غزل

جناب وارث ریاضی

Maarif - - ء٢٠١٨ فروری معارف -

ہوئے ہوتے گھر ہیں کھاتے ٹھوکریں کی در بہ در ہوئے ہوتے اثر با ہیں ہوگئے ہم اثر بے الاماں کاری طرفہ یہ کی عشق زندگیِ ہوئے ہوتے زر اسبابِ کرم محتاجِ ہیں ہم بغیر کے احساں کے ان ہم بھی آج ہیں رہے جی ہوئے ہوتے جگر زخمِ ، دل دردِ ، ہجراں سوزِ بلا موجِ رے ہاے حواد طوفانِ رے اف ہوئے؟ ہوتے گزر ره کی ان ہیں پہنچے کہاں ہم بات: کی دھرمی ہٹ کی ان ، تعصب کا ان ، دیکھنا ہوئے ہوتے معتبر ، ہیں معتبر نا ہم آج خرد اربابِ نازِ نگاهِ اے کچھ بتا ، ہاں ہوتےہوئے؟ ضرر بے ہیں ہمیں پر نشانے کیوں ہوگیا؟ کیا انہیں میں گل موسمِ ؟ ہے خبر کیا ہوئے ہوتے پر و بال میں فضا سکتے نہیں اڑ طرح کی بیاباں ریگِ میں دھو ہیں رہے ت ہوئے ہوتے در و دیوار ، نہیں پر سر بھی لو چھا عب ، ؔوار آگہی اِدّعائے تیرا ہے یہ ہوئے ہوتے خبر کی دنیا ، ہو سے خود خبر بے

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.