مکتوب بہار

Maarif - - ء ٢٠١٨ مارچ معارف -

استھانواں ، بہارشریف محترمی ! السلام علیکم ورحمۃ لله وبرکاتہ

امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوگا ۔

معارف کا ہرشماره ادھر پابندی سے نظر سے گذر رہا ہے، مجھے

اگست کاشماره دیکھنے کے بعد ہی یہ مکتوب ارسال کرنے کا خیال آیا تھا جس میں چند وجوه سے تاخیر ہوگئی اور وقت پر ارسال نہیں کر سکا۔ اہم شخصیات کی وفات پروفیات کے ذیل میں ان کا ذکر معارف میں عام طور پر دیکھنے کو ملتا ہے، جولائی کے اواخر میں جلیل القدر محدث مولانا محمد یونس جونپوری کی وفات ہوئی جو علم حدیث میں ہندستان کی آبرو تھے اور ایک عالم ان سے مستفید ہوا ہے، عالم عربی میں بھی ان کی علمی شان مسلم تھی، ان کا ذکر معارف میں نہیں آسکا۔ علاوه اپنی علمی عظمت کے وه علامہ شبلی اور علامہ سید سلیمان ندوی کی علمی عظمت کے قائل اور ان دونوں بز رگوں کے بڑے مداح تھے، فرماتے کہ علامہ شبلی نے تحقیق روایات کے جو اصول مرتب کیے وه بے نظیر ہیں۔ علامہ سید سلیمان ندوی کا ذکر اس کثرت سے اور ایسی عقیدت کے ساتھ کرتے جیسے ان کے شاگرد ہوں، سید صاحب کی دیده وری اور دقت نظر کے بہت قائل تھے اور ان کے حوالے اپنے درس کے دوران دیتے، دیکھنے والوں کا یہ تاثر تھا کہ یہ سید صاحب کے عاشق ہیں۔ وه شیراز ہند جونپور کے باشنده تھے، اس حیثیت سے بھی دارالمصنّفین سے انہیں نسبت تھی کہ اس عظیم علمی اداره اور اس کے بانی کا تعلق ایک ایسے شہر سے ہے جو اسی شیراز ہند کا حصہ رہا ہے۔ انہوں نے اپنی پوری عمر علم حدیث کی خدمت میں صرف کی، درس میں تحقیق کی شان تھی ، گرچہ انہوں نے کو ئی باضابطہ تصنیف نہیں چھوڑی لیکن اپنے عظیم تلامذه کے علاوه درسی افادات اور حواشی کا جوگراں بہا ذخیره چھوڑا ہے بالخصوص صحیح بخاری پر اپنے درس کے دوران تقریباً پچاس برس تک جو حواشی تحریر کرتے رہے وه اس فن کے طالب علموں کے لیے سنگ میل ثابت ہوں گے۔

لله تعالیٰ انہیں اعلی علیین میں جگہ عنایت فرمائے۔ فروری کے شماره میں ڈاکٹر ارشد اسلم صاحب کی کتاب پر

تبصره پڑھا، آپ نے انہیں سید صاحب کا خواہر زاده لکھا ہے، وه سید صاحب کے خواہر زادے نہیں بلکہ سید صاحب کی اہلیہ کے بھتیجے اور ڈاکٹر سید سلمان صاحب کے ماموں زاد بھائی ہیں، ان کے والد سید اسلم صاحب صاحبسید کے معاون سےحیثیتکی کئی سالوں تک دارالمصنّفین میں رہے، ان کی سید صاحب پر اس سے پہلے بھی متعدد کتابیں منظر عام پر آئی ہیں، ابھی ایک نئی کتاب سید سلیمان ندوی کا ترک وطن اسباب اور حقائق بھی منظر عام پر آئی ہے، نیز اس سے پہلے بھی کئی کتابیں چھپ چکی ہیں، رانچی یونیورسٹی سے ان کی نگرانی میں سید صاحب کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر کئی تھیسیز بھی لکھے گئے ہیں، سید صاحب کے نادر خطوط کامجموعہ اور سلیمانیات سے متعلق بہت سے کام زیر تجویز ہیں اور اس ناحیہ سے وه ماہرین سلیمانیات میں شامل ہونے کا

حقرکھتےہیں۔ والسلام مولوی طلحہ نعمت ندوی

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.