کی شام‘‘ و مصر و روم سفرنامۂ’’ نظر ایک پر زبان‘‘ عربی کی حال’’ بحث

Maarif - - ء٢٠١٨ مارچ معارف - ڈاکٹر ف- عبدالرحیم

عبدالرب حافظ محمود ڈاکٹر میں شمارے کے فروری کے معارف الفاظ عربی جدید بعض میں شام و مصر و روم سفرنامۂ مراسلہ کا مرزا مذکور میں کتاب کی شبلی علامہ نے موصوف چونکہ پڑھا، وضاحت کی عربی کی حال نے شبلی علامہ کہ ہوا خیال ہے، کی گفتگو پر الفاظ بعض قدرے پر ان ہیں بتائی باتیں اہم جو عنوان زیر کے )١٣ -١٢٩ ص( زبان وه ہے اڈیشن جو کا سفرنامے سامنے میرے جائے۔ گفتگوکی سے تفصیل

تھا۔ ہوا شائع میں ء١٩٢٨ سے دہلی پریس مہتاب ہے… ہوگیا خراب نہایت تلفظ کا حروف ہیں: لکھتے شبلی علامہ

کے عین دال، بجائے کے ذال گاف، بجائے کے جیم ہمزه، بجائے کے قاف

ہیں۔ بولتے ہمزه بجائے قدیم تلفظ یہ کہ ہوں چاہتا بتانا یہ میں بارے کے تلفظ کے جیم یہاں درید ابن تھا۔ رائج تلفظ یہی کا جیم میں لہجے یمنی ہے، آتا چلا سے زمانے

ہیں: لکھتے میں اللغۃ جمہر کتاب مشہور اپنی )٣٢١ م( لغۃ وھی والکاف، والجیم والکاف القاف بین الذی الحرف مثل

(١۔( والکاف الجیم بین کمل قالوا اضطروا اذا جمل مثل الیمن فی سائر جیم یا کاف، اور قاف جو ہیں کرتے ذکر کا حرف ایسے ایک وه

ہے رائج میں لہجے یمنی وه یہی اور ہے بنا سے آمیزش کی کاف اور

ہیں۔ بولتے گمل وه کو جس جمل جیسے یمنی اصل در وه ہے رائج میں لہجے مصری کے کل آج جو تلفظ یہ

ہے۔ پہنچا وہاں ذریعے کے ہجرت کی قبائل یمنی جو ہے تلفظ کا لہجے ڈائرکٹر مرکز الترجمات، مجمع الملک فہد، مدینہ منوره۔

علامہ شبلی نے قاف کو گاف میں بدلنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ یہ لفظ

عربی کے اکثر لہجوں میں پایا جاتا ہے اور مصر کے جنوب میں بھی یہی تلفظ رائج ہے۔ یہ بھی قدیم تلفظ ہے اور ابن درید نے اس کا بھی ذکر کیا ہے۔

کہتے ہیں: فاما بنو تمیم فانھم یلحقون القاف ، باللھا فتغلظ جدًّا، فیقولون لـ قوم

الگـوم فـتـکـون الـقـاف بـیـن الکاف والـقاف، ھذه لـغـۃ معروفـۃ فـی بنی تمیم قال الشاعر: ولا أگول لگدر الگوم گد نَضِجتْ

ولا أگول لباب الدّار مگفول (٢(

کہتے ہیں کہ بنی تمیم جو( نجد کے علاقے میں رہتے تھے) قاف کو کوے سے ملادیتے ہیں، جس کی وجہ سے اس کی آواز بہت گاڑھی ہوجاتی ہے، اور قاف اور کاف کی آمیزش سے بنتی ہے جیسے قوم کی جگہ گوم کہتے ہیں ، اور یہ تلفظ بنی تمیم میں مشہور ہے۔ پھر انہوں نے ایک شعر لکھا ہے جس میں قاف کو گاف سے ادا کیا گیا ہے۔ آج کل کی عربی میں یورپی الفاظ کے استعمال کے بارے میں

علامہ شبلی فرماتے ہیں: یورپ کے الفاظ نہایت کثرت سے استعمال میں آگئے ہیں اور چونکہ کسی قدر ان میں تغیر کرلیا گیا ہے، عربی دان اور انگریزی خوان دونوں کے سمجھنے میں دقت ہوتی ۔ ہے پھر ان الفاظ کی چند مثالیں دی ہیں۔ علامہ شبلی کے الفاظ سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک جدید

عربی میں ا ستعمال ہونے والے تمام یورپی الفاظ انگریزی سے ماخوذ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر یورپی الفاظ فرن یا اطالوی سے آئے ہیں اور یہ براهِ راست ان زبانوں سے نہیں لیے گئے ہیں بلکہ ان کی اکثریت ترکی زبان کی وساطت سے عربی میں داخل ہوئی ہے۔ یہ اس لیے کہ اس وقت بلاد عربیہ ترکی کے ماتحت تھے اور ترکی زبان کے بے شمار الفاظ عربی میں داخل ہورہے تھے جن میں سے بعض الفاظ ترکی میں یورپی زبانوں سے لیے گئے تھے۔ علامہ شبلی نے اس ضمن میں جو مثالیں دی ہیں ان میں سے چند لفظوں کا قدرے تفصیل سے جائزه لیتے ہیں:

قومندان بمعنی کمانڈر۔ یہ انگریزی commander سے نہیں بلکہ

فرن commandant سے ماخوذ ہے اور فرن میں اس کا تلفظ ہے: کومنداں۔ قوماسیون بمعنی کمیشن۔ یہ بھی فرن commission سے لیا گیا ہے۔ أفوکاتو بمعنی اڈوکیٹ، یہ اطالوی avvocato سے ماخوذ ہے۔ یہ

لفظ بھی لاطینی کے advocatus سے ماخوذ ہے جس سے انگریزی میں

advocate بنا ہے۔ اوروبا بمعنی یورپ۔یہ ترکی کے Avrupa کیجسہےماخوذسے اصل اطالوی Europa ہے، لیکن یہ اصلاً یونانی لفظ ہے، اور قدیم عربی میں یاورَف کی شکل میں مستعمل تھا۔ یاقوت الحموی نے اپنی کتاب معجم

البلدان میں اس کا ذکر کیا ہے۔ بوسطۃ بمعنی ڈاک۔ یہ بھی اطالوی لفظ posta سے ماخوذ ہے۔

ترکی میں بھی اسی شکل میں مستعمل ہے۔ سیغار بمعنی سگرٹ۔ یہ ترکی sigara سے لیا گیا ہے جو ہسپانوی

لفظ cigarro سے ماخوذ ہے۔ انگریزی cigarette فرن سے ماخوذ ہے جو

cigar کی تصغیر ہے۔ لوندره بمعنی لندن اطالوی Londra سے لیا گیا ہے۔ ترکی میں بھی

اس لفظ کی یہی شکل مستعمل ہے۔ انکلترا بمعنی انگلستان۔ عربی میں یہ لفظ قدیم ہے۔ ابن الاثیر الجزری ھ) ٣٠م( کی الکامل فی اور التاریخ ابن کثیر م( ھ)٧٧ کی البدایۃ والنہایۃ میں یہ لفظ مستعمل ہے۔ اول الذکر کتاب میں یہ لفظ انکلتار کی شکل میں )٣( اور البدایہ میں انکلترا کی شکل میں آیا ہے ۔) ( اطالوی میں اس کا املا : Inghilterra اور فرن میں Angleterre ۔ یاد رہے کہ پانچویں صدی عیسوی میں جرمنی کے دو قبائل Angles اور Saxon برطانیہ کے مشرقی اور جنوبی ساحل پر حملہ کرکے اس پر قابض ہوگئے اور قبیلہ Angles نے اس ملک کو اپنے نام سے موسوم کرلیا۔ چنانچہ انگریزی میں اس کا نام England رکھا گیا جس کا معنی ہے Angle کی زمین۔ فرن اور اطالوی میں انگریزی Land کے بجائے لاطینی لفظ

terra بمعنی زمین کا استعمال ہوا۔

لفظ یہ ہے۔ چھپا غلط لفظ یہ میں نامے سفر امپرر۔ بمعنی امبراطور

ہے۔ emperator اصل کی اس میں جس ہے گیا لیا سے لاطینی راست براه

ہے۔ شکل ہوئی بگڑی کی لفظ اسی eperor کا انگریزی اصل در یہ ہے۔ نہیں نژاد یورپی لفظ یہ جمناسٹک، بمعنی جمباز cambaz املا کا اس میں ترکی کل آج ہے۔ ماخوذ سے جانباز لفظ فارسی میں وغیره سرکس جو تھا ہوتا پر شخص ایسے کااطلاق اس میں ابتدا ہے۔ ہے جاتا پڑھا جیم بضم اسے میں عربی کل آج ہے۔ دکھاتا کھیل خطرناک

ہے۔ جاتا بولا میں معنی کے جمناسٹک اور ہوئی غلطی بھی میں کتابت کی لفظ اس پاسپورٹ۔ بمعنی بازابورت

لفظ ترکی یہ گیاہے۔ لکھا بغیر کے کونقطے ز پہلے چنانچہ ہے لکھا نے شبلی علامہ جو ہے وہی تلفظ کا اس ہے۔ ماخوذ سے pasaport

ہے۔ ایک کی الفاظ کے حال زبان میں خرآ کے باب اس نے شبلی علامہ مطابق کے ترتیب ابجدی الفاظ میں جس ہے، کی درج فرہنگ مختصر کرنا تبصره مختصر پر الفاظ بعض گئے کیے ذکر میں ان ہیں۔ گئے لکھے ہوگا۔ مناسب ہے۔ چھپا ساتھ کے ع حرف میں کتابت دستخط۔ بمعنی امضاء

چلنا ہے معنی کا مضی یادرہے ہے۔ امضاء ساتھ کے ہمزه لفظ صحیح کرنا، نافذ ہے: معنی کا اس مجازاً اور چلانا، ہے: معنی کا امضاء اور ہے۔ سے امضاء مصدر: کا اسی لانا۔ میں عمل ہے۔ چھپا غلط بھی لفظ یہ ۔خانہ) عجائب کا اشیاء قدیم( ناف انبشکہ

اور قدیمہ آثار بمعنی antique لفظ فرن یہ خانہ انتیک ہے لفظ صحیح ہے۔ مرکب کا خانہ فارسی لفظ صحیح ہے۔ چھپا غلط بھی لفظ یہ جہاز۔ دخانی بمعنی باغره

ہے۔ steamer بمعنی اور ہے بنا سے بھانپ بمعنی بخار یہ ہے، باخره کے ان شاید ہے۔ بتایا بغاوت معنی کا اس نے شبلی علامہ ثوره:

۔ انقلاب ہے معنی کا اس کل آج ہو۔ رہا معنی یہی کا اس میں زمانے نہیں۔ عربی یہ کہ ہے لکھا نے شبلی علامہ شکرم۔ بمعنی دلیجانس

۔ stage بمعنی diligence ہےاصلکیاساورہےلفظانگریزییہاصلدر ہے۔ رائج بھی دیلیژانس تلفظ فرن کا لفظ اس میں انگریزی coach

شمندوفر بمعنی ریل۔ سفرنامے میں یہ لفظ ش کے نقطے کے بغیر

لکھا گیا ہے۔

علامہ شبلی نے لکھا ہے کہ فرن زبان کا لفظ ہے۔ یہ صحیح ہے۔

فرن کیاسمیں ہےاصل: chemindefer ، اور اس کا لفظی معنی ہے: راهِ آہن۔ شنطہ: بڑا صندوق۔ اس لفظ میں بھی ش کے نقطے نہیں لگے ہیں۔

یہ ترکی ہے اور اس کی اصل canta چنتہ)) ہے۔ فابریقہ بمعنی کارخانہ۔ علامہ شبلی نے اس کو انگریزی بتایا ہے جو

صحیح نہیں ہے۔ یہ اطالوی ہے اور اس کا املا ہے fabrica ۔ کندره بمعنی بوٹ۔ علامہ شبلی نے لکھا ہے: ٹرکی ہے غالبا

اوریہ صحیح ہے۔ آج کل کی ترکی میں اس کا املا :ہے kundura ۔ لوکانده بمعنی ہوٹل۔ علامہ شبلی نے اس کے عربی نہ ہونے کا ذکر

کیا ہے جو صحیح ہے۔ یہ اطالوی لفظ locanda سے لیا گیا ہے۔ مصر میں غیر معیاری ہوٹل پراس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اسی سے ترکی کا lokanta ماخوذ

ہے جس کا اطلاق ریستوراں پر ہوتا ہے۔ مسوکره بمعنی رجسٹری شده خط۔ علامہ شبلی نے اسے انگریزی سے ماخوذ بتایا ہے جو صحیح نہیں ہے۔یہ اطالوی لفظ sicurta بمعنی

رجسٹری سے ماخوذ ہے۔ ویرکو بمعنی ٹکس۔ علامہ شبلی نے لکھا ہے کہ یہ عربی نہیں ہے۔

یہ بات صحیح ہے۔ یہ لفظ ترکی ہے اور اس کی اصل vergi ہے۔ یہ لفظ آج

کل فلسطین میں رائج ہے۔ اببیشترسےمیںالفاظبحثزیرکہرہےواضح ہیں۔ہوچکےمتروک آخر میں یہ بات بتانا بھی مناسب ہوگا کہ علامہ شبلی نے ہادول

اور معلیش کی اصل کے بارے میں جو لکھا ہے وه بالکل صحیح ہے، البتہ شو بِدّک میں بدّ کی جو تشریح انہوں نے کی ہے درست نہیں ہے۔ اس کی

اصل وہی ہے جو ڈاکٹر محمود مرزا نے بتائی ہے۔ علامہ شبلی نے معلیش کے معنی کچھ ہرج نہیں، کچھ مضائقہ نہیں بتایا ہے۔ یہ اس کے لفظی معنی ہیں اور عملاً یہ معذرت خواہی کے موقع پر بولاجاتا ہے۔ جیسے آپ عجلت میں کسی سے آگے بڑھ جانا چاہیں،

موقع اس تو چاہیں کرنا مقدم کو بات اپنی کرکے انداز کونظر بات کی کسی یا قاضی کو لفظ اس کہ کہنا یہ کا نگار مراسلہ لیکن ہے جاتا کہا معلیش پر ہوجاتا بری میں نگاه کی قانون جو تھا کرتا استعمال لیے کے شخص ایسے لفظ یہ علاوه کے اس تھا۔ خاص لیے کے ہی ان میں زمانے ایک اور تھا نظر محل تھا جاتا کیا استعمال بھی لیے کے وقوف بے اور مجنوں دیوانے، بھی کہنا معلیش کو اس کا قاضی پر موقع کے کرنے بری کو متہم ہے۔ متہم پر طور غلط کو کسی کہ کیوں ہے، صورت ایک ہی کی خواہی معذرت

ہے۔ مستلزم کو معذرت کرنا کاروائی قانونی خلاف کے اس اور دینا قرار بتائی ھولاء ھذا نے شبلی علامہ اصل کی ھادول اشاره اسم ضروری غیر اضافہ کا (؟) ھذه میں اس کہ ہیں لکھتے نگار ہے۔مراسلہ ھادول تو ہے ضروری غیر اضافہ یہ اگر کہ تھا چاہیے کرنا غور ہے۔ ہے مرکب یہ کہ ہے درست خیال کا شبلی علامہ آئی؟ سے کہاں دال میں

ہے۔ گیا بنالیا کرکے اختصار و نحت سے اولاء اور ھذا اور کہ ہے لکھا بھی یہ نے صاحب مرزا محمود ڈاکٹر میں سیاق اسی

۔ ہے رائج خوب وہاں ھادی جگہ کی ھذه اور ھادا جگہ کی ھذا زمانہ فی درست ساتھ کے عموم اس بات ہے۔یہ عرب سعودی مراد کی ان سے وہاں میں حجاز صرف ساتھ کے دال ہادی اور ہادا ہادول، الفاظ تینوں یہ ہے۔ نہیں اور ھاذا ھاذول، ساتھ کے معجمہ ذال مطابق کے اصل میں نجد ہیں۔ رائج اور تلاتہ کو ثلاثہ حجاز اہل ہے۔ کا ث حرف حال یہی ہیں۔ بولتے ھاذی بھی الفاظ یہ میں نجد مگر ہیں بولتے سے مثنّا تائے یعنی تمانیہ کو ثمانیہ اور حجاج کے برصغیر ہیں۔ مستعمل سے مثلثہ ثائے میں شکل اصل اپنی یہ انھیں تو ہیں سنتے تلاتہ کو ثلاثہ اور ھادا کو ھذا جب میں حجاز زائرین

ہے۔ یہی تلفظ کا عرب سعودی پورے کہ ہے ہوتی فہمی غلط

حواشی

بیروت، للملایین، دارالعلم بعلبکی، رمزی تحقیق درید، ابن اللغۃ، جمہر )١) الاثیر، ابن التاریخ، فی الکامل )٣( سابق۔ مرجع)٢( ۔ ٢ص اول جلد ء،١٩٨٧ کے ١٠ جلد ہوں ملاحظہ طورپر کے مثال ء۔١٩٩٧ بیروت، العربی، دارالکتاب ہجر، ار د کثیر، ابن البدایۃوالنہایۃ، ) ( ۔١٠١ ،١٠٠ ،٩۵ ،٩ ،٨ صفحات

۔ ٢٧ص ١ جلد ء،١٩٩٧ قاہره،

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.