شاستروں دھرم اور شریعت اسلامی جائزه تقابلی کا سے) حوالہ کے زنا حدِّ (

ڈاکٹر محمداحمد نعیمی

Maarif - - ء٢٠١٨ مارچ معارف -

الترتیب علی قوانین و احکام اور اعمال و عقائد جملہ کے اسلام دین کے اسلامی شریعت کو جن ہیں ماخوذ سے قیاس اور اجماع ، حدیث ، قرآن ، عبادات و نظریات مذہبی جملہ کے دھرم ہندو اور ہے۔ جاتا جانا سے نام ، اُپنِشد ، براہمن ، وید چشمہ سر کا اصول و مسائل اور روایات و تعلیمات ۔ ہے جاتا کہا شاستر دھرم اصول جنہیں ہیں اسمرتیاں اور سوتر کلپ پُران، کا احکام و مسائل جملہ کے شاستروں دھرم اور اسلامی شریعت اسلام ہم دست سرِ ، ہے مترادف کے لانے شیر جوئے تو لینا جائزه تقابلی جائزه تقابلی مختصر کا مسئلہ حساس جیسے زنا حدِّ میں دھرم ہندو اور

ہیں۔ رہے کر پیش و ماخذ بنیادی کے اسلام دین : حکم کا اس اور سزا کی زنا میں اسلام کہ ہے ہوتا معلوم سے کرنے مطالعہ سے گہرائی کا وسنت قرآن مراجع انتہائی بھی کو عصمت و عزت کی اس طرح کی جان انسانی نے اسلام کہ گا ہو انسب تو جائے یونکہا اگر بلکہ ہے کی عطا قیمت و قدر اعلیٰ ہے۔ دی فوقیت قدر کسی پر انسانی حیات کو انسانی ناموس پر مقامات بعض اور ہے مقرر سزا کی قصاص میں اسلام عوض کے انسانی قتل ناحق مثلاً ناحق کوئی ہاتھوں کے کسی اگر کہ ہے حکم بھی مینیہ احکام کے قصاص بدلے کے جان تو جائیں ہو راضی اگر ورثاء کے مقتول اور جائے ہو ہلاک زانیہ اور زانی لیکن ہیں سکتے کر بخشی جان کی قاتل کر دے فدیہ مالی قابل عظیم جرم یہ بھی تب لیں کر مصالحت فریق دونوں میں بارے کے

برباد و تباه کو انسانی ناموس میں نظر کی اسلام کہ لیے اس نہیں۔ معافی

استاذ شعبۂ علوم اسلامیہ ، جامعہ ہمدرد نئی، دہلی۔

کرنا، انسانی عزت و عصمت سے کھلواڑ کرنا قتل انسانی سے زیاده خطرناک ہے ۔ قاتل ایک جان ہلاک کرتا ہے اور زانی ایک بچے کی ساری نسل تباه و برباد کرتا ہے ، ناجائز بناتا ہے۔ قاتل ایک جان کی ہلاکت کا اورہےمجرم پوریزانی نسلایک کے قتل کا مجرم ہے لیےاس نےاسلام زنا کی سزا قتل سے زیاده سنگین مقرر کی ہے تا کہ انسانی عزت و عصمت کی حفاظت کی جائے اور ایک صالح معاشره کی بنیاد رکھی جائے ۔ انہیں مقاصد کے پیش نظر اسلام نے غیرشادی شده زانی و زانیہ کے لیے ١٠٠ کوڑوں اور جلا وطنی اور شادی شده زانی و زانیہ کے لیے رجم و

سنگسار کرنے کی سزا تجویز کی ہے۔ جملہ آسمانی شرائع و کتب بالخصوص قرآن کریم و احادیث شریف میں زنا کو اشد حرام اور افحش الکبائر یعنی کبیره گناہوں مینسب سے گھنائونا جرم قرار دیاگیا ہے۔ زنا چونکہ دیگر سماجی، اخلاقی و معاشرتی خرابیوں کے علاوه عزت و عصمت اور انسانی حسب و نسب پر ظلم و

تشدد ہے اس لیے اس کی جزا و حد سب سے شدیدہے۔ قرآن و حدیث میں جن تین گناہوں کو اکبر الکبائر کہا گیا ہے اس

میں ایک زنا بھی ہے۔ یعنی شرک، قتل اولاد، زنا۔ زنا کتنا عظیم جرم ہے اس کا اندازه آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اسلام نے اس کو شرک اور قتل اولاد کے مثل جرم عظیم قرار دیا ہے اور ان کو ایک ساتھ بیان کیا ہے۔ قرآن میں زنا کے لیے تین مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں: زنا، فاحشہ ، یہ زنا اور لواطت دونوں مفہوم میں مستعمل ہے اور البغاء جس کے معنی ہیں عصمت فروشی یا بدکاری کا پیشہ ۔ مذکوره بالا تینوں الفاظ کے ساتھ قرآن کریم میں جہاں جہاں زنا کا تذکره کیا گیا ہے وہاں اس کی سخت مذمت کی اورہےگئی لوگوں بچنےسےاسکو کی مختلف انداز میں نصیحت و ہدایت کی گئی ہے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے کہ:

وَلَا تَقْرَبُوا الزِّٰنٓی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَسَا◌ٓئَ سَبِیْلًا ۔ (١( اور زنا کاری کے قریب نہ جاؤ بے شک وه بے حیائی ہے اور

بہت ہی بری راه ہے۔ قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ واَنْ تُشْرِکُوْا ِّٰبِا مَالَمْ یُنَزِّلْ بِـہٖ سُلْـطٰـنًا وَّاَنْ تَـقُـوْلُـوْا

عَلَی للهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ (٢(

تم فرماؤ میرے رب نے تو بے حیائیاں حرام فرمائی ہیں جو ان

میں کھلی ہیں اور جو چھپی اور جو گناه اور ناحق زیادتی اور یہ

کہ لله کا شریک کرو جس کی اس نے سند نہ اتاری اور یہ کہ

لله پروه بات کہو جس کا علم نہیں رکھتے۔

قرآن کریم کی مذکوره بالا آیات کے علاوه احادیث شریف سے بھی یہ

واضح ہوتا ہے کہ اسلامی نقطۂ نظر سے زنا انتہائی خطرناک و تباه کن گناه ہے، جو نہ صرف سماجی و قومی بلکہ دینی و ایمانی لحاظ سے بھی مہلک ناسور کی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ حضور انور صلى اله عليه وسلم ارشاد فرماتے ہیں : عن ابن عباس للهرضی عنہما قال قال للهرسول صلى اله عليه وسلم لایزنی العبد

حین یزنی وھو مومن۔ (٣(

حضرت عبدلله ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول للهؐ نے

فرمایا زانی زنا نہیں کرتا جب کہ وه مومن ہو۔

عـن عبدلله رضی لله عنہ قـال رسولیاقلت لله ایّ الذّنب اعظم قال

ان تجعل لله ندّاوّ ہو خلقک قلت ثم ایُّ قال ان تقتل ولدک من اجل ان

یـطـعـم مـعـک قلتُ ثمّ ایُّ قـال ان تزانی حلیلۃ جارک۔ ) (

حضرت عبدلله بن مسعودؓکا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا یا

رسول للهؐ کون سا گناه سب سے بڑا ہے فرمایا یہ کہ تو لله کا

ٹھہرائےشریک نےاستجھےحالانکہ پیدا کیا میں نے عرض کیا

پھر کون سا ہے؟ فرمایا کہ تو اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کر

دے کہ وه تیرے ساتھ کھائینگے۔ میں نے عرض کیا پھر کون سا

ہے فرمایا یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے۔ مختصر یہ کہ شریعت اسلامی نے انسانی معاشره کو پاک و صالح بنانے کے لیے اور اس کو بے حیائی، بدکرداری اور اخلاقی گندگی سے محفوظ رکھنے کے لیے زجر و توبیخ یا اخروی نجات و کامیابی کی ترغیب کی صورت میں جو تعلیمات و ہدایات پیش کی ہیں وه بے مثال اور انتہائی مصلحت آمیز و دور رس ہیں اور اسلام چونکہ ایک عالم گیر مذہب ہے اس لیے وه کسی خاص قوم یا مخصوص علاقے کو نہیں بلکہ تمام انسانی دنیا کو پاکیزه ، صالح اور خوش حال دیکھنا چاہتا ہے اور اسی وجہ سے اس نے ناموس انسانی و عصمت انسانی کے سوداگروں و دشمنوں کے لیے انتہائی سخت سزائیں مقرر کی ہیں تاکہ کوئی اس طرح کا جرم عظیم و گناه کبیره کرنے سے قبل اس کے انجام پر بھی اچھی طرح غور و خوض کر لے۔ اسلام حالانکہ عفو و درگزر کا مذہب ہے لیکن یہ اس کو ہرگز گواره نہیں کہ انسانی معاشره و اخلاقی تہذیب و تمدن کے مجرمین کو معاف

کرکے گناه و جرم کو بڑھاوا دیا جائے۔

اسلام نے زنا جیسے فعل قبیح و جرم عظیم پر یک بیک سخت سزائیں نافذ نہیں کی ہیں بلکہ اس سے قبل جسمانی و نفسانی خواہشات کی تسکین کے لیے بہت سی آسانیاں بھی فراہم کی ہیں۔ ایک زوجہ سے نفسانی و جسمانی خواہشات پوری نہ ہوتی ہوں تو حکم دیا گیا ہے کہ: فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ ئِالنِّسَا مَثْٰنی وَ ثُلٰثَ وَ رُٰبعَ ۔ (۵(

تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں اچھی لگیں دو دو اور تین تین اور چار چار۔ اور جو مرد و عورت غیر شادی شده ہوں ان کے لیے خوش خبری

کے ساتھ حکم دیا گیا کہ: وَاَنْکِحُوا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ وَالصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَآئِکُمْ اِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآئَ یُغْنِھِمُ للهُ مِنْ فَضْلِہٖ وَللهُ ۔ عَلِیْم وَاسِع ) ( اور نکاح کردو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے

لائق غلاموں اور کنیزوں کا اگر وه فقیر ہوں تو لله اپنے فضل و

کرم سے انہیں مالامال کر دے گا۔ زوجہ اور زوج میں ذہنی ہم آہنگی، سازگار حالات اور موافقت و

مصالحت نہ ہونے اور کسی بھی صورت میں نباه نہ ہونے کی صورت میں مرد کو طلاق اور عورت کو خلع کی آسانی فراہم کی گئی اور دوسرے نکاح کا موقع دیا گیا۔ شریعت اسلامی کی جانب سے اتنی واضح آسانیاں حاصل ہونے

کے باوجود اب اگر کوئی انسان زنا جیسے گناه عظیم کا مرتکب ہوتا ہے تو غیر شادی شده کے لیے اسلام نے ١٠٠ اورکوڑوں ایک سال کی جلاوطنی کی سزا مقرر فرمائی ہے اور شادی شده کے لیے سنگسار کرنے کی سزا متعین فرمائی ہے۔ چنانچہ فرمان خداوندی ہے : اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا ائَۃَمِ ٍجَلْدَ وَّلَا تَاْخُذْکُمْ بِھِمَا رَاْفَۃ فِیْ دِیْنِ لله اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ ِّٰبِا وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلْیَشْھَدْ عَذَابَھُمَا طَآئِفَۃ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (٧(

جو عورت اور مرد زنا کار ہو تو ان میں سے ہر ایک کو سو ١٠٠ کوڑے لگاؤ اور تمہیں ان پر ترس نہ آئے۔ لله کے دین میں اگر تم ایمان لاتے ہو لله اور پچھلے دن پر اور چاہیے کہ

مسلمانوں کا ایک گروه ان کی سزا کے وقت حاضر ہو۔ مذکوره بالا آیات کریمہ میں زانی و زانیہ کے لیے ١٠٠ کوڑوں کا

حکم ہے جس کی تشریح و توضیح فرماتے ہوئے حضور انور صلى اله عليه وسلم ارشاد فرماتے ہیں : عن للهرضی ہریـرابـی ناعنـہ للهرسول صلى الله عليه وسلم قضیٰ فیمن زنیٰ ولم

یحصن بنفی عامٍ باقامۃ الحدّ علیہ ۔ (٨( شدهشادیغیرنےللهؐرسولکہہےروایتسےہریرهؓابوحضرت

زانی کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ اس پر ١٠٠ کوڑوں کی حد قائم کرتے ہوئے ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے۔ اس طرح شریعت اسلامی نے غیر شادی شده انسان جو زنا کا مرتکب

ہو اس کے لیے دو سزائیں مقرر کی ہیں: جسمانی سزا، نفسانی سزا اور ایک ساتھ دونوں سزائوں کے نافذ کرنے کا واحد مقصد یہی ہے کہ انسان کبھی دوباره اس طرح کے جرم کا مرتکب نہ ہو۔ مذکوره بالا وه احکام ہیں جو غیر شادی شده شخص کے لیے قرآن و

حدیث کی روشنی میں شریعت اسلامی نے متعین فرمائے ہیں لیکن شادی شده مرد یا عورت اگر زنا جیسے گناه کبیره کے مرتکب ہوتے ہیں تو اس کے احکام جداگانہ ہیں۔ غیر شادی شده کے مقابلہ میں شادی شده شخص کی سزا انتہائی سخت سنگسار کرنا مقرر کی گئی ہے۔ یعنی اس کو اتنے پتھر مارے جائیں کہ وه فوت ہوجائے۔ چنانچہ احادیث شریف میں مذکور ہے کہ: عن جابر بن عبد لله انصاری ان رجلاً من اسلم اتیٰ رسول لله صلى اله عليه وسلم

فحدّثہ انّہ قد زنی فشہد علیٰ نفسہٖ اربع شہاداتٍ فامر بہ رسول لله

فرجم و کان قد احصن۔ (٩(

حضرت جابر بن عبدلله انصاریؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کا

ایک شخص رسول للهؐ کی بارگاه میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ

میں نے زنا کیا ہے پھر اس نے اپنے اوپر چار مرتبہ گواہی دی تو

رسولؐ نے حکم فرمایا جس کے تحت اس کو سنگسار کر دیا گیا

اور وه شادی شده تھا۔ عن ابی ہریـر رضی لله عنـہ قال اتیٰ رجل رسول صلی لله علیہ وسلم وھـو فـی المسجـد فنـاداه فقال یا رسول لله صلى اله عليه وسلم انی زنیت فـاعرض عنہ حتیّٰ ردّد علیـہ اربع مّراتٍ فلمّا شہد علی نفسہٖ اربع شھاداتٍ دعاهُ النبی صلى الله عليه وسلم فـقـال ابـک جنـون؟ قـال لا قال فہل احصنت قال نعم فقال النبی صلى الله عليه وسلم اذھبوا بـہ فارجموه۔ (١٠(

حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے کہ ایک آدمی حضور انورؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ اس وقت مسجد میں جلوه فرما تھے۔

اس نے آواز دیتے ہوئے کہا یا رسول لله میں زِنا کر بیٹھا ہوں۔ آپ نے اس کی طرف سے منھ پھیر لیا یہاں تک کہ اس نے چار مرتبہ

یہی بات دھرائی جب اس نے چار مرتبہ اپنے اوپر گواہی دے دی

تو نبی اکرمؐ نے اس سے فرمایا کیا تجھے جنون ہے؟ اس نے

عرض کی نہیں فرمایا کیا تو شادی شده ہے عرض کیا ہاں پس آپ

نے فرمایا کہ اس کو لے جاؤ اور سنگسار کرو۔ مذکوره بالا احادیث شریف سے جہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ دین اسلام میں شادی شده زانی و زانیہ کی سزا سنگسار کرنا ہے وہاں واضح طورپر احادیث کے تیور اور انداز سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ سزاؤں اور تعزیرات کے بارے میں خاص طور سے سزائے موت کے متعلق ہمیشہ حتیٰ الامکان مجرم کو سنگین سزا سے بچانے کے لیے اسباب و شواہد تلاش کرتے تھے بلکہ اس کی برأت و معافی کے لیے پوری کوشش فرماتے۔ نیز فیصلہ صادر کرتے وقت خاص طور پر کسی کو سزائے موت دیتے وقت معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کے لیے حضور انورؐ حد درجہ تحقیق و

تفتیش فرمایا کرتے تھے۔ شریعت اسلامی نے قرآن پاک کی سورهٔ نور آیت نمبر ٢ کے حوالہ

سے زنا کے مرتکب کو سزا دیتے وقت جہاں یہ حکم دیا ہے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروه و جماعت موجود ہو یعنی مجمع عام میں سزا دی جائے تاکہ دوسرے لوگوں کو عبرت و نصیحت حاصل ہو وہاں یہ بھی حکم دیا ہے کہ معاملہ کی خوب اچھی طرح سے تحقیق و تفتیش کر لی جائے تا کہ کوئی ناحق نہ مارا جائے۔ مثلاً اگر زانی اپنے گناه کا خود اقرار کرتا ہے تو سزا کا حکم نافذ کرنے سے پہلے خوب اچھی طرح یہ تحقیق کی جائے کہ وه عاقل و بالغ ہو پاگل یا نشے میں نہ ہو اور اپنی ذات پر چار مرتبہ چار مجلسوں میں زنا کا اقرار کرے اور اگر زانی اپنے جرم کا بذات خود اقبال نہ کرے بلکہ دوسرے لوگ گواہی دیں تو واجب ہے کہ چار عادل گواه اس طرح شہادت دیں کہ انہوں نے مجرم کو اس طرح زنا کرتے دیکھا ہے جیسے سلائی دانیسرمہ میں داخل ہوتی ہے اور یہ چاروں مسلمان عادل گواه ایک ہی مجلس میں گواہی دیں اور ایک ہی جیسی گواہی دیں کسی کی گواہی میں کوئی شبہہ نہ ہو چاروں گواہوں میں سے اگر ایک بھی شریعت کے آئین کی کسوٹی پر صحیح ثابت نہیں ہوگا تو سب کو حد قذف یعنی زنا کی تہمت کی سزا دی جائے گی۔ نیز گواہوں کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ زنا کیا ہے؟ مجرم نے کہاں زنا کیا ہے اور کس عورت کے ساتھ کیا ہے؟

اور کس وقت کیا ہے طویل زمانہ تو نہیں گذرا وغیره وغیره۔ زنا کی شہادت و گواہی کے تعلق سے یہ امربھی قابل ذکر ہے کہ شریعت اسلامی نے اور معاملات ومسائل میں دو عاقل، بالغ، مسلم و عادل

گواہوں کی شہادت معتبرمانی ہے لیکن زنا کے جرم کی شہادت کتنی اہم ہے کہ یہاں دو کی گواہی کافی نہیں بلکہ چار گواہوں کی شہادت ضروری ہے وه

بھی ایک ہی مجلس میں۔ شادی شده زانی کی سزا رجم قرار دینے اور غیر شادی شده کو

کوڑے مارنے کی سزا دینے کا یہ فلسفہ ہے کہ آدمی اس وقت بالغ سمجھا جاتا ہے جب اس کی عمر پندره سال ہو اس سے پہلے وه بالغ نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی بلوغت کے احکام اس پر جاری ہوتے ہیں ۔ کیونکہ اس کی جسمانی نشو و نما بھی اس عمر مینپورے طورسے نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی عقل پختہ ہوتی ہے اس لیے اس کو پورا آدمی نہیں سمجھا جاتا اور جو ذمہ داریاں بالغ مردوں پر عائد ہوتی ہیں وه اس پر مقرر نہیں ہوتیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس ذمہ داری پر جو سزائیں مرتب ہوتی ہیں ان میں اس بات کو ملحوظ رکھا جائے کہ اس کی عقل کامل تر ہو اور وه پورا مرد ہو اور ذمہ دار سمجھا جائے اور یہ جبکہہےہوتاوقتاس شخصجوسےطورعامجائے۔ہوشادیکیاس شادی شده ہو وه غیرشادی شده کے مقابل کامل تر سمجھا جاتا ہے اب اگر ایک ذمہ دار شخص یا جس کو لله نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہو وه ایسے عظیم جرم کا مرتکب ہو تو اس کی سزا بھی شدیدترین ہونی چاہیے اور جو غیر ذمہ دار، ناپختہ اور بہت سی نعمتوں سے محروم ہو اس کی سزا کم ہونی

چاہیے۔( ١١ ( کچھ اسی طرح کی مصلحتوں کے پیش نظر شریعت اسلامی نے شادی شده زانی کی سزا سنگسار کرنا اور غیر شادی شده زانی کی سزا ١٠٠

کوڑے اور جلا وطن کرنا مقرر فرمائی ہے۔ ہندو دھرم میں زنا O;fHkpkj)( کی سزا و حکم: اسلام نے زنا کے سلسلہ میں جو سو کوڑوں اور سنگساری کی سزا مقرر کی ہے اس کے تعلق سے عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہ سب سے زیاده سخت ترین سزا ہے۔ لیکن اس معاملہ مینجب ہم قدیم ہندو دھرم کا تحقیقی جائزه لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ زنا کے مجرمین و گنہ گاروں کے لیے قدیم ہندو دھرم شاستروں نے مذہبی و قانونی طور پر جو سزائیں n.M)( مقرر کی ہیں وه

اسلامی سزائوں سے کہیں زیاده خطرناک اورتکلیف ده ہیں۔ ھندو دھرم شاستروں کے مطابق مباشرت و جماع laHkksx)( کے لیے

کسی غیر مرد کا کسی غیرعورت کے ساتھ ہونا سنگرہن laxgz.k)( کہلاتا ہے اور یہ ساتھ laxgz.k)( تین قسم کا ہوتا ہے: طاقت سے، فریب سے اور جسمانی

ہوس اور شہوانیت dkefiiklk)( سے مباشرت laHkksx)( کرنا۔ (١٢(

ان تینوں اقسام کے احکام جداگانہ ہیں جن میں طاقت کے زور پر

مباشرت و جماع cyiwoZd laHkksx) ( کو سب سے سخت پاپ تسلیم کیا گیا ہے۔ طاقت کے بل پر اگر کوئی مرد کسی غیر عورت کے ساتھ اس کی مرضی کے خلاف زنا کرتا ہے، تو اس کے لیے قدیم ہندو دھرم شاستروں نے انتہائی سخت سزائیں مقرر کی ہیں لیکن یہ ساری سزائیں ذات کے نظام o.kOZ;oLFkk)( پر قائم ہیں۔ اجنبی عورت اگر زنا کار کی ہم ذات ہے یا ادنی ذات

سے اس کا تعلق ہے تو سزا میں کافی تخفیف رکھی گئی ہے اور اگر اعلیٰ ذات کی ہے تو انتہائی سخت سزاکا نظام پیش کیا گیا ہے۔ چنانچہ منواسمرتی

euqLe`fr)( میں ہے کہ: اگر( شودر اپنے سے اعلیٰ ذات f}tkfr)( کی مباشرتساتھکےعورت laHkksx)( کرے تو اس کو جان سے مار دینا چاہیے۔ چاروں ذاتوں o.kk±s)( کو سب سے

زیاده اپنی عورتوں کی ہی سدا حفاظت کرنا چاہیے) (١٣( جو( انسان کسی لڑکی کے ساتھ زنا کرکے اس کو خراب کرتا ہے وه فوراً قتل کا حقدار ہوتا ہے۔ لیکن اگر لڑکی کی خواہش سے خراب کیا ہو اور وه مرد اس لڑکی

کی قوم و ذات کا ہو تو پھر وه قتل کا حقدار نہیں ہوتا ہے ) (١۴( اعلیٰ( ذات کی لڑکی کے ساتھ جماع کرنے والا ادنیٰ ذات کا مرد قتل کے لائق ہے اوراپنی ہی ذات کی لڑکی کے ساتھ مباشرت کرنے والے سے اگر اس

لڑکی کاباپ مال سے مطمئن ہو تو مال دے کر شادی کرلے) (١۵( زنا کار O;kfHkpkjh)( کے لیے قدیم ہندو دھرم شاستروں میں کوئی ایک

سزا یا سزائے قتل ہی نہیں مقرر کی ہے بلکہ مختلف مقامات پر مختلف قسم کی

سزائیں بیان کی گئی ہیں منو مہاراج euqegkjkt)( کہتے ہیں : پاپی( زانی O;fHkpkjh)( مرد کو راجہ تپائے ہوئے لوہے کے تخت kÕS;k)(' کرسُلاپر اوپر سے لکڑی رکھوا دے جس میں وه پاپی جل کر راکھ ہو جائے) (١۶( اسی طرح استاد xq#)( کی بیوی ، سگی بہن، دوست کی بیوی، لڑکے کی بیوی سے زنا کاری کرنے والے کے متعلق حکم دیا گیا ہے: گرو( استاد)( کی بیوی سے زنا کرنے والا اپنے پاپ کو مشہورکر کے لوہے کے جلتے ہوئے بستر پر سوئے یا لوھے کی عورت بناکراس کو آگ میں تپا کر اس کے ساتھ ہم آغوش ہو چپٹ( جائے) اور مر جائے یہی اسکی طہارت و پاکی ۔ہے) (١٧(

مذکوره بالا اشلوکوں کی روشنی میں ثابت ہوتا ہے کہ دین اسلام کی طرح بلکہ اس سے بھی کہیں زیاده سخت سزا زانی کے لیے قدیم ہندو دھرم میں بیان کی گئی ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے عزت و آبرو، جان سے زیاده بیش قیمتی و عزیز ہوتی ہے۔ زنا کار چونکہ ایک طرف عورت اور اس کے والدین و اقرباء کی عزت و وقار کا خون کرتا ے اور دوسری طرف اس عورت کی آنے والی پوری نسل برباد کر دیتا ہے اس لیے اسلام نے شادی شده مرد و عورت کے لیے زنا کی صورت میں سنگسار کرنے کی سخت سزا مقرر کی ہے تاکہ لوگ عبرت و نصیحت حاصل کریں اور معاشره پاک و صاف ہو۔ ٹھیک یہی فلسفہ و حکمت زناکاری کی شدید ترین سزا سے متعلق قدیم ہندو دھرم شاستروں میں ذکر کیا گیا ہے۔ منواسمرتی میں تحریر ہے کہ: دوسرے( کی عورت سے زنا کرنے سے اس کے خاندان و ذات کا خاتمہ ہو تا ہے جس سے اصل و نسل ہی برباد و ہلاک کرنے والا پاپ ہوتا ہے جو مکمل

تباہی کا ذریعہ ہوتا ہے ) (١٨( اس طرح ظاہر ہو تا ہے کہ زانی کے لیے سخت سزا کے تقرر میں دین اسلام اور قدیم ہندو دھرم کا تقریباً ایک جیسا نظریہ ہے۔ لیکن یہ اشتراک صرف اور صرف زنا کی سخت ترین سزا کی تعیین میں ہے۔ اس کے نفاذ میں نہیں۔ نفاذ کے اعتبار سے دونوں مذاہب میں بعد المشرقین والمغربین ہے۔ اس لیے کہ اسلام مینجو بھی سزا کے احکام و قوانین ہیں وه سب کے لیے یکسانہیں اس میں اعلیٰ ذات یا ادنیٰ ذات اور مرد و عورت کے لیے کوئی رعایت و رخصت نہیں۔ جبکہ قدیم ہندو دھرم کی بنیادہی چونکہ ذات پات کے نظام پر قائم ہے اس لیے سزائوں کے نفاذ و احکام میں بھی ذات پات کے نظام کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ مجرم و پاپی اگر ادنیٰ ذات کا یا شودر ہو تو اس کے لیے سخت سے سخت سزا کا حکم ہے اور اگر اعلیٰ ذات کا ہے تو اس رعایتخصوصیلیےکے لیےکےعورتوںمقابلکےمردوںطرحاسیہے۔ کافی تخفیف رکھی گئی ہے۔ چنانچہ کاتیاین dkR;k;u)( اسمرتی میں ایک عام

اصول ذکر کیا گیا ہے کہ: طرحسبھی( جرائمکے میں سزاجو مرد کو ملتی ہے اس کی سزاآدھی عورت کو ملنی چاہیے۔ اگر مرد کو موت کی سزا ملے تو وہاں عورت کا عضو vax)(

کاٹ لینا ہی کافی ہے) (١٩( اس اشلوک میں مرد کے مقابل عورت کی سزا میں انتہا درجے کی

کمی کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ اسی طرح اب تک زنا کی سزا کے تعلق سے جو شدید ترین سزائیں بیان کی گئیں ہیں وه اکثر و بیشتر شودر و ادنی ذات والوں کے لیے ہیں اعلیٰ ذات کے لیے نہیں کیونکہ اعلیٰ ذات والوں کے لیے

تو ہندو دھرم شاستروں نے ان کے مراتب و دراجات کے لحاظ سے بہت ہی آسان اور عجیب و غریب سزائیں تجویز کی ہیں۔ منو مہاراج حکم دیتے ہیں : جو( شودر بنا سرپرست والی یا غیر شادی شده vjf{kr)( برہمن ، چھتری اور ویش کی عورت کے ساتھ زنا کرے تو راجہ اس کا ذکر fyax)( کٹواکر سب کچھ چھین لے اور سرپرست والی یا شادی شده jf{kr)( عورت کے ساتھ زنا کرے تو سب کچھ چھین کر اس کو سزائے موت دے) (٢٠( شودر کی سزا موت ہے لیکن شودر کے علاوه دوسرے طبقوں و ذاتوں کے لیے اسی جرم اور پاپ کی سزا بیان کرتے ہوئے منو مہاراج مختلف اشلوکوں مینحکم دیتے ہینکہ: اگر ویش oS';)(حفاظت والی jf{kr)( برہمنی کے ساتھ جماع

laHkksx)( کرے تو سب کچھ چھین کر ایک سال کی قید کی سزا

دے چھتریاور k=kh)({کو ایک ہزار پنٹر i.k)( جرمانہ کرے اور

گدھے کے موت پیشاب)( سے اس کا سر منڈوا دے۔ نوٹ:( ٨٠؍ کوڑیوں کا ایک پنڑ ہوتا ہے) اگر ویش اور چھتری غیر محفوظ vjf{kr)( برہمنی کے ساتھ مباشرت کریں تو ویش کو ۵٠٠؍ پنٹر اور چھتری کو ایک ہزار پنٹر جرمانہ کرے۔

ویش اور چھتری یہ دونوں اگر شادی شده برہمنی سے زنا کریں تو شودر کی ہی طرح انہیں دنڈ دینا چاہیے یاترن r`.k)( کی دہکتی ہوئی آگ میں ان کو جلا دینا چاہیے۔ شادیبرہمناگر ساتھکےبرہمنیشده زبردستی کواستوکرےزنا

ایک ہزار پنٹر جرمانہ دینا چاہیے۔ اگر وه سکاما ldkek)( ہو تو اس کے ساتھ جماع کرنے پر راجا اس کو ۵٠٠؍ پنٹر دنڈ کرے۔ (٢١( مختصر یہ کہ شودر کے علاوه برہمن، چھتری اور ویش کے لیے

اکثرو بیشتر صرف مالی جرمانہ ادا کرنے کا قانون ہے ، جسمانی سزا دینے کا کوئی قانون نہیں۔ بلکہ ویش اور چھتری کے لیےبھی جبکہ وه شادی شده برہمنی سے زنا کریں تو جسمانی سزا موت اور آگ میں جلانے کی بات کہی گئی ہے لیکن برہمن چاہے تو کسی سے کسی بھی طرح زنا و جماع کرے، اس کے لیے مالی دنڈ کے علاوه کوئی جسمانی سزا نہیں ہے بلکہ اس کے لیے جسمانی سزا دینے کے بارے میں سوچنا بھی پاپ ہے۔ منو اسمرتی میں ہے کہ: برہمن( کے سر کے بال منڈا دینا ہی اس کے لیےسزائے موت ہے، مگر

دوسری ذاتوں و طبقوں کو موت کی سزا دینی چاہیے ) (٢٢( تمام( طرح کے پاپ کرنے پر بھی برہمن کا قتل کبھی نہ کرے، اس کو تمام

دھن مال)( کے ساتھ اپنے دیش سے باہر نکال دے ) (٢٣( مذکوره بالا اشلوکوں کی روشنی میں صاف ظاہر ہے کہ ہندو دھرم

شاستروں کے مطابق برہمن کو زناکاری جیسے عظیم گناه پر صرف مالی جرمانے کی سزا دے سکتے ہیں، زیاده سے زیاده ملک بدر ns'k&cfg"dkj)( کر سکتے ہیں۔ شادی شده برہمنی کے ساتھ زناکاری کو چھوڑ کر یہی حکم ویش اور زناکوسبانکہہےلیےکےافرادکےذاتچھتری عوضکےقبیحفعلِجیسے صرفاورصرف ۵٠٠ پنٹر سے لے کر١٠٠٠ پنٹر تک جرمانہ کر سکتے ہیں۔

منو اسمرتی ادھیائے ٨ ، اشلوک نمبر ٣٨٢ تا ٣٨۵ سے بھی یہی ثابت ہے۔ قدیم ہندو دھرم شاستروں کے حوالے سے اب تک جو ہم نے سخت

سزائوں کے احکام بیان کیے ہیں وه زنا بالجبر یا طاقت کے بل پر زنا سے متعلق ہیں، لیکن اگر زنا کاری مرد و عورت کی باہمی رضامندی و خوشی یا فریب و دھوکے سے ہو تو اس کے احکام جداگانہ ہیں۔ چنانچہ کاتیاین و

برہسپتی c`gLifr)( کا قول ہے کہ:

lglk dke;s/Lrq /kua rL;kf[kya gjsrA mRd`R; fyax o`"k.kkS Hkzke;sn~ xnZHksu rqAA neks us;% lek;ka rq ghuk;k ef/kdLrr%A

iql% dk;ksZ · f/dk;ka rq xeus laiezki.ke~AA ( ٢۴)

زنا( بالجبر کرنے پر سزائے موت ملتی ہے کیونکہ یہ مناسب تہذیب کے خلاف ہے، جب فریب یا دھوکے سے زنا کیا جاتا ہے تو ساری دولت و جائداد چھین لی جاتی ہے۔ ماتھے پر عورت کی شرم گاه L=khxqIr vax) ( کا داغ لگایا جاتا ہے اور زناکار کو بستی کے باہر کر دیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں بھی ذات و طبقے کے مطابق رعایت و نرمی اور سختی و زیادتی بیان کی گئی ہے) (٢۵( اسلام میں زنا جیسے عظیم گناه کے عوض شادی شده اور غیر شادی شده مرد وعورت کی سزائوں میں فرق رکھا گیا ہے وه یہ کہ اگر مرد و عورت شادی شده ہیں تو ان کے لیے رجم و سنگسار کرنے کی سخت سزا کا حکم ہے اور اگر غیر شادی شده ہیں تو ان کے لیے سو کوڑوں کی سزا ہے۔ یہ فرق قدیم ہندو دھرم شاستروں میں بھی نظر آتا ہے۔ چنانچہ آپستنب vkiLrEc)( نے شادی شده عورت کے ساتھ زنا کرنے پر عضو تناسل و فوطے f'k'u ,oav.M) ( کاٹ لینے کو کہا ہے لیکن غیر شادی شده عورت کے ساتھ ایسا کرنے پر صرف

تمام مال و جائیداد چھین لینے کی بات کہی ہے (٢۶۔) لیکن یاگیہ kKñ)،(; نارد ukjn)( اور منو نے کہا ہے کہ: اگر کوئی مرد اپنی ہی ذات کی غیر شادی شده عورت کے ساتھ جماع کرے تو اس کو راجہ کے ذریعہ دنڈ نہیں ملنا چاہیے، بلکہ اس کو زیورات وغیره کے ساتھ اس عورت سے عزت کے ساتھ شادی کر لینے کی چھوٹ دی جانی چاہیے (٢٧۔( اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ زنا جیسے گناهِ عظیم کے مرتکب شخص کے لیے اسلام ہی نہیں بلکہ قدیم ہندو دھرم میں بھی سخت ترین سزائوں کا نظام ہے اور اس کے لیے کوئی ایک سزا نہیں ہے بلکہ مختلف ذاتوں کے لیے مختلف سزائیں ہیں۔ لیکن اسلام میں زانی کسی قوم یا کسی طبقے کا ہو ہر ایک کے لیے یکسا حکم ہے اور ایک ہی سزا مقرر ہے جبکہ ہندو دھرم میں زنا کی سزا کا دارومدار بھی ذات پات کے نظام پر منحصر ہے اور برہمن اس سزا سے مستثنیٰ ہے۔

جات حوالہ

بخاری صحیح )٣( ۔٣٣ آیت الاعراف، سور )٢( ۔٣٢ آیت، اسرائیل بنی سورهٔ )١) شریف بخاری صحیح ) ( ۔١٧١٣ حدیث ۔ لزّنا ا اِثْمِ : باب، المحاربین کتاب، شریف سور ) ( ۔٣ آیت النساء سور )۵( ۔١٧١۵ حدیث ۔ لزّنا ا اِثْمِ : باب، المحاربین کتاب، المحاربین کتاب شریف، بخاری صحیح )٨( ۔٢ آیت، النور سور )٧( ۔٣٢ آیت النور، کتاب شریف، بخاری صحیح )٩( ۔١٧٣٢ حدیث وینفیان، یجلدان ان البکر باب، کتاب شریف، بخاری صحیح )١٠( ۔ ١٧١٨ حدیث المحصن، رجم باب ، المحاربین شاه ، ، ٢، ١ ص ، دوم، اردو، البالغہ لله حجۃ )١١( ۔١٧١٩ حدیث، المحاربین

ء۔١٩۵٣ ، لاہور ، خانہ کتب قومی، دہلوی محدث لله ولی ( ١٢) euq Le`fr vè;k; 8 'yksd 379 ( ١٣) euq Le`fr vè;k; 8 'yksd 380 ( ١۴) euq Le`fr vè;k; 8 'yksd 381 ( ١۵) czgLifr Le`fr (pñ 2 iñ 320) ( ١۶) /eZ 'kkL=k dk bfrgkl] Hkkx 2] i`- 830 ( ١٧) dkR;k;u Le`fr pñ 2] i`ñ 320 ( ١٨) euqLe`fr v/;k; 11] 'yksd 176 ( ١٩) euqLe`fr v/;k; 11] 'yksd 177 ( ٢٠) euqLe`fr v/;k; 8] 'yksd 371 ( ٢١) vkiLrEc 210&26&20&21 ( ٢٢) ;kKoYD; Le`fr /eZ 'kkL=k dk bfrgkl Hkkx&2 ٢٣)( 8&366 15&72؍؍euqLe`fr Le`fr (2&288)؍؍ukjn i`0 830 ( ٢۴) euqe`fr vè;k; 8 'yksd 364 ( ٢۵) euqLe`fr vè;k; 8 'yksd 366 ( ٢۶) euqLe`fr vè;k; 8 'yksd 374 ( ٢٧) euqLe`fr vè;k; 8 'yksd 374] 375] 378 377] 376]

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.