شذرات

Maarif - - ء٢٠١٨ مارچ معارف -

سال دس تھی۔ گئی کی شروع پہلے سال دس مہم کی نو تعمیرِ کی دارالمصنّفین آنپرکاندھوںکمزور انگراںبارکا خدمتکی ادارے ملی عظیماس میںمہینہاسیپہلے اسنے ہاتھوںرحمبےکےوقتاورتھیکیاحال صورتِکیادارهاسوقتاستھا۔پڑا اس ہیں، واقف طرح اچھی آپ سے اس تھا دیا پہنچا میں حال کس کو ورثہ ملی مایہ گراں کی رفتہ عظمتِ کی اس میں عرصہ اس نہیں۔ ضرورت کی دہرانے یہاں کو اس لیے کچھ جو بہت تھوڑا سے کرم و فضل کے لله پر محاذ کے نو تعمیرِ کی اس اور بازیافت ان تفصیل قدر کسی کی اس ازیں علاوه ہے۔ سامنے کے آپ بھی وه ہے ہوسکا بھی چنداں کی کرنے بیان یہاں بھی کو اس لیے اس ہے۔ رہی جاتی کی پیش میں صفحات فضل کےلله محضہوئےدیکھتےکوامکاناتاورمواقعوسائل،دستیابنہیں۔ضرورت پایاں بے کا اس یہ ہے۔ تشکر و اطمینان باعث وه ہے ہوسکا ممکن کچھ جو سے کرم و ہوئی۔ نصیب توفیقکی خدمت کچھکی ادارهملیعظیماسمیںشام کی زندگی کہہے کرم

کردم کارے کہ خویش زندگیِ از شادم کردم یارے ره نثارِ عمر حاصلِ بھی انگیز درد داستان کی سفر سالہ دس اس کے تک ء٢٠١٨ سے ء٢٠٠٨

ہیں۔ پہلو سے بہت کے پذیری عبرت اور آموزی سبق میں اس بھی۔ افزاحوصلہ اور ہے ایسے ایک بھی یوں ہے۔ ہوتا اندازه کچھ بہت بھی کا رویوں قومی ہمارے سے اس کاممشکلیہتھانہیںتجربہکوئیکاکاموںقومیکےطرحاسکوجسلیےکےشخص

کہ: ہے صحیح یہ اگرچہ تھا۔ ہے میں راه دار سایہ شجر ہزارہا بہتیرے نواز مسافر شرط ہے سفر

سے طور خاص ہیں مسلم جگہ اپنی تو مشکلات اور صعوبتیں کی سفر لیکن طرح طرح دوران اس چنانچہ ہو۔ نہ آگاه مسافر سے مقامات و احوال کے جس سفر ایسا کہیںتوہوامحسوسہواٹوٹتاحوصلہسے اعتنائیبےکہیںپڑا۔واسطہسے تجرباتکے منزل خیزاں و افتاں شوق قافلہِ یہ بہرصورت کیا۔ مہمیز کو پائی آبلہ شوقِ نے نوازشوں تو ہو مقصد کوئی نظر پیشِ اگر رہی۔ سست اکثر رفتار گو رہا گامزن طرف کی مراد زیاده بھی اثر کا واقعات شکن ہمت اور ہیں رہتی مرکوز پر مقصود منزل ہمیشہ نظریں نظر پیش منصوبےجوسےہیابتداسے تعلق کے ترقی وتعمیر کیادارهہوتا۔ نہیںدیرپا شامل اگر ایزدی توفیق لیکن تھے ہوتے معلوم خواب کے دیوانے میں حالات ان وه تھے ہونے مکمل کے کچھسے میں ان چنانچہ ہے۔ ہوجاتا ممکن بھی ناممکنبظاہر تو ہو حال کہہےیقینمیںبارےکےانہیںتعبیرتشنہِابھیجو اورہےہوچکیحاصلخوشیکی

گے۔ پہنچیں کو تکمیل پایۂ بھی وه انشاءلله کا جس ایسی ہی نہ اور ہے نہیں طویل بہت فہرست یہ کی آرزوؤں اور تمناؤں کاحیثیتعالمیایکدارالمصنّفینکرسکے۔نہتحملکاجسقوماور ہونہممکنحصول

جو نے اس ہے۔ گیا کیا اعتراف کا مرتبہ و مقام اس کے اس پر سطح عالمی ہے۔ اداره ہے۔ جاتا کیا استعمال پر طور کے حوالہ اسے میں دنیا کی دانش و علم ہے کیا تیار لٹریچر کی جن ہوں دستیاب بھی سہولتیں وه یہاں کہ نہیں بیجا کچھ خواہش یہ میں منظر پس اس ان بالعموم وه اور ہے ہوتی ضرورت لیے کے اداروں کے حیثیت عالمی کے سطح اس لیے کے والوں کرنے کام میں اکیڈمی کہ ہے چاہتا جی بھی یہ ہیں۔ ہوتی بھی حاصل کو پوری خواہش پہلی اگر جائے۔ کیا فراہم ماحول بہتر لیے کے کرنے کام اور حالات بہتر کااسیبھی یہ کہلیے اسگیہوجائے پوری خودبخودیہ تو ہوگی پیدا صورت کیہونے ہو تصنیف و تحقیق اختصاص کا جس لیے کے اداره ایسے ایک ہے۔ حصہ ایک کیدرجہاعلیٰایکآراستہسےسہولیاتجدیدہے۔رکھتیحیثیتکیجاںرگِلائبریری ایک سے بزرگوں کو ہم ہے۔ ضرورت بنیادی کی اداره جیسے دارالمصنّفین لائبریری کیوقتوهسے وجہکیقلت شدید کی وسائل لیکن تھی ملیمیں وراثتلائبریری اچھی جاتے جاتے نے حکومت کی یادو اکھلیش جناب سکی۔ دے نہیں ساتھ کا رفتاری تیز حکومتنئیلیکنتھیکیمنظورگرانٹایککیکروڑچھلیےکےتعمیرکیلائبریری لیے کے ہال کانفرنس اور خانہ مہمان ہے۔ پڑگیا میں تعویق معاملہ یہ بعد کے آنے کے بنیادی بھی تعمیر کی عمارتوں ضروری بعض ہے۔ ضرورت کی سہولیات مزید سرسبزاورقطعوںخوبصورتکےپھولوںستھراصافایکہے۔شاملمیںضرورتوں تخلیقی کہ لیے اس ہے شامل میں فہرست اس بھی کیمپس آراستہ سے لانوں شاداب و ہے، جاتی کی آرزو بھی کی چمن گوشہِ اور فراغت ساتھ کے کتاب لیے کے عمل اتنے زیاده بھی سے سب ان بلکہ ساتھ ساتھ کے اسی چمنے۔ گوشہِ و کتابے و فراغتے کےتصنیفوتحقیقمطابقکےتقاضوںکےاوروقتزمانہحالاتِکہفراہمیکیوسائل خدمات کی ماہرین والے کرنے کام پر موضوعات ان اور جاسکیں کھولے شعبے نئے کے ملک لیکن تھے نہ کم بھی پہلے کام کے کرنے میں میدان اس جاسکیں۔ کی حاصل اضافہ بہت میں ضرورت اور اہمیت کی ان سےوجہکیحالات ہوئےبدلتےسےتیزی میںبرصغیرہے۔گئیبڑھبہتسےپہلےضرورتکیتوجہفوریپراناورہےہوگیا کا کوتاہی شدیدمیں ادائیگی کی فرائض اپنے میں حکمرانیدورِ طویلاپنے نے مسلمانوں بہت لیے کے ادراک کے ان اور ہیں سامنے کے سب آج نتائج کے اس ہے۔ کیا ارتکاب کا تقاضوں کے ان اور حالات موجوده ہم اگر ہے۔ نہیں ضرورت کی نگاہی ژرف زیاده ضروری لیے کے ہونے برآ عہده سے ان اور کرسکے نہیں ادراک صحیح اور بروقت کو نسل ہماری خودقیمتبھاری کیاستوہوئے مرتکبکےکوتاہی میں کرنے اقدامات گی۔ کرے نہیں معاف ہمیں تاریخ لیے کے اس گی۔ پڑے کرنی ادا کو نسلوں آینده اور کا جن ہیں ضروریات اور لوازم کچھ کے رہنے میں معاشره تکثیری جیسے ہندوستان

ہے۔ کرنا کو مسلمانوں ہندوستانی بہرحال لحاظ پانی میٹھے پھلوں، باغوں، اپنے ہیں، کہتے بھی دمشق غوطہِ جسے الغوطہ میںعلاقہاستھا۔رکھتاشہرتلیےکےشادابیاورزرخیزیمعمولیغیرکیزمیناور

نہروں والیجانےبنائےلیےکےپاشیآباورندیوںچھوٹیمتعددعلاوهکےندیبردیٰ کرتا اضافہ میں خوبصورتی فطری اور شادابی کی اس جو تھا ہوا بچھا سا جال ایک کا بات اس اندازه کا قدامت کی اس تھا۔ رہتا ہجوم کا سیاحوںوالے آنے سے بھر دنیا یہاں تھا۔ سعد حضرت یہاں ہیں۔ موجود آثار کے عہد حجری ابتدائی یہاں کہ ہے جاسکتا لگایا سے خاک آسودهکرامصحابہالقدرجلیلجیسےسلامؓبنعبدللهحضرتاورانصاریؓعبادهبن دور کلومیٹر دس صرف سے دمشق علاقہ یہ مشتمل پر آبادی کی نفوس لاکھ چار ہیں۔ فطری کے اس آتا وہاں جو تھا۔ ہوتا گمان کا ارضی جنت پر اس کر دیکھ کو اس ہے۔ ہے دوز دل اور دردناک ایسا حال کا اس لیکن تھا۔ ماضی کا اس یہ ہوجاتا۔ اسیر کا حسن پیاسے بھوکےلاکھوںانسے تصورچشمہے۔آتا کومنھکلیجہسے تصورکےاسکہ اور زمین جو کیجیے کوشش کی دیکھنے کو بچوں اور عورتوں بوڑھوں، زخمی اور کوئی میں دنیا پری بھری کا جن اور ہیں میں زدکی آگوالی برسنے مسلسل سے آسمان

پناه۔ جائے کوئی نہ اور نہیں حال پرسان سوزد زباں گویم اگر دل اندر دردیست نہاں

سوزد استخواں مغزِ کہ ترسم کشم در دم اگر

عریض و وسیع ایک علاقہ پورا اور ہے نمونہ کا جہنم ارضی جنت یہ آج

میں محاصره کے درندوں شامی سے ٢٠١٣ غوطہ ہے۔ جارہا ہوتا تبدیل میں قبرستان باشندوں کے یہاں میں مدت طویل اس ہاتھوںکے حکمراں سفّاک جیسے الاسد بشار ہے۔ رہی یہ اسٹریٹجی کی الاسد بشار نہیں۔ مشکل کرنا اندازه کا اس ہوگی گذری کچھ جو پر بھی سے اسلیکن جائے۔ کردیا مجبور پر مرنے سے بھوک کو آبادی پوری اس کہ ہے کردینےتبدیلمیںڈھیرکےراکھکوخطےپورےاسنےاستوہوئینہیںتسلیکیاس کے ٹینکوں شامی اور جہازوں بمبار روسی سے فروری ؍١٩ کردیا۔ آغاز کا مہم کی ممکن کرنا بیان کا اس ہے رہی گذر کچھ جو پر انسانوں بدنصیب کے خطہ اس ہاتھوں کا جرم اس الاعلان علی لیکن ہے جرم جنگی سنگین بمباری پر آبادی شہری نہیں۔ والا۔ ٹوکنے نہ اور ہے والا روکنے تو نہ کوئی کو ظالموں ان اور ہے جارہا کیا ارتکاب تودیکھے اور سنےآدمی دل سنگ سے دل سنگ کوان ہیں آرہیسامنےتفصیلات جو کے مٹی کس جانے نہ حکمراں کے ممالک مسلم آجائےلیکن آنسو میں آنکھوں کی اس مصلحت اپنی حکومت ہر ہوتا۔ نہیں اثر بھی کا چیز کسی اوپر کے ان کہ ہیں ہوئے بنے اب کیا ہے؟ معنی بےلفظِ ایک اخوتاسلامیکیا ہے؟مرچکیانسانیتکیا ہے۔اسیرکی

رہا؟ نہیں کوئی والا سننے پکار یہ کی قرآن وَالْوِلْدَانِ ء◌ٓ وَالنِّسَا الرِّجَالِ مِنَوَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ للهِسَبِیْلِ فِیْتُـقَـاتِـلُـوْنَ لَا لَکُمْ وَمَـا لَّدُنْکَ مِنْ لَّنَا وَاجْعَلْ اَھْلُھَا الظَّالِمِ الْقَرْیَۃِ ھٰذِهِ مِنْ اَخْرِجْنَا رَبَّنَآ یَقُوْلُوْنَ الَّذِیْنَ

(٧۵ النساء:( نَصِیْرًا۔ لَّدُنْکَ مِنْ لَّنَا اجْعَلْوَّ وَلِیًّا کیوں لیے کے بچوں اور عورتوں مردوں، ناتواں ان میں راه کی لله تم آخر سے بستی کی ظالموں ان کو ہم خدایا کہ ہیں رہے کر فریاد جو لڑتے نہیں

کردے۔ پیدا مددگار اور حامی کوئی ہمارا سے طرف اپنی اور دے نجات

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.