باب التقریظ و الانتقاد

Maarif - - ء٢٠١٨ مارچ معارف -

٣ مطبوعات- علمی جدید چند سے پاکستان ڈاکٹر عارف نوشاہی

تحقیق پر علوم مشرقی اور اسلامی اشاعتیں: عکسی کی مخطوطات عکس ہو بہ ہو کا مخطوطات نادر سے طرف کی اداروں مختلف متعلق سے برصغیر میں تالیف ایک اپنی نے ہے۔میں پرانی بہت روایت کی کرنے شایع جزوی) یا مکمل( عکسی کی مخطوطات سے طرف کی ناشروں کے کتابدیکھیے:( ہے دی فہرست ایک کی کتب ١٢ تقریباً مبنی پر اشاعت ۔)٢٧٧٩ ص اشاریہ، بمدد، جلد، قاره شبہ در شده چاپ فارسی آثار شناسی بفرد منحصر جو ہیں کرتے انتخاب کا مخطوطات ایسے ے ادار علمی بڑے ساتھ کے اشاعتوں عکسی ادارے ہو۔یہ انفرادیت اور کوئی کی ان یا ہوں بعض لیکن ہیں۔ کرتے بھی اہتمام کا اشاریوں اور مقدموں تحقیقی مناسب مخطوطات بھی نظر پیش کے ترجیح اور دلچسپی ذاتی اپنی ناشرین یا افراد بھی اب اہتمام یہ فوقتاً وقتاً میں ہیں۔پاکستان رہے کرتے اشاعت عکسی کی ہوئی شایع کتابیں چند ایسی میں ء٢٠١٧ اکتوبر ۔گذشتہ ہے آتا میں دیکھنے

ہے۔ جاتا کیا یہاں ذکر کا جن ہیں مجتبی سیّد ماخذ: اہم ایک پر قادریہ گیلانیہ کے پنجاب التصوف: ۔عین١ ایک کی) ء١٧١١/ ھ١١٢٣ وفات: فضلی( بہ متخلص لاہوری قادری گیلانی ہی ایک تک اب کا اس ہے۔ متعارف کم بہت التصوف عین تصنیف فارسی گھر عجائب لاہور وقت اس جو ہے آیا پر عام منظر نسخہ قلمی پہلے سے ہونے منتقل میں گھر عجائب ہے۔ محفوظ میں ( Mss 431 نمبر( اقبال محمد پروفیسر اور تھا پاس کے فروش کتب ایک کے لاہور نسخہ یہی تذکره نادر ایک کا پنجاب مشائخ مقالے ایک اپنے اسے نے مجددی ء١٩٧٧ ،٣ شماره ،١٠ جلد آباد، اسلام نظر، و فکر ماہنامہ مطبوعہ مجددی جب لیکن سکا پڑھ نہ مقالہ یہ تو وقت اس میں کروایا۔ مینمتعارف لاہور، مطبوعہ( ہند، و پاکستان مشائخ و علما تذکرهٔ اسے نے صاحب

مشمولات کے اس تو کیا شامل میں )۵۵٠ -۵٣٨ ص اول، جلد ء،٢٠١٣ ادارهٔ معارف نوشاہیہ، اسلام آباد۔

سے آگاه ہوا۔ خدا کا کرنا یوں ہوا کہ ء٢٠١ میں ایک صاحب، جنہوں نے اپنا نام کوثر عباس علوی بتایا، ڈھونڈتے ڈھونڈتے مجھ تک پہنچے اور اپنے بستے سے ایک قلمی نسخے کا عکس نکالا اور بتایا کہ وه اس کتاب کا اردو ترجمہ کررہے ہیں انہیں، کچھ اشکالات کا سامنا ہے اگر میں ان کی کچھ مدد کرسکوں تو میرے ساتھ بیٹھ کروه اشکالات رفع کرلیں۔ میں نے نسخہ دیکھا تو وہی عین التصوف تھا۔ اب ء٢٠١٧ میں یہ کتاب شایع ہوگئی ہے۔ ترتیب( و تدوین، مقدمہ و تعلیقات پیر محمد طاہر حسین قادری، اردو ترجمہ کوثر عباس علوی واویس عبدلله منگانوی، از مطبوعات کتاب خانۂ ابن کرم، خانقاه منگانی شریف، ضلع جھنگ، پنجاب)۔ کتاب کے پہلے حصے میں پیر محمد طاہر حسین قادری صاحب کا مفصّل مقدمہ مع تعلیقات اور عین التصوف کا اردو ترجمہ ہے۔ دوسرے حصے میں عین التصوف کے واحد معلوم نسخے کا بتمام و کمال عکس شایع ہوا ہے۔ مصنف نے کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے میں فکری وعملی مسائل از قسم عشق و محبت، ذکر، ارواح، معاد، ارکان نماز وغیره کا بیان ہے۔ دوسرے حصے میں مصنف کے اجداداور بعض معاصر مشایخ کے حالات ہیں اور اسی دوسرے حصے کی بنا پر اس ماخذ کی اہمیت ہے۔مصنف کا نسبی تعلق حضرت شیخ عبدالقادر گیلانی سے ہے۔ مصنف کے خاندان کی کئی شاخیں پاکستان و ہند میں آباد ہیں۔ ہندوستان میں مَہم رہتک اور سلطان پور لودھیاں ریاست( کپور تھلہ) میں یہ خاندان آباد ہوا۔ یہ

اس خاندان کے حالات پر بقول مرتب دستیاب ہونے والا واحد ماخذہے ۔ میں نے چند ایک مقامات پر اصل اور ترجمے کو ملا کر دیکھا ہے۔ترجمے میں اشکالات پائے جاتے ہیں۔ بعض مقامات پر ترجمہ چھوڑ دیا گیاہے۔جگہ کی قلّت کے باعث میں ایک دو مثالوں پر ہی اکتفا کروں گا۔ باقی تفصیل عند الطلب اپنے مخدوم، پیر محمد طاہر حسین قادری صاحب

کی خدمت میں پیش کردی جائے گی۔ اصل ص( ):٢١١ من نیاز مقرر کرده ام اگر پنج ہزاری شوم یک

لک روپیہ نیاز ۔ بگذرانم ترجمہ ص( ):٢۵۵ میں نے منت ما نی تھی کہ اگر اس سال میری

فصل پان ہزار من ہوئی تو مبلغ ایک لاکھ روپیہ نیاز دوں گا۔ اربابِ دانش جانتے ہیں کہ اصل میں پنج ہزار ی منصب کا ذکر ہوا ہے اور منت ماننے والے نے یہ منت مانی کہ اگر اسے بادشاه کی طرف سے یہ منصب مل گیا تو وه فلاں نذر دے گا۔ مغلیہ دور میں رائج مناصب

کے شخص حامل کے منصب ہزاری پنج ہے۔ ہزاری پنج ایک سے میں رام آنند دیکھیے:( تھے کرتے کام سپاہی سوار اور پیادے ہزار پان نیچے ء٢٠١ دہلی، قاسمی، حسین شریف تصحیح بہ الاصطلاح، مرآت مخلص،

(٣ - ٣۵ ص ، مانده ہمہ ایستادن از پیر و جوان از حاضران : )٢ صاصل(

ماندند۔ می رقص در زاید کم پاس دو حال بہمین ایشان و شدند می بوڑھے کیا حاضرین، تمام ساتھ ساتھ کے آپ : )٣١٧ ص( ترجمہ وقت کافی میں عالم اسی اور تھے لگتے کرنے رقص سبھی جوان، کیا،

گزرجاتا۔ کھڑے توجوان، کیا، بوڑھے کیا سے میں حاضرین ترجمہ: مجوزه

و کم دوپہر میں حالت اسی )یحییٰ شیخ( وه لیکن جاتے ره بھی سے ہونے

رہتے۔ محو میں رقص بیش والد بہ خبر این چون عبارت فارسی : )٩سطر ،٢١١ ص( اصل

کا ۔ کند جا دلش در قیدی بی فقیری مبادا کرد می تنبیہ رسید می ایشان

ہے۔ ہوگیا انداز نظر ترجمہ تقریباً( کشمی ہاشم محمد خواجہ کشمی: ہاشم محمد خواجہ رسائل ۔٢ خلیفہ کے سرہندی احمد شیخ حضرت ء)،١ ٣٣ -١۵٩١ / ھ١٠ ٣ -١٠٠٠ ان ہیں۔ جاتے جانے پر طور کے جامع کے سوم) جلد( مکتوبات کے ان اور پشاورکے صاحب، مجدّدی جان عبدلله پیر نسخہ ایک کا رسائل قلمی کے کے اس اور نسخے اس نے السطور راقم ہے۔ محفوظ میں خیریہ خانۂ کتب کشمی ہاشم محمد دیکھیے:( تھا لکھا مقالہ تعارفی مفصل ایک پر مندرجات - محرم ، آباد اسلام ، نظر و فکر ، بازیافت کی رسایل فارسی بعض کے اشاعت مکرر ؛٨ -٨٣ ص ، ١٩٩٣ ستمبر جولائی- ھ/١ ١ الثانی ربیع بہ اشاعت عکسی کی نسخے قلمی اسی اب ۔ ء)٢٠٠۵ لاہور، عمر، نقد در: ء،٢٠١٧ لاہور، کیشنز، پبلی ربانی امامہے( ہوئی مجددی اقبال محمد مقدمۂ ہوئے جمع رسائل ذیل حسب کے کشمی میں مجموعہ اس ۔ص) ١٢+٢٠٨ من القدس نسمات الرسول، شریعۃ فی الوصول طرق لله، رسول حلیہہیں: مکتوباتربانی، امام مکتوبات تدوین رویداد مقدمہ)، صرفالانس( حدایق فی العالی قدرکرمینی، قاسم شیخ احوال در رسالہ کشمی، ہاشم محمد خواجہ پر سرورق کے کتاب الانامی۔ سید نام سرّاسرار گوہرنامیاللیالی، خیر اسرار ہے۔ مقدمہ سا مختصر اندر کے کتاب لیکن ہے تاکید کی مفصل بمقدمۂ

مذکوره ساتھ کے اشاعت عکسی کی نسخے قلمی اس ہوتا اچھا ہی کیا فہرست میں ابتدا میں عجلت نے ناشر جاتا۔ کرلیا شامل بھی مقالہ بالاتعارفی رسائل مجموعۂ اس ہے! کی نہیں بھی زحمت کی لگانے رسائل و مضامین ( تھا کیا شایع کرکے مرتب نے السطور راقم کو لله رسول حلیہ سے میں علی اہتمام بہ ، شہیدی) جعفر سید دکتر استاد نامۂ جشن( شہیدی نامۂ مشمولۂ ص ،١٩٩۵ش/ ١٣٧ تہران، ، نو طرح انتشارات ، خانی محمد اصغر ہیں۔نسمات مطبوع غیر ہنوز رسائل باقی کے مجموعے اس ۔) ٩٢ -۵٨٢ ہوا۔ نہیں شایع تاحال متن فارسی لیکن ہے ہوچکا شایع ترجمہ اردو کا القدس الف مجدد سرہندی احمد شیخ حضرت الابرار: براءة فی النظار بہجۃ ۔٣ کتب و رسائل کئی میں ممالک دیگر اور برصغیر میں ردّ اور دفاع کے ثانی کی رسائل و کتب والے ہونے تصنیف میں دفاع کے ان ہیں۔ جاچکے لکھے اس ۔ ہیں رہے کرتے مجددی اقبال محمد پروفیسر اہتمام کا اشاعت عکسی تازه کی سلسلہ اس ہیں۔ ہوچکی شایع جلدیں دو سے اہتمام کے ان قبل سے کی ء)١٧ ٨ - ١ ٨٢ ھ/١١ ١ -١٠٩٣( ٹھٹھوی معین محمد مخدوم کتاب مفصل بمقدمۂ جو ہے الابرار براء فی الانظار) کذا:( النظار بہجۃ تصنیف کیشنز، پبلی ربانی امام( ہے ہوئی شایع مجددی اقبال محمد ترجمہ ملخص و ساکن مجددی جان ہاشم محمد حافظ یہ ۔ص) ٣١٨ + ٠ ء،٢٠١٧ لاہور، نے ناشر ہے۔ عکس کا نسخے قلمی بفرد منحصر کے سندھ داد، سائیں ٹنڈو کرنے درج اشاعت سال اور مضامین فہرست بھی میں ابتدا کے کتاب اس وصال سال چہارصدمین بمناسبت پر سرورق البتہ کی۔ نہیں زحمت کی

ہے۔ موجود اطلاع کی یافت انتشار ثانی الف مجدد حضرت دوست حاجی قندھاری: محمد دوست حاجی مناقب فی الباری ۔فضائل۴ ، زئی موسی مدفون ء)١٨ ٧ -١٨٠١/ ھ١٢٨ -١٢١ ( قندھاری محمد ھ/١٢٧٧ وفات:( مدنی ثم دہلوی مجددی سعید احمد شاهخان، اسماعیل ڈیره اور پاکستان موجوده سے کوششوں کی ان تھے۔ خلیفہ کے ء)١٨ ٠ ہوئی، اشاعت خوب کی سلسلے مجددی میں علاقوں سرحدی کے افغانستان زئی موسی اور قندھار) مضافات( غنڈان خانقاہیں دو کی ان چنانچہ زئی موسی رہیں۔ فعال بہت میں سلسلے اس خان) اسماعیل ڈیره مضافات( ملفوظات کے صاحب حاجی ہے۔ موجود تک اب سعیدیہ یہ احمد خانقاه کی شیخ اور کیے جمع نے ہرصوری بخش رحیم شیخ خلیفہ ایک کے ان خانقاه نسخہ قلمی ایک کا ملفوظات ان کیے۔ مرتب نے کوہی لونی معزالدین مفصل بمقدمۂ عکس کا جس ہے دستیاب میں زئی موسی سعیدیہ احمدیہ ء،٢٠١٧ لاہور، کیشنز، پبلی ربانی امام( ہے ہوا شایع مجددی اقبال محمد

ص) ٣ + احمد شیخ ثانی الف مجدد ربانی امام ہشتم: جلد ربانی امامِ ارمغان مذاکره علمی ایک پر موضوعات دیگر متعلقہ اور افکار کے سرہندی رودادکی کی ہے۔اس ہورہا پذیر انعقاد میں پاکستان لاہور سے ء٢٠٠۵ اس ہے۔اب رہا ہو سے باقاعدگی سے نام ربانی امام ارمغان سلسلہ کا اشاعت شایع شمس عباس ہمایوں محمد ڈاکٹر تدوین و بترتیب جلد آٹھویں کی سلسلے میں جلد اس ۔ص) ۵١٠ ء،٢٠١٧ لاہور، کیشنز، پبلی ربانی امام( ہے ہوئی دوسرا اور مجددی اقبال محمد تحقیقات گوشۂ ہیں۔ایک اہم بہت گوشے دو کی رسائل فارسی قدیم گوشے دونوں ۔ عباس ہمایوں محمد تحقیقات گوشۂ رسائل قلمی ذیل حسب میں مجددی گوشۂ ہیں۔ مخصوص لیے کے اشاعت

ہیں: ہوئے شایع مجددی اقبال محمد تحقیق و بمقدمہ عکس کے سیالکوٹی لبیب عبدلله مولانا از الوجود وحدت در رسالہ ۔١ الرحمٰن خلیل سیالکوٹی۔یہ عبدالحکیم مولانا بن ء)١ ٨٣/ ھ١٠٩ وفات:(

ہے۔ عکس کا نسخہ قلمی مملوکہ کے لاہور، داودی )، ھ١٢ ٠ -١١۵ دہلوی( علی غلام شاه از مظہریہ کمالات ۔٢

خانقاه یہ ۔ھ)١١٩۵( شہید جانان جان مظہر میرزا کمالات و حالات در

ہے۔ عکس کا نسخے کے دہلی مظہری، وفات:( کنجاہی الدین محی غلام حافظ از التواریخ مجمع ۔٣

متعلق سے خانوادے کے مصنف اور دین بزرگان ء)،١٨ ٧/ ھ١٢٨ لاہور مجددی، اقبال ذخیرهٔ ہے۔یہ مبنی پر تاریخ ہاے مادّه و قطعات پر واقعات معروف کا پنجاب)( گجرات ضلع کنجاه، ہے۔ عکس کا نسخے قلمی کے اور عشق نیرنگ صاحب کنجاہی غنیمت میں عہد عالمگیری ہے۔ قصبہ شعرا گو فارسی معروف کے یہاں المناقب ثواقب صاحب کنجاہی صداقت

ہے۔ نمونہ اہم کا روایت کی گوئی تاریخ فارسی التواریخ ہیں۔مجمع گذرے کے غجدوانی عبدالخالق خواجہ میں عباس ہمایوں محمد گوشۂ

اور نفیسی) سعید تصحیح و مقدمہ با متن( فارسی کا صاحبیہ رسالہ فارسی کے ہمدانی یوسف خواجہ ہے۔یہ چھپا عباس ہمایوں محمد بقلم ترجمہ اردو

ہے۔ مشتمل پر ملفوظات اور مقامات احوال، ہوا۔ پذیر اختتام یہاں تذکره کا اشاعت عکسی کی مخطوطات ھ/١٣٣١-١٢٧۵ ( نگرامی ادریس محمد مولانا حال: علماے تذکرهٔ وجماعت سنّت اہل معاصر کے ہندوستان میں ء١٨٩۵ نےء)١٩١٢-١٨۵٨

انہیں اور کیے جمع کر لے سے انہی حالات کے علماءمسلک) حنفی( پہلی سے نام حال علماے تذکرهٔ بہ ملقب الزمان علمای بذکر الاخوان تطییب تقریباً میں اس کیا۔ شایع سے لکھنو کشور، نول منشی مطبع میں ء١٨٩٧ بار تھا نایاب سے عرصے تذکره یہ ہے۔ ہوا تہجی بترتیب تذکره کا علما ٢ پروگریسو( ہے ہوا شایع دوباره مجددی اقبال محمد تعلیق و تحقیق بہ اب، میں مقدمے اپنے نے صاحب مجددی ۔ص) ٣٣ ء،٢٠١٧ لاہور، بکس، اجمالی کا تذکرے نظر پیش اور حالات کے مولف روایت، کی نویسی تذکره حجم کا تعلیقات قدر اسی ہے ضخامت کی متن قدر جس ہے۔ کیا پیش جائزه نئے اور ہیں گئے لکھے حالات مزید کے علما مذکور میں تذکرے اور ہے اضافہ میں افادیت کی کتاب نے ضمائم تین ہے۔ گئی کی دہی نشان کی مآخذ مولف؛ بنام محلی فرنگی الحی عبد مولانا مکتوبات ۔ ١ ہے: کردیا در ولی ۔واقعات٣ نگرامی؛ الرحمان مطلوب تالیف نگرامی ۔علماے٢

ہسوی۔ عبدالسلام حالات مینسینکڑوں ان اور ہوں متعلق سے الرجال علم جو کتب، ایسی کرناجدید شایع کے اشاریوں مناسب بغیر ہوں، آئے نام کے کتب اور مقامات نے ناشر یا مرتب کہ افسوس ہے۔ منافی کے تقاضوں اشاعتی کے دور

ہے۔ کیا نہیں اہتمام کا اشاریوں ء١٨٩١ تھے، کررہے تالیف تذکره یہ جب نگرامی ادریس مولانا تحفۃ( ہند علماے تذکرهٔ اپنا ء)١٩٠٧ - ١٨٢٨( علی رحمان مولوی میں میں ء١٨٩ بار پہلی یہ اور تھے کرچکے مکمل الکملا) تراجم فی الفضلا کے نگرامی مولانا اور تھا چکا ہو شایع سے لکھنو کشور، نول منشی مطبع کیا میں تذکروں عصر دوہم ان کہ چاہیے دیکھنا تھا۔ چکا گذر سے مطالعہ

ہے۔ اشتراک حسین بن علی فخرالدین مولانا ترجمہ: اردو کا الحیات عین رشحات فارسی کی ء)١۵٣٢ -٣٣ -١ ٣ ھ/٩٣٩ -٨ ٧( کاشفی سبزواری واعظ بزرگ، نقشبندی کے ایشیا پروسطی طور بنیادی، الحیات عین رشحات کتاب اور اولاد کی ان ء)،١ ٩٠ -١ ٠ / ھ٨٩۵ -٨٠ ( احرار عبیدلله خواجہ نقشبندیہ خواجگان/ مینسلسلۂ اس پر طور کے تمہید لیکن ہے تذکره کا خلفا وسطی تر زیاده جو ہیں ہوئے درج بتفصیل بھی حالات کے بزرگوں ان کے تھے۔ ہوئے مینپھیلے علاقوں کے خراسان موجوده اور ترکستان قدیم ایشیا، کتاب یہ سے ہی ہوئی۔شروع تصنیف میں ء١۵٠٣- / ھ٩٠٩ کتاب یہ نے بدخشی کشمی ہاشم ہے۔محمد رہی مقبول بہت میں حلقوں کے صوفیہ

اس کا ایک تکملہ نسمات القدس من حدایق الانس لکھا ۔ رشحات کا ایک اردو ترجمہ ابوالحسن فریدآبادی نے کیا ھ١٣١١تھاجو میں مطبع منشی نول کشور، لکھنو سے طبع ہوا۔ خود رشحات اگرچہ ہندوستان، تاشقندسے سنگی چھاپہ سے شائع ہوچکی ہے لیکن علی اصغر معینیان نے اس کا جو ایڈیشن تیار کرکے تہران ء١٩٧٧، سے شائع کیا اسے سامنے رکھ کرڈاکٹر محمد نذیر رانجھا نے اس کتاب کا جدید اردو ترجمہ کیا ہے ( اشاعت: خانقاه سراجیہ نقشبندیہ مجددیہ، کندیاں، ضلع میانوالی، ء،٢٠١٧ ٢ ۔صفحات) ترجمہ سہل اوررواں ہے اور بالعموم مترجم نے متن کی پیروی کی ہے لیکن بعض مقامات پر دیکھا گیا ہے کہ مترجم نے اصل کو صحیح طور پر

نہیں سمجھا اور منشاء مصنف کے خلاف بات کی ہے۔ چند مثالیں: دراصل: مبادی حال کہ در ولایت شاش می بوده اند۔ رشحات،(

(٣ ٧صتہران، حضرتترجمہ: عالی اپنے حال کے آغاز میں جب بھی صوبہ

شاش میں ہوتے۔ ص( (٣ ٢ ترجمےاس خواجہیہہواہے۔مجروحمفہوماصلسے بھیجب میں احرار کی بات ہور ہی ہے جو اپنی ولادت سے ٨۵۵ ء١ ۵١ھ/ تک تاشقند(

شاش پرانا نام) میں رہے تھے۔لہٰذا جب بھی ہونے کا سوال نہیں ہے۔ اصل: او را ضعیفہ بوده است مسلطہ، خدمت ہایی کہ تعلق بہ زنان

می دارد، از آش پختن ونان ساختن، اونمی کرده ۔شیخ بنفس خود در مقام آش

پختن و نان ساختن ۔ شده ( رشحات، تہران، ص ٣٧٠ (٣٧١انترجمہ: کی اہلیہ تھینلیکن وه ان کو عورتوں سے متعلق خدمات سالن بنانے اور روٹی پکانے پر نہیں لگایا کرتے تھے۔تنگوز شیخ بنفس نفیس سالن بنانے اور روٹی پکانے کے مقام پر کھڑا ہوگئے اور خود کو

چولہے اور راکھ کے نزدیک کرلیا۔ ص( (٣ ۵ یہ شیخ تنگوز کی اہلیہ کی بات ہورہی ہے جن کی صفت مصنف

نے لفظ مسلطہ سرکش،( جابر) سے بیان کی گئی ہے جسے ترجمے میں چھوڑ دیا گیا ہے۔ اپنی اسی سرکشی کے باعث وه گھر میں کھانے پکانے کا کام از خود نہیں کرتی تھیں ۔ لہٰذا مترجم کا یہ کہنا کہ شیخ انھیں کام پر نہیں لگاتے تھے، قرین حقیقت نہیں ہے۔ نیزفارسی متن مینایسا کوئی جملہ نہیں ہے جس کا اور ترجمہ خود کو چولہے اور راکھ کے نزدیک کرلیا کیا گیا

ہے۔یہ مترجم کا اضافہ ہے۔

ص ۵۵٠ پر مترجم نے ایک ترکیب چغہ والی لکھی پگڑی ہے

جو اصل میں دستار فرجی کا ترجمہ کیا گیا ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ چغہ والی پگڑی کیسی ہوتی ہے؟ میرا خیال ہے کہ اصل میں دستار و فرجی ہونا چاہیے۔ دستار تو پگڑی ہوگیا اور فرجی وه قبا کی طرح کا وه

لباس ہے جو اصل لباس کے اوپر پہنا جاتا ہے۔ ص ۵۵٣ پر مترجم نے جملہ لکھا ہے: آپ میرے ساتھ سیاست کے لباس میں۔ ظاہر ۔ ہوئے فارسی زبان میں سیاست سے مراد تنبیہ ، سزا، درشتی یا سختی ہے ۔یہاں ترجمہ یوں ہونا چاہیے تھا کہ آپ میرے ساتھ

درشتی سے پیش آئے ۔ ص ۵۵ کی پہلی سطر پر خواجگان کی بجاے خواجکا ہونا چاہیے۔

۵۵ ص سطر، ١ پر ایک رومال لکھا گیا ہے۔ اصل میں چھ

گز کا رومال لکھا ہواہے۔ ان چھوٹی چھوٹی حرف گیریوں کے باوجود یہ ترجمہ ان لوگوں

کے لیے غنیمت ہے جو اب فارسی متون سے براه راست استفاده نہیں کرسکتے۔ ویسے میری ذاتی راے میں علی اصغر معینیان کا مرتبہ متن، صحت کے اعلیٰ معیار پر نہیں ہے اور رشحات کو بہتر مخطوطات کی

بنیاد پر از سرِ نوشائع کرنے کی ضرورت ہے۔ قلندریۂ سہروردیہ ہند پر ایک فراموش شده ماخذ: اصداف الدُرر: سید نجم الدین غوث الدھر قلندر م:( ھ٨٣٧ ء)١ ٣ / اور ان کے ایک گمنام خلیفہ شیخ تاج الدین کے ملفوظات اورواقعات پر ایک فراموش شده مختصرفارسی ماخذ اصداف الدرر گردش روزگار سے ب نکلا ہے۔اسے شیخ تاج الدین کے ایک ناممرید( مذکور ھ٨٠ نےنہیں) ء١ ٠٢/ میں تالیف کیا تھا۔مولف سید، نجم الدین اور شیخ تاج الدین دونوں کی خدمت میں رہا ہے۔ان شیو کا شجرهٔ طریقت سید نورالدین مبارک غزنوی ہوتےسےدہلیمیر سہروردیالدینشہابشیخہوئے جاسے ہے۔نجمملتا الدینتاجشیخخلیفہکےانلیکنہےبدستیاموادکچھتومیںبارےکےقلندرالدین کے بارے میں واحد ماخذ یہی اصداف الدُرر ہے جسے اس کے دستیاب دو قلمی نسخوں کی مدد سے حسن نواز پاکستانیشاه( مرتب) اور زین الحیدر علوی ہندوستانی( مرتب نے) مناسب مقدمہ و تعلیقات کے ساتھ شائع کیاہے مخدومہ( امیر جان لائبریری، نڑالی ، تحصیل گوجر خان، ضلع راول ۔اصدافصفحات)١٣ ء،٢٠١٧پنڈی، الدُرر کے دونوں نسخے متاخر مکتوبہ( ھ١١٨٢ ، ھ١٣۵٧ ہیں) اور دوسرا پہلے ہی کی نقل ہے۔ پہلا نسخہ مخدوش اور

کھولتا۔یہینہیںکوگرہوںموجودمیںمتنباعثکےہونےرونویسیمحضدوسرا میں اشاعت اس ہے۔چونکہ مغشوش بھی قراءت پر مقامات بعض کہ ہے وجہ غور مزید پرمقامات ایسےلیےاسگیاہے چھاپابھیعکسمکمل نسخونکادونوں

ہیں:ذیلمندرجہ ملاحظات ہے۔میرےکھلالیےکے سبراستہ کافکر و احد ١١٨٢ سنۃ العظم شوال شہر من دوسہ، یوم :١٩ص، مقدمہ

یقینا المعظم۔کاتب شوال اور ہے دوشنبہ یوم یہ الف۔ و سمعون و اسا عشر میں لکھنے میں حروف کو ١١٨٢ عدد اور ہے نہیں بلد چنداں سے عربی والف تسعون و عشراثنا احد نے دوم ناقلِ کو ترقیمے ہے۔اسی گڑبڑ کچھ

ہے۔ نہیں برابر کے ١١٨٢ جوعدد )١٣٢صہے( پڑھا مرتبین اضافہ کا بہ)( یہاں بازگشت۔ مقطع بہ)( چون :٣٧ صمتن، حاضر کے امیر کسی واقعہ ہے۔ زائد میں خیال میرے جو ہے سے طرف کی کہتے کو والی یا دار مینصوبے زمانے پرانے دار ۔مقطع ہے کا ہونے خدمت

گیا۔ چلا واپس والی)( مقطع وه جب کہ ہے یہ مراد ۔شایدیہاں تھے راز او آیدچون برون وقتیاست، افتاده جاه در بادشاه :٣٨ صمتن، اوراز لفظ ایک کا چاہیے۔فارسی ہونا کنواں)( چاه نہیں جاه یہاں یابد۔ راز - او کرکے الگ الگ نے مرتبین یہاں جسے ہے میں مفہوم کے بلندی میں کنویں وقت اس بادشاه کہ ہے یہ نزدیک میرے مفہوم کا ہے۔جملے پڑھا

ہوگا۔ احساس کا بلندی اسے تب گا آئے باہر جب ہے پڑا گرا کے النبی نے مرتبین ، ست۔۔۔ النبی خصایص من : ٠ ص متن، جیسا چاہیے ہونا وسلم علیہ لله صلی وہاں ہیں ڈالے نقطے تین جہاں بعد

ہے۔ میں نسخوں دونوں کہ لفظ میں الف نسخۂ کنند۔ می بلاغت بی نکاح خلق : ٠ صمتن، ص( ہے بنایا بنیاد کو الف نسخۂ نے مرتبین ہے۔چونکہ جماع جگہ کی نکاح ب نسخۂ اور تھا چاہیے آنا لفظ وہی یہاں ہوئے کرتے پیروی کی اس)١٣

جاتا۔ کیا درج میں نُسخ اختلاف نکاح لفظ وارد میں المجاھدات بسیوف اقتلواالنفوس قول عربی ایک :۵۵صتعلیقات،

نہیں معلوم نام کا قائل کے اس کہ ہے کہنا کا مرتبین میں بارے کے عین ہمیں صورت اور ایک کی قول اس تاہم ہے۔ ہی ایسا ہوسکا۔شاید ملتی یوں میں ٢١٩ صتمہیدات، کتاب کی ) ھ۵٢۵- ٩٢ہمدانی( القضات

المخالفات۔ و المجاھدات بسیوف انفسکم اقتلوا ہے؛ دھار، ضلع نالچھہ، واقع مزار کے قلندر الدین نجم:٨ صتعلیقات،

درج ھ ٨۵٢الحجہ ذی ٢٠ وفات تاریخ کی ان پر کتبے کے پردیش مدھیہ لکھی ھ ٨٣٧ الحجہ ذی ٢٠ پر سرورق کے کتاب نے مرتبین کہ جب ہے

کیا! نہیں تبصره کوئی نے مرتبین پر اختلاف ہے۔اس اسوهتوہےکمیکیچیزکسیاگرمیںاشاعتاسکیالدُرراصداف کاممشکلکوئیترجمہاردوکامتنفارسیکےصفحات١ ہے۔ترجمہاردوکا

جاتے۔ بڑھ مزید فوائد کے کتاب تو ہوتا اشاعت شامل بھی وه تھا۔اگر نہ ء٢٠١٧نومبر گڑھ، اعظممعارف، شاعری‘‘: فارسی اور ستی رسم ’’ نظر مضمون دلچسپ الصدر مذکور کا صاحب اجمل یحییٰ محمد ڈاکٹر میں محض کی سوزوگداز مثنوی کی خبوشانی نوعی نے گذرا۔ڈاکٹرصاحب سے قارئین دیگر اور صاحب ڈاکٹر ہے۔ کیا ذکر کا ھ)١٢٨ ( اشاعت ہندوستانی عابدی حسن امیر سید پروفیسر مثنوی یہ کہ ہے عرض لیے کے اطلاع کی میں ء١٩٧٠ کرکے مرتب نے) یونیورسٹی دہلی فارسی، شعبۂ ( مرحوم اپنے نے اجمل تھی۔ڈاکٹر دی کروا شایع سے تہران ایران، فرہنگ بنیاد ہے۔اس دیا حوالہ کا مقالے اردو ایک کے عابدی پروفیسر میں مضمون کے جس ہے۔ موجود بھی مقالہ فارسی ایک کا عابدی پروفیسر پر موضوع گداز و سوز مثنوی و فارسی ادبیات در ستی داستان ہیں: ذیل حسب کوائف ، فارسی ادبیات زمینۂ در پژوہشی ہای گفتار مشمولہ خبوشانی نوعی اپنے نے عابدی پروفیسر ؛٣٢ -٣١ صفحات ، شمسی ١٣٧٧ تہران، سیده مرتبہ عابدی، مقالات مشمولہ خبوشانی نوعی مقالے دوسرے ایک پر مثنوی اس بھی میں ١٧٠ -١۵٧ ص، ء٢٠٠٣ دہلی،، حسینی فاطمہ بلقیس

ہے۔ میں اردو مقالہ ہے۔یہ کی بحث ذکر کا مثنوی فارسی اور ایک پر موضوع کے ستی اجمل ڈاکٹر

کا اس ہے۔ مثنوی کی کشمیری وارستہ کاچرو بیربل گئے۔یہ بھول بھی کرنا

ہے: یہ مطع

افروز بر را جانم شمع الہی

روز مشعل چون دلم کن منور

یہ نے ء)١٩٨٢وفات:( راشدی الدین حسام سید محقق پاکستانی کی ء)١٩ ٩کراچی، اکادمی، اقبال کردهٔ نشر( کشمیر شعراے تذکره مثنوی کے حالات کے کشمیری وارستہ میں ١ ۵٢ - ١ صفحاتچہارم، جلد سو ایک کل کے ۔اس ہے کی نقل سے کشمیر گلشن بہار تذکره میں ذیل مثنوی بہ معروف نامہ ستی قصۂ عنوان کا اس ہیں۔ اشعار)١٧١( اکہتر نے انہوں ہے۔ الجھن ایک میں نقل کی راشدی ہے۔سید ہوا درج گداز سوزو

فارسی گویان کشمیر ص، ١٧٣ کے حوالے سے وارستہ کا سال ولادت ء١٨٠۵ اور سال وفات لکھا١٨٧۵ ہے جب کہ ستی نامہ کی تاریخ تصنیف کے لیے جو مادّه نقل ہوا ہے اس سے ھ١١٣٢ برآمد ہوتاہے اور یہ عیسوی١٧٢٠ کے مطابق ٹھہرتا ہے۔معلوم نہیں اس کی وارستہ کے بیان کرده سنین ولادت و وفات سے کیسے تطبیق ہوگی؟ پی تاریخ این ہنگامۂ زشت

ندا از غیب آمد دور برگشت

١١٣٢

یہ کشمیر کے ایک آتش پرست جوان اور اس کی محبوبہ کی خود

سوزی کی داستان ہے۔ جوانی بود در اقصای کشمیر

نکو رو ی و نکو خو ، نیک تدبیر

ز سوز سینہ پر آتش کنارش

کہ خود آتش پرستی بود کارش

ڈاکٹر اجمل نے اپنے مضمون میں سوال اٹھایا ہے کہ مسلمان شعرا ، ستی کی رسم کی جو، ایک طرح سے خود کشی ہے اور اسلام نے اسے حرام قرار دیا ہے، کیوں ستائش کرتے رہے؟ وارستہ کی مثنوی میں ہمیں ایک پیرِ نکتہ دان کی زبان سے اس کے خلاف بیان ملتا ہے۔ جب کشمیری نوجوان خود سوزی کا فیصلہ کرلیتا ہے تو وه پیر نکتہ دان و نکتہ گیر اس کو یوں سمجھاتا ہے: ازین تشویش بگذر ، این محال است

کہ خود سوزی بہ ہر ملّت وبال است

چنین آشفتہ و غمناک بودن

ز دین و از جہان بیباک بودن

وارستہ کی مثنوی کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس ستی کا تعلق ہندو دھرم سے نہیں بلکہ آتش پرستی کے کیش سے ہے۔ اس داستان کا ایک کردار موبد بھی ہے۔ آتش پرستوں( زرتشتیوں) کے مذہبی پیشوا کو موبد کہا جاتا ہے۔

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.