ایک کا یؒ ندو سلیمان سید علامہ مکتوب فارسی نادر

مولوی طلحہ نعمت ندوی

Maarif - - ء٢٠١٨ مارچ معارف -

مکتوب فارسی نادر کایہ ندویؒ سلیمان سید علامہ حضرت

شاید اور کہیں یا میں معارف تک اب لیکنہے، محفوظ میں ہی دارالمصنّفین اسے کہ آیا خیال تو گذرا سے نظر مکتوب یہ جب لیے اسی ہوا، نہیں شائع ذریعہ کے اس علاوه کے باتوں دیگر جائے، پہنچایا تک معارف ظرین نا اسلوب فارسی کا ان اور یادگار علمی ایک کی صاحب سید میں فارسی وتعلیق ترجمہ مع مکتوب چنانچہ آجائے۔ سامنے کے علم اہل بھی نگارش

ہے۔ خدمت پیش مشکل تو فیصلہ یقینی کا اس ہے، کون الیہ مکتوب کا مکتوب اس پروفیسر مکتوب اہم یہ شاید کہ ہے ہوتا اندازه سے مشمولات البتہ ہے، میں مکتوب اس تھے، اسکالر ممتاز کے فارسی جو ہے، گیا لکھا کو براؤن نام کے صاحب سید سے نظر کی راقم اور ہے ذکر کا ملنے مکتوب کے ان کراچی فاران ماہنامہ جو ہے گذرا مکتوب فارسی ایک کا براؤن پروفیسر سید تو یوں تھا، ہوا شائع میں ہی حیات کی صاحب سید میں شماره کسی کے مراسلات سے وشعراء ادباء افغانی ممتاز کے فارسی بھی اور کے صاحب سید نام کا گویا خاں سرور شاعر افغانی مشہور میں جن تھے، مراسم و حمیدلله محمد ڈاکٹر میں اس نیز ہے، ملتا جگہ کئی میں مکاتیب کے صاحب کہ ہے امکان زیاده اور ہے ذکر کا ملنے مکتوب سے توسط کے صاحب ہوگی، ہوئی ملاقات کی ان سے صاحب ڈاکٹر میں ہی فرانس یا جرمنی مستقل کا نگار مکتوب سے الیہ مکتوب کہ ہے ہوتا اندازه سے مکتوب سیرت اور خیام کتاب کی صاحب سید میں اس ہے، قائم مراسلات سلسلۂ بھی اجازت کی ترجمہ کے خیام نیز ہے، ذکر کا کرنے ارسال کے عائشہؓ واقعہ ایک کا زندگی ابتدائی کی صاحب سید میں ضمن اسی اور ہے گئی دی بہارشریف۔ ، استھانواں

بھی زیر قلم آگیا ہے اور اخیر میں مکتوب نگار کی ایک علمی اور تحقیقی کاوش کا ذکر کرکے معارف میں اس کے تذکره کا وعده بھی ہے، مزید تفصیل ترجمہ میں واضح ہوگی۔ بعض جگہ عبارت سمجھ میں نہ آسکی اس لیے وہاں سوالیہ نشان ڈال دیا گیا ہے۔ محب یگانۂ من! سلامت باکرامت تحیتباشند، وتسلیم نیازمندانہ قبول فرمایند۔ ایں یکے از حسن مصادفات است کہ ازان سو مکتوب

گرامی بحرکت آمد، و از این سو نیاز نامۂ من بخدمت شما رواں شد ۔یاد آوری را سپاس می واینگذارم، فرموده آید کہ بعد از سفر ایران مکتوب گرانمایہ فرستاده بندهاید، بیکے ازیں دو ہم نائل نشد ، استغفرلله کہ من سرکار شمارا فرموش کنم ویاد آن عنایات

صمیمانہ را از دل محو کنم۔ حقہ مہر بدون نام و نشان است کہ بود پیغامیکہ بہ پروفیسورحمیدلله فرستاده (؟؟) بودید رسیدوکتاب خیام بخدمت گرامی ارسال کرده امیدشد، کہ رسیده باشد اکنوں، کتاب سیرت عائشہؓ ارسال می کنم۔نسخۂ دیگرکتاب خیام بعقب ارسال خواہم کرد۔چوں من در عنفوان شباب یکےبودم، مقالۂ من زیر طبع بود، ناچار صاحب مطبع وگفتشد،منزعج(؟؟) وچہ خوش اےگفت، مصنف تازه غم! مخور کہ ہی مصنف را بزندگیش کتاب کامل وصحیح طبع نہ شد۔بر ہمیں منوال می گویم کہ کتاب خیام پس از چندیں سال ناقص وحاجتشد، حک واصلاح چوںافتاد، جناب شما می خواہید کہ عیب بندهٔ خویش را بکشور دورودر عرفہ (؟؟؟) سراید می خواہیم کہ تا توانیم بر عیب خویش پرده بیفگنیم، انشاء لله نسخۂ مصححہ بنظر ثانی پس ازاصلاح بخدمت گرامی شماارسال کنیم۔جناب شما را بہ ترجمۂ این کتاب اجازت کلّی حاصل است۔نامہائے حکیم سنائی کہ بدریافت آن ہاشما موفق شده اید اہمیت بزرگ داردبر جہان فارسی منت بے اندازه کردید ذکر، جمیل شمابزبان معارف خواہد

آمد۔ والسلام مخلص شما

سلیمان

محبی بخیر رہیں اور نذرانہ سلام قبول فرمائیں اسے حسن اتفاق ہی کہیے کہ اس جانب سے مکتوب گرامی تحریککی ہوئی اور ہیساتھ ادھر جنابسے کی خدمت میں نیازنامہ ارسال کیا گیا آپ، کی یاد آوری کا بہت ہی ممنون ہوں مکتوب، میں یہ مذکور ہے کہ سفر ایران کے بعد ایک مکتوب ایک خط ارسال کیا گیا تھا لیکن ان دونوں خطوط میں سے ایک بھی بنده کو نہیں للهملا، کی پناه! میں جناب کو فراموش کوکردوں اور عنایات والطاف کریمانہ کا ذکر یکسر دل

سے محو کردوں ؟؟ حقہ مہر بدون نام و نشان است کہ بود

جو پیغام جناب نے ڈاکٹر حمید لله کے توسط سے ارسال کیا تھا وه اورملا، کتاب خیام جناب عالی کی خدمت میں ارسال کردی گئی امیدہے، ہے کہ مل گئی ہوگی، اب سیرت عائشہؓ

ارسال کررہاہوں۔ خیام کا دوسرا نسخہ بعد میں ارسال کروں گا۔مجھے اپنی جوانی کی ایک بات یاد آئی میرا، ایک مقالہ زیر طبع تھا آخر، صاحب مطبع مجھ سے پریشان ہوکر کہنے لگا اور کیا خوب کہا کہ اے تازه مصنف ! فکر کرنے کی ضرورت کسینہیں، مصنف کی زندگی میں اس کی کوئی بھی مکمل ااور بالکل صحیح اور اغلاط سے پاک کتاب نہیں شائع ہوسکی ہے اسی، طرح میں بھی عرض کرتا ہوں کہ کتاب خیام چند سال سے اس،تھیضرورتکیاصلاحوتصحیحکیاساورتھیناقص لیے جب آں جناب نے میرا عیب ایک دوسرے دوردراز ملک میں کھولنا چاہا تو میں نے چاہا کہ جہاں تک ہوسکے اپنے عیب پر پرده ڈال دوں، انشاء لله نظر ثانی کے بعد تصحیح شده نسخہ جناب کی خدمت میں ارسال کروں گا، جناب عالی کو اس کے ترجمہ کی مکمل اجازت حاصل ہے ۔حکیم سنائی کے ناموں کی دریافت کی جو خدمت جناب نے انجام دی اس کے ذریعہ فارسی زبان پر بہت بڑا احسان فرمایا ، اس کا تذکره انشاء لله معارف

میں آئے گا۔

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.