی میں دنوں انہی تھے مصروف میں تالیف کی العجم شعر م( آزاد حسین محمد مولوی ایک ہوئیں، مشہور ہوکر طبع کتابیں دو متعلق اور ہوئی شائع سے لاہور میں ء١٩٠٧ جو فارس‘‘ دان سخن’’ کی ء)١٩١٠

دوسری کتاب جس کا ذکر اس سے پہلے ہوچکا ہے، پروفیسر ای۔ جی۔ براؤن م( ء)١٩٢۶ کی لٹریری’’ ہسٹری آف پرشیا‘‘ ہے جو ایک سال پہلے یعنی ء١٩٠۶ میں انگلینڈ سے شائع ہوچکی تھی۔ فطری طور پر علامہ کے دل میں اضطراب پیدا ہوا کہ ان کتابوں کے شائع ہوجانے کے بعد لوگوں کو بدگمانی کا موقع مل سکتا ہے کہ شعر’’ العجم‘‘ انہی دونوں کتابوں سے ماخوذ و مستفاد ہے۔ لیکن جب انہوں نے ان کتابوں کے مشمولات سے براه راست اور بالواسطہ پوری واقفیت حاصل کرلی تو وه مطمئن ہوگئے کہ آزاد اور براؤن کی کتابوں کا موضوع شعر’’ العجم‘‘ کے موضوع سے بالکل جداگانہ ہے اور وه ان کے دائرهٔ مباح میں نہیں داخل ہوئے ہیں۔ ؍۶ مئی

ء١٩٠٧ کے ایک خط میں لکھتے ہیں: آزاد’’ کا سخن دان پارس حصہ دوم نکلا، سبحان ،

لیکن الحمد میرے شعرالعجم کو ہاتھ نہیں لگایا ۔ہے‘‘ (٨( پروفیسر براؤن کی کتاب دیکھ کر علامہ شبلی نے کچھ زیاده شدید

رد عمل کا اظہار کیا ۔ لکھتے ہیں: بلا’’ مبالغہ اور بلا تصنع کہتا ہوں کہ براؤن کی کتاب

دیکھ کر سخت افسوس ہوا۔ نہایت عامیانہ اور سوقیانہ ہے۔ برادر اسحاق سے پڑھواکر سنی اور خود بھی الٹ پلٹ کر دیکھا۔ فردوسی کی نسبت صرف دو تین صفحے لکھے ہیں جس میں

اس کے اقتباسات بھی شامل ہیں۔ مذاق اتنا صحیح ہے کہ آ

فردوسی کا درجہ سبعۂ معلقہ کے برابر بھی نہیں مانتے اور فرماتے ہیں کہ کسی حیثیت سے یہ کتاب اور شعرائے فارسی

کے کلام کے برابر نہیں ۔ہے‘‘ (٩( پروفیسر براؤن جیسے صاحب علم و فضل مستشرق کی کتاب کو عامیانہ اور سوقیانہ کہنا حد درجہ ناانصافی کی بات ہے۔ براؤن کو عربی، فارسی، ترکی، فرنچ، جرمن اور انگریزی جیسی اہم زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ اس مغربی فاضل کی فارسی دانی کا اعتراف خود علامہ شبلی نے ان الفاظ میں کیا ہے: پرشین’’ لٹریچر کو میں نے منگواکر دیکھا، پہلا حصہ تو کچھ نہیں، دوسرے کا وعده ہے۔ پروفیسر براؤن کی فارسی مہارت مسلّم ہے، دوسرا حصہ نکلے گا تو اچھا ۔ہوگا‘‘ )١٠( مہدی افادی ہی کو ایک دوسرے خط میں لکھتے ہیں: براؤن’’ نے لب’’ ا للباب‘‘ کا دیباچہ

فارسی میں لکھا ہے۔ مسلمانوں سے اچھی فارسی لکھتا ۔ہے‘‘ (١١( بات دراصل یہ ہے کہ علامہ شبلی اپنے ہم عصروں کے علم و

دل فیاض کے، مغرب یا ہوں کے مشرق وه خواه میں اعتراف کے کمال اظہار کا کمزوری طبعی اسی میں معاملے کے براؤن پروفیسر تھے۔ نہیں زبان انگریزی کی ان میں اس دیا۔ ٹھہرا بدذوق اور علم کم کو ان اور ہوا لکھا میں لفظوں صاف نے براؤن پروفیسر ہے۔ دخل بھی کا ناواقفیت سے شاعری کمال کے فردوسی علم اہل سارے کے مشرق اور مغرب کہ ہے اور کرسکتا نہیں شریک کو خود میں اعتراف اس میں لیکن ہیں معترف کے

ہے: دی لکھ بھی وجہ کی اس و بح میں معاملے کے وجدان اور ذوق شک بے’’

ہے۔ سود بے تقریباً میں شعبہ کے ادبیات خصوصاً کرنا مباحثہ کسی قصور میرا غالباً میں بارے کے شناسی قدر کی شاہنامے

میں سے وجہ کی جس ہے بھی پر بنا کی عجز قدرتی اس قدر

(١٢( ۔ہوں‘‘ قاصر سے کرنے پسند کو اشعار رزمیہ بالعموم منکسر نہایت باوجود کے فضل و علم تمام اپنے براؤن پروفیسر

آف ہسٹری لٹریری سے دلی فراخ نہایت نے انہوں چنانچہ تھے۔ المزاج اخذ سے العجم‘‘ شعر’’ صرف نہ میں تالیف کی چہارم و سوم جلد کی پرشیا علم کے شبلی علامہ بلکہ کیا اعتراف سے دل کھلے کا اس اور کیا استفاده و

ہے۔ کی بھی تعریف کی سنجی سخن اور فہمی نکتہ کی ان اور فضل و کتابوں کی آزاد حسین محمد مولوی اور براؤن پروفیسر بہرحال

بعد کے کرنے حاصل واقفیت راست براه اور بالواسطہ سے مشمولات کے اور رہے مشغول برابر میں تالیف کی العجم شعر اور ہوگئے مطمئن شبلی جلد پہلی کی اس میں ء١٩٠٨ کہ تک یہاں رہے کرتے بھی ثانی نظر پر اس میں ء١٩١٠ جلد، دوسری میں ء١٩٠٩ پھر آگئی۔ پر عام منظر کر چھ علامہ میں سلسلے اس ہوئی۔ شائع جلد چوتھی میں ء١٩١٢ اور تیسری میں الندوه‘‘’’ کے ء١٩١٢ جنوری نے انہوں جو ہو ملاحظہ نوٹ وه کا شبلی

تھا: لکھا وه لیکن ہے تالیف زیر حصہ چوتھا کا العجم شعر’’

ایک پڑے۔ کردینے حصے دو کے اس کہ ہے گیا بڑھ قدر اس دوسرے لیکن ہے رہا چھ اور ہے جاچکا میں مطبع حصہ مقدم سے سب کو مجھ اب کہ ہے لیا روک نے میں کو حصے مصروف میں تالیف کی ی نبو سیرت یعنی کام بالشان مہتم اور گی، رہے ہوتی شعرالعجم تو پاگیا انجام کام یہ اگر چاہیے۔ ہونا

(١٣( ۔ہے‘‘ جلدی کیا کی اس

کہ تھا ہوا نہیں شائع بھی حصہ دوسرا کا جلد چوتھی کی العجم شعر

نے ندوی سلیمان سید جناب رشید شاگرد کے ان ہوگئی۔ وفات کی شبلی علامہ دوسرے اس سے مدد کی ندوی عبدالسلام جناب رفیق اپنے میں ء١٩١٨ دسمبر دے ترتیب مناسب تھا، ہوا پڑا ترتیب بے میں مسودات کے علامہ جو کو حصے

(١۴( کردیا۔ شائع بغیر کے اضافہ و حذف کسی میں کتاب مشمولات کر تفصیل ضروری اس متعلق کے اشاعت و تالیف زمانہ کے العجم شعر

ان اور گاکراؤں تعارف کا مشمولات کے جلدوں مختلف کیاس میں اب بعدکے

گا۔ ڈالوں روشنی پر اہمیت تنقیدی و ادبی کی پانچ ہے، ہوچکا ذکر اوپر کہ جیسا العجم شعر العجم‘‘: شعر’’ مشمولات میں اس ہے۔ مشتمل پر صفحات ٣۶٢ جلد پہلی کی اس ہے۔ منقسم میں جلدوں ایران حقیقت، کی شعر پھر ہے، گیا کیا ذکر کا ماخذ اور تالیف سبب بعد کے تمہید گئی کی تفصیل کی اثرات اور اسباب کے اس اور ابتدا کی شاعری فارسی میں اسدی، فردوسی، فرخی، رودکی، متقدمین، شعرائے اہم بعد کے اس ہے۔ شاعریکی ان اورسوانح کے گنجوی نظامیاورانوری خیام، سنائی، منوچہری،

ہے۔ تذکره کا کے متوسط دور ہے، مشتمل پر صفحات ٣٠٢ جو میں جلد دوسری اسماعیل، کمال یمین، ابن حافظ، خواجہ عطار، فریدالدین خواجہ جیسے شعراء ذکرکاشاعریکیاناورحالاتکےساؤجیسلماناورخسروامیرسعدی،شیخ

ہے۔ جمیل شعراءاہمکےآخردورہے،محیطکوصفحات٣٠٣جومیںجلدتیسری

کا کلیم طالب ابو اور صائب مرزا آملی، طالب نظیری، عرفی، فیضی، فغانی، مثلاً مصنف بقول کیونکہ ہے، نہیں ذکر میں اس کا شعراء کے بعد کے کلیم ہے۔ تذکره

(١۵( تھی۔ گئی بن گوئی چیستاں ہوکر حقیقی غیر شاعری فارسی بعد کے اس بابپہلےہیں۔بابتینمیںاسہے۔مشتملپرصفحات٣٣٩جلدچوتھی

و تشبیہ تخیل، محاکات، عناصر، اصلی کے شاعری حقیقت، کی شاعری میں تدریجی کیاس اور استعمال کا شاعری ادا، سادگی الفاظ، حسن ادا، جدت استعاره، تمدن، معاشرت، اثر، پر دوسرے ایک کا شاعری فارسی اور عربی ترقی، رفتار شرحپرموضوعاتاہمجیسےپرشاعریاثراتکےہواوآبملکیاورسیاست اصنافمختلفمیںبابتیسرےاوردوسرےہے۔گئیکیگفتگوساتھکےبسطو بڑاپرشاہنامہ‘‘’’کےفردوسیاورہے بححاصلسیرپرقبحوحسنکےسخن

ہے۔ گیا کیا تبصره آرا معرکہ اور مفصل

ہے حصہ کا ہی چہارم جلد دراصل صفحات)، ٢٢٧( جلد پانچویں

پر مثنوی میں اخیر کے چہارم جلد ہے۔ جاچکا لکھا پہلے سے اس کہ جیسا شاعری، صوفیانہ شاعری، عشقیہ قصیده، میں پنجم جلد اور ہے بح ہے گئی کی بح انگیز فکر بڑی پر شاعری فلسفیانہ اور شاعری اخلاقی چہارم جلد یعنی حصہ خریآ ہیں۔ گئے کیے پیش بھی نمونے کے ان اور

ہے۔ امتیاز طغرائے کا اس اور رواں روح کی شعرالعجم‘‘’’ سے تاریخ کی شاعری فارسی مقصد کا تصنیف کی العجم شعر

اس اور ترقی عہد بہ عہد کی اس آغاز، کا اس یعنی تھی تنقید کی اس زیاده کی العجم شعر نے شبلی علامہ خود بیان۔ مفصل کا معائب و محاسن کے اخیر یعنی چوتھا یہ کا العجم شعر’’ ہے لکھا میں دیباچہ کے جلد چوتھی اوردیباچےکے حصہاس حصے تیناگلے کہ ہے یہحقیقت اورہے حصہ تنقید یہ اور ۔ہے‘‘ تنقید پر شاعری عام کی ایران میں حصہ اس تھے، تمہید

ہے۔ افروز بصیرت اور جامع بڑی کا العجم شعر کہ ہے ضروری اعتراف کا بات اس یہاں لیکن

میں جن سے اسباب مختلف ہے۔ کمزور سے اعتبار تحقیقی حصہ تاریخی تاریخی کئی سے شبلی ہے، اہم زیاده دستیابی عدم کی ماخذ ضروری بعض تنقید’’ کتاب اپنی نے شیرانی محمود پروفیسر کہ جیسا ہیں ہوئی فروگذاشتیں کے مضمون گفتگو مزید پر اس ہم ہے۔ بتایا سے تفصیل میں العجم‘‘ شعر

گے۔ کریں میں اخیر مقام تنقیدی اور ادبی کا العجم شعر پایہ: تنقیدی و ادبی کا العجم‘‘ شعر’’ کا اس ہے۔ مسلّم باوجود کے کمزوری کی حصہ تاریخی کے اس مرتبہ و کے شبلی علامہ شمار کا جن ہے اعتراف کا علم اہل ان ثبوت بڑا ایک شمار کا ء)١٩۶١ م( عبدالحق مولوی ڈاکٹر اردو بابائے ہے۔ ہوتا میں ناقدین مولوی تھے۔ شاگرد کے علامہ وه کہ رہے ملحوظ ہے۔ ہوتا میں لوگوں انہی ہیں: لکھتے میں جواب کے خط ایک کے اعظمی عبداللطیف صاحب، یہ تو ہوں مخالف کا شبلی مولانا میں کہ بات یہ’’

قائل سے دل تہہ کا فضل و علم کے مولانا میں ہے۔ غلط بالکل میں محسنوں اور ادیبوں بڑے کے زبان اردو انہیں اور ہوں میں تقریر و تحریر بارہا نے میں کا اس اور ہوں کرتا شمار کے اسلام آف انسائیکلوپیڈیا اردو نے میں ہے۔ کیا بھی اظہار

چند کے اس ہے لکھا مضمون جو متعلق سے ادب اردو لیے انہوں کے تصانیف مستقل ان علاوه ہوں کرتا پیش جملے

سے جن لکھے، مضامین تحقیقی اور تاریخی شمار بے نے بڑے ہوگیا پیدا شوق عام کا نویسی تاریخ اور دانی تاریخ

اور مشہور اور ایک کی مولانا ہیں فہم سخن اور سنج سخن نے انہوں میں جلد چوتھی کی اس ہے۔ العجم شعر تصنیف مقبول کے اس اور ہے چیز کیا شاعری کہ ہے کی بح سے امر اس کرتے بح سے وغیره تخیل محاکات، ادراک، احساس، وه تحت

(١۶( ۔ہے‘‘ قدر قابل اور جامع بح یہ پر شاعری ہیں۔ ہے۔ ہوچکا پہلے سے اس ذکر کا جن نے شیرانی محمود پروفیسر

کی تنقید میں لہجے و لب ترین سخت ساتھ کے دلائل مضبوط پر العجم شعر ادبی کے کتاب اس کی ان اور فضل و علم کے شبلی علامہ وه ہمہ بایں لیکن

ہیں: لکھتے تھے۔ معترف کے پایہ تنقیدی و بے کی زبان اردو میں تاریخ کی نظم فارسی’’

اس کی۔ تصنیف العجم شعر نے علامہ کرکے محسوس بضاعتی لکھی کتابیں قدر جس میں اردو اور فارسی تک اب پر موضوع تالیف بہترین کے استثناء کسی بغیر میں ان العجم شعر ہیں، گئی حوصلہ میں کرنے قدر کی اس بھی نے ہے۔ملک جاسکتی مانی ہوچکے شائع ایڈیشن متعدد تک وقت اس چنانچہ لیا۔ کام سے

(١٧( ۔ہیں‘‘

لکھ پہلے ہم کہ جیسا نے مستشرق فاضل جیسے براؤن پروفیسر زیاده سے ایک میں پرشیا‘‘ آف ہسٹری لٹریری’’ کتاب اپنی ہیں، چکے کا عظمت ادبی و علمی کی مصنف کے اس اور العجم شعر پر مقامات داں نکتہ اور ور دیده جیسا اقبال محمد شیخ ڈاکٹر ۔)١٨( ہے کیا اعتراف شعر میں’’ کہ ہے لکھا نے انہوں تھا۔ داں قدر کا کتاب اس فارسی رموزِ رکھتی حیثیت الاقوامی بین جو ہوں سمجھتا سے میں تصانیف ان کو العجم کم بہت بات یہ میں اردو ہیں۔ معروف بھی باہر سے ہندوستان جو اور ہیں میں فارسی ترجمہ کا کتاب اس نے ایران اہل ہے۔ ہوتی نصیب کو کتابوں اپنی میں کیمبرج کہ گا رہے فخر پر بات اس ہمیشہ مجھے ہے۔ کیا شائع سے کتاب اس نے میں کو براؤن پروفیسر میں زمانہ کے علمی طالب پیش میں خدمت کی ان منگواکر نسخہ ایک سے ہندوستان اور کیا روشناس اس لیے اس تھے سکتے پڑھ نہیں ساتھ کے روانی وه چونکہ کو اردو کیا۔ اور مطالب کے اس کیا۔ مطالعہ سے مدد میری نے انہوں حصہ بیشتر کا کی ایران ادبیات تاریخ اپنی کہ پایا مفید درجہ اس نے انہوں کو مباح و کم بے کو ان جابجا تھے) رہے لکھ دنوں ان وه جو( میں جلد تیسری

کاست دہرایا اور اس کا نہایت فخر کے ساتھ اعتراف ۔کیا‘‘ (١٩( علامہ شبلی نے شعر’’ العجم‘‘ کی ابتدائی تین جلدوں میں ان فارسی شعراء کے کلام پر نقد و تبصره کیا ہے جنہوں نے فارسی شاعری کے ارتقاء میں اہم حصہ لیا ہے۔ اور جلد چہارم اور( جلد اول کے ابتدائی حصہ) میں انہوں نے شاعری کے اصول یعنی معیار شاعری سے بح کی ہے۔ ہم درج ذیل سطور میں پہلے فارسی کے چند اہم شعراء پر علامہ شبلی کا نقد و تبصره اور اس کے بعد اصول شاعری پر ان کے خیالات پیش کریں گے

تاکہ شعر’’ العجم‘‘ کی ادبی و تنقیدی حیثیت بالکل واضح ہوجائے۔ فردوسی: شبلیکینظرمیںفردوسیکارتبہخدائےسخنکا تھا۔ شعر العجم جلد اول میں فردوسی کی شاعری پر انہوں نے جس گیرائی اور تحقیقی بصیرت کے ساتھ نقد و تبصره کیا ہے وه ان کی تنقیدی بصیرت کا آئینہ دار ہے اور اس دور کے کسی اور تنقید نگار کے یہاں یہ رنگ تنقید نہیں ملتا۔ اس تبصرے کو پڑھ کر واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ اس کے لکھنے والے نے شاہنامے کی ایک ایک سطر کا نہایت دیده ریزی کے

ساتھ مطالعہ کیا ہے۔ سطور ذیل ملاحظہ فرمائیں: ایشیائی’’ تاریخوں کے متعلق عام شکایت ہے کہ ان

میں بجز جنگ و خوں ریزی کے اور کچھ نہیں ہوتا یعنی وه حالات نہیںبالکل ہوتے جن سے اس زمانے کے ملکی معاملات اور قوم کی تہذیب و معاشرت کا حال کھل سکے۔ یہ شکایت بہت کچھ صحیح ہے لیکن شاہنامہ اس سے مستثنیٰ ہے۔ شاہنامہ

اگرچہ بظاہر رزمیہ نظم ہے لیکن عام واقعات کے بیان میں اس تفصیل سے ہر قسم کے حالات آجاتے ہیں کہ اگر کوئی شخص

چاہے تو صرف شاہنامہ کی مدد سے اس زمانے کی تہذیب و تمدن کا پورا پتہ لگا سکتا ہے۔ بادشاه کیوں کر دربار کرتا تھا، امراء کس ترتیب سے کھڑے ہوتے تھے، عرض معروض کرنے کے کیا آداب تھے، انعام و اکرام کا طریقہ کیا تھا؟ بادشاه اور امراء کا درباری لباس کیا ہوتا تھا؟ فرامین اور توقیعات

کیوں کر اور کس چیز پر لکھے جاتے تھے۔ نامہ و پیام کا کیا انداز تھا؟ مجرموں کو کیوں کر سزائیں دی جاتی تھیں۔ بادشاہی احکام پر کیوں کر نکتہ چینی کی جاتی تھی وغیره وغیره۔ شادی کے مراسم کیا تھے؟ جہیز میں کیا دیا جاتا تھا؟

عروسی کی کیا رسمیں تھیں؟ دولہا دلہن کا کیا لباس ہوتا تھا؟

پیش خدمت، غلام اور لونڈیوں کی وضع اور انداز کیا تھا؟ خط و کتابت کا کیا طریقہ تھا؟ کس چیز سے ابتدا

کرتے تھے، خاتمے کی کیا عبارت ہوتی تھی؟ خطوط کس چیز پر لکھے جاتے تھے، ان کو کیوں کر بند کرتے تھے؟ کس چیز کی مہر لگاتے تھے؟ مال گزاری کے ادا کرنے کا کیا دستور تھا، زمینوں

کی کیا تقسیم تھی؟ مال گزاری کی مختلف شرحیں کیا تھیں؟ ٹیکس کیا کیا تھے؟ کون لوگ ٹیکس سے معاف ہوتے تھے اس(

کے بعد علامہ شبلی نے مثالیں دے کر بات کو مزید واضح کیا ۔ہے)‘‘ (٢٠( شاہنامہ کا خاص وصف واقعہ نگاری ہے جو تاثیر سے لبریز ہے۔ شبلی نے اس کے متعدد نمونے پیش کیے ہیں ۔)٢١( شاہنامہ میں نہ صرف رزمیہ مناظر کی دلکش تصویریں ملتی ہیں بلکہ ان کو پڑھ کر اس وقت کے سامان جنگ اور طریقہ جنگ سے پوری واقفیت حاصل ہوجاتی ہے۔ شبلی نے اس کی تفصیل کرتے ہوئے لکھا ہے: شاہنامہ’’ میں لڑائی کے سامان اور اسلحہ جنگ کی

اس قدر تفصیل پائی جاتی ہے کہ ہم بہ تفصیل بتا سکتے ہیں کہ

آج سے دو ہزار برس پہلے آلات جنگ کیا تھے، پہلوان اور بہادر کیا کیا ہتھیار لگاتے تھے، لباس جنگ کیا کیا تھے؟ مثلاً لڑائی کے وقت جو باجے استعمال ہوتے تھے ان کے یہ نام ہیں: بتیره، گاودم، خرمہره، کوسن، طبل، نقاره، سرغین۔ اسلحہ جنگ یہ تھے: زره، جوشن، خود، مغفر، چار

آئینہ، خفتان، ترک، بیرباں، برگستواں۔ آلات اور سامان جنگ یہ تھے‘ گویال، گرز، ، تی سپر، ورقہ، خنجر، وپین، ناوک، خشت، تیر، خدنگ، کمند، سنان، نیزه، پرتاب، تبرزین، دبوس، قاروره، شراع، عراده، رایت، علم، درفش، اختر سراپرده۔ اقسام فوج: قلب، میمنہ، میسره، طلایہ، دمدار، اس

زمانے میں طریقہ جنگ یہ تھا کہ ایک ایک پہلوان میدان میں آتا تھا اور معرکہ آرا ہوتا تھا۔ معرکہ آرائیوں کو فردوسی اس تفصیل سے بیان کرتا ہے کہ سماں باندھ دیتا ہے۔ لڑائی کے جتنے طریقے تھے یعنی کشتی لڑنا، تلوار

چلانا، تیر مارنا، کمند پھیکنا، برچھی چلانا وغیره۔ شاہنامہ میں

ہے لکھا جہاں کو چیز جس اور ہیں جاتے پائے تفصیل بہ سب اس( ہے جاتا پھر میں آنکھوں نقشہ کا اس کہ ہے لکھا طرح اس

(٢٢( ۔ہیں)‘‘ کیے نقل اشعار میں ثبوت نے شبلی بعد کے اور ہے لیا جائزه سے تفصیل بھی کا اثرات کے شاہنامہ نے شبلی

کے اس سب عام و خاص کہ ہوئی مقبول درجہ اس کتاب یہ کہ ہے لکھا کوچہ اور خلوت و جلوت تقریر، و تحریر تالیف، و تصنیف گئے۔ بن شیدائی کو اس گلو خوش کوئی جب اٹھے۔ گونج سے صدا کی اس سب بازار و سے جذبات کے وطن حب اور بازی جاں شجاعت، مجلس ساری تو پڑھتا کتابت و خط اپنی امراء و سلاطین تک برس سینکڑوں تھی۔ ہوجاتی مملو کے اس بھی میں کارزار میدان تھے۔ کرتے درج اشعار کے شاہنامہ میں ہوا یہ اثر کا شاہنام پر شاعری فارسی تھے۔ جاتے پڑھے رجز بطور اشعار

(٢٣( ہوسکا۔ نہ رواج کا گوئی غزل میں ایران تک برس سینکڑوں کہ نظامی شاعر بڑے دوسرے کے ایران موازنہ کا شاہنامہ نے شبلی کے عظمت شاعرانہ کی نظامی ہے۔ کیا سے سکندرنامہ‘‘’’ کے گنجوی فردوسی وه میں سخن صنف اس کہ ہے یہ فیصلہ کا ان باوجود کے اعتراف وه طرح کی فردوسی’’ کہ ہے یہ وجہ کی اس اور ۔)٢۴( ہے نہیں پایہ ہم کا نہیں طرح اچھی تصویر کی جنگ فنون اور پیچ داؤں کے لڑائی خاص

(٢۵( ۔ہیں‘‘ سکتے کھینچ اصناف جملہ ہوا، ذکر اوپر ابھی کا جس کو نظامی گنجوی: نظامی ایرانی اور کسی سوا کے اس کمال یہ اور تھی حاصل قدرت یکساں پر سخن ساتھ کے شان یکساں میں دونوں بزم و رزم وه ہوسکا۔ نہ حاصل کو شاعر

ہیں: لکھتے شبلی ہے۔ آتا نظر گر جلوه وه ہیں گزرے شعراء قدر جس میں ایران’’

مثلاً تھے۔ رکھتے کمال میں شاعری انواع خاص خاص

کو اس میں شاعری عشقیہ ہے، میدان مرد کا رزم فردوسی

ہیں پیغمبر کے شاعری عشقیہ اور اخلاقی سعدی نہیں، کمال

پر طرز کے سکندرنامہ چنانچہ ہیں۔ پھیکے میں رزم لیکن اگرچہ ہے لکھی میں بوستاں حکایت جو کی اصفہانی شاطر

نہیں بوڑھاپا لیکن ہے کردیا صرف زور پورا اپنا میں اس

میں دوسرے ہے کا شور زور نہایت مصرعہ ایک جاتا،

ہے، سکتا لکھ فلسفہ صرف خیام ہیں۔ ہوجاتے پست دفعتاً نظامی کے اس بخلاف ہیں۔ سکتے لکھ غزل صرف حافظ

کچھ جو اور ہے لکھا کچھ سب اخلاق فلسفہ، بزم، رزم، نے پڑتی بن نہیں سے ان مدح البتہ ہے۔ لکھا لاجواب ہے لکھا

کی اس تو ہو نہ بھاٹ شاعر نہیں، شاعری کوئی مدح لیکن

(٢۶( ۔ہے‘‘ نقص کیا میں شاعری مختلف نے شبلی بعد کے ذکر کے خصوصیت اس کی نظامی غزل ہے۔ کی پیش تفصیل کی کمالات شاعرانہ کے اس میں سخن اصناف اور حافظ صرف میں میدان اس اور ہے بلند بہت مقام کا نظامی میں گوئی مخصوص کے غزل کہ ہے معلوم ہیں۔ کرسکتے مقابلہ کا اس سعدی ان ہاں کے نظامی ہے۔ اسلوب منفرد ایک کا بیان کے ان اور ہیں مضامین

ہیں: لکھتے شبلی بھی۔ جدت اور ہے تنوع میں امور دونوں ہیں: یہ مضامین مہمات کے غزل’’

کے غمزے و ناز اور ادا تعریف، کی حسن کے معشوق تشبیہات، کی ان اور بیان کا اعضاء الگ الگ کرشمے،

و اصرار نیاز، و راز یعنی معاملات کے معشوق و عاشق

تمام ان وغیره۔ غرور و عجز جواب، و سوال انکار،

اور رنگینی تنوع، وسعت، اس نے نظامی کو مضامین

کا غزلوں سینکڑوں شعر ہر کا ان کہ ہے کیا ادا سے لطافت

(٢٧( ۔ہے‘‘ سرمایہ

ہے کام مشکل بہت نبھانا کا رزمیہ لیے کے شاعر گو غزل ایک حیرت بڑی کر دیکھ یہ لیکن ہے۔ آچکا میں ذکر کے سعدی اوپر کہ جیسا ہے، چھوڑا نقش کا یکتائی اپنی بھی میں فن اس نے نظامی کہ ہے ہوتی کا صنف اسی خاص وه کہ ہے ہوتا معلوم کر پڑھ اشعار کے سکندرنامہ‘‘’’ ہیں: لکھتے خود شبلی ہے۔ نہیں رتبہ کم سے فردوسی اور ہے شاعر اس تھے۔ ہوچکے اوپر سے برس سو کو شاہنامہ’’

الفاظ سینکڑوں تھا۔ ہوگیا انقلاب بڑا میں زبان میں عرصہ گراکر زائد حروف الفاظ اکثر تھے، ہوگئے متروک بالکل نئے نئے کے عربی تھے۔ چکے ڈھل میں قالب خوبصورت کے انقلاب کے زبان تھے۔ جاتے ہوتے داخل الفاظ مانوس تھی۔ گئی بدل بھی روش کی ادا طرز کی مضامین ساتھ تھی، آگئی نزاکت و لطافت میں تشبیہات اور استعارات

ان تھیں۔ جاتی ہوتی مائل طرف کی آفرینی مضمون طبیعتیں قصے تھی۔ لگی پڑنے دھیمی آواز کی شاہنامہ سے باتوں اس تھے۔ جاتے بھولتے اشعار لیکن تھے گئے ره پر زبانوں

بنا پر قوم کے شجاعانہ جذبات کو زنده رکھنے کے لیے ایک دوسرے شاہنامہ کی ضرورت تھی جو سکندرنامہ کے قالب

میں نمودار ۔ہوا‘‘ ((٢٨ آگے چل کر شبلی نے سکندرنامہ‘‘’’ کی رزمیہ خصوصیات کا ذکر

ان الفاظ میں کیا ہے: رزمیہ’’ نظم کا اصول ہے کہ پہلے حربی باجوں کے

بجنے، داروگیر، ہنگامہ، شور و غل اور عام ہلچل کا نقشہ

کھینچا جائے پھر فوجوں کی حملہ آوری، زور شور، جوش و

خروش کا ذکر کیا جائے، پھر آلات جنگ یعنی تیر و کمان، تی و سنان، نیزه و خنجر کی کارستانیاں دکھائی جائیں، پھر ایک ایک پہلوان کا معرکہ میں آنا، رجز پڑھنا، مبارز طلب ہونا، حریف سے لڑنا، داؤں پیچ کرنا، مرنا یا مارنا ان باتوں کا ذکر کیا جائے اور اس طرح کیا جائے کہ میدان جنگ کی تصویر

آنکھوں کے سامنے پھر جائے۔ سکندرنامہ میں یہ سب باتیں ہیں

اور کمال کے درجہ پر ۔ہیں‘‘ (٢٩( شیخ سعدی: فارسی شاعری میں سعدی کو جو منفرد مقام حاصل ہے اس سے ہر فارسی داں بخوبی واقف ہے۔ ان کی گلستاں اور بوستاں نے فارسی نظم و نثر میں جو غیر معمولی شہرت و مقبولیت حاصل کی وه بہت کم فارسی شعراء کو حاصل ہوسکی ہے۔ شبلی نے بڑی تفصیل کے ساتھ ان کی شاعری کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے اور اعتراف کیا ہے کہ وه غزل کے ساتھ مثنوی پر بھی پوری قدرت رکھتے تھے۔ شبلی نے امیر خسرو کی اس رائے سے اختلاف کیا ہے کہ وه صرف غزل کے شاعر تھے )،٣٠( البتہ رزمیہ کے متعلق صاف کہہ دیا کہ وه ان کے بس کی چیز

نہ تھی۔ لکھتے ہیں: انصاف’’ یہ ہے کہ شیخ سے یہ کمان زه نہیں

ہوسکی، دو چار قدم تن کر اور اکڑ کر چلتے ہیں لیکن طبعی بڑھاپے کی وجہ سے دفعتاً جھک جاتے ہیں۔ رزم کا آغاز کس زور شور سے کیا ہے: بر انگیختم گرد ہیجا چو دود، لیکن دوسرے ہی قدم میں لڑکھڑا جاتے ہیں: چو دولت نہ باشد تہور

چہ ۔سود‘‘ (٣١( امیر خسرو: غالب نے عود’’ ہندی‘‘ میں لکھا ہے کہ ہندوستان میں فارسی کا ایک ہی مسلّم الثبوت شاعر پیدا ہوا اور وه امیر خسرو ہیں۔ غالب کی یہ

اصناف جملہ کو نظامی میں شعراء ایرانی طرح جس ہے۔ صحیح بالکل رائے وصف یہ میں فارسی شعرائے ہندی طرح اسی تھی حاصل قدرت پر سخن اور ہے کی آزمائی طبع میں سخن صنف ہر نے انہوں ہے، کا خسرو صرف ہیں: لکھتے شبلی ہے۔ بٹھایا نقش کا عظمت اور انفرادیت اپنی جگہ ہر کا درجہ اس تک آج سے برس سو چھ میں ہندوستان’’

مختلف قدر اس تو پوچھو سچ اور ہوا پیدا نہیں کمالات جامع بھی نے خاک کی روم و ایران جامع کے اوصاف گوناگوں صرف گے۔ ہوں کیے پیدا ہی چار دو میں مدت کی برس ہزاروں ہے۔ ہوتی حیرت پر جامعیت کی ان تو لو کو شاعری ایک اقلیم شبہہ بے نظیری عرفی، حافظ، انوری، سعدی، فردوسی، اقلیم ایک حکومت حدود کی ان لیکن تھے کے و جم کے سخن بڑھتا، نہیں آگے سے مثنوی فردوسی بڑھتی۔ نہیں آگے سے چھو کو غزل اور مثنوی انوری لگاتے، نہیں ہاتھ کو قصیده سعدی باہر سے دائرے کے غزل نظیری اور عرفی حافظ، سکتا، نہیں

، مثنوی غزل، میں گیری جہاں کی خسرو لیکن سکتے، نکل نہیں خطہ چھوٹے چھوٹے اور ہے داخل کچھ سب رباعی، قصیده،

(٣٢( ۔نہیں‘‘ شمار تو کا بدائع و صنائع اور سخن ہائے بھی تنقید پر خسروی‘‘ اعجاز’’ اور السعدین‘‘ قران’’ نے شبلی لیکن

کی جگت ضلع جو ہے بہت رعایت لفظی میں ان’’ کہ ہے لکھا اور ہے کی

(٣٣( ۔ہے‘‘ آورد اور تکلف بالکل جگہ بعض اور ہے گئی پہنچ حدتک شبلی میں باره کے شاعر آخری اس کے العجم شعر کلیم: طالب ابو کے کلیم ۔)٣۴( ہے ورق آخری کا شاعری صحیفۂ وه’’ کہ ہے لکھا نے اور عرفی نے اس یعنی ہے، انداز کا قدسی جان محمد حاجی میں قصائد تعلیل حسن اور مبالغہ کردیں، صاف بندشیں مشکل اور دار پیچ کی نظیری کم بلندی آور زور اور متانت کی قصیدے ساتھ کے اس لیکن دی وسعت کو

(٣۵( ۔آگیا‘‘ غالب رنگ کا غزلیت اور ہوگئی نہیں ممکن تبصره دارانہ دیانت زیاده سے اس پر گوئی قصیده کی کلیم

بڑی وه کہ ہے یہ خصوصیت الامتیاز مابہ ایک کی نگاری تنقید کی شبلی ہے۔ کا ان پر کلام کے شعراء فارسی جن اوپر ہے۔ ہوتی افروز بصیرت اور جامع

ہے۔ ثبوت واضح ایک کا خوبی اس وه ہے گیا کیا پیش تبصره و نقد و ادبی کے نوع جس میں دنیا کی تنقید میں عہد کے شبلی شاعری: اصول عناصر کے شاعری شعر، ماہیت میں ان تھے مقبول و مروج مباح تنقیدی

محاسن رشتہ، میں معنی و لفظ استعاره، و تشبیہ محاکات، و تخیل ترکیبی، اور بلاغت و فصاحت بیان)، حسن و ادا سادگی اصلیت، و واقعیت( شعر ان تھے۔ رکھتے حیثیت بنیادی امور جیسے غایت و غرض کی شاعری کے ادب مغربی اور مشرقی نے شبلی علامہ متعلق کے مباح تنقیدی اہمیت تنقیدی و ادبی بھی آج وه ہے، کیا اظہار کا خیالات جن سے حوالے

ہیں: ذیل درج تفصیل ہیں۔ حامل کے کہ ہے آرہی چلی بح یہ سے دراز عرصہ میں دنیا ادبی شعر: ماہیتِ میں سلسلے اس ہے۔ ہوتا اطلاق کا شعر پر چیز کس یعنی ہے کیا شعر مغربی اور مشرقی میں ان ہے، کیا اظہار کا خیالات جن نے شبلی مولانا جان اور ارسطو خیالات مغربی ہے۔ گیا کیا استفاده و اخذ سے دونوں ادب ہے۔ کیا بھی اعتراف نے انہوں کا اس اور ہیں ماخوذ سے تحریروں کی مل

ہیں: لکھتے متعلق کے بوطیقا‘‘’’ کتاب کی ارسطو پر شاعری سے سب پر ماہیت کی اس اور حقیقت کی شاعری’’ ایکپرموضوعاسنےاسچنانچہہے۔کی بحنےارسطوپہلے

کا کتاب اس ہے۔ پویٹری)( بوطیقا نام کا جس لکھی، کتاب مستقل

اس کی۔ تلخیصکی اس نے رشد ابن اور ہوامیں زبان عربیترجمہ کتاباپنینےلویسشیخوپروفیسرحصےجستہجستہکےتلخیص ہیں۔ کیے شامل ہے، گئی چھ میں بیروت جو میں الادب‘‘ علم’’ کی تصنیفات ادبی کی ارسطو نے مسلمانوں چونکہ کہ ہے افسوس

جو کے ارسطو متعلق کے شاعری لیے اس کیا، نہیں التفات طرف

(٣۶( ۔سکے‘‘ نہ پھیل بالکل میں مسلمانوں وه تھے خیالات ہیں: لکھتےشبلیمولانا سےحوالےکےملجانمتعلقکے شعرماہیت سےجنہیں،ایسےبعضسےمیںمدرکاتکےانسان’’

مسئلہ کوئی کا اقلیدس ہم اگر مثلاً نہیں، تعلق کچھ کو انسانی جذبات لیکن ہوگا پیدا نہیں رنج یا جوش یا غصہ کو ہم سے اس تو کریں حل انگیز درد حال کا مصیبت کی شخص کسی سامنے ہمارے اگر ایک پر ہم ساتھ کے ادراک کے واقعہ تو جائے کیا بیان میں لفظوں ہے احساسات یا جذبات نام کا اثروں کے قسم اس ہوگا۔ طاری اثر وہی ہے کرسکتی برانگیختہ کو احساسات یا جذبات ان چیز جو اور

(٣٧( ۔ہے‘‘ شاعری بھی کو وعظ اور خطابت)( تقریر تصویر، سے رو کی تعریف اس ابھارتی کو جذبات انسانی بھی چیزیں یہ کیونکہ ہوگا کرنا داخل میں شعر

بھی کو چیزوں ان نے علم اصحاب بعض چنانچہ ہیں۔ لاتی میں ہیجان اور کا شاعری پر چیزوں ان مل جان لیکن ہے۔ کیا داخل میں زمره کے شاعری بالکل سے دائره کے شاعری چیزیں یہ نزدیک کے اس کرتا۔ نہیں اطلاق ہیں: کہتے ہوئے کرتے ترجمانی کی خیالات کے اس شبلی علامہ ہیں۔ باہر تو کبھی غرض کی اس ہے کرتا کلام جو انسان’’

کا سب ان کہ وغیره لیکچر اسپیچ مثلاً ہے، ہوتا ڈالنا اثر پر دوسروں مطلق سے دوسروں کبھی ہے۔ ہوتا کرنا متاثر کو دوسروں مقصد ہے کرتا خطاب سے آ اپنے محض انسان بلکہ ہوتی نہیں غرض

بیٹا کا شخص کسی اگر مثلاً ہے۔ ہوتا مخاطب ہی آ اپنا اور اسگےنکلیںالفاظجوسےزبانکیاسمیںحالتاستومرجائے

اپنا وه بلکہہوگا نہکرنا مخاطب کو گروه یاشخصکسی غرض کی

تب ہو نہ موجود شخص کوئی وہاں کرو فرض ہوگا۔ مخاطب آ کے قسم اسی شاعری گے۔ نکلیں سے زبان کی اس الفاظ وہی بھی

(٣٨( ۔ہے‘‘ نام کا کلام مثلاً لطیفہ فنون پر بنا کی کرنے وابستہ سے ت جذبا کو شعر

کچھ معنی و روح اعتبار بہ میں شاعری اور رقص تراشی، سنگ مصوری، ذریعہ کے رقص اور تراشی سنگ مصوری، کیونکہ گا، رہے نہیں فرق ختم تشابہ یہ سے کرنے عاید قید کی الفاظ ہے۔ ہوتا اظہار کا جذبات بھی سے دائره کے شاعری کو ڈراما اور خطبہ افسانہ، بھی تب لیکن ہے ہوجاتا اظہار کا جذبات میں اصناف نثری ان کہ لیے اس ہوگا۔ ثابت مشکل کرنا باہر کیا حل طرح جس نے مل جان کو مشکل اس ہے۔ ہوتا ذریعہ کے ہی الفاظ

ہے: کی میں ذیل الفاظ نے شبلی مولانا وضاحت کی اس ہے خاصیت یہ لیکن ہے دکھاتی مناظر دلکش کو احساسات شاعری’’

لیے اس ہے،جاتیپائیبھی میں قدرتمناظربلکہتصویرموسیقی، سے دائره اس بھی چیزیں یہ کہ ہے جاتی لگائی قید کی الفاظ یا کلام داخل میں حد کی شاعری ڈراما اور افسانہ خطبہ، تاہم جائیں، نکل ہے مشکل کرنا قائم فاصل حد میں شعر اور میں ان گی۔ رہیں

اس تک جہاں ہے افسانہ حدتک اسی افسانہ کہ ہے یہ حقیقت لیکن سے جہاں ہے۔ ہوتی تصویر کی زندگی اور واقعات خارجی میں

حد کی شاعری وہاں ہیں ہوتےشروع احساسات اور جذبات اندرونی

اور جذبات طرح کی شاعری بھی میں خطابت ہے آجاتی

اور شاعری میں حقیقت لیکن ہے جاتا کیا برانگیختہ کو احساسات کے حاضرین مقصود کا خطابت ہیں۔ چیزیں جدا جدا بالکل خطابت

کے اس تاکہ ہے کرنا جستجو کی طبع میلان اور معتقدات مذاق، جذبات کے ان سے جس کرے اختیار پیرایہ ایسا کا تقریر سے لحاظ سے دوسروں کو شاعر کے اس بخلاف کرسکے۔ برانگیختہ کو بھیہےسامنے کے اسکوئیکہجانتانہیںیہوهہوتی،نہیںغرض ان اختیار بے وه ہیں، ہوتے پیدا جذبات میں دل کے اس نہیں؟ یا آهساختہبےمیںحالتکیرددطرح جسہےکرتاظاہرکوجذبات شاعری اصلی لیکن ہے، ساتھ کے ڈراما معاملہ یہی ہے۔ جاتی نکل

(٣٩( ۔ہو‘‘ نہ غرض کچھ سے سامعین کو جس ہے وہی شبلی مولانا سے رائے مذکوره کی مل جان متعلق کے شعر ماہیت

بینی باریک نہایت اگرچہ تعریف یہ’’ کہ ہے لکھا نے انہوں ہے۔ اختلاف کو اگر اور ہے ہوجاتا تنگ نہایت دائره کا شاعری سے اس لیکن ہے مبنی پر بے بالکل پایاں بے دفتر کا اردو اور فارسی تو جائے دیا قرار معیار کو اسی کہ جیسا ہے تنگ قدر اس نہ دائره کا شعر کہ ہے یہ حقیقت گا۔ ہوجائے کار علمائے ہمارے جتنا ہے وسیع قدر اس نہ اور ہیں چاہتے کرنا صاحب مل

(۴٠( ۔ہے‘‘ کیا نے ادب نے شبلی علامہ کو رائے کی ارسطو میں بارے کے شعر ماہیت شعر’’ کہ ہے لکھا میں تائید کی اس اور ہے دیکھا سے نگاه کی پسندیدگی صرف مصور کہ ہے یہ صرف فرق ہے۔ نقّالی یا مصوری کی قسم ایک کے قسم ہر شاعر کے اس بخلاف ہے سکتا کھینچ تصویر کی اشیاء مادی کا شخص ایک ہے۔ سکتا کھینچ تصویر کی احساسات اور جذبات خیالات، ہیں گزرتے صدمے پر اس جو میں حالت اس ہے ہورہا جدا دوست عزیز کی اس شاعر ہے اٹھتا میں دل کے اس طوفان جو کا خیالات دلدوز اور اور ہوتیں چیزیں مادی غم و رنج اگر کہ ہے سکتا کھینچ طرح اس تصویر ذریعہ کے الفاظ نے شاعر جو ہوتی وہی تو جاتی کھینچی تصویر کی ان شئ اس کہ جائے کیا طرح اس بیان کا چیز کسی جب پر بنا اس ہے۔ کھینچی تعریف کی شعر پر اس تو جائے پھر سامنے کے آنکھوں تصویر اصلی کی کی سبزے شادابی، کی باغ سناٹا، کا جنگل روانی، کی دریا گی۔ آئے صادق کی گرمی شدت، کی دھو جھونکے، کے نسیم لپٹ، کی خوشبو لہک، غم، رنج، یا آویزی دل کی شام شگفتگی، کی صبح ٹھنڈ، کی جاڑوں تپش، طرحاس کااشیاءانخوشی۔ حسرت،افسوس،محبت، جوش،غضب،غیظ، طاری پر دل اثر وہی یا جائے پھر میں آنکھوں تصویر کی ان کہ کرنا بیان

(۴١( ۔ہے‘‘ شاعری یہی ہوجائے

مظاہر کے قدرت قدر جس میں دنیا’’ کہ ہے لکھا مزید نے شبلی مادی، غیر خواه وغیره، دریا باغ، بیاباں، پہاڑ، مثلاً ہوں، مادی خواه ہیں ہر اور ہے پڑتا اثر پر دل سے سب ان نفریں۔ تحسین، ہجر، وصل، مثلاً اشخاص بعض ہیں، متفاوت مراتب کے اثر لیکن ہے پڑتا پر دل کے شخص مظاہر ان شخص جو ہے۔ ہوتا زیاده بہت پر بعض اور زیاده پر بعض کم پر الفاظ کو اثر اس ہ بعین اور ہو متاثر زیاده نسبت کی لوگوں عام سے قدرت

(۴٢( ۔ہے‘‘ شاعر وہی ہو کرسکتا ادا بھی سے علامہ رشید شاگرد اپنے نے شبلی مولانا میں بح اہم اس

ہے۔ لی مدد بھی سے البلاغہ‘‘ جمہر’’ کتاب عربی کی فراہی حمیدالدین انہوں تھے۔ رکھتے نظر گہری پر ادبیات فارسی اور عربی فراہی علامہ مولانا ہے۔ کی بح انگیز فکر بڑی پر شعر حقیقت میں البلاغہ جمہر نے متعلق کے شعر ماہیت اور ہے کی تلخیص کی کتاب اس میں اردو نے شبلی

ہے: کیا پیش طرح اس کو نظر نقطۂ کے فراہی شعور ہیں۔ کے شعور صاحب معنی لفظی کے شاعر’’ ہےشخصوهشاعریعنیہیںکہتےکوفیلنگ)(احساسمیںاصل ہوتیطاری حالتیں خاص خاص پر انسان ہو۔ قوی احساس کا جس غالب پر انسان جب حالتیں یہ لینا، انگڑائی ہنسنا، رونا مثلاً ہیں، رونےہیں۔ہوتیصادرحرکاتخاصخاصسےاستوہیںہوتی خاص ایک وقت کے ہنسی ہیں، ہوجاتے جاری آنسو وقت کے طرح اسی ہیں۔ جاتے تن اعضاء میں انگڑائی ہے۔ ہوتی پیدا آواز یارنجپر طبیعت کیشاعرہے، نامکاحالتخاصایک بھیشعر خاصایکوقتکےہونےطاریکےاستعجابیاغصہیاخوشی

ہے۔ ہوتا ظاہر سے ذریعہ کے الفاظ موزوں اثر یہ اور ہے پڑتا اثر

ہے۔ شاعری نام کا اس مختلف تو ہے ہوتا طاری جذبہ کوئی جب پر حیوانات گونج،کیشیرمثلاًہے،ہوتاظاہرسےذریعہکےآوازوںکیقسم طرح اسی ترانہ۔ کا بلبل کوک، کی کوئل جھنکار، کی طاؤس سے ذریعہ کے الفاظ تو ہے ہوتا طاری جذبہ کوئی جب پر انسان حرکات کبھی جذبات کے حیوانات طرح جس اور ہے ہوتا ظاہر ہے، لگتا ناچنے طاؤس مثلاً ہیں، ہوتے ظاہر میں صورت کی

کے نطق چونکہ کو انسان طرحاسی ہے، لہراتا اورجھومتا سان سے منہ الفاظ موزوں لیے اس ہے، ہوا عطا ملکہ کا نغمہ ساتھ جذبہ یہ جب اور ہے۔ لگتا گنگنانے انسان ہی ساتھ اور ہیں نکلتے

ہوجائیں جمع باتیں سب یہ ہے۔ لگتا ناچنے انسان تو ہے ہوجاتا تیز الفاظ، شعر کہ ہوگا ظاہر سے بیان اس ہے۔ شعر اصل یہی تو

ہے۔ نام کا مجموعہ کے رقص اور نغمہ وزن، کے شدت کمال کی جذبات چیزیں تمام یہ چونکہ لیکن

جانا پایا کا چیزوں تمام ان میں شعر ہر لیے اس ہیں، ہوتی پیدا وقت وزن ہوسکتا۔ نہیں خالی سے راگ شعر کوئی تاہم نہیں، ضروری (۴٣( ۔ہے‘‘ قسم ایک کی راگ ہے جزضروری ایک کا شعر جو تعلق کا شاعری کہ تھا خیال بھی کا حالی عصر ہم کے شبلی مولانا

ہے۔ شاعری میں الفاظ موزوں محاکات کی اسی اور ہے سے جذبات تر تمام دو کہ جیسا شاعری’’ کہ: ہے لکھا سے حوالے کے میکالے لارڈ نے انہوں سے اعتبارات اکثر جو ہے نقالی کی قسم ایک تھا گیا کہا پہلے برس ہزار اور تراش بت مصور، مگر ہے مشابہ سے ناٹک اور تراشی بت مصوری، ہے۔ ہوتی تر کامل قدر کسی نسبت کی شاعر نقل کی والے کرنے ناٹک الفاظ اور سے پرزوں کے الفاظ ہے، بنی سے چیز کس کل کی شاعری کریں استعمال کا ان بھی صناع جیسے ڈینٹی اور ہومر اگر کہ ہیں چیز ایسی اور صحیح ایسا کا خارجی اشیائے میں متخیلہ قوت کے سامعین بھی تو کر دیکھ کو کام کے چھینی اور موقلم جیسا سکتے اتار نہیں نقشہ ٹھیک بت کہ قدر اس ہے وسیع میدان کا شاعری لیکن ہے، اترتا میں خیال ہمارے سکتے۔ پہنچ نہیں کو وسعت کی اس فن تینوں یہ ناٹک اور صوری تراشی، ساتھ کے صورت مصور ہے۔ سکتا اتار نقل کی صورت فقط تراش بت اس نے شاعر بشرطیکہ والا کرنے ناٹک اور ہے دیتا جھلکا بھی کو رنگ پیدا بھی حرکت ساتھ کے رنگ اور صورت ہوں کردیے مہیا الفاظ لیے کے فنون تینوں میں نقل کی خارجی اشیائے باوجودیکہ شاعری مگر ہے کردیتا کا انسان کہ ہے فوقیت میں بات اس سے تینوں کو اس ہے۔ کرسکتی کام کا نہ ہے رسائی کی مصوری وہاں نہ ہے۔ رو قلم کی ہی شاعری صرف بطون کے انسان وغیره ناٹک اور مصوری کی۔ ناٹک نہ اور کی تراشی بت رنگ یا چہره کہ قدر جس ہیں، کرسکتے ظاہر قدر اس جذبات یا خصائل نظر اور ادھورے ہمیشہ بھی یہ اور ہیں ہوسکتے ظاہر سے حرکت اور میں بطون کے انسان الواقع فی جو ہیں ہوتے کے کیفیات ان نمونے فریب صرف کیفیات بوقلمونی اور گہری باریک، کی انسانی نفس مگر ہیں موجود اشیائے تمام کی کائنات شاعری ہیں۔ ہوسکتی ظاہر ذریعہ کے ہی الفاظ کے دولت محسوسات، عالم ہے۔ سکتی اتار نقشہ کا ذہنی اور خارجی الحقیقت فی جو چیزیں تمام انسانی نوع معاشرت انسانی، سیرت انقلابات،

ایک کو اجزا کے اشیاء مختلف تصور کا جن چیزیں تمام وه اور ہیں موجود محصور میں سلطنت کی شاعری سب ہے، جاسکتا کیا ملاکر سے دوسرے قدر جس ہے وسیع قدر اسی رو قلم کی جس ہے سلطنت ایک شاعری ہیں۔

(۴۴( ۔رو‘‘ قلم کی خیال شعر ماہیت نے دونوں حالی مولانا اور شبلی علامہ کہ ہوا معلوم

کہا نہیں تعریف کلی اسے لیکن ہے کی سے بینی باریک وضاحت کی کہ جیسا نہیں محاکات)( نقالی محض شاعری کہ ہے یہ واقعہ ہے۔ جاسکتا احساسات و جذبات تخلیق یہ کبھی ہے۔ تخلیق ایک وه ہے، خیال کا ارسطو اس ہے۔ ہوتی نمودار سے اوٹ کی خیال و فکر کبھی اور سے بطون کے کے اس ہے، نہیں نام کا جذبات اظہار محض شاعری کہ ہوگا ماننا لیے ہوگا۔ رکھنا ملحوظ بھی کو اس ہے فرق جو میں جذباتیت اور جذبہ علاوه یہ ہوگا۔ بھی تخلیق مادهٔ کوئی کا اس لازماً تو ہے تخلیق شعر جب

کے اس جو ہیں مشاہدات و تجربات متنوع اور عمیق کے شاعر تخلیق مادهٔ زیر کے عوامل مختلف تجربات یہی ہیں۔ ہوجاتے محفوظ میں خیال خزانۂ پر اظہار کے ان اور ہیں دیتے تحریک کو احساسات و جذبات کے اس اثر و تجربہ کسی جب شاعر کہ ہے نہیں ضروری یہ ہیں۔ کرتے مجبور کو اس انحصار کا اس ہوجائے۔ بھی اظہار کا اس فوراً تو ہو دوچار سے مشاہده ذاتی اور شدید و سخت تجربہ اگر ہے۔ پر نوعیت و شدت کی مشاہده و تجربہ کسی وه دیگر بصورت ہوتی، نہیں تاخیر زیاده میں اظہار تو ہے کا نوعیت

ہے۔ ہوتا ظاہر پر محل و موقع مناسب اسی شعر وه لیکن ہے بھی سے خیال و فکر مجرد تعلق کا شاعری الفاظ موزوں ہوکر آمیز ہم سے گرمی کی احساس و جذبہ جب ہے بنتا وقت اور واقعیت و شدت قدر جس میں جذبے اور خیال ہو۔ ظاہر میں اسلوب و احساس و جذبہ اور فکر ہوگا۔ بلند تاثیر باعتبار شعر قدر اسی ہوگی، بلندی ہے۔ ضروری لیے کے تخلیق شعری کی درجہ اعلیٰ امتزاج گوار خوش کا اتم بدرجۂ وصف دونوں یہ ہاں کے ان ہیں ہوئے شاعر بڑے جتنے میں دنیا فنکارانہ کا جذبات صرف لیے کے شاعری کی درجہ اوسط لیکن گے ملیں

ہے۔ کافی اظہار اثر پر دلوں ہے، تخلیق واقعی وه اگر تخلیق، ہر کہ ہے حقیقت ایک یہ

پتھر ہے، مصوری تو ہو میں شکل کی تصویر یہ اگر ہے۔ چھوڑتی ضرور رقص تو ہو میں صورت کی بدنی حرکات ہے،تراشی بت توہو میں شکلکی ہے۔شاعریتوہومیں اسلوب والفاظموزوںاور ہیئت خاصایکاگراورہے

اس میں خطابت شامل نہیں ہے کہ یہ ایک وقتی اور ہنگامی چیز

ہے اور خیالات و جذبات میں اس سے جو حرکت پیدا ہوتی ہے وه نقش برآب کی طرح جلد نابود ہوجاتی ہے۔ نثر بھی اس میں شامل نہیں ہے کہ دونوں کی ہیئت ترکیبی میں فرق ہے۔ اگر نثر میں جذبات کا عنصر غالب ہو یا اس میں مبالغہ آرائی ہو تو اس کو شاعرانہ نثر کہا جاسکتا ہے۔ حالی نے مقدمہ’’ شعر و شاعری‘‘ میں مرثیہ کے ذکر میں واقعۂ کربلا کو نثرکے پیرایہ میں بیان کیا ہے اور نہایت عمدگی سے بیان کیا ہے۔ اثر اور غم آفرینی کے اعتبار سے یہ کسی مرثیہ گو شاعر کے کلام سے کم نہیں لیکن اس خصوصیت کے باوجود وه بہرحال نثر ہے۔ اس کو زیاده سے زیاده شاعرانہ نثر کہا جاسکتا ہے۔ اسی چیز کو آج کل نثری نظم کا نام دے دیا گیا

ہے جو اردو کی شریعت میں کارِبدعت ہے۔ فنون لطیفہ میں شاعری کو بقیہ فنون پر برتری حاصل ہے۔ مصوری، بت تراشی اور رقص کے ذریعہ کسی واقعہ یا جذبہ کی تصویر کھینچی جاسکتی ہے اور کھینچی جاتی ہے لیکن ان کے ذریعہ تصویر کشی کا عمل مکمل نہیں ہوتا۔ اس کے علاوه جزئیات اور بعض کیفیات کا احاطہ بھی ان کے ذریعہ ممکن نہیں ہے۔ جذباتِ انسانی کی وسعت اور شدت کے لحاظ سے ان فنون کی تنگ دامانی بالکل ظاہر ہے۔ فنی اور جمالیاتی طور پر انسانی جذبات و خیالات کی کامل ترجمانی صرف شاعری کے ذریعہ ممکن ہے۔ شاعر ی کا تعلق براه راست نفس ناطقہ سے ہے اور اس تک رسائی فنون لطیفہ کے توسط سے ناممکن ہے۔ شاعری کا طرز اظہار اس قدر جامع ہے کہ بڑے سے بڑے واقعہ کی شدت و ہولناکی کو صرف دو مصرعوں میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ شیخ سعدی نے دمشق کے واقعۂ قحط کی شدت کو جس طرح درج ذیل شعر میں بیان کردیا ہے دوسرے فنون کی

دسترس سے باہر ہے: چناں قحط سالے شد اندر دمشق کہ یاراں فراموش کردند عشق دمشق’’ کے اندر اس قدر سخت و شدید قحط پڑا کہ عاشق مزاج لوگ عشق

تک بھول ۔گئے‘‘ ( باقی)

حواشی و حوالے

،١ ج ء،١٩٢٠ ھ؍١٣٣٩ سوم)، طبع( گڑھ اعظم پریس معارف ، العجم شعر )١) ایضاً۔ )٣( ۔دیباچہ)( ١ ص ،۵ ج ء،٢٠٠٩ جدید طبع ایضاً، )٢( ۔دیباچہ)( ٢ ص

١١٨ ص اول، حصہ ء،١٩۶۶ گڑھ، اعظم پریس معارف شبلی، مکاتیب )۴) عبدالرزاق ایام، یاد )۵( ۔شروانی) خاں الرحمٰن حبیب مولوی بنام مکتوب( نقوش، اولین کے شناسی شبلی بحوالہ ء،١٩۴۶ حیدرآباد، اکیڈمی حالی کانپوری، طبع ( ء٢٠١۶ گڑھ، اعظم اکیڈمی شبلی دارالمصنّفین صدیقی، احمد ظفر مرتبہ شبلی بحوالہ کاکوروی، الحسن ضیاء مولوی ایام، یاد )۶( ۔١٠۶ ،١٠۵ ص اول)، (٨ ( ۔دیباچہ)(۶ ص ،۵ ج ، العجم شعر )٧( ۔٢٨۵ ص نقوش، اولین کے شناسی شعر )٩( ۔١۶۴ ص اول، حصہ ندوی، سلیمان سید مولانا مرتبہ شبلی، مکاتیب مکتوب )١٠( ۔دیباچہ)( ٢ ص ،۵ ج ء،١٩٢۴ لاہور، دروازه لاہوری العجم، سعادت ابو از براؤن، و شبلی موازنہ : ضمون بحوالہ ء،١٩٠۶ مئی ؍٢ مورخہ ص ء،٢٠١۴ دسمبر تا جولائی شماره نمبر)، شبلی( لاہور صحیفہ ماہی سہ جلیلی، بالا محولہ بحوالہ ء،١٩٠۶ دسمبر ؍١٣ مورخہ مکتوب )١١( ۔حاشیہ)( ۵٢٢ ،٨۴ ،٨٣ ص شیرانی، محمود حافظ پروفیسر العجم، شعر تنقید )١٢( مضمون۔ (١٣ ( ۔٢٣١ ص ء)،٢٠١۴ دسمبر تا جولائی شماره( لاہور صحیفہ ماہی سہ بحوالہ ادیب رسالہ )١۶( ۔۴ ص ،١ ج ایضاً،)١۵( ایضاً۔ )١۴( ۔دیباچہ)( ۵ ج العجم، شعر شبلی مولانا مکتوب) شکل بہ( مضمون ء،١٩۶٠ ستمبر نمبر)، شبلی( گڑھ علی شعر تنقید )١٧( ۔١۵ -١٢ ص اعظمی، عبداللطیف از میں، نظر کی اردو بابائے شماره ( لاہور صحیفہ ماہی سہ بحوالہ شیرانی، محمود حافظ پروفیسر العجم، پروفیسر پرشیا، آف ہسٹری لٹریری )١٨( ۔٢١٨ ص ء)،٢٠١۴ دسمبر تا جولائی ،٢۶٩ ،٢۶۵ ،٢۶١ ،١٠٨ ص ،٣ ج ء،١٩۵١ پریس، یونیورسٹی کیمبرج براؤن، ( ٢٠( ۔١٣٢ ص نمبر)، شبلی( گڑھ علی ادیب رسالہ )١٩( ۔٢٩٣ ،٢٩٢ ،٢٧١ صایضاً،)٢٢( ۔١۶٠- ١۵۴صایضاً،)٢١(۔١۴١،١۴٠ ص ،١ج،العجم شعر ایضاً۔ )٢۵( ۔٣۴٢ ص ایضاً، )٢۴( ۔١۶٩ ، ١۶٨ ص ایضاً، )٢٣( ۔١۶۵ ،١۶۴ ایضاً )٢٩( ۔٣٣۶ ص ایضاً، )٢٨( ۔٣٢٩ ص ایضاً، )٢٧( ۔٣٠٢ ص ایضاً، )٢۶) علی مسعود مولوی باہتمام( گڑھ، اعظم پریس معارف ایضاً، )٣٠( ۔٣٣٨ ص ( ٣٣( ۔١٣٣ ،١٣٢ ص ایضاً، )٣٢( ۔۶٠ ص ایضاً، )٣١( ۔۶١ ص ،٢ ج ندوی) ،٣ ج ء،١٩٢٠ ھ؍١٣٣٩ گڑھ، اعظم پریس معارف ایضاً، )٣۴( ۔١۴٩ ص ،ایضا ،٨ ص ،١ ج ، ھ)١٣٣٩ سوم، طبع( ایضاً )٣۶( ۔٢١٣ص ایضاً، )٣۵( ۔٢٠۵ ص سوم) طبع( ایضاً، )٣٩( ۔١١ ص ایضاً، )٣٨( ۔١١ ،١٠ ص ایضاً، )٣٧( ۔٩ کہیں کہیں لیے کے کرنے مختصر کو عبارت( ٧-۴ ص،۴جء،١٩٢٢ھ؍١٣۴١ (۴١ ( ۔١١ ص ،۴ ج العجم، شعر )۴٠( ۔ہے) گئی کی جسارت کی تغیر لفظی تلخیص یہ نے شبلی علامہ )۴٣( ۔١٣ ،١٢ ص ایضاً، )۴٢( ۔١٢ ص ایضاً، میں دوم جلد ادبی)( شبلی مقالات اور تھی کی شائع وار قسط میں لکھنؤ الندوه‘‘’’ و شعر مقدمہ )۴۴( ۔١۴ ،١٣ ص ،١ ج ، العجم شعر دیکھیں مزید ہے۔ موجود

۔٣١ ،٣٠ ص لکھنؤ، المطابع انوار حالی، حسین الطاف خواجہ شاعری،

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.