اسلام میں آزادیٔ فکر و عمل

قاسمی رفیق محمد ڈاکٹر

Maarif - - ء ٢٠١٨ فروری معارف -

میں جن آئے سامنے افکار کئی بعد کے فرانس انقلاب میں یورو یورو ڈالا، اثر گہرا بہت پر دنیا نے آزادی نظریہ ہے، آزادی‘‘’’ ایک سے اس تھی حکمرانی کی جبر و ظلم پر نام کے خدا جو حکمرانی کی کلیسا میں سے حکمرانی کی کلیسا نے مفکرین ، ہوئی شروع مزاحمت خلاف کے یورو میں نتیجہ کے جس ، کیا پیش نظریہ کا حکمرانی عوامی اور آزادی ہوا بڑھتا گےآ نظریہ یہ کا آزادی ہی ساتھ کے اس ہوا، پیدا انقلاب سیاسی میں کو تہذیب اسلامی اور قوانین شرعی اور لگا ہونے اثرانداز بھی پر اسلام عالم اصطلاح کی آزادی اور لگا جانے کہا روایات پسندانہ رجعت اور دقیانوسیت

لگا۔ جانے دیا فروغ میں اسلام عالم کو افکار مبنی پر اورآزادی انسانی ضوابط و اصول کے اس ، ہے دین فطری ایک اسلام کوئی ایسی پر انسان نے اسلام کہ ہے وجہ یہی ہیں، آہنگ ہم سے فطرت چنانچہ ہو، مخالف بالکل کے فطرت کی انسان جو کی نہیں عائد پابندی کی رہبانیت اور دنیا ترک لیے کے کرنے حاصل ترقیات روحانی میں اسلام گذارنے زندگی ضوابط و اصول ایسے کچھ اور ہے گئی کی شکنی حوصلہ معاشی اور سماجی ، اخلاقی ، روحانی کو انسان جو گئے دیے لیے کے

۔ جائے لے طرف کی ترقی میں زندگی ہائے شعبہ تمام دیگر اور زندگی ، جاتا پایا نہیں حیات ضابطۂ کوئی ایسا میں دنیا تحدیدات: پر آزادی مطلق کو خواہش فطری کی آزادی والی جانے پائی اندر کے انسان میں جس عاید تحدیدات کی طرح کسی پر آزادی کی انسان اور ہو گیا دیا چھوڑ العنان آزادی الاطلاق علی کہ ہے سکتا جا کہا تامل بلا لیے اس ہوں، گئی کی نہ جاتا پایا نہیں کہیں میں دنیا ہو آزاد سے تحدیدات کی طرح ہر جو نظریہ کا

علاوه کے اسلام چنانچہ نہیں، بھی ممکن لیے کے زندگی انسانی یہ اور حیدرآباد۔ ، یونیورسٹی اردو مولاناآزادنیشنل عربی، شعبہ ، فیکلٹی گیسٹ

کی عائد تحدیدات پر آزادی کی انسان بھی میں حیات ہائے نظام تمام دیگر ہوتی آزادی کی عقیده مذہبی کو فرد بھی کسی میں معاشره سیکولر ہیں، گئی کی اس اور کرلے اختیار کو نظریات سیکولر غیر کوئی اگر لیکن ہے، معاشره اسلامی طرح اسی نہیں، آزادی بالکل کی اس اسے تو کرے اشاعت مسلمان ایک لیکن ہے ہوتی حاصل آزادی کی عقیده کو مسلم غیر ایک میں ہوتی، نہیں حاصل آزادی کی ہوجانے مرتد یعنی جانے پلٹ سے اسلام کو میں اسلام جبکہ ہے، ہوتا مبنی پر سود نظام معاشی میں معاشره سیکولر میں معاشره بھی کسی ہے، ہوتی پابندی سخت پر کرنے کاروبار سودی سزا قابل چرانا مال کا کسی ہوتی، نہیں آزادی کی چرانے مال کا دوسرے ہے، ضرورت فطری کی انسان خواہش جنسی، ہے جاتا سمجھا جرم بغیر سے رضامندی باہمی عورت مردو بال ایک میں معاشره سیکولر آزادی پوری کی اس تو کرے قائم تعلقات جنسی کے نکاح)( رشتہ قانونی کرے تکمیل کی خواہش جنسی سے کسی بالجبر کوئی اگر البتہ ہے حاصل قائم تعلقات جنسی بغیر کے رشتہ قانونی شرعی میں اسلامہے، جرم یہ تو معاشره سیکولر ہو، بالجبر یا ہو سے رضامندی باہمی چاہے ہے حرام کرنا نہیں اجازت کی شادی کو لڑکیوں لڑکے عمر کم سے سال اٹھاره عموما میں کی لینے جان کی کسی ناحق ہے، اجازت کی اس میں اسلام جبکہ ہوتی سمجھا جرم قانونی یہ بلکہ جاتی، پائی نہیں میں معاشره بھی کسی آزادی ہر ہوتی، نہیں آزادی کی بغاوت سے ملک میں ملک بھی کسیہے، جاتا لیے کے انسان ہے، جاتا سمجھا جرم سنگین بغاوت سے ملک میں معاشره بھی کسی، ہیں ہوتے قوانین دفتری میں ملک ہر واسطے کے رسانی راحت کہیں میں دنیا غرض ہوتی، نہیں آزادی کی توڑنے کو قوانین ان کو شہری میں معاشره ہر کے دنیا ہے، جاتا پایا نہیں نظریہ کا آزادی الاطلاق علی بھی تو ہوں نہ عائد تحدیدات یہ اگر ہیں، ہوتی عائد تحدیدات پر آزادیوں کی انسان

۔ جائے ره ہوکر برہم درہم نظام کا زندگی انسانی اور زندگی نظام جمہوری اور سیکولر تحفظ: کا اس اور آزادی حق ملنے کو انسان ساتھ کے قیود و شرائط اور تحدیدات میں حیات نظام اسلامی کی انسان میں معاشره سیکولر ہے، فرق بڑا درمیان کے آزادیوں والی یہ اورہے، کرتا عائد قیود و شرائط اور پابندیاں ہی انسان پرخود آزادیوں جبکہہیں، جاتے کیے متعین پر بنیاد کی تجربات اور عقل انسانی سب کی کائنات رب لزوم کا قیود و شرائط پر آزادی کی انسان میں نظام اسلامی سے طرف کی معبود پابندیاں یہ گویا ہے، ہوتا پر بنیاد کی وحی سے جانب سیکولر بھی، حکیم اور ہے خبیر و علیم جو ہیں، جاتے کیے عائد پر بندوں

حکومتیں میں نتیجہ کے انتخابات عوامی میں زندگی نظام جمہوری اور ہیں رہتی ہوتی تبدیلیاں تر تیز میں قوانین میں نتیجہ کے جس ہیں رہتی بدلتی خطره کا ہونے تر وسیع کے تحدیدات پر آزادیوں سے وجہ کی اس اور میں نظام سیکولر کہ ہے سکتا جا کہا یہ پر بنا اس ہے، رہتا قرار بر ہمیشہ کئی گذشتہ ہیں، رہتی شکار کا تحفظ عدم ہمیشہ آزادیاں والی ملنے کو انسان پر نام کے سلامتی و امن اور سکیوریٹی میں ممالک مختلف سے دہائیوں میں دنوں حالیہ ابھی ہیں، رہے ہوتے محروم سے آزادیوں شخصی لوگ شارلی اخبار والے کرنے گستاخی بار بار میں شان کی رسول میں پیرس کے ممالک زائد سے چالیس، ہوا حملہ خیز ہلاکت پر ارکان کے ہبدو میں مارچ امن نکالے، جلوس میں حمایت کی ہبدو شارلی نے سربراہان کہا اور کیا ہمدردی اظہار ساتھ کے ارکان کے اخبار ہوئے کرتے شرکت وی ٹی مشہور کے امریکہ جبکہ ہے حاصل آزادی کی خیال اظہار انہیں کہ اسے رہا، وابستہ سے اس سے سال ٣۴ جو پرسن اینکر کا این این سی چینل نے اس کہ گیا کیا مجبور پر دینے استعفیٰ سے عہده اپنے پر بنا اس محض

تھی۔ کی تنقید پر سیاست کی اسرائیل پر واقعہ ہبدو شارلی پر ٹیوٹر نافذ قوانین کے کائنات مینخالق اسلام برعکس کے نظام سیکولر مجاز کا تبدیلی میں قوانین کے تعالیٰ حکمراں کوئی اور ہیں جاتے کیے تحفظ کو آزادیوں والی ملنے کو انسان میں نظام اسلامی چنانچہ ہوتا، نہیں حاصل اختیار یہ کو کسی میں نظام اسلامی ہے ہوتی حاصل ضمانت کی کردے، حرام اسے ہے کردیا حلال نے تعالیٰ کو شئی جس کہ نہیں کو ان ہیں، ہوئے بنائے کے انسانوں خود قوانین کے جس نظام سیکولر حقیقت کرنا اختیار کو حیات نظام کرده نازل کے ہوئے کرتے نہ تسلیم کو آزادیوں کی انسان میں ہی بندگی کی رب اور ہے کرنا بندگی کی مینرب ہے، میں بندگی کی رب آزادی حقیقی کی انسان گویاہے، حاصل تحفظ بن ربعی حضرت ترجمان کے اسلام میں دربار کے رستم سالار سپہ ایرانی

تھا: فرمایا نے ر عام الدنیا ضیق ومن العباد رب عباد العبادالی عباد من العباد لنخرج ابتعثنا ان

لام الاس عدل الی ان الادی جور ومن الاخر سعۃ الی ) کثیر لابن والنھایۃ البدایۃ(

انسانوں سے بندگی کی انسانوں کو انسانوں ہم تاکہ ہے بھیجا کو ہم نے یقینا وسعت کی آخرت سے تنگی کی دنیا اور لائیں طرف کی بندگی کی رب کے

لائیں۔ طرف کی عدل کے اسلام سے ظلم کے ادیان اور لائیں طرف کی

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.