اخبار علمیہ

نظریہ’’ رد’’ تعمیر‘‘ پر ایک چشم کشا تبصره‘‘

Maarif - - ء٢٠١٨ فروری معارف -

کہ ہے قائل کا بات اس طبقہ ایک کا ناقدین و محققین کے اردو

یہ جب ہیں پہنچتے وقت اس تک ہم نظریات و خیالات سے بہت کے مغرب اسلوبیات،’’ قبل برسوں چند ہیں۔ ہوتے ہوچکے مسترد میں مغرب خود طرف کی اس ادب نقادان اور اٹھا شور کا ساختیات‘‘ پس’’ پھر اور ساختیات‘‘ دم اب نظریہ یہ کہ آگئی سامنے بات یہ ہی جلد لیکن لپکے سے تیزی بڑی عروج کا تعمیر‘‘ رد نظریۂ’’ یعنی Deconstruction وقت اس ہے۔ چکا توڑ و فروغ کے نظریہ اس مدیر کے رسالوں تحقیقی اور ادبی سے بہت اور ہے تنقید’’ مضمون ایک شائع میں لندن پرواز ماہنامہ ہیں۔ کوشاں لیے کے اشاعت وہاں کا تعمیر رد نظریہ کہ چلا پتہ سے اقتباس ایک کے ڈھکوسلے‘‘ کے اس نے نگار مقالہ ہے۔ چکا گزر عرصہ کا سال کئی بھی ہوئے ٹوٹے زور ہوئے کرتے تبصره کشا چشم ایک پر حقیقت و وجود کے نظریات کے قسم پیشہ کے تنقید و ادبی شعبۂ کے امریکہ جامعات نظریات سب یہ’’ ہے لکھا نظریات یہ ہیں۔ ضرورت ورانہ پیشہ کی تدریس کاروبار کے پروفیسروں ور مال طرح کی فیشن نئے میں معاشرے قائم پر نظام دارانہ سرمایہ کے امریکہ خدمات کی پروفیسر پسند نظریہ یونیورسٹیاں مختلف ہیں۔ بڑھاتے مانگ کی ان طلبہ ہیں۔ کرتی پیش تنخواہیں بڑی بڑی لیے کے کرنے حاصل پروفیسر ساز نظریہ جہاں ہیں، پڑتے دوڑ لیے کے داخلہ میں یونیورسٹیوں کم جامعات کو پروفیسروں ان پر طور عام ہے۔ رہا دے انجام تدریس کاروبار کامیاب کے امریکہ تنخواه یہ بھی پھر ہیں۔ دیتی تنخواہیں لاکھ ڈیڑھ کم سے یور لیکن ہے ہوتی کم بہت میں مقابلہ کے وکیلوں اور ڈاکٹروں تاجروں، ہی ایسے ہے۔ ہوتی زیاده گنا پانچ چار یقیناً میں مقابلہ کے پروفیسروں کے مخرج کا نظریہ کسی’’ جملہ اس کے ملر بیلسجے پروفیسر ساز نظریہ ایک نئی ایک اور ہیں لیتے سے وہاں اسے ہم ہو نہ کیوں ہی یور خواه منبع و یہ کا مقالہ صاحب پر ہیں‘‘ کردیتے برآمد کو دنیا ساری کر دے صورت امریکا ہے۔ ترجمان کا ذہن تاجرانہ خالص یہ’’ کہ ہے توجہ قابل یقیناً تبصره ۔ہے‘‘ ردّی وه ہے نہیں تجارت مال چیز جو اور ہے تجارت مال چیز ہر میں

( ٧ ص ء،٢٠١٧ دسمبر ؍٢٢ باد،آ اسلام اسپیشل، فرائیڈے بحوالہ( علی’’ گڑھ کے ایک پروفیسر کی ممتاز تحقیقی رپورٹ‘‘ اے ایم آر یعنی اینٹی مائیکروبیئل رسسٹینس مانع( جرثومہ قوت

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.