مدنی میں الاشراف انساب جائزه کا سیرت روایات

مولوی کلیم صفات اصلاحی

Maarif - - ء٢٠١٨ مارچ معارف -

جائزه ایک کا روایات مکی کی الاشراف انساب کتاب نے راقم کتاب اسی کہ ہے ہوتا معلوم مناسب تھا۔ کیا پیش میں ء٢٠١٧ جون معارف روشنی کی کتاب اس تاکہ جائے لیا لے جائزه بھی کا واقعات مدنی اہم کے اس تاہم آجائے۔ سامنے مرقع مکمل ایک کا طیبہ حیات کی آنحضورؐ میں جانب کی اس یا وضاحت کی باتوں بنیادی بعض متعلق کے ہجرت قبل سے

ہے۔ ضروری اشاره میں ذہن بات یہ متعلق کے تفہیم بنیادی کی اس اور روح کی ہجرت

پر قدم قدم کی آپؐ میں تکمیل کی کاموں کے تبلیغ و دعوت کہ چاہیے رہنی دشوار انتہائی سے حکم کے لله یہ ہے۔ بھی عمل کا ہجرت میں آزمائشوں کے سامانی سرو بے تنہا نے آپؐ تھا۔ عمل آزمائشی اور صبرآزما گذار، کے آپؐ نے مکہ اہل کیا۔ اختیار سفر یہ ساتھ کے ابوبکرؓ حضرت میں عالم پیچھا کا آپؐ میں طلب کی انعام سے وجہ کی جس ہے۔ دیا اشتہار کا تعاقب ایسا دوسرا چھوڑکر راستہ عام سے نظر نقطۂ حفاظتی نے آپؐ گیا۔ کیا رکھا پر اجرت لیے کے رہنمائی کو جن اریقط بن عبدلله کیا، اختیار راستہ تقریباً دوری کی مدینہ سے مکہ تھا۔ نہ تک دور بہت بھی ساتھ کا ان تھا گیا اور راه زادِ قدر جس لیے کے سفر طویل اس ہے۔ میل سو چار ساڑھے بعض تھا۔ نہ پاس بھی وه ہے، ہوتی ضرورت کی نوش و خورد سامان جمعرات بروز نبویؐ ؍١٣ صفر ؍٢٧ مطابق کے تصریح کی نگاروں سیرت پہنچے، قبا آپؐ دوشنبہ بروز نبویؐ ؍١٣ الاول ربیع ؍٨ اور ہوا شروع سفر یہ ان لگے۔ دن ١٢ کل یعنی ۔)١( ہے واقع پہلے میل تین صرف سے مدینہ جو

و سیر کتب کیا، سامنا کا مشکلوں اور دقتوں جن نے آپؐ میں دنوں باره دارالمصنّفین ، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ۔

نگاروں سیرت برعکس کے اس ہیں، خالی سے تفصیلات کی اس احادیث یہ سے اس ہیں، کی فراہم تفصیلات جو کی سفر آزما صبر اس نے بس تھی مشکل کچھ جو تھا۔ سفر آسان کوئی یہ جیسے کہ ہے ہوتا محسوس خوش بعض نے تعالیٰ لله کہ نہیں انکار سے اس تھی، تک مکہ حدود کا اس لیکن کرسکیں مدد کچھ کی آپؐ وه کہ بخشی توفیق یہ کو افراد قسمت ذکر ساتھ کے اہمیت کا اس میں ہجرت واقعات تھا۔ چاہیے ہونا ضمناً تذکره گم یا متاثر کو عظمت اس کی ہجرت سفر کے آپؐ دینا اہمیت کو اس یا کرنا پر جس ہے موضوع الگ یہ بہرحال ہے۔ مطلوب سے اس جو ہے کرتا

چاہیے۔ ہونی تحقیق آچکا ذکر میں مضمون والے روایات مکی پہلے سے اس کہ جیسا

ہیں۔ ہوتے ختم پر ہجرت واقعات کے زندگی مکی کی آنحضورؐ کہ ہے ضروری بعض اور واقعات بنیادی اور اہم بعض متعلق کے ہجرت الہدم بن کلثوم حضرت میں قبا پہلے میل تین سے منوره مدینہ اور تفصیلات سفر مقدس اس باوجود کے اس ہے۔ آچکا مختصراً حال کا قیام یہاں کے میں بلاذری ہے موجود میں بخاری ذکر کا جن واقعات اہم بعض کے ذکر مختصراً کا ان یہاں ہوئے کرتے لحاظ کا واقعات تسلسل نہیں۔ موجود

ہے: جاتا کیا العوامؓ بن زبیر حضرت میں سفر اس ملاقات: کی آپؐ سے زبیرؓ حضرت آنحضورؐ میں راستہ مطابق کے بیان کے بخاری ہوئی۔ ملاقات کی آپؐ سے ان تاجر مسلمان بعض اور تھے آرہے سے شام یہ ملے۔ العوام بن زبیر کو میں خدمت کی ابوبکرؓ حضرت اور آنحضورؐ نے انہوں تھے۔ ساتھ کے تجارا کانوا المسلمین من رکب فی الزبیر لقی ۔)٢( کیے پیش کپڑے سفید ثیاب بکر وابا وسلم علیہ لله صلی لله رسول الزبیر فکسا الشام من قافلین

بیاض۔ میں واقعہ کے جعشم بن سراقہ طرح اسی تفصیلات: کی سراقہ واقعہ جزوی اور ضروری نہایت بعض اور لیا کام سے ایجاز نے بلاذری سے بکرؓ ابو اور آنحضورؐ سراقہ جب جیسے گئیں۔ ره سے آنے معلومات نے انہوں گئے، دھنس میں زمین پاؤں کے گھوڑے کے ان تو ہوئے قریب کیا۔ باخبر کو آپؐ سے سازشوں اور ارادوں کے قریش اور کی طلب امان وه کیا۔ تحریر میں ادیم قطعہ امن پروانۂ لیے کے ان نے للهؐ رسول چنانچہ اور طائف آپؐ جب وقت کے مکہ فتح میں بعد رہا، مستقل پاس کے ان سامنے کے آپؐ کو رحمت پروانہ اسی نے سراقہ تو تھے مابین کے جعرانہ

(٢ ٣ ص( لائے۔ اسلام اور کیا پیش آپؐ امن پروانہ کہ ہے چلتا پتہ سے روایت مختصر اس کی بلاذری

و امنۃ کتاب وسلم علیہ لله صلی لله رسول لہ فکتب تھا۔ کیا تحریر خود نے غلام کے بکرؓ ابو حضرت مطابق کے تصریح کی بخاری لیکن موادعۃ، ۔)٣( تھا لکھا پروانہ یہ پر ٹکڑے ایک کے چمڑے نے فہیره بن عامر حضرت کہ ہے میں ہشام ابن جبکہ لکھا۔ نہیں نام کا کاتب نے بلاذری

(٢٩ ص ،١ج( تھا۔ کیا تحریر اسے نے ابوبکرؓ کی امن پروانۂ میں حالت اس نے سراقہ کہ ہے یہ سوال یہاں

کرنا معلوم جواب کا اس سے روایت کی بلاذری کی؟ کیوں درخواست کے ناکامی بار بار کہ ہے موجود جواب کا اس ہاں کے بخاری ہے۔ مشکل سراقہ نے بخاری گے۔ ہوں کامیاب ضرور آپؐ کہ ہوگیا یقین کو سراقہ بعد ان لقیت حین نفسی فی ووقع ہیں۔ کیے نقل الفاظ ذیل درج زبانی کی

۔) ( وسلم علیہ لله صلی لله رسول امر سیظہر بھی واقعہ کا معبد ام میں واقعات مشہور کے ہجرت معبد: ام واقعۂ ہشام، ابن ہیں۔ موجود تفصیلات کی اس میں سیرت و حدیث کتب بیشتر ہے۔ واقعہ اس نے وغیره تیمیہ ابن اور کثیر ابن ذہبی، حاکم، طبرانی، سعد، ابن مشہور زیاده وه کہ ہے اسلوب کا بلاذری ہے۔ کیا ذکر سے اہتمام بڑے کا ہیں، کرتے نقل سے قـالـوا لفظ بجائے کے لکھنے سند مع کو واقعات حامل کا شہرت خاصی میں سیر اصحاب و محدثین واقعہ کا معبد ام چونکہ کا روایت ضبط لیے کے کرنے رقم کو واقعہ اس نے بلاذری لیے اس ہے۔

ہے۔ لکھا مختصراً کو اس اپناکر اسلوب بالا مذکوره الخزاعی خلیف بن خالد بنت عاتکہ معبد ام آنحضورؐ مطابق کے ان وه گذرے۔ سے پاس کے تھیں بیوی کی الخزاعی منقذ بن الجون بن اکثم جو چرنے سبب کے ہونے لاغر و کمزور جو بکری ایک پاس کے للهؐ رسول لیے کے کرنے ذبح تھی، جاسکی نہ ساتھ کے بکریوں دوسری لیے کے نے آپؐ لگی، دینے دودھ وه پھیرا، ہاتھ پر تھن کے اس نے آپؐ تو لائیں اس گئی۔ کی ذبح جو کی پیش بکری دوسری پھر کرنا۔ نہ ذبح کو اس فرمایا نے اریقط ابن اور فہیره بن عامر ابوبکرؓ، حضرت ، آپؐ گیا، پکایا گوشت کا گوشت خاصا اچھا باوجود کے اس لیا۔ رکھ بھی لیے کے راه زادِ اور کھایا تھا، پھیرا ہاتھ نے آپؐ پر تھن کے بکری جس کہ ہیں کہتی معبد ام رہا۔ ب کو اس ہم تھی۔ زنده تک بعد برس اٹھاره کے ہجرت یعنی الرماده عام وه کے آپؐ پاس کے معبد ام بعد کے اس )٢ ٢ ص( تھے دوہتے شام و صبح

نے معبد ام کہ ہے لکھا میں آخر اور ہیں کیے نقل اشعار تین متعلق کے قیام

)ایضا( گے۔ کریں آینده ہم ذکر کا جس ہے، کیا بیان سراپا کا آنحضورؐ ذرا کے آپؐ پاس کے معبد ام کہ ہے ضروری ذکر کا بات اس یہاں

کی نقل نے محدثین و سیر اصحاب بعض روایت جو متعلق کے قیام سے ایک میں سیرت گویا حیثیت کی معبد ام کہ ہے ہوتا محسوس سے اس ہیں، میں معبد ام خیمۂ نے آپؐ کہ ہے یہ بات صحیح حالانکہ ہے کی مرجع اہم دونوں کہ لکھا نے ہشام ابن کہ جیسا گئے، چلے اور فرمایا آرام دیر تھوڑی وہما گئے چلے وقت کے شام اور اترے شریفانہ میں معبد ام خیمہ حضرات دودھ کا بکری کہ ہے ممکن بھی یہ )٢٩٣ ص ،١ ج( ۔ تروحا ثم بالبر نزلا ہوئے۔ سیراب وغیره معبد ام اور بکرؓ ابو حضرت اور آپؐ اور دوھا نے آپؐ ہے۔ اختلاف بڑا میں لفظوں اور تضاد میں جزئیات کی واقعہ ایک اس تاہم کی، پیش لیے کے کرنے ذبح بکری نے معبد ام کہ ہے میں روایت کسی بھی کچھ لیے کے ضیافت کی آپؐ پاس میرے کہ کہا نے معبد ام میں کسی پتہ سے کسی ہوئے، کلام ہم خود سے معبد ام آپؐ کہ ہے میں کسی نہیں، بلایا کو آپؐ ذریعہ کے بچے اپنے نے معبد توام لگے جانے آپؐ کہ ہے چلتا سے روایتکسی ہوئی، سے توسط کے بچے گفتگو درمیان کے دونوںاور بہرحال ہے۔ ہوتا علم کا ہونے موجود کے بکری دو سے کسی اور ایک یہی غالباً ہے۔ گنجائش کی بحث بڑی پر روایت اس سے نظر نقطۂ درایتی جگہ کو واقعہ اس میں تفصیلات کی ہجرت نے بخاری امام کہ ہے وجہ لیکن ہے الاسناد صحیح حدیث یہ کہ ہیں لکھتے حاکم ہے۔ دی نہیں یہ کہ ہیں لکھتے کثیر ابن ۔) ( ہے ہوئی نہیں تخریج کی اس میں صحیحین (٧( ہیں منضبط سے دوسرے ایک جو ہے مروی سے طرق ایسے حدیث دیا قرار ضعیف کو اس نے البانی شیخ بعضا۔ بعضہا یشد طرق من مروی مروی سے طرق متعدد البتہ ہے۔ ضعیف حدیث یہ کہ ہیں لکھتے اور ہے جائے پہن تک درجہ کے صحیح یا حسن یہ ہے، ممکن سبب کے ہونے

طرقہ۔ بتعدد الصحۃ او الحسن الی یرتقی وقد ضعیف )٨) سے مقامات کن کن آپؐ دوران کے سفر مقدس اس علاوه کے اس

کہ جب ملتی، نہیں روداد کی اس میں انداز مرتب یہاں کے بلاذری گذرے۔

(٩( ہیں۔ کیے بیان مراحل تمام کے اس نے وغیره سعد ابن لکھا متعلق کے اسلمی الحصیب بن بریده اسلام: قبول کا بریده قبیلۂ نے آپؐ ہوئی، ملاقات سے آنحضورؐ میں راستہ کے مدینہ اور مکہ کہ ہے چوپایوں اپنے نے انہوں کیا، قبول نے انہوں دی، دعوت کی اسلام کو ان

ہوا، پیش دودھ سامنے کے آپؐ کی، شکایت کی لبن قلت سے آپؐ متعلق کے دعا کی برکت لیے کے ان اور پیا دودھ نے بکرؓ ابو حضرت اور آپؐ اونٹ سو بریده کہ ہے لکھا نے نگاروں سیرت بعض )٢ ٢ ص( فرمائی اس جب لیکن تھا نکلا لیے کے کرنے گرفتار کو آپؐ میں لال کی انعام کے ستر کے قبیلہ اپنے وه تو ہوا نصیب موقع کا ہونے کلام ہم سے آپؐ کو اس سے روایت کی بلاذری ۔)١٠( ہوا مشرف سے اسلام ساتھ کے آدمیوں

ہوتا۔ نہیں اندازه کا منظر پس فرمائیں۔ ملاحظہ روایات مدنی کرده پیش کی بلاذری اب

گھر اپنے آپؐ مطابق کے نگاروں سیرت بعض قیام: اور داخلہ میں قبا نکلے کو ء ٣٢ ستمبر ؍١٢ مطابق پنجشنبہ روز نبویؐ ؍١٣ صفر ؍٢٧ سے نکلنے کے آنحضورؐ نے بلاذری خود اور سعد ابن ہشام، ابن لیکن ۔)١١) نبوت کہ ہے لکھا قدر اس بھی نے شبلی ہے۔ لکھی نہیں تاریخ متعین کی الٰہی وحی تو چکے پہن مدینہ صحابہ اکثر اور ہوا شروع سال تیرہواں کا میں قبا البتہ ۔)١٢( فرمایا عزم کا مدینہ بھی نے آنحضرتؐ مطابق کے ربیع ؍١٢ دوشنبہ بروز آپؐ کہ ہیں لکھتے بلاذری متعلق کے قیام اور داخلہ نے یہودی ایک تھا۔ براه چشم لیے کے آپ شہر پورا پہنچے، مدینہ الاول تم کا جن( صاحب تمہارے عرب اہل کہا کر پکار اور دیکھا سے قلعہ سے تکبیر کی مالک بن عوف بن عمرو بنو آگئے۔ تھے) کررہے انتظار بن کلثوم اور بڑھے طرف کی عوف بن عمرو بنی آپؐ اٹھا۔ گونج شہر پورا لوگ ہے۔ صحیح یہی اور )٢ ٣ ص( ہوئے فروکش میں قبا یہاں کے الہدم الناس فاقبل کرتے۔ پیش سلام نذرانہ اور ہوتے مشرف سے دید شرف آکر آ

)ایضا( علیہ۔ یسلمون یاتونہ ٹھہرے، پاس کے خیثمہ بن سعد آپؐ کہ ہے میں روایتوں بعض

کا فہمی غلط اور کی تغلیط کی روایت اس پر طور صاف نے بلاذری لیکن لیے کے گفتگو پاس کے ان کا آپؐ چونکہ کہ ہے لکھا اور ہے کیا ازالہ کے انہیں آپؐ کہ لیا سمجھ نے لوگوں بعض لیے اس تھا، ہوتا جانا آنا اکثر انہ قوم فظن عنده للحدیث اتیانہ اکثر کان انہ وذلک ۔)ایضا( ہیں ٹھہرے پاس اس ہے۔ کی نقل تائیداً بھی حدیث ایک سے عروه حضرت آگے علیہ۔ نازل کے ہی عمرو بنی بھی صحابہ مہاجر بیشتر کہ ہے ہوتا معلوم بھی یہ سے یتجاوزہم لم عوف، بن عمرو بنی علی جمیعا الناس نزول وکان ٹھہرے۔ یہاں

)ایضا( ۔ روز الاول ربیع ؍٨ تاریخ کی داخلہ کے آپؐ میں قبا نے لله ولی شاه

کردند ہجرت رسید سال سہ و پنجاه بہ عمرشریف چوں ہے۔ لکھی دوشنبہ روز مدینہ در شدند داخل و لله ربیع ہشتم دوشنبہ روز مدینہ بسوی مکہ از ربیع ؍٨ یہ کہ ہے اتفاق کا مورخین اکثر ہیں لکھتے شبلی ۔)١٣( دوشنبہ بھی نے ہشام ابن ۔)١ ( تھی ء) ٢٢ ستمبر ؍٢٠ مطابق( نبوی ؍١٣ الاول لله صلی لله رسول قدم ہے۔ لکھی تاریخ کی دوشنبہ بروز الاول ربیع ؍١٢ ربیع شہر من مضت لیلـۃ عشر اثنتی الاثنین یوم المدینۃ وسلم علیہ

(١۵( ۔ الاول کے عوف بن عمرو بنی آپؐ مطابق کے بیان کے بلاذری : قیام مدت سے وہاں روز کے جمعہ رہے۔ تک جمعرات اور بدھ منگل، دوشنبہ، یہاں ہے جاتا کہا بھی یہ پڑھایا، جمعہ میں سالم بنی خاندان کے نجار بنی نکلے، رہے۔ پذیر قیام روز ؍١٠ تقریباً مطابق کے بعض اور ؍٢٣ میں قبا آپؐ کہ

)ایضا( نے وغیره سعد ابن اور ہشام ابن مثلاً نگاروں سیرت پر طور عام (١ ( گئی کی ادا جو ہے جمعہ نماز پہلی میں اسلام تاریخ یہ کہ ہے لکھا

ملتا۔ نہیں اظہار کا قسم اس سے روایت کرده نقل کی بلاذری لیکن میں قبا کہ ہے لکھا نے نگاروں سیرت واقعہ: کا تعمیر کی قبا مسجد الوفا وفاء نے شبلی علامہ تھا۔ کرانا تعمیر مسجد کام پہلا سے سب کا آپؐ جہاں تھی، زمین افتاده ایک کی کلثوم حضرت کہ ہے لکھا سے حوالہ کے مسجد سے مبارک دست اپنے نے آپؐ یہیں تھیں، جاتی سکھلائی کھجوریں شامل بھی خود آپؐ ساتھ کے مزدوروں میں تعمیر کی مسجد ڈالی۔ بنیاد کی تھا ہوجاتا خم مبارک جسم وقت اٹھاتے کو پتھروں بھاری بھاری تھے، روایت کوئی میں سلسلہ کے تعمیر کی قبا مسجد نے بلاذری لیکن ۔)١٧) پہنچنے مدینہ کے للهؐ رسول کہ ہے لکھی یہ بات ایک البتہ کی، نہیں نقل جو علاوه کے ان تھے، چکے پہن وہاں عبدالاسد بن سلمہ ابو پہلے سے وه میں جس بنائی مسجد ایک میں قبا نے انہوں پہنچے میں قبا لوگ اور پڑھی کرکے ر جانب کی المقدس بیت نماز وقت اس تھے۔ پڑھتے نماز تھا۔ کیا طرف کی المقدس بیت ر کا اس نے لوگوں لیے اسی تھی، جاتی اس پڑھائی۔ نماز میں اس کو لوگوں بھی نے آپؐ تو پہنچے وہاں آپؐ جب ابی مولی سالم وکان ۔)٢ ص( تھے امام حذیفہ ابی مولی سالم تک وقت صلی النبی قدم حتی بالمدینۃ امہم ثم المدینۃ الی مکۃ من المہاجرین یوم حذیفہ

۔ وسلم علیہ لله روایت یہ نے بلاذری اس لیے اس ہے۔ کی نقل سے قالوا لفظ

سے تعمیر کی قبا مسجد جو ہیں مؤثق معتبر زیاده روایات وه مقابل کے کی مسجد میں قبا نے آپؐ کہ ہے واقعہ مسلم یہ کا اسلام تاریخ ہیں۔ متعلق اَحَقُّ یَوْمٍ اَوَّلِ مِنْ التَّقْوٰی عَلَی اُسِّسَ سجِدٌلَمَ آیت کی مجید قرآن رکھی۔ بنیاد :٩ توبہ( الْمُطَّھِّرِیْنَ یُحِبُّ وَللهُ یَّتَطَھَّرُوْا اَنْ یُّحِبُّوْنَ رِجَالٌ فِیْہِ فِیْہِ تَقُوْمَ اَنْ ہے۔ لیا مراد ہی قبا مسجد نے مفسرین تمام تقریبا سے لَمَسْجِدٌ میں اس )١٠٨ چند مشتمل پر فضائل کے حذیفہ ابی مولیٰ سالم بعد کے اس ڈاکٹر کہ ہے ذکر قابل بھی بات یہ یہاں ہیں۔ گئی کی نقل حدیثیں اور روایتیں حاشیہ کوئی پر روایت اس کرده نقل کی بلاذری نے صاحب حمیدلله محمد

دیا۔ نہیں تشریف یہاں کے کلثوم میں قبا کی علیؓ حضرت میں روایات دیگر خواہش کی ہجرت مدینہ میں مرض حالت کی جندعی حمزه بن جندع آوری، آیت میں شان کی ان اور انتقال کا ان پر مقام کے اضا میں راستہ اور کا الخ الْمَوْتُ یُدْرِکْـہُ ثُمَّ رَسُوْلِـہٖ وَ للهِ اِلَی مُہَاجِرًا بَیْـتِـہٖ مِنْ یَّخْرُجْ وَمَـنْ اور جندب آیت یہ مطابق کے واقدی یعنی اختلاف میں سلسلہ اس پھر نزول، مطابق کے روایت کی جبیر بن سعید اور صیفی بن اکثم مطابق کے بعض ص( ہے پہنچائی بہم تفصیل یہ ہوئی، نازل متعلق کے العیص بن ضمره ۔ ثبت غیر ذلک کہ ہے لکھا نے بلاذری متعلق کے صیفی بن اکثم ۔)٢ ۵

)ایضا( کہ ہیں لکھتے متعلق کے مِثْلِہٖ عَلٰی و اِسْرَائِیْل بَنِیْ مِنْ شَاہِدٌ شَہِدَ السـلام عبد فی نزل ۔)٢ ص( ہوئی نازل میں شان کی سلام بن عبدلله یہ

ہے۔ لکھی روداد سے تفصیل قدرے کی اسلام قبول کے ان ہی ساتھ ۔ بیانات یہ نے بلاذری قیام: کا گھر کے ایوبؓ ابو اور داخلہ میں مدینہ بائیں دائیں کے آپؐ لوگ تھے، سوار پر قصوا ناقہ اپنی آنحضورؐ کہ لکھے لائیے، تشریف آتی آواز یہی سے خاندان ہر تھے، رہے چل ساتھ کے آپؐ ہے۔ حاضرلیے کے آپؐ سب بار گھر طاقت، و قوت ثروت، و دولت ہماری آپؐ ہے، مامور سے طرف کی خدا اونٹنی یہ چھوڑیے، راستہ فرماتے، آپؐ اصلاً یہ گئی۔ بیٹھ وہیں ہے نبوی مسجد جہاں اونٹنی کی، ڈھیلی لگام نے جہاں تھی، زمین خالی کی یتیموں دو میں پڑوس کے زراره بن اسعد کی ان اور ایوبؓ ابو اترے، آپؐ ۔)٢ ص( تھیں جاتی سکھائی کھجوریں باتیں کی ٹھہرانے یہاں اپنے اپنے کو آپؐ لوگ کہ دیکھا آئے، ایوب ام اہلیہ اپنے اور اتارا کجاوا سے اونٹنی نے اہلیہ کی ان اور ایوب ابو ہیں۔ کررہے سواری اپنی آدمی فرمایا، تو منظردیکھا یہ نے آپؐ دیے۔ چل جانب کی گھر

میں ہاتھ اپنے لگام کی اونٹنی نے زراره بن اسعد امامہ ابو ہے، ساتھ کے بھی یہ رہی، پاس کے انہیں اونٹنی سو گئے۔ چلے کر لے گھر اپنے اور لی لکھتے بلاذری گئے۔ لے گھر اپنے کعب ابن ابی کو اونٹنی کہ ہے روایت اسعد عند وکونہا ہے۔ صحیح زیاده روایت والی اونٹنی پاس کے اسعد کہ ہیں میرے قربان، پر آپؐ باپ ماں میرے کہ کہا نے ایوب ابو ۔)٢ ٧ ص( اثبت نیچے، میرے آپؐ اور رہوں پر بالاخانہ میں کہ ہے گراں بہت بات یہ لیے کی گھر اپنے کو آپؐ اور آگئے نیچے اہلیہ کی ان اور ایوب ابو چنانچہ ان اعظم انی وامی، انت بابی ایوب ابو قال ۔)ایضا( ٹھہرایا پر منزل اوپری علو فی لله رسول نزل و اسفل الی واہلہ فتحوّل تحتی، وانت فوقک اکون

۔ دارهٖ و محدثین بات کی رہائش کی آپؐ میں مکان کے ایوب ابو حضرت

کے قیام کے آپؐ میں بالاخانہ تاہم ہے علیہ متفق درمیان کے نگاروں سیرت صاحب )،١٨( ہشام ابن برعکس کے بلاذری ہے۔ اختلاف میں سلسلہ روایتوں کرده نقل کی )٢١( الوفا وفاء صاحب ،)٢٠( زرقانی ،)١٩( اصابہ دن ایک کہ ہے میں روایتوں فرمایا۔ پسند حصہ کا نیچے نے آپؐ مطابق کے کر بہ پانی کہ ہوا اندیشہ گیا، ٹوٹ برتن کا پانی میں منزل بالائی سے اتفاق تھا، لحاف ہی ایک میں گھر ہو، تکلیف کو آنحضورؐ اور جائے نیچے واقعہ اس جائے۔ ره ہوکر جذب پانی کہ دیا ڈال کو اس نے ایوب حضرت

تھے۔ مقیم ہی نیچے آپؐ کہ ہے ہوتا ثابت یہی سے داری ذمہ مکمل کی طعام و قیام کے آپؐ نے ایوبؓ ابو حضرت تھے۔ بھیجتے کھانا میں خدمت کی آپؐ وقت دونوں اور تھی لی سر اپنے ام اور نجار بنی میں والوں بھیجنے کھانا علاوه کے ان نے بلاذری لیکن لکھتے بلاذری میں روایت اگلی ۔)٢ ٧ ص( ہے لیا بھی نام کا ثابت بن یزید آنحضورؐ مہینے سات میں مکان کے آپ کہ گیا پوچھا سے ایوب ام کہ ہیں کہ دیا جواب نے انہوں تھے، فرماتے پسند کیا میں کھانے آپؐ تھا۔ قیام کا کسی کبھی نہ اور کی نہیں فرمائش کی کھانے خاص کسی کبھی نے آپؐ ساتھ کے آپؐ رات ایک ایوب ابو روز ایک البتہ نکالا، عیب میں کھانے بھرا سے قسم) ایک کی شوربہ( طَفَیشل نے عباده بن سعد تھے۔ پر کھانے اس کو آپؐ نے انہوں کہ ہے بیان کا ان بھیجا۔ میں خدمت کی آپؐ پیالہ ایک ہم تو تھا۔ دیکھا نہیں کبھی کھاتے کھانا سے دلچسپی طرح اس پہلے سے کرتے تیار ہریس لیے کے آپؐ ہم لگے۔ کرنے ہی ویسا لیے کے آپؐ بھی کھانے کے رات ہیں۔ رہے ملا کرکے چوڑا مزید کو اس آپؐ دیکھتے اور تھے ہوتے لوگ دس کبھی اور چھ کبھی ، پان کبھی ساتھ کے آپؐ میں

ہے۔ ہوتا علم کا کھانے پسندیده کے آپؐ سے اس ۔)٢ ٧) لکھا نے نگاروں سیرت متعدد تو ہوئے داخل میں مدینہ آپؐ جب لڑکیاں معصوم کی انصار اور آئیں نکل پر چھتوں مدینہ نشینانِ پرده کہ ہے

تھیں۔ گاتی بجاکر بجا دف الوداع ثنیات من علینا البدر طلع

داع لله دعی ما علینا الشکر وجب

کیا۔ نہیں ذکر کا روایتوں مشہور ان نے بلاذری لیکن بلاذری بھیجنا: مکہ کو زید اور رافع ابو لیے کے لانے کو خانہ اہل کو رافع ابو اور زید حضرت نے آپؐ کہ ہے بیان کا راویوں کہ ہیں لکھتے لیے کے لانے کو سوده حضرت اور کلثوم ام و فاطمہ بیٹیوں دونوں اپنی کے خرچ کے راستہ کر لے درہم سو پان سے بکرؓ ابو حضرت بھیجا۔ مکہ اپنے نے بکرؓ ابو حضرت کیے۔ عطا بھی اونٹ دو اور دیے کو ان لیے اور عائشہ بہنوں اور رومان ام ماں اپنی بھی وه کہ لکھا کو عبدلله بیٹے کے رافع ابو اور زید سودهؓ اور کلثومؓ ام فاطمہؓ، آئیں۔ چلے کر لے کو اسماء رقیہؓ لیا، روک نے الربیع بن ابوالعاص شوہر کے ان کو زینب آئیں۔ ساتھ اور ایمن ام بیوی اپنی نے زید تھیں، ساتھ کے عثمانؓ حضرت شوہر اپنے کے بہنوں دونوں اور ماں اپنی عبدلله لیا۔ لے ساتھ بھی کو اسامہ لڑکے وسلم علیہ لله صلی آنحضور تو پہنچے مدینہ لوگ یہ جب نکلے، ساتھ لله ورسول فقدموا تھے۔ مصروف میں تعمیر کی حجره اور مسجدنبوی

(٢٧٠( حجره۔ و المسجد یبنی وسلم علیہ لله صلی لیے کے خانہ اہل اور نبوی مسجد نے آپؐ بعد کے پہنچنے مدینہ سے تفصیلات کی اس نے بلاذری لیکن کی۔ توجہ پر تعمیر کی حجروں نے انصار کہ ہے کیا نقل بیان یہ کا راویوں صرف ہے۔ کیا نظر صرف چاہیں آپؐ اگر کہ کہا اور کیا پیش ارض خطۂ بہترین اپنا لیے کے آنحضورؐ اور کی خیر دعائے لیے کے ان نے آپؐ ہیں۔ سکتے لے مکانات ہمارے تو کا کسی پر جن کی دہی نشان کی زمینوں ایسی لیے کے اصحاب اپنے جو اور لاحد لیست ارض کل فی لاصحابہ وخط )ایضا( تھا نہیں قبضہ رہائش کی لوگوں ان میں ان نے آپؐ تھیں کی ہبہ کو آپؐ نے انصار زمینیں کی مکان لیے کے جن اور تھے ٹھہرے میں قبا پاس کے آپؐ جو کیا نظم کا من قوم واقام خططہا من الانصار لہ وہبت وفیما تھی۔ ناممکن تعمیر

(٢٧٠ ص( عنده۔ نزلوا من علی بقباء البناء یمکنہم لم المسلمین

:مواخاة اسلام کی بقا و تحفظ اور تکمیل و تہذیب اخلاق و فضائل کی خاطر آنحضورؐ نے جو رہنما خطوط دنیا کے سامنے پیش کیے ان میں مواخا کو نمایاں اور منفرد مقام حاصل ہے۔ آپؐ سے قبل دنیا اس تصور سے ناآشنا تھی۔ بلاذری کے مطابق آپؐ نے دوبار صحابۂ کرام میں مواخا کرائی ایک مکہ میں اور دوسرے مدینہ میں، مکی مواخا کے سلسلہ میں

راویوں کا درج ذیل بیان نقل کیا ہے۔ آپؐ نے حمزه اور زید بن حارثہ، ابو بکر و عمر، عثمان و عبدالرحمٰن بن عوف، زبیر و عبدلله بن مسعود، عبیده بن الحارث و بلال، مصعب بن عمیر و سعد بن ابی وقاص ، ابوعبیده بن الجراح و سالم مولی ابی حذیفہ، سعید بن زید بن عمرو بن نفیل و طلحہ بن عبیدلله کے درمیان مواخا کرائی اور حضرت علیؓ سے فرمایا، تم میرے بھائی ہو ص( ۔)٢٧٠ لیکن یہ مواخا مکہ میں کب اور کیسے ہوئی، بلاذری کی اس روایت سے

اس کا کچھ اندازه نہیں ہوتا۔ مدنی مواخا کے سلسلہ میں وه لکھتے ہیں کہ آپؐ نے مہاجرین کے درمیان مواخا اس اصول پر کرائی تھی کہ ذوی الارحام کے ساتھ ساتھ مہاجرین بھی ان کی جائیدادوں میں حق وراثت پاتے تھے۔ لیکن جب بدر میں صحابہ شہید ہوئے اور ان کے بھائیوں سے میراث کی بات آئی تو یہ آیت اتری وَاَوْلُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِٰتبِ للهِ اِنَّ للهَ بِکُلِّ شَیْیٍٔ عَلِیْم ۔ اس آیت سے میراث میں مواخا ختم ہوئی فانقطعت المواخا فی

المیراث ص( ۔)٢٧٠ بلاذری کے مطابق مدینہ میں جو مواخا ہوئی ان میں مشہور نام

اس طرح ہیں: حمزه بن عبدالمطلب و کلثوم بن الہدم یا ان کے علاوه، علی بن ابی طالب و سہل بن حنیف، زید بن حارثہ و اسید بن حضیر، ابو مرثد الغنوی حلیف حمزه و عباده بن عبیدهثابت، بن الحارث و حمام بن الجموع عمرو( بن الجموع کی روایت بھی ہے)، عثمان بن عفان و اوس بن ثابت، ابو حذیفہ بن عتبہ و عبادبن بشر بن وقش، زبیر بن العوام و کعب بن مالک، مصعب بن عمیر و ابو ایوب، ذکوان( بن قیس کی بھی روایت ۔ہے) عبدالرحمٰن بن عوف و سعد بن الربیع، سعد بن ابی وقاص و سعد بن معاذ، عبدلله بن مسعود و معاذ بن جبل، ابوبکر الصدیق و خارجہ بن زید بن ابی زھر، طلحہ بن عبدلله و ابی بن کعب، صہیب و الحارث بن الصمۃ، ابو مسلمہ بن عبدالاسد و سعد بن خیثمہ، ارقم بن ابی الارقم و زید بن سہل ابو طلحہ، عمر بن

مالک، بن رافع و نفیل بن عمرو بن زید بن سعید ساعده، بن عدیم و الخطاب جبیر، بن عبس ابو و حذافہ بن خنیس التیہان، الہیثم ابو و مضعون بن عثمان

(٢٧١ ،٢٧٠ ص( الاوسی۔ مسلمہ بن محمد و الجراح بن عبید ابو صراحتاً نام کا جوڑوں٢٢ نے بلاذری میں بھائیوں مواخاتی مدنی

ان ہے کی نقل فہرست جو سے ہشام ابن نے شبلی علامہ ہے۔ کیا تحریر

ہے۔ اختلاف میں جوڑوں بعض البتہ ۔)٢٢( ہیں نام کے جوڑوں ١٢ میں یمان، بن حذیفہ و یاسر بن عمار حضرت میں فہرست کی بلاذری حضرت و فارسی سلمان حضرت عمرو، بن منذر حضرت و غفاری ابوذر

ہیں۔ نہیں نام کے رویحہ ابو حضرت و بلال حضرت دردا، ابو ابو انصاری، مالک بن عتبان ساتھ کے عمر حضرت نے ہشام ابن

زید بن سعید حضرت اور معاذ بن سعد حضرت ساتھ کے الجراح بن عبیده بلاذری جبکہ )،٢٣( ہیں کیے شامل نام کے کعب بن ابی حضرت ساتھ کے

ہیں۔ نام کے دوسروں ساتھ کے حضرات ان میں فہرست بالا مذکوره کی اور ہوئی مواخا درمیان کے لوگوں ٩٠ کل کہ ہیں لکھتے بلاذری ہوئی نہ سے انصاری کسی مواخا کی جس تھا نہ ایسا مہاجر کوئی کہ یہ سلمان حالانکہ ہوئی، مواخا درمیان کے سلمان اور دردا ابو کہ ہے قول ہو۔ ہیں کہتے واقدی کیا۔ قبول اسلام میں عرصہ درمیانی کے خندق و احد نے مواخا کہ ہیں کہتے بعض ہیں، نہیں قائل علما کے مواخا بعد کے بدر کہ تھا، ملتا حق جو میں میراث ذریعہ کے مواخا البتہ ہوئی بھی بعد کے بدر

(٢٧١ ص( رہی۔ نہیں باقی ضرورت کی اس بعد کے بدر کیا قائم لیے کے ضرورت عارضی ایک بظاہر رشتہ کا مواخات

ہے، ضرورت ایک پھر احیاء کا رشتہ اس میں حالات موجوده لیکن تھا گیا

ہے۔ ہوسکتی زنده سنت متروک ایک سے جس کے لانے تشریف کے آپؐ میں مدینہ ہونا: رکعت چار چار کا نمازوں ثابت سے روایتوں کی بلاذری تھی۔ کیفیت و صورت کیا کی نمازوں بعد رکعتیں دو دو صرف میں نمازوں کی وقت پانچوں تک وقت اس کہ ہے ہوتا ہوئی، تکمیل کی اس بعد مہینہ ایک تو لائے تشریف مدینہ آپؐ جب تھیں، باقی رکعتیں دو دو لیے کے مسافر اور چار چار لیے کے مقیم چنانچہ

(٢٧١ ص( رہیں۔ رکعت دو دو نمازیں کی وقتوں تمام کہ ہے ہوتا ظاہر بھی یہ کہیں

چار میں عشاء اور عصر ظہر، نہیں۔ درست ہے ظاہر یہ لیکن تھیں ہوگئی

کے بلاذری رہیں۔ باقی پر اصل اپنی نمازیں کی فجر اور مغرب ہوئیں، چار

ہے۔ واقعہ کا ہجری صدی پہلی یہ مطابق ہے۔ حامل کا اہمیت خصوصی واقعہ کا قبلہ تحویل : قبلہ تحویل کرتے ادا نماز سامنے کے ابراہیم مقام تھے، میں مکہ تک جب آنحضورؐ ر ایک قبلہ دونوں طرح اس تھا، طرف کی المقدس بیت ر کا جس تھے، کتاب اہل اور تھا کعبہ قبلہ کا جن مشرکین تھے، گروه دو میں مدینہ تھے۔ تشریف مدینہ جب آپؐ ۔)٢ ( تھے کرتے ادا نماز طرف کی المقدس بیت جو ادا نماز کرکے ر طرف کی المقدس بیت تک مہینے ١ تقریبا تو گئے لے

ہیں: لکھتے بلاذری ہوا۔ حکم کا قبلہ تحویل پھر کی، ویں ؍١۵ حکم کا قبلہ تحویل طرف کی کعبہ سے المقدس بیت

یہ کہ ہے جاتا کہا بھی یہ ہوا۔ ظہر وقت بہ منگل بروز میں ھ٢ شعبان میں لائے، کچھ جو محمدؐ کہ کہا نے یہود پر اس تھا۔ آغاز کا مہینہ سولہویں انکار کا اس میں حصہ آخری اور لاؤ ایمان پر اس میں شروع کے دن قبلہ تحویل کہ ہیں کہتے لوگ کچھ فرمائیں۔ نازل آیتیں دو نے لله تو کردو، زیاده روایت والی ظہر نزدیک کے بلاذری لیکن آیا میں فجر نماز حکم کا بڑا نے کتاب اہل پر حکم کے قبلہ تحویل ۔)٢٧٢ ۔٢٧١ ص( ہے صحیح میں روایت بالا مذکوره نے بلاذری جانب کی جس کیا، ظاہر عمل رد سخت کی پہلو واقعاتی اور تاریخی کے قبلہ نے بلاذری ہے۔ کیا اشاره محض

ہے۔ ڈالی روشنی مختصراً جانب کے رمضان ماه مطابق کے بیان کے بلاذری فرضیت: کی روزه شعبان فی رمضان شہر صیام فرض ہوئے۔ فرض میں ھ٢ شعبان روزے

(٢٧٢ ص( ۔ الہجر من اثنتین سنۃ میں ھ کہ ہیں لکھتے آگے میں روایت اسی : حکم کا شراب حرمت الخمر۔ حرمت الہجر من اربع سنۃ وفی ہوا نازل حکم کا شراب حرمت

(٢٧٢ ص( واقعہ اس میں سیرت واقعات مدنی پیدائش: کی لڑکے پہلے میں مدینہ جو ہے وه غالباً وجہ کی اس ہے۔ کیا بیان ساتھ کے اہمیت نے مورخین کو کے کسی ہاں کے مہاجرین پہلے سے اس کہ ہے لکھی نے شبلی علامہ جادو نے یہودیوں کہ تھا ہوگیا مشہور یہ لیے اس تھی، ہوئی نہیں اولاد کا خوشی نے مہاجرین تو ہوئے پیدا زبیر بن عبدلله حضرت ہے۔ کردیا میں ھ٢ کہ لکھا اتنا کے اشاره کسی بغیر نے بلاذری )،٢۵( کیا بلند نعره

عبدلله بن زبیر مدینہ میں پیدا ہوئے۔ اور اسی سال نعمان بن بشیر کی بھی پیدائش ہوئی۔ اصحاب رسول میں مدینہ میں سب سے پہلے پیدا ہونے والے یہی دونوں ہیں ص( ۔)٢٧٢ و ہما اول مولودین بالمدینۃ فی الاسلام من

اصحاب رسول لله صلی لله علیہ وسلم۔ اصحاب صفہ کا تذکره: مدینہ میں جب مسجد نبویؐ کی تعمیر ہوئی تو چند لوگوں نے مشاغل دنیوی سے ہٹ کر صرف عبادت اور آنحضورؐ سے دین سیکھنے کی غرض سے آپؐ کی خدمت میں رہنا پسند کیا۔ یہ لوگ مجرد تھے۔ مسجد نبوی کے ایک طرف ان لوگوں کے لیے ایک سایہ دار چبوتره تیار کیا گیا، اسی پر یہ لوگ رہتے۔ بلاذری ان اصحاب صفہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ اصحاب رسولؐ میں بعض نادار لوگوں کے پاس مکان نہیں تھا۔ یہ لوگ مسجد کے چبوتره پر پناه گزیں تھے۔ ان میں واثلہ بن الاسقع الکنانی، ابوقرصافہ، ابو ہریره، ابوذر ان( کے سلسلہ میں اختلاف ہے)، نبیط بن شریط الاشجعی، طلحہ بن عمرو لیثی اور بعض کے مطابق طلحہ بن عبیدلله تھے )،٢٧٢( جو بعد میں بصره چلے گئے تھے۔ ان کے علاوه عباد بن خالد الغفاری تھے، جن کا انتقال امیر معاویہؓ کے زمانہ میں ہوا، ربیعہ بن کعب اسلمی خادم رسولؐ جنہوں نے ایک مدت تک آپؐ کی صحبت اٹھائی اور ایام حره تک زنده تھے، جرہد بن زراح اسلمی ابو عبدالرحمٰن جو امیر معاویہ اور بعض کے مطابق یزید کے زمانہ تک زنده تھے اور

یعیش بن طلیحہ وغیره بھی اصحاف صفہ میں ہیں۔ ص( (٢٧٣ اصحاب صفہ کی ناداری اور بھوک کے متعلق واثلہ سے مروی

دو روایتیں نقل کی گئی ہیں۔ پہلی مختصر روایت میں واثلہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کے پاس مکمل کپڑا میسر نہیں تھا، جس کے سبب گرد و غبار اور پسینوں نے ہماری جلدوں مشاموں)( میں راستے بنا لیے تھے ۔)٢٧٢( قد جعل الغبار

والعرق فی جلودنا طرقا۔ دوسری قدرے مفصل روایت میں واثلہ کہتے ہیں ہم بیس لوگ صفہ پر رہتے تھے، ایک مرتبہ ہم کو بھوک لگی تو کم سنی کے سبب لوگوں نے مجھے آپؐ کی خدمت میں بھوک کی شکایت کی غرض سے بھیجا، آپؐ اپنے گھر تشریف لے گئے، پوچھا کوئی چیز ہے؟ جواب ملا، ہاں۔ روٹی کے چند ٹکڑے اورتھوڑا سا دودھ، آپؐ نے فرمایا لاؤ، آپؐ نے اس کو خوب باریک کیا۔ اس پر دودھ ڈال کر ثرید کی طرح بنا ڈالا۔ پھر فرمایا واثلہ اپنے دس ساتھیوں کو بلاؤ، اس کے بعد پھر دس کو بلایا، میں

بیٹھ لوگ جاؤ، بیٹھ کرکے لله بسم فرمایا نے للهؐ رسول کیا، ہی ایسا نے حصہ والے بی کرو، شروع کھانا سے کنارے کرکے لله بسم فرمایا گئے۔ ہوتی نازل پر حصہ والے بی سے اوپر برکت کہ لیے اس کھانا۔ مت سے جاؤ، فرمایا، نے آپؐ تو ہوگئے، سیر شکم لوگ کہ دیکھا نے میں ہے۔ ان جیسے کہا ہی ویسے بھی سے ان نے آپؐ بھیجو، کو ساتھیوں دوسرے ہوگئے۔ آسوده خوب بھی وه چنانچہ تھا، کہا سے والوں آنے پہلے کے کر دیکھ برکت قدر اس میں دودھ سے تھوڑے اور ٹکڑوں چند کے روٹی رأیت۔ مما متعجبا وقسمت لفضلۃ فیھا وان ۔)٢٧٣( ہوا تعجب سخت مجھے اندازه لوگ تھی۔ نہیں اذان لیے کے باجماعت نماز پہلے : آغاز کا اذان اور آنحضورؐ کہ ہیں لکھتے بلاذری تھے۔ پڑھتے نماز اور آتے کرکے کیا طے کچھ لیے کے جماعت نماز کہ کیا مشوره باہم نے کرام صحابۂ کہ ہے روایت دیا، مشوره کا بگل نے بعض اور ناقوس نے بعض جائے۔ جائے کی نہ حرکت کوئی کی قسم اس کہ دیکھا خواب نے عمرؓ حضرت یجعلوا لا ان نومہ فی رأی جائے کیا اعلان میں لوگوں لیے کے نماز بلکہ خدمت کی للهؐ رسول وه پس ۔)٢٧٣ ص( بالصلا یؤذنوا وان ذٰلک من شیئا تم وحی ، عمر فرمایا، نے للهؐ رسول تو بتایا خواب اپنا ہوئے، حاضر میں والی اذان تجویز کی زید بن عبدلله نے بلاذری ۔)٢٧٣( گئی لے سبقت پر ان کہ دیکھا خواب نے زید بن عبدلله کہ ہیں لکھتے ہے۔ کی نقل بھی روایت اس نے انہوں گذرا، تھا ناقوس پاس کے جس شخص ایک سے پاس کے دیا جواب کروگے؟ کیا کا اس تم کہا نے اس بیچوگے؟ ناقوس کہ پوچھا سے اس گا، بجاؤں لیے کے کرنے اکٹھا لیے کے نماز کو لوگوں کو اس میں سنادی۔ اذان پوری نے اس دوں، بتا نہ چیز بہتر سے اس کو تم میں کہا، نے وحی پہلے سے اس ہیں لکھتے بلاذری دی، اطلاع کو آنحضورؐ نے عبدلله

اً)ایض( دی۔ اذان نے انہوں بلایا، کو بلال نے آپؐ تھی۔ آچکی سےآنحضورؐمتعلقکےاذاننے عمرؓحضرتمطابقکےبلاذری

میں سلسلہ اس میں لوگوں کہ ہے بیان کا بخاری لیکن کیا ذکر کا خواب اپنے پیش ہے) ہوچکا اوپر ذکر کا جن( تجویزیں متعدد اور تھی جاری شنید و گفت مقابلہ کے رایوں کی لوگوں دوسرے نے عمرؓ حضرت تو تھیں، جارہی کی ایک کہ یہ یعنی بالصلا ینادی رجلا تبعثون اولا کہ کی پیش تجویز یہ میں لکھتے الباری فتح صاحب ۔)٢ ( کرے اعلان کا نماز جو جائے بھیجا آدمی الصلوٰ اور فرمایا پسند کو رائے کی عمرؓ حضرت نے آنحضورؐ کہ ہیں بھی خود نے آنحضرتؐ بعد کے اس کردیا۔ اعلان کا اس سے لفظ کے جامعۃ کو اذان ساتھ کے الفاظ مروجہ کے اذان بھی نے صحابہ دوسرے بعض اور

قبول کر سمجھ لله جانب من کو اس نے آنحضرتؐ اور دیکھا میں خواب اس نے بلاذری ۔)٢٧( فرمائی جاری اذان مروجہ مطابق کے اسی اور فرمایا انہوں ذکر کا اس چونکہ آیا، پیش کب واقعہ یہ کہ ہے کی نہیں صراحت کی جاسکتا کہا یہ لیے اس ہے کیا بعدکے واقعات کے سال پہلے کے ہجرت نے

ہوا۔ میں ہجری آغازایک کا اذان کہ ہے کیا نقل بیان یہ کا راویوں میں آخر تحت کے باب اسی نے بلاذری جمعہ تھے۔ پڑھتے نماز لوگ میں جن تھیں مسجدیں نو میں مدینہ کہ ہے

(٢٧٣ ص( تھے۔ پڑھتے ساتھ کے آنحضورؐ

حواشی

رام کاشی ،٨٩ و ٨١ ص ،١ ج پوری، منصور سلیمان قاضی للعالمین، رحمۃ )١) ( ٣( ۔۵۵ ص ،١ ج ،النبیؐ ہجر باب بخاری، صحیح )٢( ء۔١٩٢ لاہور پریس، المستدرک) ( ۔١٩ ص ،٢ ج الصحابہ، تمیز فی الاصابہ )۵( ایضاً۔ ) ( ایضاً۔ دارالکتب عطا، القادر عبد مصطفیٰ تحقیق ،١٠ ص ،٣ ج للحاکم، الصحیحین علی ج ی،النب ہجر باب والنہایہ، البدایہ )٧( ء۔٢٠٠٢ ثانی طبع لبنان، بیروت العلمیہ، تخریج )٨( ء۔١٩٨٨ اول طبع بیروت، العربی، التراث احیاء دار ،٢٣٣ ص ،٣ الاسلامی، المکتب ،١٩٨۵ ص البانی، الدین ناصر محقق المصابیح، مشکوٰ ص ،١ ج للعالمین، رحمۃ )١٠( ۔١۵٧ ص ،١ ج سعد، ابن )٩( ثالث۔ طبع بیروت، النبیؐ، سیر )١٢( ہے۔ دیا نہیں حوالہ کا ماخذ لیکن ،٨٣ ص ایضاً، )١١( ۔٨٩ ھ۔١٢ ٣ مصطفائی، مطبع ،۵ ص المخزون، سرور )١٣( ۔١٩٢ ص ،١ حصہ (١ ( ۔٣۵٩ ص ،١ ج ہشام، ابن )١۵( ۔١٩٨ ص ،١ حصہ النبیؐ، سیر )١ ) النبیؐ، سیر )١٧( ۔٢٩٧ ص ،١ ج ہشام ابن و ١ ٠ ص ،١ ج سعد، ابن دیکھیے ۔ ٩٠ ص ،٢ ج اصابہ،)١٩( ۔٢٩٩ ص ،١ ج ہشام، ابن )١٨( ۔١٩٨ ص ،١ حصہ ص ،١ج زرقانی، الباقی عبد محمد للدنیہ، ا المواہب علی الزرقانی شرح )٢٠) المصطفیٰ باخبار الوفاء وفاء )٢١( ء۔١٨٧٠ مصر میسیریہ، مکتبہ ، ١۵ - ١ ء۔ ١٩٠٨ الآداب، مطبعۃ سمہودی، سید بن علی الدین نور المصطفیٰ، دار باخبار ، ١ ج ، ہشام ابن دیکھیے )٢٣( ۔٢٠٧ ص ،١ حصہ النبیؐ، سیر دیکھیے )٢٢) (٢ ( ۔٢١ ص ایضاً، )٢۵( ۔٢١ ص ،١ حصہ النبیؐ، سیر )٢ ( ۔٣٠ ص ص ،٢ ج الباری، فتح )٢٧( ۔٨۵ ص ،١ج الاذان، بدء باب الاذان کتاب بخاری

۔ ٢

(٢)

علامہ میں جن ہے خیال کا علم اہل کئی ترکیبی: عناصر کے شاعری کے شاعری نغمہ اور خیال قافیہ، وزن، کہ ) ۵ہیں( شامل بھی رشیق ابن ہوئے کرتے اختلاف سے خیال اس نے شبلی ہیں۔ ترکیبی عناصر بنیادی کہ: ہے لکھا ایک عمده شعر میں بہت سی باتیں پائی جاتی ہیں۔ اس میں وزن ہوتا ہے، محاکات ہوتی ہے یعنی کسی چیز یا کسی حالت کی تصویر کھینچی جاتی ہے، خیال بندی ہوتی ہے، الفاظ ساده اور شیریں ہوتے ہیں، بندش صاف ہوتی ہے، طرز ادا میں جدت ہوتی ہے لیکن کیا یہ سب چیزیں شاعری کے اجزاء ہیں؟ کیا ان میں سے ہر ایک چیز ایسی ہے کہ اگر وه نہ ہوتی تو شعر شعر نہ ہوتا۔ اگر ایسا نہیں ہے اور قطعاً نہیں ہے تو ان تمام اوصاف میں خاص ان چیزوں کو متعین کردینا چاہیے جن کے بغیر شعر شعر نہیں رہتا۔ عام لوگوں کے نزدیک یہ چیز وزن ہے اس لیے عام لوگ کلام موزوں کو شعر کہتے ہیں لیکن محقق کی یہ رائے نہیں۔ وه وزن کو شعر کا ایک ضروری جز سمجھتے ہیں تاہم ان کے نزدیک وه شاعری کا اصل عنصر

نہیں ہے۔ ارسطو کے نزدیک یہ چیز محاکات یعنی مصوری ہے ۔ آر زیڈ۔ ٩٠١ بی، فلیٹ نمبر ، ٠٢ گلی نمبر ،٢ تغلق آباد ایکسٹینشن، نئی دہلی ۔١١٠٠١٩

اور ہو تخئیل میں چیز کسی اگر ہے۔ نہیں صحیح بھی یہ لیکن

میں جن ہیں شعر سینکڑوں ہوگا۔ نہ شعر وه کیا تو ہو نہ محاکات

وه کے اس باوجود اور ہے تخئیل صرف بجائے کے محاکات محاکات کہ جائے کہا یہ شاید ہیں۔ جاتے کیے خیال اشعار عمده نہیں باہر سے دائره کے اس تخئیل کہ ہے مفہوم وسیع ایسا دو دونوں یہ لیکن ہے۔ محاکات بھی تخئیل لیے اس جاسکتی

اور محاکات ہے، نام کا چیزوں دو دراصل شاعری ہیں۔ چیزیں شعر شعر تو جائے پائی بھی بات ایک سے میں ان تخئیل۔ سلاست، یعنی اوصاف اور باقی ہوگا، مستحق کا کہلانے بلکہ نہیں اصلی اجزائے کے شعر وغیره بندش حسن صفائی،

) ( ۔ ہیں مستحسنات و عوارض تخئیل اور محاکات عناصر اصلی کے شاعری الحقیقت فی کیا لیکن خیال وزن، علاوه کے الفاظ کہ ہے خیال کا سطور راقم میں بارے اس ہیں؟ سے میں ان اگر ہیں۔ رکھتے حیثیت کی اجزاء اصلی کے شعر نغمہ اور شاعری ہوگا۔ نہ اطلاق کا شعر میں معنی حقیقی پر اس پھر تو ہو نہ ایک بڑھ تاثیر کی شعر سے جس نغمہ کیونکہ ہے نہیں ضروری قافیہ لیے کے کے شاعر پابندی کی قافیہ ہے۔ موجود میں صورت کی وزن ہے جاتی سے وجہ کی پابندی اس ہے۔ رکاوٹ بڑی ایک میں راه کی عمل تخلیقی ادا طرح اس ہے چاہتا کرنا ادا طرح جس کو جذبات و خیالات اپنے شاعر ہوتا پیدا بھی آورد اور تکلف میں کلام سے اس ہے۔ رہتا قاصر سے کرنے ادائیگی کی مطلب ساتھ کے پابندی کی قوافی شاعر کوئی اگر بھی پھر ہے۔ کیونکہ ہوگا اضافہ یقیناً میں حسن کے شعر سے اس تو ہے قادر بخوبی پر

ہے۔ جاتا بڑھ حسن صوتی کا کلام سے تکرار کی قوافی وزن ہم چراغ جوہےحیثیت وہی کیمتخیلہ قوتمیںشاعری : حقیقت کی تخئیل کسی اگر ہے۔ کی پرواز پرِ کے اس میں جسم کے طائر ایک یا کی تیل میں جائے سمجھا نہیں شاعر میں معنی حقیقی وه تو ہو نہ موجود قوت یہ میں شاعر کے اس وه ہے کرتا ادراک کا چیزوں جن ذریعہ کے خمسہ حواس انسان گا۔ ہے کرتی استعمال کو مواد اس متخیلہ قوت ہیں۔ ہوجاتی جمع میں خیال خزانۂ مضامین اور خیالات نئے نئے کر دے ترکیب سے طرح طرح کو ان اور

ہے۔ قوت اختراعی ایک وه کہ ہوا معلوم سے اس ہے۔ کرتی تخلیق کہ: ہے لکھا ہوئے کرتے بحث پر تخئیل نے شبلی مولانا کے لوگوں عام ہے۔ نام کا اختراع قوت دراصل وه

جاسکتا کہا نہیں تخئیل صاحب موجد کا فلسفہ یا منطق نزدیک جائے کیا خطاب سے لقب اس کو داں فلسفہ کسی خود اگر بلکہ شاعری اور فلسفہ کہ ہے یہ حقیقت لیکن گا۔ آئے عار کو اس تو ہے تخئیل قوت یہی ہے۔ ضرورت یکساں کی تخئیل قوت میں دیتی کام کا مسائل اکتشاف اور ایجاد میں فلسفہ طرف ایک جو کرتی پیدا مضامین شاعرانہ میں شاعری طرف دوسری اور ہے

اور رکھتے نہیں مذاق کا شاعری داں سائنس اکثر چونکہ ہے۔

پیدا فہمی غلط یہ لیے اس ہیں ہوتے نامانوس سے فلسفہ و شعر نہیں، تعلق سے سائنس اور فلسفہ کو تخئیل قوت کہ ہے ہوتی جاننے فلسفہ یا سائنس عام شبہہ بے ہے۔ نہیں صحیح یہ لیکن لیکن رکھتے، نہیں تخئیل قوت نہیں، ایجاد قوت میں جن والے سے تخئیل قوت کی ان ہیں موجد کے فن یا مسئلہ کسی لوگ جو

قدر اسی میں ارسطو اور نیوٹن ہے۔ کرسکتا انکار کون البتہ میں، فردوسی اور ہومر قدر جس تھی تخئیل قوت زبردست قوت کی دونوں اور ہیں مختلف مقاصد و اغراض کے دونوں سائنس اور فلسفہ ہے۔ الگ الگ طریقہ کا استعمال کے تخئیل ایک کہ ہے ہوتا سے غرض اس استعمال کا تخئیل قوت میں

یہ سے تخئیل میں شاعری لیکن جائے۔ کردیا حل مسئلہ علمی

( ٧( ۔ ہو تحریک کو انسانی جذبات کہ ہے جاتا لیا کام

نقد پر کلام کے شاعروں مختلف میں العجم شعر نے شبلی علامہ

مثلاً ہے۔ کیا واضح خوب کو مفہوم کے تخئیل قوت ہوئے کرتے تبصره و کہ: ہے لکھا میں بیان کے خصوصیات کی شاعری کی گنجوی نظامی کی ان میں مقامات مشکل اور نازک تمام کے شاعری

ہیں، آتی نظر صناعیاں غریب و عجیب کی اختراع اور جدت میں، تمہید میں، واقعات ترتیب ہیں۔ کھنچتے خاکے کے قصہ استعارات میں، تشبیہات میں، مضامین بندش میں، نگاری واقعہ

ہے ہوتا ثابت اور ہے آتا نظر انداز نیا جگہ ہر میں مبالغوں میں، زبردست اور قوی قدر کس امیجینیشن)( تخئیل قوت کی ان کہ

( ٨( ۔ ہیں) دی مثالیں آگے( ہے

کہ: ہے لکھا نے شبلی مولانا میں ذکر کے فردوسی

میں اس بظاہر پر بنا اس ہیں واقعات سرتاپا میں شاہنامہ

اس کہ ہو قدر اس صرف کام کا شاعری اگر لیکن نہیں۔ تخئیل کھین تصویر کی اس بعینہٖ ہے موجود واقعہ جو سامنے کے

اکثر لیکن ہے مصوری اور نگاری واقعہ صرف یہ تو دے واقعہ ہے۔ پڑتا لینا کام زیاده سے اس کو شاعر پر موقعوں ایک کا اس شاعر ہے۔ ہوتا کیف بے اور ساده اجمالی، محض ہے، کرتا آمیزی رنگ میں اس جابجا ہے، کرتا قائم خاکہ عام کرتا اجاگر کو بعض ہے، رکھتا دھندلا دھندلا کو واقعات بعض تخئیل کام سب یہ ہے۔ چڑھاتا رنگ کا جذبات موقع بہ موقع ہے۔ ( ٩( ۔ ہے تخئیل تر تمام شاہنامہ پر بنا اس اور ہیں متعلق سے قوت نزدیک کے شبلی مولانا کہ ہوا معلوم سے اقتباسات مذکوره

ہے، محدود تک تصرف میں جذبات و خیالات صرف عمل دائره کا متخیلہ کہ ہے لکھا نے علم اصحاب بعض ہیں۔ باہر سے تصرف دست کے اس الفاظ ہے۔ کرتی بھی کام کا ترکیب و انتخاب کے الفاظ طرح کی خیالات تخئیل قوت

کہ: ہے لکھا نے انہوں تھا۔ خیال یہی بھی کا حالی مشکل ہی ایسی بھی کرنی تعریف کی امیجینیشن)( یا تخئیل

کا ماہیت کی اس وجہٍ من مگر تعریف۔ کی شعر کہ جیسی ہے ایسی ایک وه یعنی ہے ہوسکتا پیدا میں دل سے لفظوں ان خیال ذریعہ کے مشاہده و تجربہ جو ذخیره کا معلومات کہ ہے قوت ترکیب مکرر کو اس یہ ہے ہوتا مہیا سے پہلے میں ذہن سے کے الفاظ کو اس پھر اور ہے بخشتی صورت نئی ایک کر دے پیرایوں معمولی جو ہے کرتی گر جلوه میں پیرایہ دلکش ایسے

کہ ہے ظاہر سے تقریر اس ہے۔ ہوتا الگ قدر کسی یا بالکل سے اسی ہے ہوتا میں خیالات طرح جس تصرف اور عمل کا تخئیل

( ۵٠( ۔ ہے ہوتا بھی میں الفاظ طرح اور خلاقی میں فطرت کی متخیلہ قوت چونکہ : اعتدالی بے کی تخئیل ہے ضروری حد بے رکھنا میں اعتدال حد کو اس لیے اس ہے پروازی بلند لازمی ہونا پیدا کا اعتدالی بے میں تراکیب و الفاظ اور خیال و فکر ورنہ معلومات میں ذہن کے شاعر وجہ ایک کی اعتدالی بے کی متخیلہ قوت ہے۔ تو ملتی نہیں غذا مناسب کو متخیلہ قوت جب ہے۔ ہوتی کمی کی ذخیره کے ازکار دور نام کا غذا فاسد اس ہے۔ ہوجاتی مائل طرف کی غذا فاسد وه کر ڈھل میں قالب کے اسالیب و الفاظ الفہم عسیر جو ہیں مضامین و خیالات خیره لیکن ہے گوئی مہمل مقام آخری کا اعتدالی بے اس ہیں۔ ہوتے ظاہر اور آفرینی نکتہ خیالی، نازک کو اس نظر کوتاه بعض کہ کہیے کیا کو ذوقی

ہیں۔ کرتے تعبیر سے پروازی بلند کی فکر

کے مثالوں نے انہوں تھے۔ آگاه سے عیب شعری اس شبلی مولانا

کہ: ہے لکھا ساتھ بے کا تخئیل کہ نہیں بدقسمتی کوئی زیاده سے اس کی شعر

یونانی طرح جس متعلق کے طبیعیات جائے، کیا استعمال جا

اور ہیولیٰ پیرو کے ان تک آج اور گئیں بیکار قوتیں کی حکماء بھی عقده ایک کا کائنات کر الجھ میں بحثوں فضول کی صورت

ہوا۔ حال یہی بھی کا شعراء متاخرین ہمارے بعینہٖ کرسکے۔ نہ حل رائگاں بالکل افسوس لیکن ہے زیاده سے قدماء تخئیل قوت کی ان

میں مبالغہ موقع کا اعتدالی بے زیاده سے سب کو تخئیل قوت ۔ گئی

اور اصلیت لیے کے مبالغہ کہ ہے گیا کرلیا تسلیم یہ ہے، ملتا

بلند کر کھول جی تخئیل قوت پر بنا اس نہیں ضرورت کی واقعیت

کو اس کی روی راه بے اور روی کج اور ہے دکھاتی پروازی ہے: کہتا میں تعریف کی گھوڑے شاعر ایک مثلاً ہوتی، نہیں پرواه برند تازیانہ نام و در یکہ کشور بہ

آرام او شبیہِ نگیرد سنگ لوحِ بہ

کرائی کنده تصویر کی گھوڑے اس پر پتھر کسی اگر یعنی

تو جائے لیا کانام کوڑے ہو، پتھر یہ جہاں میں ملک اس اور جائے اسگھوڑاکہتھیقدراسباتاصلگی۔جائےاُڑسےپتھرتصویر مبالغہ رہتا۔ نہیں میں قابو سے اشارے کے کوڑے کہ ہے تیز قدر (۵١( ۔ ہوگئی پیدا اعتدالی بے سخت اور گئے بڑھ بہت مدارج کے ہے کرنا بیان طرح اس کو حالت یا چیز کسی مفہوم کا محاکات : محاکات شبلی مولانا میں محاکات اور تصویر جائے، پھر میں آنکھوں تصویر کی اس کہ علاوه کے اشیاء مادی ذریعہ کے تصویر میں خیال کے ان ہے۔ کیا فرق نے ایسی کیفیتیں یا حالتیں بعض لیکن ہے جاسکتی کھینچی تصویر بھی کی جذبات طرح جس ہوا میں چمن و باغ مثلاً ہیں، باہر سے دسترس کی تصویر جو ہیں گل اور شاخیں اور ہے کرتی اٹکھیلیاں میں درمیان کے پھولوں اور شاخوں شاعر صرف کشی تصویر پوری کی اس ہیں، جھومتے میں عالم کے سرمستی ہوں: ملاحظہ اشعار ذیل درج کے قصیده یہ بہار ایک کے قاآنی ہے۔ کرسکتا خیزد می گلاں زیر ، نسیم نرمک نرمک

مزد می آں عارض ، مکد می ایں غبغبِ

گزد می آں گردنِ ، کشد می ایں سنبلِ

وزد می سمن بہ گہ ، چمد می چمن بہ گہ

جوئبار لبِ بہ گہ ، درخت ِبشا گاه

یعنی مہکی مہکی ہوا آئی، پھولوں میں گھسی، پھول کا گال چوم لیا، کسی کی ٹھوڑی چوس لی، کسی کے بال کھینچے، کسی کی گردن دانت سے کاٹی، کیاریوں میں کھیلتے کھیلتے چنبیلی کے پاس پہنچی اور درخت کی ٹہنیوں میں سے ہوتی

ہوئی نہر کے کنارے پہن ۔ گئی ۵٢(( مذکوره اشعار پر تبصره کرتے ہوئے مولانا شبلی نے لکھا ہے کہ: اس سماں کو مصور تصویر میں کیوں کر دکھا سکتا

ہے۔ یہ تو مادی اشیاء تھیں۔ خیالات، جذبات اور کیفیات کا ادا

کرنا اور زیاده مشکل ہے۔ تصویر اس سے کیوں کر عہده برآ

ہوسکتی ۔ ہے (۵٣( مولانا شبلی نے محاکات اور تخئیل میں فرق کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ محاکات تخئیل ہی کا ایک جلوهٔ گریزاں ہے۔ منظر کشی ہو یا واقعہ نگاری یا جذبات دل کا بیان سب قوت تخئیل کے مرہون منت ہیں، اس لیے

محاکات کو اس سے الگ کرنا صحیح نہ ہوگا۔ تشبیہ و استعاره : مولانا شبلی نے دیگر محاسن شعر کی طرح تشبیہ و استعاره کی وضاحت بھی بڑی باریک بینی کے ساتھ کی ہے اور مثالوں

سے اس کو اس طرح واضح کیا ہے: اگر ہم یہ کہنا چاہیں کہ فلاں شخص بہت شجاع ہے تو اگر

ان ہی لفظوں میں اس مضمون کو ادا کریں تو یہ معمولی طریقۂ

ادا ہے۔ اسی بات کو اگر یوں کہیں کہ وه شخص شیر کے مثل

ہے تو یہ تشبیہ ہوگی اور معمولی طریقہ کی بہ نسبت کلام میں کچھ زیاده زور پیدا ہوجائے گا۔ اگر یوں کہیں کہ وه شخص شیر ہے تو زور اور بڑھ جائے گا لیکن اگر اس شخص کا مطلق ذکر

نہ کیا جائے اور یوں کہا جائے کہ میں نے ایک شیر دیکھا اور

اس سے مراد وہی شخص ہو تو استعاره ہے۔ اسی مطلب کو ادا کرنے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ شیر کا نام بھی نہ لیا جائے بلکہ شیر کے جو خصائص ہیں، اس شخص کی نسبت استعمال

کیے جائیں، مثلاً یوں کہا جائے کہ وه جب میدان جنگ میں ڈکارتا ہوا نکلا تو ہلچل ۔ پڑگئی یہ بھی استعاره ہے اور پہلے

طریقہ کی بہ نسبت زیاده لطیف ۔ ہے (۵ ( تشبیہ اور استعاره کا مفہوم مزید واضح کرنے کے لیے راقم

الحروف ایک دو مثالوں کا اضافہ کرتا ہے۔ میر تقی میر کا شعر ہے:

کہیے کیا کی لب کے ان نازکی

ہے سی کی گلاب اک پنکھڑی

الفاظ ساده اور تھا چاہتا کرنا بیان نزاکت کی لبوں کے محبوب شاعر

لب کے اس کہ تھا سکتا کہہ یہ زیاده سے زیاده وه تھا۔ نہ ممکن یہ ذریعہ کے ہے۔ وضاحت محتاج ابھی کیفیت کی نزاکت اس لیکن ہیں۔ نازک زیاده بہت مفہوم کا نزاکت کی لبوں دی تشبیہ سے پنکھڑی کی گلاب جونہی نے اس کے دبیر مرزا میں وضاحت کی مفہوم کے استعاره ہوگیا۔ متشکل اور واضح

ہے: پیش ذیل مصرعہ کا مرثیہ ایک ہے رہا کانپ رن کہ ہے آمد کی شیر کس

اس بیان کا جلال و رعب کے اس اور بہادری کی باز جاں مرد کسی کو وصف کے بہادری نے زبان کی استعاره نہیں۔ ممکن پر طریقہ بہتر سے ڈکارتا نکلا ہے: مصرعہ ایک کا انیس میر میں معنی اسی کردیا۔ نمایاں بالکل یہ کی نکلنے کے آزما تیغ مرد ایک میں جنگ میدان سے۔ کچھار ضیغم ہوا معمولی غیر کوئی کہ ہے ہوتا معلوم صاف ہے۔ کشی تصویر عمده نہایت

ہے۔ رہا دے مبارزت دعوت میں کارزار میدان جو ہے شخص شجاع سے اعتدالی بے میں استعاره و تشبیہ کہ ہو نہ فراموش بات یہ لیکن کی استعاره و تشبیہ ہے۔ ہوتی متاثر خیال ندرتِ اور سادگی فطری کی شعر نے شبلی مولانا ہوں، نہ الفہم عسیر ہوں، لطیف اور نادر وه کہ ہے یہ خوبی اور لطافت میں استعاره و تشبیہ سے جن ہے، ڈالی روشنی پر امور تمام ان

(۵۵( ہے۔ ہوتی پیدا ندرت حاصل برتری کو لفظ میں شعر کہ ہے قدیم نہایت بحث یہ معنی: و لفظ گروه ایک ہیں۔ گروه دو کے فن اہل میں مسئلہ اس کو۔ خیال یعنی معنی یا ہے اور ہے دیتا حیثیت ثانوی کو معنی اور ہے قائل کا خوبی و حسن کے الفاظ ہم کے گروه پہلے شبلی علامہ ہے۔ رکھتا خیال برعکس کے اس گروه دوسرا کا لفظوں نہیں، مضمون کمال معیار کا شاعری کہ ہے خیال کا ان ہیں۔ نوا

ہیں: لکھتے ہے۔ بندش موزوں کی اس اور انتخاب اور اچھوتے ایسے ہیں خیالات اور مضامین جو میں گلستاں

میں ان نے تناسب و ترتیب اور فصاحت کی الفاظ لیکن نہیں نادر الفاظ معمولی کو خیالات اور مضامین ہی ان ہے۔ کردیا پیدا سحر نامہ ساقی کا ظہوری گا، رہے جاتا اثر سارا تو جائے کیا ادا میں سکندر لیکن ہے طلسم کا بندی مضمون موشگافی، خیالی، نازک وجہ کی اس ہے۔ بھاری پر نامہ ساقی پورے شعر ایک کا نامہ

اور شوکت و شان اور متانت وه کی الفاظ میں نامہ ساقی کہ ہے یہی (۵ ( ۔ ہے جوہر عام کا نامہ سکندر جو نہیں پختگی وه کی بندش

کہ: ہے لکھا نے شبلی مولانا پر مقام دوسرے ایک مناسب الفاظ اگر لیکن ہو نازک اور بلند ہی کتنا مضمون

کو شاعر لیے اس گی۔ ہوسکے پیدا نہ تاثیر کچھ میں شعر تو نہیں اسی ہے آیا میں خیال کے اس مضمون جو کہ چاہیے لینا سوچ یہ تو آسکیں نہ اگر نہیں؟ یا گے آسکیں میسر کو اس الفاظ کے درجہ پر مضامین معمولی اور ساده ہی ان چھوڑکر مضامین بلند کو اس عمده وه کو جن اور ہیں کے بس کے اس جو چاہیے کرنی قناعت

(۵٧( ۔ ہے کرسکتا ادا میں پیرایہ

اثر و حسن کا الفاظ کہ ہے اصرار کا داروں طرف کے معنی حسن

ہے ہوتا پُرعظمت پر بنا اسی لفظ ایک یعنی ہے۔ ہوتا سے وجہ کی ہی معنی شعر: یہ کا نظامی مثلاً ہے۔ ہوتی عظمت میں معنی کے اس کہ

آفتاب بلند خوں دجلۂ آں در

آب بر زورق افگند نیلوفر چو

کے دجلہ اگر کہ ہے ہوتا معلوم یہ بظاہر اگرچہ میں شعر اس

وہی معنی گو تو جائے کردیا کشتی بجائے کے ورق ز اور چشمہ بجائے جائے دیکھا سے غور زیاده لیکن گا۔ ہوجائے رتبہ کم شعر لیکن گے رہیں کے دجلہ ہے۔ اثر کا معنی بلکہ نہیں خصوصیت کی لفظ وجہ کی اس تو بھی کو نالی چھوٹی چشمہ کیونکہ ہے وسعت زیاده سے چشمہ میں معنی طرح اسی ہے۔ نام کا دریا بڑے ایک دجلہ کے اس بخلاف ہیں، سکتے کہہ میں ورق ز اور دجلہ پر بنا اس ہے، فرق میں حقیقت کی کشتی اور زورق (۵٨( سے۔ حیثیت کی لفظ نہ ہے، سے لحاظ کے معنی وه ہے عظمت جو کہ: ہے لکھا ہوئے کرتے تردید کی خیال مذکوره نے شبلی مولانا

نہیں میں معنی کے جن ہیں الفاظ ایسے سے بہت تو اولاً

اور ضیغم ہے۔ ہوتی شان اور رفعت میں آواز اور صورت بلکہ فرق خاص میں شکوه کے لفظوں لیکن ہیں ایک بالکل معناً شیر

قدر اس حیثیت لفظی میں الفاظ کے قسم اس علاوه کے اس ہے۔ ہوئی پیدا سے وجہ کی ہی معنی رفعتِ وه گو کہ ہے آگئی غالب لیے اس ہے، اثر کا ہی لفظ یہ کہ ہے سمجھتا یہی سامع تاہم ہے ۔ چاہیے کرنا منسوب طرف کی ہی الفاظ بھی اثر کا الفاظ ایسے

(۵٩)

میر میں ثبوت کے نمائی معجز اور خوبی کی الفاظ نے شبلی مولانا کیے نقل مصرعے معنی ہم دو کے ان اور ہے کیا پیش کو کلام کے انیس

ہیں: میں چمن ہے چہکتا کہ گو خوش بلبلِ تھا ؎

میں رسول ریاضِ تھا رہا چہک بلبل ؎

کی الفاظ وجہ کی اس ہے فرق جو میں اشعار ان کہ ہے لکھا اور اشعار کے مرثیے ایک کے ضمیر میر ہے۔ تناسب حسنِ کا ان اور فصاحت ہیں: دستار ہے پہ سر مرے کی کس ؟ ہو پہچانتے

نمودار پہ کاندھے ہے کی کس عبا ؟ تو دیکھو

تلوار ہے کی کس ، سپر کی کس ؟ زره کی کس یہ

رہوار یہ ہے کا کس ہوں آیا سوار پہ جس میں

ہے ردا کی کس یہ جسے میں کمر ہے باندھا

ہے سیا کو اس نہیں نے زہراؓ فاطمہ کیا

ہے: کیا ادا طرح اس کو واقعہ اس نے انیس میر دستار کی کس یہ بتلاؤ ؟ ہے کی کسی قبا یہ

فگار سینہ میں جو ہوں پہنے ؟ ہے کی کس زره یہ

دار جوہر آئینۂ چار یہ ؟ ہے کا کس مین بر

سوار ہوں پر جس میں آج یہ ہے رہوار کا کس

ہے کی کس دوسر تیغِ یہ ، ہے خود یہ کا کس

ہے کی کس سپر یہ ، ہے کمان یہ کی جری کس

کہ: ہے لکھا نے شبلی مولانا بعد کے کرنے نقل کو اشعار ان

ہیں، مشترک بالکل معنی اور مضمون میں بندوں دونوں

تک کہاں سے کہاں کو کلام نے پلٹ الٹ اور بدل ادل کے الفاظ ( ٠( ۔ ہے دیا پہنچا

کا الفاظ محض وجہ اصل کی خوبی کی شعر میں مثالوں مذکوره گفتگو پر اس ہے۔ شامل بھی خوبی کی ادا طرز میں اس بلکہ نہیں، بدل ادل کی ان مثلاً جہات مختلف کی الفاظ نے شبلی مولانا بہرحال ہے۔ آرہی آگے کے سیاست و تمدن پر الفاظ استعمال، کا ان سے لحاظ کے اصناف قسمیں، اور فصیح مثالیں، کی ان اور فرق معنوی لطیف میں مترادفات اثرات، بحث ساتھ کے رسی دقیقہ جس پر وغیره انتخاب کے ان اور الفاظ مانوس شبلی مولانا کہ ہے ہوتا ظاہر سے اس ہے۔ انگیز فکر اور عالمانہ وه ہے کی

( ١( تھی۔ الاطراف وسیع اور پختہ نہایت بصیرت لسانی اور ذوق شعری کا دونوں معنی و لفظ جو ہے میں علم اہل ان شمار کا رشیق ابن علامہ

میں العمده کتاب تصنیف معروف اپنی نے انہوں تھے۔ قائل کے اہمیت کی

: کہ ہے لکھا باہم ارتباط کا دونوں ہے۔ روح مضمون اور ہے جسم لفظ

تو ہوگا کمزور وه کہ ارتباط کا روح اور جسم کہ جیسا ہے ایسا

لفظ فقط اور ہو نہ نقص میں معنی اگر پس ہوگی۔ کمزور بھی یہ یا لنگڑے طرح جس گا، جائے سمجھا عیب میں شعر تو ہو میں ہے، ہوتا عیب میں بدن لیکن ہے ہوتی موجود روح میں لنجے بھی تب ہو نہ اچھا مضمون لیکن ہوں اچھے لفظ اگر طرح اسی گی۔ کرے اثر پر الفاظ خرابی کی مضمون اور ہوگا خراب شعر

بے بھی الفاظ تو ہوں اچھے الفاظ اور ہو لغو بالکل مضمون اگر سب میں دیکھنے یوں کہ جسم کا مرده طرح جس گے ہوں کار طرح اسی نہیں۔ بھی کچھ درحقیقت لیکن ہے سلامت کچھ

کار بے شعر بھی تب ہیں برے الفاظ لیکن ہو اچھا گو مضمون

( ٢( ۔ جاسکتی نہیں پائی کے جسم بغیر روح کیونکہ ہوگا، دیتے اہمیت کو ومعنی لفظ وحدت طرح کی رشیق ابن بھی حالی

میں سلسلہ اس ہے۔طرف کی ومضمون معنی غالب رجحان کا ان لیکنتھے

کہ: ہے کی نقل رائے کی خلدون ابن پہلے نے انہوں الفاظ محض میں نثر یا ہو میں نظم ہنر کا پردازی انشاء

ہیں تابع کے الفاظ صرف معانی نہیں۔ ہرگز میں معانی ہے، میں

ہیں موجود میں ذہن کے شخص ہر معانی ہیں۔ الفاظ اصل اور نہیں ضرورت کی کرنے اکتساب کے ہنر کسی لیے کے ان پس کو معانی کہ ہے کی بات اس صرف تو ہے ضرورت اگر ہے۔ ایسا کو الفاظ کہ ہیں کہتے وه جائے۔ کیا ادا میں الفاظ طرح کس پانی پانی، جیسے سمجھو ایسا کو معانی اور پیالہ جیسے سمجھو کے چاندی چاہے اور بھرلو میں پیالے کے سونے چاہے کو یا سونے مگر آتا نہیں فرق کچھ میں ذات کی پانی میں، پیالہ مٹی اور ہے جاتی بڑھ قدر کی اس میں پیالہ کے وغیره چاندی ماہر ایک قدر کی معانی طرح اسی ہے۔ ہوجاتی کم میں پیالہ کے کی فصیح غیر اور ہے ہوجاتی زیاده میں بیان کے فصیح اور

( ٣( ۔ ہے جاتی گھٹ میں زبان

لکھا نے حالی بعد کے کرنے نقل رائے کی ء)١ ٠ م( خلدون ابن

ہے کہ:

پر معانی قدر اس ہے، پر الفاظ قدر جس مدار کا شاعری

میں الفاظ عمده اگر ہوں لطیف اور بلند ہی کیسے معنی نہیں،

اور کرسکتے نہیں گھر میں دلوں ہرگز گے، جائیں کیے نہ بیان تحسین قابل سے ہونے ادا میں الفاظ پاکیزه مضمون مبتذل ایک کے شخص ہر وه کہ کر سمجھ یہ سے معانی لیکن ہے۔ ہوسکتا کی اکتساب کے ہنر کسی لیے کے ان اور ہیں موجود میں ذہن

اور ہوتا معلوم نہیں ٹھیک کرنا نظر قطع بالکل نہیں ضرورت

کو جن ہیں جمع خیالات چند وہی صرف میں ذہن کے شاعر اگر

کو اس باتیں معمولی وہی صرف یا ہیں گئے باندھ شعراء اگلے

نے اس اور ہیں ہوتی معلوم کو لوگوں عام جیسی ہیں معلوم بھی دی نہیں وسعت کو معلومات اپنی لیے کے تکمیل کی شاعری قوت اور ڈالی نہیں عادت کی مطالعہ کے فطرت صحیفۂ اور

اس پر زبان گو تو کیا نہیں جمع مصالحہ زیاده لیے کے متخیلہ

کو اس ہو حاصل قبضہ ہی کیسا پر الفاظ اور قدرت ہی کیسی کی

کو اس گی۔ آئے پیش ضرور مشکل ایک سے میں مشکلوں دو کے تغیر ہینتھوڑے چکے باندھ شعراء اگلے جو خیالات وہی باریک، گے، ہوں باندھنے بار بار پر اسلوب کے انہی ساتھ بیان اسلوب نئے نئے لیے کے مضمون پامال اور مبتذل نامقبول اور ہے مشتبہ ہونا مقبول کا جن گے، پڑیں ڈھونڈھنے میں الفاظ محض کمال کا شاعری کہ کہنا یہ پس قیاس، قرین ہونا سمجھا نہیں ٹھیک طرح کسی نہیں ہرگز میں معانی ہے

) ( ۔ جاسکتا

کہ ہے خیال کا سطور راقم میں معاملہ کے ترجیح میں معنی و لفظ شعر سے اہتمام و التزام کے دونوں اور ہے اہمیت جگہ اپنی اپنی کی دونوں حسن کے پھول ایک جیسے طرح اسی بالکل ہے ہوتا اضافہ میں خوبی کی دگر باہم میں ان اور ہے برابر حصہ کا پنکھڑی ہر کی اس میں جمال و کی دونوں معانی و الفاظ میں شاعری کی درجہ اعلیٰ ہے۔ محال ترجیح ناقابلِ کا اس تخلیقات شعری شاہکار کی دنیا ہے۔ لازمی ندرت و شوکت کی مضمون و معنی میں شاعری کی درجہ اوسط البتہ ہیں۔ ثبوت تردید کی الفاظ مدار کا کمال میں شاعری کی درجہ اس ہے۔ نہیں ضروری بلندی

ہے۔ پر خوبی کی ادا طرز اور چستی کی بندش فصاحت،

محاسن شعر: محاسن شعر سے مراد یہ ہے کہ وه کون کون سے اوصاف ہیں جن کو ہم ایک اچھے شعر کی اساس قرار دے سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ اگر کسی شاعر کے کلام میں یہ خوبیاں موجود ہوں تو اس کی شاعری حقیقی معنی میں شاعری ہے۔ عام طور پر واقعیت و اصلیت، سادگی اور حسن بیان یعنی جدتِ ادا کو محاسن شعر میں شمار کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں مولانا شبلی نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے، ان کو ہم اختصار کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ واقعیت و اصلیت: فن ادب کا یہ ایک مہتم بالشان مسئلہ ہے کہ کلام میں واقعیت سے کیا مراد ہے اور وه کس حدتک مطلوب ہے؟ بدقسمتی سے بہت سے اصحاب علم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ شاعری کذب اور مبالغہ کا نام ہے، یعنی جس کلام میں جتنا زیاده مبالغہ ہوگا وه اتنا ہی بلند ہوگا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمام بڑے شعراء کے کلام میں مبالغہ موجود ہے۔ مثلاً فردوسی نے کہا ہے: یکے خیمۂ داشت افراسیاب ز مشرق بہ مغرب تنیده طناب مرزا دبیر فرماتے ہیں:

کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے

رن ایک طرف ِچر کہن کانپ رہا ہے

رستم کا بدن زیرِ کفن کانپ رہا ہے

ہر قصرِ سلاطینِ ز من کانپ رہا ہے

شمشیر بکف دیکھ کے حیدر کے پسر کو

جبریل لرزتے ہیں سمیٹے ہوئے پر ( ۵کو(

اس بنا پر تسلیم کرلیا گیا کہ کذب و مبالغہ لوازم شاعری میں داخل

ہیں لیکن یہ ایک بڑا مغالطہ ہے۔ مولانا شبلی نے لکھا ہے کہ: جن لوگوں نے کذب و مبالغہ کو شعر کا زیور قرار دیا

ہے ان کی غلطی کی وجہ یہ ہے کہ کذب و مبالغہ میں تخیل کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً اگر گھوڑے کی نسبت یہ کہا جائے کہ وه ایک منٹ میں ایک کروڑ کوس طے کرلیتا ہے تو شعر

بالکل بے مزه اور مہمل ہوگا۔ اس لیے کوئی شاعر اس قسم کا مبالغہ کرنا چاہے گا تو ضرور ہے کہ تخیل سے کام لے گا۔ مثلاً ایک شاعر کہتا ہے: رو بہ رو سے اگر آئینہ کے ، اس گلگوں کو

پھینک دے لے کے کبھی شرق سے تو غرب تلک

اتنے عرصے میں پھر آئے تو اسے باور کر

عکس بھی آئینہ سے ہونے نہ پائے منفک

اس سے ظاہر ہوا کہ مبالغہ میں اگر کوئی حسن پیدا ہوتا

ہے تو تخئیل کی بنا پر ہوتا ہے نہ اس لیے کہ وه جھوٹ اور مبالغہ ہے۔ بعض مبالغوں میں تخئیل کے بجائے اور کوئی شاعرانہ حسن ہوتا ہے۔ غرض جب زیاده غور اور کاوش

کروگے تو معلوم ہوگا کہ مبالغہ کے جس قدر اشعار مقبول ہیں

ان میں مبالغہ کے سوا اور خوبیاں ہیں اور دراصل یہ انہی کا

اثر ۔ ہے ) ( شبلی کے نزدیک شاعری میں اصلیت و واقعیت کا ہونا ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر کوئی اعلیٰ شاعری وجود میں نہیں آسکتی، جس

کو بقائے دوام حاصل ہو۔ انہوں نے لکھا ہے کہ : شاعری سے اگر صرف تفریح خاطر مقصود ہو تو

مبالغہ کام آسکتا ہے لیکن وه شاعری جو ایک طاقت ہے، جو

قوموں کو زیر و زبر کرسکتی ہے، جو ملک میں ہلچل ڈال سکتی ہے، جس سے عرب قبائل میں آگ لگا دیتے تھے، جس کے نوحہ کے وقت در و دیوار سے آنسو نکل پڑتے تھے، وه واقعیت اور اصلیت سے خالی ہو تو کچھ کام نہیں کرسکتی۔ تم نے تاریخ میں پڑھا ہوگا کہ جاہلیت میں ایک شعر ایک معمولی آدمی کو تمام عرب میں روشناس کرادیتا تھا۔ بخلاف اس کے ایران کے شعراء نے جن ممدوحوں کی تعریف میں دفتر کے دفتر سیاه کردیے، ان کا نام بھی کوئی نہیں جانتا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ شعرائے جاہلیت کے کلام میں واقعیت ہوتی تھی، اس لیے اس کا واقعی اثر ہوتا تھا۔ ایرانی شعراء باتوں کے طوطا مینا بناتے تھے، جس سے دم بھر کی تفریح ہوسکتی تھی، باقی

۔ ہی ٧(( مولانا شبلی واقعیت کو بلاغت کی لازمی شرط مانتے تھے۔ انہوں

نے لکھا ہے کہ: بلاغت کے بہت سے اسالیب میں صرف اس وجہ سے

اثر اور حسن پیدا ہوتا ہے کہ اس میں واقعیت کا پہلو ہوتا ہے۔ شعر اس وقت تک کچھ اثر نہیں کرتا جب تک اس میں واقعیت

نہ ہو۔ عرب میں شاعری کا اوج شباب جاہلیت کا زمانہ ہے۔ اس

تھا۔ ہوتا واقعہ سرتاپا تھے کہتے کچھ جو شعراء میں زمانے ظاہر بھی کو اس تو ہے آیا بھاگ اگر شاعر سے جنگ میدان لکھا معرکہ کا دشمنوں اور اپنا نے شاعر جہنی ایک تھا۔ کردیتا میں بات ایک ایک لیے اس تھی، ہورہی لڑائی چونکہ ہے، وه ترجمہ)( ہے کہتا تک یہاں ہے، رکھا برابر پلہ کا مساوات

تو پلٹے ہم اور لوٹے واپس ساتھ کے نیزوں ہوئے ٹوٹے لوگ

( ٨۔( تھیں ہوگئی خم تلواریں ہماری متعلق کے اسکوٹ والٹر سر میں شاعری و شعر مقدمہ نے حالی

کہ: ہے لکھا ہے۔ گزرا شاعر مشہور ایک کا انگلستان جو ہیں، ایسی خاصیتیں دو میں نظموں خاص خاص کی اس

کرنا، نہ تجاوز سے اصلیت ایک ہے۔ کیا تسلیم نے سب کو جن کرنا۔ ادا سے اسلوب نئے نئے کو مطلب ایک ایک دوسرے

کیا بیان کا فضا کی پہاڑ یا جنگل اور باغ نے اس کہیں جہاں

جو میں روح کی موقع اس کہ ہے ہوتا معلوم سے اس ہے، سروالٹر تھیں۔ کرلی انتخاب سب وه نے سروالٹر تھیں، خاصیتیں جاتا بندھ سماں وہی بالکل سامنے کے آنکھوں کر پڑھ نظم کی

اور تھا ہوا معلوم سے دیکھنے کے موقع اس خود پہلے جو تھا،

( ٩( ۔ تھا گیا اتر سے دھیان اب

وه کہ ہے یہ خوبی کی شعر نزدیک کے شاعر عظیم جیسے ملٹن جوش سادگی، ۔)٧٠ہو( مبنی پر اصلیت اور ہو ہوا بھرا سے جوش ہو، ساده ہے: کی طرح اس نے اس وضاحت کی اس ہے مراد کیا سے اصلیت اور مراد سادگی کی لفظوں صرف سے سادگی

ہونے نہ دقیق اور نازک ایسے بھی خیالات بلکہ ہے نہیں

ہو۔ نہ گنجائش میں ذہنوں عام کی سمجھنے کے جن چاہئیں سیدھے کے تکلفی بے چلنا، پر عام شارع کے محسوسات

باز سے جولانیوں کو فکر اور ہونا نہ اُدھر ادھر سے رستے طالبوں کے اس رستہ کا علم ہے۔ سادگی نام کا اسی رکھنا

اس رستہ کا شعر کہ جیسا ہوسکتا نہیں صاف ایسا لیے کے پستی کو علم طالب چاہیے۔ ہونا صاف لیے کے سامعین کے

اور موجیں پتھر، اور کنکر ٹیلے، اور غار بلندی، اور

شعر لیکن ہے، ہوتا پہنچنا پر منزل کرکے طے گرداب

ملنی سڑک صاف اور ہموار ایسی کو والے پڑھنے یا سننے

کے اس نالے ندی جائے۔ چلا سے آرام وه پر جس چاہیے،

مکان اور درخت پھول، پھل اور ہوں رہے چل اُدھر اِدھر

دنیا ہوں۔ موجود جگہ ہر لیے کے کرنے ہلکی منزل کی اس

ہی ایسا ہمیشہ کلام کا ان ہیں ہوئے مقبول شاعر جو میں

سے ذہن ہر کی اس گیا۔ سنا ہی ایسا اور ہے گیا دیکھا اپنے نے ہومر ہے۔ ہوتی گنجائش میں ہردل اور مصالحت

کو اس کہ ہے کھینچا نقشہ ایسا کا نیچر جگہ ہر میں کلام قطبوں سے دوسرے ایک جو قومیں وه اور بوڑھے جوان، یکساں اور ہیں سکتی سمجھ برابر ہیں، رہتی پر فاصلے کے

پر چپے چپے کے محسوسات عالم ہیں۔ سکتی لے مزے سورج روشنی کی اس ، ہے پہنچا کلام کا اس کہ جہاں جہاں روشن برابر کو ویرانہ اور آباد وه ہے۔ ہوئی پھیلی طرح کی شیکسپیئر ہے۔ ڈالتا اثر یکساں پر جاہل و عالم اور ہے کرتا

عام دونوں یہ کا، ہومر جیسا ہے حال ہی ایسا بھی کا ہمیشہ بلکہ لیتے نہیں کو مستثنیات برخلاف کے شاعروں

نادر اور صورتیں خاص خاص یہ ہیں۔ کرتے اختیار شق عام

نہیں فریفتہ پر لیاقت خاص اپنی کو لوگوں دکھاکر اتفاقات

(٧١( ۔ چاہتے کرنا واقعہ یا خیال جس کہ ہے یہ درحقیقت مراد سے اصلیت میں شعر خواب ہو، رکھتا وجود میں خارج الواقع فی وه ہے گیا کیا نظم کو جذبے یا ہو۔ کیا محسوس بھی خود کو اس نے شاعر اور ہو نہ اصل بے طرح کی استعمال تشبیہات ایسی چنانچہ ہے۔ سے دونوں معنی و لفظ تعلق کا اصلیت جوش میں کلام ہوں۔ رکھتی نہ وجود اپنا میں مشاہده عالم جو جائیں کی نہ لکھا کو ان میں جوش حالت یا ہوں پُرجوش الفاظ کہ ہے نہیں یہ مطلب کا پر دل تو جائے پڑھا وه جب کہ ہے یہ مفہوم کا اس بلکہ جائے پڑھا یا جائے کے فہم کی عوام کلام کہ نہیں معنی یہ کے سادگی طرح اسی کرے۔ اثر ہے۔ ہوتا عامیانہ تو کلام ایسا لیں۔ سمجھ ساتھ کے آسانی وه اور ہو مطابق

ہے۔ آرہی آگے سے عنوان کے ادا سادگی گفتگو مزید پر اس گرمی اور بیان جوش کو چیز جس میں شاعری کہ ہے یہ حقیقت

کلام کے حافظ اور سعدی ہے۔ ہوتی نتیجہ کا اصلیت وه ہیں، کہتے جذبات سے اس ہے، کیا اظہار کا خیالات جن نے شبلی مولانا ہوئے کرتے نقد پر تھے۔ واقف طرح اچھی سے پہلو اس کے شعر خوبی وه کہ ہے ہوتا ثابت

: کہ ہے لکھا میں ذکر کے سعدی وه ہے۔ لبریز سے جذبات عموماً شاعری کی شیخ

سے حیثیت کی تقلید اور رسم کو صفت کسی کی شاعری جذبات عنصر اصلی کا شاعری کہ ہے جانتا وه برتتا، نہیں

میں دل کے اس جب ہے کہتا شعر وقت اسی وه لیے اس ہیں، معشوق محض تک وقت اس غزل ہے۔ ہوتا پیدا جذبہ کوئی

ادا جذبات اصلی کے عشق میں اس نے شیخ تھی، مداحی کی

کے جن تھے لوگ وه لکھا مرثیہ نےاس کا لوگوں جن کیے، مضامین اخلاقی تھا۔ پہنچا صدمہ سخت کو اس سے مرنے

پیش کے واقعہ موثر کسی جب تھا، کرتا ادا وقت اسی وه بھی (٧٢( ۔ تھا پڑتا اثر سخت پر دل کے اس خود سے آجانے

: کہ ہے لکھا نے شبلی مولانا میں ذکر کے حافظ خواجہ اوصاف گوناگوں ہزاروں باوجود شاعری فارسی

نظامی اور فردوسیہے۔خالی سےبیان جوشکےخیالات و

زور پورا کا بیان پُرجوش پر موقعوں خاص خاص ہاں کے شاعر خود ہیں، واردات اور خیالات کے اوروں وه لیکن ہے حافظ خواجہ کے اس بخلاف نہیں جذبات اور حالات کے

اور واردات کے ان خود وه ہیں جذبات جو میں کلام کے کرتے ادا ساتھ کے جوش اس وه کو ان لیے اس ہیں، حالات

(٧٣( ۔ ہے جاتا جھوم عالم ایک کہ ہیں دوسرا اور محمود پہلا ہے۔ فرق میں جذباتیت اور جذبہ گرمی لیکن پاؤں دبے واقعیت ہوئی داخل جذباتیت جہاں میں کلام ہے۔ محمود غیر نقاد نظر بالغ جیسے شبلی مولانا کہ ہے بات عجیب ہے۔ ہوجاتی رخصت

کہ: ہے لکھا نے انہوں رھا۔ نہیں ملحوظ کو فرق نازک اس نے خیال کسی یا مضمون کسی لیے کے بیان جوش

کے جوش خیال ہر اور مضمون ہر نہیں، خصوصیت کی

سے وجہ کی نوعیت اختلاف البتہ ہے، جاسکتا کیا ظاہر ساتھ

بیان کا مسرت جوش شاعر مثلاً ہیں، جاتی بدل صورتیں

باہر سے آپے گویا کہ ہے کرتا سے انداز اس تو ہے کرتا

کہ ہے ہوتا معلوم تو ہے بیان کا غضب و قہر ہے، ہوجاتا

تو ہے مذکور کا ثباتی بے کی دنیا گا، دے الٹ مرقع کا دنیا

کا غضب اور غصہ ہے، ہی عالم تمام کہ ہے ہوتا معلوم رہے برس انگارے سے منہ کہ ہے آتا نظر تو ہے مضمون

(٧ ( ۔ ہیں

حافظ کے کلام سے مولانا شبلی نے جو مثالیں دی ہیں، ان میں بھی

واقعیت اور جذباتیت کو خلط ملط کردیا ہے۔ خواجہ صاحب کی رندی اور

سرمستی کے ذیل میں لکھا ہے کہ: ان کے تمام کلام میں یہ جذبہ اس جوش اور زور

کے ساتھ پایا جاتا ہے کہ فارسی شاعری کی ہزار سالہ زندگی میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اس کا اندازه کرنے کے

لیے ایک رند سرمست کی حالت کا تصور باندھو کہ جب وه

مستی کے جوش و خروش میں ہوتا ہے تو اس کے دل میں

کیا کیا خیالات آتے ہیں، وه مزے میں آکر پکارتا ہے کہ مجھ

کو ننگ و نام کی کچھ پرواه نہیں۔ ساقی تو پیالہ پر پیالہ دیے

جا اور کسی سے نہ ڈر، زاہد کیا جانتا ہے کہ جام میں کیا

کیا گوناگوں عالم نظر آتے ہیں ، مطرب سے کہہ دو کہ یہ

ترانہ گائے کہ تمام دنیا پر میری حکومت ہے، کل خاک میں جانا ہے، آج کیوں نہ عالم میں غلغلہ ڈال دوں۔ تم مجھے

حقیر سمجھتے ہو، شراب خانہ میں آؤ تو تم کو نظر آئے کہ

میری کیا شان ہے؟ میرے ہاتھ میں جو پیالہ ہے جمشید کو بھی نصیب نہ ہوا ہوگا۔ میں شراب آج سے نہیں پیتا، مدت سے آسمان اس غلغلہ سے گونج رہا ہے، صوفی اور واعظ

رازدانی کی شیخیاں بگھارتے ہیں، حالانکہ جو کہتے ہیں مجھ ہی سے سن لیا تھا۔ یہ عالم لطف اٹھانے کے لیے کافی نہیں، آؤ آسمان کی چھت توڑ کر ایک اور عالم بنائیں۔ خواجہ

صاحب ان خیالات کو اسی جوش کے ساتھ ادا کرتے ہیں، جس طرح ایک سرمست کے دل میں آتے ہیں۔ ابھی یہ بحث ہےشرابکیمعرفتشرابکیصاحبخواجہکہدوچھوڑ یا انگور کی، مستی دونوں میں ہے اور یہاں صرف مستی

ہے:غرضسے بیاتا گل بر افشانیم و مے در ساغر اندازیم

فلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم

آؤ پھول برسائیں اور شراب پیالہ میں ڈالیں، آسمان کی

چھت توڑ ڈالیں اور نئی ۔ بناڈالیں (٧۵( حافظ کی رندی و سرمستی اور ان کے جوش بیان کی جو تصویر مولانا شبلی نے سطور بالا میں کھینچی ہے، اس کو اگر تسلیم بھی کرلیا جائے تو اس میں صریح مبالغہ موجود ہے جو واقعیت کے لحاظ سے عیب

ہے۔ ایک رند بلا نوش حالت نشہ میں جو کچھ کہتا ہے اس میں اصلیت نام کو نہیں ہوتی۔ اس میں اصلیت جو کچھ ہوتی ہے وه اس کی مے نوشی اور

سرمستی ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اصلیت کی حد کیا ہے؟ یعنی کیا یہ

ضروری ہے کہ جس واقعے یا جذبے کو شاعر نے شعر کے قالب میں ڈھالا ہے وه تمام تر واقعیت پر مبنی ہو، کوئی مبالغہ نہ ہو اور اس میں کوئی جزئی تغیر نہ کیا گیا ہو، شبلی اور حالی دونوں کا خیال ہے کہ اس میں جزئی کمی و بیشی ہوسکتی ہے، حتی کہ واقعہ کا کلی طور پر صحیح ہونا بھی ضروری نہیں ہے، البتہ شاعر قوت متخیلہ کی مدد سے اس کو اس طرح بیان کرے کہ پڑھنے والے کو یقین آجائے کہ واقعہ سچا ہے۔

حالی نے لکھا ہے کہ:

اصلیت پر مبنی ہونے سے یہ مراد نہیں کہ ہر

شعر کا مضمون حقیقت نفس الامری پر مبنی ہونا چاہیے

بلکہ یہ مراد ہے کہ جس بات پر شعر کی بنیاد رکھی گئی ہے وه نفس الامر میں یا لوگوں کے عقیده میں یا محض

شاعر کے عندیہ میں فی الواقع موجود ہو یا ایسا معلوم ہوتا ہو کہ اس کے عندیہ میں فی الواقع موجود ہے۔ نیز اصلیت

پر مبنی ہونے سے یہ بھی مقصود نہیں ہے کہ بیان میں اصلیت سے سرمو تجاوز نہ ہو۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ زیاده تر اصلیت ہونی ضرور ہے، اس پر اگر شاعر اپنی طرف

سے فی الجملہ کمی بیشی کردے تو کچھ مضائقہ ۔ نہیں (٧ (

واقعیت کی یہ حدبندی صحیح نہیں ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ واقعہ کا نفس الامر میں موجود ہونا ضروری ہے اور اس کا وجود ذہنی نہیں بلکہ وجود خارجی مطلوب ہے۔ کسی کا کچھ بھی عقیده ہو اس سے نفس واقعہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور اس کی وجہ سے واقعیت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ واقعہ اپنا خارجی وجود رکھتا ہو۔ اگر نفس واقعہ میں کوئی حذف و اضافہ نہیں ہوا ہے اور اس کے اساسی اجزاء جوں کے توں قائم ہیں تو غیر اہم اجزاء میں کمی بیشی کوئی معنی نہیں رکھتی اور اس سے کلام کی واقعیت متاثر نہیں ہوتی۔ اگر بات کذب تک نہ پہن جائے

تو تھوڑا بہت شاعرانہ مبالغہ بھی معیوب نہیں۔ واقعیت کے لیے دوسری ضروری شرط یہ ہے کہ شاعر خود واقعہ کا عینی شاہد ہو یا کم از کم معتبر ذریعہ سے اس واقعہ کی روایت اس

پنجم) تا اول( العجم شعر نعمانیؒ شبلی علامہ روپے ؍۶٧۵ سیٹ: مکمل قیمت

ہو۔ کیا متاثر درجہ غایت کو دماغ و قلب کے اس نے اس اور ہو پہنچی تک شاعر خود لیکن ہے صحیح پر طور بنیادی روایت کی اس اور واقعہ اگر کا واقعیت میں کلام تو ہو نہ پیدا حرکت کوئی سے اس میں دماغ و دل کے

باقی)( ہے۔ مشکل ہونا پیدا

حواشی

) ( ۔١٢١ ص ،١ج مصر، طبع قیروانی، رشیق ابن علامہ العمده، کتاب ) ۵) ص ، ج ایضاً، ) ٨( ۔١٣ ،١٢ ص ایضاً، ) ٧( ۔٨،٧ ص ، ج ، العجم شعر ۔٣۵،٣ صشاعری، وشعرمقدمہ)۵٠(۔٣٢ صص، جایضاً،) ٩(۔٣٠٩ گیا کیا تغیر لفظی سا معمولی میں سطور آخری( ۵ ص ، ج ، العجم شعر )۵١) (۵۵( ۔ ٢ ، ١ ص ایضاً، )۵ ( ۔١٠ ص ایضاً، )۵٣( ۔٩ ص ایضاً، )۵٢( ۔ہے) ص ایضاً، )۵٨( ۔٧ ص ایضاً، )۵٧( ۔٧٣ ص ایضاً، )۵ ( ۔٧٠ ، ص ایضاً، ۔٧٨ ،٧ ص ایضاً، ) ١( ۔٧ ص ایضاً، ) ٠( ۔٧ ص ایضاً، )۵٩( ۔٧ ،٧۵ ص ایضاً، ) ( ۔ ، ٣ ص شاعری، و شعر مقدمہ ) ٣( ۔٧٢ ص ایضاً، ) ٢) اکیڈمی، شبلی ، دارالمصنّفین ندوی، سلیمان سید مرتبہ شبلی، انتخاب ) ۵( ۔ المطابع، انوار دبیر، و انیس موازنہ دیکھیں مزید ،١ ٩ ص ء،١٩ ٠ گڑھ، اعظم ۔٩٧ ،٩ ص ایضاً،) ٧( ۔٩ ،٩۵ ص ، ج ، العجم شعر ) ( ۔٢ ۵ ص لکھنؤ، ایضاً، )٧٠( ۔٣٩ ص شاعری، و شعر مقدمہ ) ٩( ۔١٠٠ ،٩٩ ص ایضاً، ) ٨) دارالمصنّفین، ،۵٩ ص ،٢ج العجم، شعر )٧٢( ۔۵٠ ، ٩ ص ایضاً، )٧١( ۔ ٩ ص ایضاً۔ )٧ ( ۔٢٢٠ ص ایضاً، )٧٣( ء۔١٩ ٧ ھ؍١٣٣۵ گڑھ، اعظم اکیڈمی، شبلی

۔۵٣ ،۵٢ ص شاعری، و شعر مقدمہ )٧ ( ۔٢ ٨ ،٢ ٧ ص ایضاً، )٧۵)

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.