اخبار علمیہ

Maarif - - ء ٢٠١٨ مارچ معارف -

سعودی’’ حکومت کے سو سال‘‘

میں ء٢٠٠٢ نے حکومت کی سعود آل الرحمٰن عبد بن عبدالعزیز شاه ء١٩٩٩ سے مقصد کے بنانے یادگار کو موقع اس تھے۔ کرلیے مکمل سال سو المملکۃ میں سلسلہ اس بنائے۔ منصوبے متعدد نے فہد شاه کے وقت اس میں منعقد کانفرنس علمی عالمی ایک سے نام کے عام مائۃ فی السعودیۃ العربیۃ مرکزی گئی۔ دی دعوت کی شرکت میں اس کو محققین ممتاز کے دنیا گئی، کی و تہذیب فن، و علم نے حکومت سعودی میں صدی ایک گذشتہ کہ تھا یہ نقطہ کے اقتصادیات اور معاشرت و مذہب تعلم، و تعلیم سیاست، و ادب تمدن، ہوا دراز سلسلہ یہ جائے۔ لیا جائزه کا اس ہیں، دی انجام خدمات جو میں میدانوں کو ان گئے۔ کیے پیش مقالات ١٩٧ میں جن ہوئیں، منعقد کانفرنسیں ٢ کل تو جلدیں تمام یہ اب ہوئی۔ اشاعت کی ان میں جلدوں ضخیم ؍١۵ تو گیا کیا جمع کی تقریبات صدی پوری اصلاً جلد پہلی ہوئیں۔ موصول کو دارالمصنّفین ہدیۃً جلدوں تمام تک ٣ سے ١٧ ص میں اس ہے۔ مشتمل پر روداد علمی مفصل کے حکومت سعودی میں جلد دوسری ہے۔ اشاریہ مفصلاً کا مشتملات کے اور سوانح کے عبدالعزیز شاه چوتھی اور تیسری ہے، ذکر کا وارتقا آغاز شریفین حرمین میں چھٹی نسق، و نظم میں پانچویں ہے، مشتمل پر کارناموں و امن میں دسویں معاشیات، اقتصادیات، میں نویں تعلیم، میں آٹھویںخدمت، کی ترقی، سماجی و علمی تیرہویں و بارہویں امور، خارجی میں گیارہویں صحت، میں پندرہویں اور ترقیات ماحولیاتی میں چودہویں ابلاغ، ذرائع اور ثقافت کا موضوعات مرکزی کے تحقیقات و مطالعات متعلق سے حکومت سعودی سے اہتمام کے ریاض عبدالعزیز، الملک دار اشاعت یہ ہے۔ گیا کیا احاطہ

آئی۔ میں عمل میں ء٢٠٠٧

ہندوستان’’ میں نو زائیده بچیوں کی شرح اموات‘‘

میں رپورٹ ایک قبل دنوں چند نے یونیسیف ادارے کے متحده اقوام کی ملکوں دوسرے اموات شرح کی بچیوں نوزائیده میں ہندوستان کہ بتایا ہی ہوتے پیدا بچیاں زیاده سے لاکھ سال ہر یعنی ہے زیاده سے سب نسبت ہیں۔ کیے مہیا نے ہند حکومت خود شمار و اعداد یہ ہیں۔ ہوجاتی شکار کا موت ایسی درمیان کے ء٢٠١۵ سے ء١٩٩٠ میں بھر دنیا مطابق کے رپورٹ کے ء٢٠١٧ کہ ہوا معلوم بھی یہ ہے۔ آئی کمی فیصد ۵ میں شرح کی موتوں میں بھر ملک لیے کے بھال دیکھ کی بچوں زائیده نو مطابق کے شمار و اعداد

٠ صرف فائده کا سہولت اس تاہم ہے ذکر کا علاج مفت میں اسپتالوں ؍٧٠٠ اپنی والدین کہ ہے بھی بیان یہ کا صحت ماہر ایک ہیں۔ اٹھاتے ہی بچے فیصد پوری وه علاج کا بیٹوں جبکہ دیتے نہیں توجہ خواه خاطر پر علاج کے بیٹیوں انجام کو روایات مذہبی کہ روایت پرانی وہی وجہ ہیں، کراتے سے مستعدی کی بچیوں ہے۔حاصل کو بیٹوںصرف حق کا پانے حیثیت کی وارث اور دینے ضمن اس البتہ ہے۔ بھی تغذیہ قلت وجہ اہم ایک کی اضافہ میں اموات شرح بچیوں اور خواتین نے اس کہ ہے گیا بتایا مثبت کو اقدامات کے حکومت میں کے والدین کے بچیوں اور ہے کی کوشش منظم لیے کے تعلیم اور تحفظ کے ؍٢٢ وارانسی، انقلاب، تفصیل( ہے۔ کیا بھی اضافہ میں رقم مخصوص لیے

فرمائیں) ملاحظہ میں ء٢٠١٨ فروری

پیاسے’’ ہوتے شہر‘‘

ارب ٢ء٧ اور ہے سامنا کا قلت آبی کو لوگوں ارب ایک قریب میں دنیا

پڑتا کرنا سامنا کا کمی کی پانی میں مہینے ایک کم از کم کے سال جنہیں ہیں ایسے پانیشہریایکسےمیںچارہرکہہوامعلومسےسروےایککے ء٢٠١ ہے۔ تشویش قدر اس حال صورت مطابق کے متحده اقوام ہے۔ دوچار سے بحران کے میٹر مکعب سو ؍١٧ مقدار سالانہ کی پانی ہی جلد ہے ممکن کہ ہے ہوگئی ناک دنیا تک ء٢٠٣٠ کہ ہے گوئی پیشین ہوجائے۔ کم بھی سے کس فی لیٹر) لاکھ ؍١٧) تبدیلی، ماحولیاتی سبب کا جس گی جائے بڑھ تک فیصد ٠ طلبکی پانی تازه میں بڑے چھ کے دنیا میں رپورٹ ہے۔ تبدیلی میں رویوں انسانی اور اضافہ میں آبادی دوسروں لیے کے پانی جلد بہت جو ہے گئی کی نشاندہی کی شہروں اہم انتہائی اور لندن اور استنبول ماسکو، قاہره، بیجنگ، بنگلور، میں ان ہیں۔ ہوسکتے محتاج کے آب اور اضافہ تحاشہ بے میں آبادی کی وہاں وجہ کی قلت کی پانی میں بنگلور ہیں۔ پانیصافنصفکاشہرسببکےجسہے،گیابتایاکوخامیکینظامکےرسانی اس ہے، بڑھنا کا آبادی وجہ کی آب قلت میں بیجنگ ہے۔ ہوجاتا آلوده اور ضائع بھی کام صنعتی اور زراعتی سے اس کہ ہے آلوده قدر اس پانی فیصد ٠ کا شہر صاف کے مصر پورے نیل دریائے کہ گیا بتایا متعلق کے قاہر جاسکتے۔ کیے نہیں سے فضلاتزرعیاوررہائشییہابلیکنہےکرتافراہمحصہفیصد٩٧کاپانی ہے۔ ہوا اضافہ میں اموات و امراض سے وجہ کی جس ہے، جارہا چلا ہوتا آلوده ہے، جاتا کیا برآمد سے زمین سطح حصہ فیصد ٧٠ کا پانی کے وہاں میں ماسکو کے صحتحفظان تکفیصد ٠سے٣۵یہہے،ہوجاتاآلودهسےآسانیزیادهجو میں روس پر طور مجموعی کا پانی صاف تازه حالانکہ ہے، نہیں مند فائده پر پیمانہ صورت سنگین تک ء٢٠٣٠ بحران کا کمی کی پانی میں ترکی ہے۔ ذخیره بڑا بہت ذخیرے کے پانی میں استنبول والے آبادی لاکھ ٠ کروڑ ایک ہے۔ کرسکتا اختیار

میں آگئیکمیفیصد٣٠ لندنہے۔ ہونےزیادهبارشیں کے باوجود

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.